صفحات

حکایاتِ سعدی2

 

برائی کا سبب

کہتے ہیں ایران کا مشہور بادشاہ نوشیرواں، جو اپنے عدل و انصاف کے باعث نوشیروان عادل کہلاتا تھا۔ ایک بار شکار کے لیے گیا شکار گاہ میں اس کے لیے کباب تیار کیے جار ہے تھے۔ کہ اتفاق سے نمک ختم ہو گیا شاہی باورچی نے ایک غلام سے کہا کہ قریب کی بستی میں جا اور وہاں سے نمک لے آ۔
بادشاہ نے یہ بات سن لی۔ اس نے غلام کو قریب بلایا اور سے تاکید کی کہ قیمت ادا کیے بغیر نمک ہر گز نہ لانا۔ غلام بولا، حضور والا! ایک ذرا سے نمک کی کیا بات ہے۔ کسی سے مفت لے لوں گا تو کیا فرق پڑے گا۔
نوشیرواں نے کہا ضرور فرق پڑے گا۔ یاد رکھو! ہر برائی ابتدا میں ایسی ہی معمولی دکھائی دیتی ہے۔ لیکن پھر وہ بڑھتے بڑھتے اتنی بڑی بن جاتی ہے کہ اسے مٹانا آسان نہیں ہوتا ہے۔


بغیر حق کے جو سلطاں کرے وصول اک سیب

                        غلام اس کے جڑوں سے اکھیڑ لیں گے درخت

جو بادشاہ کبھی مفت پانچ انڈے لے

                          سپاہی اس کے کریں گے ہزار مرغ دولخت



سبق:
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ درس دیا ہے کہ کسی بھی برائی کو معمولی خیال نہیں کرنا چاہیے۔ معمولی برائی ہی بڑھ کر بہت بڑی برائی بن جاتی ہے۔ خاص طور پر حکمرانوں کو تو اس سلسلے میں بہت زیادہ احتیاط بر تنی چاہیے۔ کیونکہ ان کے ماتحت برائی میں ان کی تقلید زیادہ کرتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نادان منشی

