صفحات

تنہا تنہا(فرازؔ)

ضیاء الدین ضیاء کے نام ہاں، مگر کوئی تمنّا پسِ دامانِ وفا مجھ سے پوشیدہ مرے پیشِ نظر ہوتی ہے طوافِ منزلِ جاناں ہمیں بھی کرنا ہے فرازؔ تم بھی اگر تھوڑی دور ساتھ چلو 1) شاعر 2) رُباعی 3) تیری باتیں ہی سُنانے آئے 4) جن کے دم سے تھیں بستیاں آباد 5) کھنڈر 6) کچھ ایسے ہم نے خرابے بسائے شہروں میں 7) بُھول 8) رُباعی 9) فرار 10) دوست جب ٹھہرے چمن کے دُشمنِ جانِ بہار 11) احتساب 12) ہر ایک دل کو طلب ہر نظر سوالی ہے 13) ہر شاخ چمن کی جل رہی ہے 14) آگ 15) رُباعی 16) بانو کے نام 17) مجسمّہ 18) نشہء گیسوئے شب تاب کہاں 19) کیا رُخصتِ یار کی گھڑی تھی 20) مسیحا 21) تشنگی 22) گوارا بھی سہی جو دُکھ ترے ہیں 23) اگر کسی سے مراسم بڑھانے لگتے ہیں 24) کس کو گماں ہے اب کہ مرے ساتھ تم بھی تھے 25) رُباعی 26) رات کے پچھلے پہر رونے کے عادی روئے 27) اُن کے وعدوں پہ یقیں، لوگ بھی دیوانے ہیں 28) اَیبٹ آباد 29) تم زمانہ آشنا تم سے زمانہ آشنا 30) ہم بھی خود دُشمنِ جاں تھے پہلے 31) طلسم ہوشربا 32) سکوتِ شب ہی ستم ہو تو اُٹھائیں ہم بھی 33) وہ قول وہ سب قرار ٹوٹے 34) انکار نہ اقرار بڑی دیر سے چُپ ہیں 35) خریدار 36) رُباعی 37) خیر مقدم 38) اے بھوکی مخلوق 39) قافلے گزرے ہیں زنجیر بہ پا 40) رُباعی 41) قاتل کے قصّے مقتل کی باتیں ہیں 42) چند نادان، چند دیوانے 43) کس قدر آگ برستی ہے یہاں 44) ہر ہم سفر ہے آبلہ پا دیکھتے رہو 45) کٹھن ہے راہ گزر تھوڑی دور ساتھ چلو 46) لختئ 47) ایک منظر 48) رُباعی 49) اس ادا سے کبھی آ کر گزرو 50) دل جو کہتا ہے چلو کر دیکھو 51) منسوبہ سے 52) جب بھی دل کھول کے روئے ہوں گے 53) معذرت 54) رُباعی 55) اُداس اور زیادہ کہیں نہ جائیں 56) کچھ نہ کسی سے بولیں گے 57) سکوت بن کے جو نغمے دلوں میں پلتے ہیں 58) صرّاف 59) منصور 60) رُباعی 61) مشورہ 62) غیر سے تیرا آشنا ہونا 63) رُباعی 64) تیرے ہوتے ہوئے محفل میں جلاتے ہیں چراغ 65) آگ اور پھول 66) رُباعی 67) میری حالت ہے کہ احساسِ طرب ہے کوئی 68) اب جو کانٹے ہیں دل میں تمنّاؤں کے پھول تھے 69) سکوتِ شامِ خزاں ہے قریب آجاؤ 70) رُباعی 71) جانشیں 72) راتیں ہیں اُداس دن کڑے ہیں 73) سیلاب 74) لے اُڑا پھی کوئی خیال ہمیں 75) ہم ہیں ظلمت میں کہ اُبھرا نہیں خورشید اب کے 76) 23 مارچ 77) دل کو اب یوں تری ہر ایک ادا لگتی ہے 78) ہم اپنے آپ میں گم تھے ہمیں خبر کیا تھی 79) تفاوت 80) اب تک ترے فتنے ہیں سلامت اُسے کہنا 81) تسلسل 82) چاندنی رات کو سحر کہنا 83) ہلالِ عید 84) جانے کس غم سے من سُلگتا ہے 85) واہمہ 86) یہ میں، یہ کوئے دار یہ تنہائی دوستو! 87) کنیز 88) آتشِ عجم 1 شاعر جی آگ سے جل اُٹھا ہے جی آج اچانک پہلے بھی مرے سینے میں بیدار ہُوئی تھی جس کرب کی شدت سے مری رُوح ہے بے کل پہلے بھی مرے ذہن سے دوچار ہُوئی تھی جس سوچ سے میں آج لہو تُھوک رہا ہوں پہلے بھی مرے حق میں یہ تلوار ہُوئی تھی وہ غم، غمِ دُنیا جسے کہتا ہے زمانہ وہ غم، مجھے جس غم سے سروکار نہیں تھا وہ درد کہ ہر دور کے انسان نے جھیلا وہ درد میرے عشق کا معیار نہیں تھا وہ زخم کہ ہر سینے کا ناسُور بنا