حضرت سعدیؒ بیان کرتے ہیں، میرے جاننے والوں میں ایک منشی روز گار نہ ملنے سے بہت پریشان تھا۔ ایک دن وہ میرے پاس آیا اور اپنا حال بیان کرنے کے بعد کہا کہ بادشاہ کے دربار میں آپ کی رسائی ہے۔ کسی عہدیدار سے کہہ سن کر کوئی کام دلوا دیں۔ اس کی بات سن کر میں نے کہا، بھائی، بادشاہوں کی ملازمت خطرے سے خالی نہیں ہوتی۔ نان ہاتھ آنے کی امید کے ساتھ جان جانے کا امکان بھی ہوتا۔
میں نے یہ نصیحت اس کی بھلائی کے خیال سے کی تھی لیکن اس نے خیال کیا کہ میں اسے ٹالنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ کہنے لگا،یہ بات ٹھیک ہو گئی لیکن جو لوگ ایمانداری اور محنت سے اپنا کام کریں انھیں ڈرنے کی کیا ضرورت ہے !آپ نے سنا ہو گا کہ میلے کپڑے ہی کو دھوبی پٹرے پر مارتا ہے۔میں نے اسے پھر سمجھایا کہ تو ٹھیک کہتا ہے۔ سانچ کو آنچ نہیں، بہت مشہور بات ہے۔ لیکن بادشاہوں اور حاکموں کے بارے میں لومڑی کی سی احتیاط برتنی چاہیے جو گرتی پڑتی بھاگتی چلی جاتی تھی۔کسی نے پوچھا کہ خالہ لومڑی کیا مصیبت پڑی ہے جو یوں بھاگی چلی جا رہی ہو؟ لومڑی بولی، میں نے سنا ہے بادشاہ کے سپاہی اونٹ بیگار میں پکڑ رہے ہیں۔ اس نے ہنس کر کہا عجب بے وقوف ہے ! اگر اونٹ پکڑے جا رہے ہیں تو تجھے کیا ڈر؟ تو تو لومڑی ہے لومڑی نے جواب دیا، تیری بات ٹھیک ہے لیکن اگر کسی دشمن نے کہہ دیا کہ یہ اونٹ کا بچہ ہے، اسے بھی پکڑ لو تو میں کیا کروں گی؟ جب تک یہ تحقیق ہو گئی کہ میں لومڑی ہوں یا اونٹ کا بچہ، میرا کام تمام ہو چکا ہو گا مثل مشہور ہے کہ جب تک عراق سے تریاق آئے گا، وہ بیمار چل بسا ہو گا جس کے لیے تریاق منگوایا گیا ہو گا۔ میر ی بات بالکل درست تھی لیکن وہ اپنے خیال پر قائم رہا اور میں نے اس کی حالت کا اندازہ کر کے اسے بادشاہ کے دربار میں ملازمت دلوا دی شروع شروع تو اسے ایک معمولی ساکام ملا لیکن چونکہ آدمی قابل تھا اس لیے بہت ترقی کر گیا اور عزت و آرام کے ساتھ زندگی گزارنے لگا۔
کچھ دن بعد میں ایک قافلے کے ساتھ حج کے سفر پر روانہ ہو گیا اور جب اس مبارک سفر سے واپس آیا تو وہ شخص کئی منزل چل کر میرے استقبال کے لیے آیا لیکن میں نے دیکھا کہ اس کی حالت سے پریشانی ظاہر ہوتی تھی حالات پوچھے تو اس نے بتایا کہ مجھے اب معلوم ہوا کہ آپ نے جو بات کہی تھی وہ بالکل ٹھیک تھی۔ میں نے اپنی قابلیت اور محنت سے ترقی کی تو حسد کرنے والوں کو یہ بات بری لگی اور انھوں نے مجھ پر الزام لگا کر قید کر دیا۔ اب حاجیوں کے قافلے کی خیریت سے لوٹنے کی خوشی میں قیدیوں کو آزاد کیا گیا ہے۔ تو مجھے بھی رہائی نصیب ہوئی۔ ورنہ بادشاہ نے تو یہ تحقیق کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی تھی کہ میں گناہ گار ہوں یا بے گناہ۔
میں نے کہا، افسوس ! تو نے میری بات نہ مانی میں نے تو تجھے پہلے ہی سمجھایا تھا کہ بادشاہ کا قرب سمندر کے سفر کی مانند ہوتا ہے کہ اس سے انسان کو بہت سے فائدے حاصل ہوتے ہیں لیکن ساتھ جان جانے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔

سبق: حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں بھی بادشاہوں کا قرب حاصل کرنے کی جگہ قناعت اور صبر کی زندگی بسرکرنے کا فضل بتایا ہے ان کے اپنے زمانے کے مطلق العنان بادشاہوں کے انداز فکر و عمل کے بارے میں تو کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں کہ ان کی ہر الٹی سیدھی بات قانون کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ بات آج کے صاحب اختیار لوگوں کے بارے میں بھی بالکل درست ہے کہ جب تک پوری صلاحیت اور اہلیت حاصل نہ ہو ان کا قرب خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بے خوف درویش
بیان کیا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ شکار کے لیے نکلا ہوا تھا۔ وہ جنگل سے گزر رہا تھا۔ کہ اس کی نظر ایک درویش پر پڑی جو اپنے حال میں مست بیٹھا تھا۔ بادشاہ اس درویش کے قریب سے گزرا لیکن اس نے آنکھ اٹھا کر بھی اس کی طرف نہ دیکھا اور یہ بات بادشاہ کو بہت ناگوار گزری۔ اس نے اپنے وزیر سے کہا کہ یہ بھک منگے بھی بالکل جانوروں کی طرح ہوتے ہیں کہ انھیں معمولی ادب آداب کا بھی خیال نہیں ہوتا۔ بادشاہ کی ناگواری کا اندازہ کر کے وزیر اس درویش کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ بابا جی، ملک کا بادشاہ آپ کے قریب سے گزرا اور آپ نے اتنا بھی نہیں کیا کہ اپنی عقیدت اور نیاز مندی ظاہر کرنے کے لیے کھڑے ہو جاتے اور ادب سے سلام کرتے؟
درویش نے بے پروائی سے جواب دیا، با با، اپنے بادشاہ سے کہو کہ ادب آداب کا خیال رکھنے کی امید ان لوگوں سے کرے جنھیں اس سے انعام حاصل کرنے کا لالچ ہو۔ اس کے علاوہ اسے یہ بات بھی اچھی طرح سمجھا دوکہ ہم جیسے درویشوں کا کام بادشاہ کا خیال رکھنا نہیں بلکہ بادشاہ کا یہ فرض ہے کہ وہ ہماری حفاظت کرے۔ تو نے سنانہیں۔ بھیڑیں گڈریے کی حفاظت نہیں کرتیں بلکہ گڈریا بھیڑوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یاد رکھے ! بادشاہی بھی ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں۔ موت کے بعد بادشاہ اور فقیر برابر ہو جاتے ہیں۔ اگر تو قبر کھول کر دیکھے تو یہ بات معلوم نہ کر سکے گا کہ یہ شخص جس کی کھوپڑی کو مٹی نے کھا لیا ہے۔ زند گی میں کس مرتبے اور شان کا مالک تھا۔
وزیر نے درویش کی یہ باتیں بادشاہ کو سنائیں تو اس نے ان سے نصیحت حاصل کی اور فقیر پر مہربان ہو کر اس سے کہا کہ اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بیان کرو۔ تمھاری ہر حاجت پوری کی جائے گی۔ فقیر نے بے نیازی سے کہا، بس ایک خواہش ہے اور وہ یہ کہ میرے پاس آنے کی تکلیف پھر کبھی نہ اٹھانا۔ بادشاہ نے کہا، اچھا مجھے کوئی نصیحت فرمائیے۔ درویش بولا، میرے نصیحت یہ ہے کہ اس زمانے میں جب تو تاج اور تخت کا مالک ہے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کر کہ عاقبت میں تیرے کام آئی گی۔ یہ تاج اور تخت ہمیشہ تیرے پاس ہی نہ رہے گا۔ جس طرح تجھ سے پہلے بادشاہ کے بعد تجھے ملا، اسی طرح تیرے بعد کسی اور کو مل جائے گا
سبق
حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ بات بتائی ہے کہ اپنے دل کو حرص اور لالچ سے پاک کر لینے کے بعد ہی انسان کو سچی راحت اور اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ یہ مرتبہ حاصل ہو جائے تو خدا ایسی جرأت بخش دیتا ہے کہ وہ لاؤ لشکر رکھنے والے بادشاہوں سے بھی خوف نہیں کھاتا نیز یہ کہ مال دار شخص کے لیے سب سے زیادہ نفع کا سودا نیکیاں کرنا ہے۔ اخروی زندگی میں اس کے کام اس کا یہی سرمایہ آئے گا۔ جس مال پر دنیا میں غرور کرتا تھا، اس میں سے کفن کے سوا کچھ بھی اپنے ساتھ نہ لے جاسکے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اپنا محاسبہ آپ