تھا وہ زخم مجھے باعثِ آزار نہیں تھا دُنیا نے تڑپ کر میرے شانوں کو جھنجھوڑا لیکن مرا احساس غمِ ذات میں گم تھا آتی رہیں کانوں میں المناک پکاریں لیکن مرا دل اپنے ہی حالات میں گم تھا میں وقت سے بیگانہ زمانے سے بہت دور جام و مے و مینا و خرابات میں گم تھا دربار کی تفریح کا ساماں تھا مرا فن ہاتھوں میں مرے ظرفِ گدا لب پہ غزل تھی شاہوں کی ہوا خواہی مرا ذوقِ سخن تھا ایوانوں کی توصیف و ثنا اوجِ عمل تھی اور اِس کے عوض لعل و جواہر مجھے ملتے ورنہ مرا انعام فقط تیغِ اجل تھی چھڑے کبھی میں نے لب و رُخسار کے قصے گاہے گُل و بلبل کی حکایت کو نکھارا گاہے کسی شہزادے کے افسانے سُنائے گاہے کِیا دُنیائے پرستاں کا نظارا میں کھویا رہا جن و ملائک کے جہاں میں ہر لحظہ اگرچہ مجھے آدم نے پکارا برسوں یُونہی دل جمعئ اورنگ کی خاطر سو پھول کِھلائے کبھی سو زخم خریدے میں لکھتا رہا ہجو بغاوت منشوں کی میں پڑھتا رہا قصر نشینوں کے قصیدے اُبھرا بھی اگر دل میں کوئی جذبہِ سر کش اِس خوف سے چپ تھا کہ کوئی ہونٹ نہ سی دے لیکن یہ طلسمات بھی تادیر نہ رہ پائے آخر مے و مینا و دف و چنگ بھی ٹُوٹے یوں دست و گریباں ہُوئے انسان و خداوند نخچیر تو تڑپے قفسِ رنگ بھی ٹُوٹے اِس کشمکشِ ذرہ و انجم کی فضا میں کشکول تو کیا افسر و اورنگ بھی ٹُوٹے میں دیکھ رہا تھا کہ مرے یاروں نے بڑھ کر قاتل کو پُکارا کبھی مقتل میں صدا دی گاہے رسن و دار کے آغوش میں جُھولے گاہے حرم و دیر کی بنیاد ہلا دی جس آگ سے بھرپور تھا ماحول کا سینہ وہ آگ مرے لوح و قلم کو بھی پلا دی اور آج شکستہ ہُوا ہر طوقِ طلائی اب فن مرا دربار کی جاگیر نہیں ہے اب میرا ہنر ہے مرے جمہور کی دولت اب میرا جنوں خائفِ تعزیر نہیں ہے اب دل پہ جو گزرے گی وہ بے ٹوک کہوں گا اب میرے قلم میں کوئی زنجیر نہیں ہے 2 رُباعی لفظوں میں فسانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ لمحوں میں زمانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ تُو زہر ہی دے شراب کہہ کر ساقی جینے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں ہم لوگ 3 تیری باتیں ہی سُنانے آئے تیری باتیں ہی سُنانے آئے دوست بھی دل ہی دُکھانے آئے پھول کھلتے ہیں تو ہم سوچتے ہیں تیرے آنے کے زمانے آئے ایسی کچھ چپ سی لگی ہے جیسے ہم تجھے حال سُنانے آئے عشق تنہا ہے سرِ منزلِ غم کون یہ بوجھ اُٹھائے آئے اجنبی دوست ہمیں دیکھ کہ ہم کچھ تجھے یاد دِلانے آئے دل دھڑکتا ہے سفر کے ہنگام کاش پھر کوئی بُلانے آئے اب تو رونے سے بھی دل دُکھتا ہے شاید اب ہوش ٹھکانے آئے کیا کہیں پھر کوئی بستی اُجڑی لوگ کیوں جشن منانے آئے سو رہو موت کی پہلو میں فراز ٓ نیند کس وقت نجانے آئے 4 جن کے دم سے تھیں بستیاں آباد جن کے دم سے تھیں بستیاں آباد آج وہ لوگ ہیں کہاں آباد کل رہے ہیں ہرے بھرے گلزار غم ہُوا ہے کہاں کہاں آباد کہہ رہی ہے شکستگی دل کی تھا مکینوں سے یہ مکاں آباد ہم نے دیکھی ہے گوشہء دل میں ایک دُنیائے بیکراں آباد چند منظر اُجاڑنے والو ہو رہے ہیں کئی جہاں آباد گھر جلا کر نہ رو محبت میں یہ تو ہوتا ہے خانماں آباد کتنے تارے فراز ٹوٹ چکے ہے ابھی تک یہ خاکداں آباد