بیان کیا جاتا ہے، ایک مسافر اتفاقاً خدا رسیدہ لوگوں کے حلقے میں پہنچ گیا اور ان کی اچھی صحبت سے اسے بہت زیادہ فائدہ پہنچا۔ اس کی بُری عادتیں چھوٹ گئیں اور نیکی میں لذت محسوس کرنے لگا۔
یہ انقلاب یقیناً بے حد خوش گوار تھا۔ لیکن حاسدوں اور بد خواہوں کے دلوں کو کون بدل سکتا ہے۔ اس شخص کے مخالفوں نے اس کے بارے میں مشہور کر دیا کہ اس کا نیکی کی طرف راغب ہو جانا تو محض دنیا کو دکھا نے کے لیے ہے۔ اس بات سے اسے بہت صدمہ پہنچا چنانچہ وہ ایک دن اپنے مرشد کی خدمت میں حاضر ہوا مرشد نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے کہ تیرے مخالف تجھے جیسا بتاتے ہیں، تو ویسانہیں۔ صدمہ کی بات تو یہ ہوتی کہ تو اصلاً برا ہوتا اور لوگ تجھے نیک اور شریف بتاتے۔
سبق: اس حکایت میں حضرت سعدیؒ نے نہایت لطیف پیرائے میں اپنا محاسبہ آپ کرتے رہنے کی تعلیم دی ہے۔ اپنے بارے میں اہل دنیا کی رائے کو ہر گز قابل اعتبار نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہاں تو اچھوں کو بُرا اور برُوں کو اچھا کہنے کا رواج ہے اس کے علاوہ دوسری بہت ہی عمدہ بات یہ بتائی ہے کہ برائی کر کے اچھا مشہور کرنے کی خواہش کے مقابلے میں یہ بات ہر لحاظ 
سے مستحسن ہے کہ انسان اچھا ہو اور لوگ اسے برا خیال کریں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بے اولاد بادشاہ

ایک بادشاہ لا ولد تھا۔ جب اس کی موت کا وقت نزدیک آیا تو اس نے وصیت کی کہ میری موت کے دوسرے دن جو شخص 
سب سے پہلے شہر میں داخل ہو، میری جگہ اسے بادشاہ بنا دیا جائے۔ خدا کی قدرت کا تماشا دیکھیے کہ دوسرے دن جو شخص سب سے پہلے شہر میں داخل ہوا وہ ایک فقیر تھا جس کی ساری زندگی در در بھیک مانگتے اور اپنی گدڑی میں پیوند پر پیوند لگانے میں گزری تھی۔
امیروں، وزیروں نے بادشاہ کی وصیت کے مطابق اسے بادشاہ بنا دیا اور وہ تاج و تخت اور خزانوں کا مالک بن کر بہت شان سے زندگی گزارنے لگا قاعدہ ہے کہ حاسد اور کم ظرف لوگ کسی کو آرام میں دیکھ کر انگاروں پر لوٹنے لگتے ہیں۔ اس فقیر کے ساتھ بھی یہی ہوا جو اب بادشاہ بن گیا تھا۔ اس کے دربار کے کچھ امرا نے آس پاس کے حکمرانوں سے سازباز کر کے ملک پر حملہ کر وا دیا اور بہت سا علاقہ حملہ آوروں نے فتح کر لیا۔
اس حاد ثے کی وجہ سے فقیر بادشاہ بہت افسردہ رہنے لگا۔ انھی دنوں اس کا ایک ساتھی فقیر ادھر آ نکلا اور اپنے یار کوایسی حالت میں دیکھ کر بہت خوش ہوا اس نے اسے مبارک باد دی کہ خدا نے تیرا مقدر سنوارا اور فرش خاک سے اٹھا کر تخت افلاک پر بٹھا دیا۔
فقیر کی یہ بات بالکل درست تھی۔ کہاں در در کی بھیک مانگنا اور کہاں تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہونا۔ لیکن اس شخص کو تواب بادشاہ بن جانے کی خوشی سے زیادہ ملک کا کچھ حصہ چھن جانے کا غم تھا۔ غم بھری آواز میں بولا، ہاں دوست تیری یہ بات تو غلط نہیں لیکن تجھے کیا معلوم کہ میں کیسی فکروں میں گھرا ہوا ہوں۔ تجھے تو صرف اپنی دو روٹیوں کی فکر ہو گئی، لیکن مجھے ساری رعایا کی فکر ہے۔

سبق: حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں یہ سچائی بیان فرمائی ہے کہ دنیا کا بڑے سے بڑا اعزاز پا کر بھی انسان کو سچا اطمینان حاصل نہیں ہوتا۔ اپنے طالبوں کو مسلسل کرب میں مبتلا رکھنا دنیا کی ایسی عادت ہے جسے بدلا نہیں جاسکتا۔ اگر کوئی شخص اس بات کا طالب ہے کہ اسے سچی راحت اور حقیقی اطمینان نصیب ہو تو اسے چاہیے دنیا کی ہوس ترک کر کے قناعت اختیار کرے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کنجوس کا مال

گر خدا نے مال بخشا ہے تو اس کو خرچ کر
                            خود بھی راحت اس کی پا اوروں کو بھی آرام دے
یاد رکھ اک روز یہ گھر چھوڑنا ہو گا تجھے
                            جمع جس میں کر رہا ہے سونے چاندی کے ڈلے

سبق: حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں بخیلوں کے حسرت ناک انجام سے آگاہ کیا ہے اور وہ بلا شبہ یہ ہے کہ ایک دن موت اچانک انھیں آلتی ہے اور وہ مال جسے انھوں نے بصد دشواری فراہم کیا تھا۔ دوسروں کو مل جا تا ہے جو خوب عیش کرتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بادشاہ کا فیصلہ

کسی جنگل بیابان میں ایک غریب آدمی گدھا کیچڑ میں پھنس گیا ۔ ایک تو جنگل ، دوسرا موسم بہت خراب ، سردی کے موسم
 میں تیز ہوا چل رہی تھی اور بارش ہو رہی تھی ۔
اس مصیبت نے غریب آدمی کو سخت مشتعل کردیا تھا اور جھنجھنلاہٹ کے عالم میں گدھے سے لے کر ملک کے بادشاہ تک ، سب کو برا بھلا کہہ رہا تھا ۔ اتفاق ایسا ہوا کہ بادشاہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ اس طرف سے گزرا اوراس نے یہ بدکلامی اپنے کانوں سے سن لی ، وہ وہیں رک گیا اور اس خیال سے اپنے لشکریوں کی طرف دیکھا کہ وہ اس معاملے میں اپنی رائے دیں ۔
ایک صاحب نے بادشاہ کی منشا سے آگاہ ہو کر کہا، یہ گستاخ واجب القتل ہے ، اس نے حضور کی شان میں گستاخی کی ہے ۔ بادشاہ یہ سن کر مسکرایا اور تحمل سے بولا، بے شک اس نے گستاخی کی ہے ، لیکن دراصل اس مصیبت نے اس حواس باختہ کردیا ہے جس میں پھنسا ہوا ہے ، اسے سزا دینے کے مقابلے میں مناسب یہ ہوگا کہ اسے مصیبت سے نکالا جائے اور اس کے ساتھ احسان کیا جائے ۔
یہ کہہ کر بادشاہ نے نہ صرف اس کا گدھا کیچڑ سے نکلوادیا بلکہ اسے سواری کے لئے گھوڑا ، پوشین اور نقدی بھی عطا کی ۔ انعام عطا کرنے کے بعد بادشاہ آگے بڑھ گیا تو ایک شخص نے گدھا والے سے کہا ، تو نے اپنی ہلاکت میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی ۔ اسے خدا کا خاص انعام خیال کر کہ تیری جان بچ گئی ، وہ بولا بھائی میں اپنی حالت کے مطابق بک بک کررہا تھا اور بادشاہ نے اپنی شان کے مطابق مجھ پر کرم کیا ۔ سچ تو یہ ہے کہ برائی کے بدلے بھلائی کرنا ہی جوان مردوں کا شیوہ ہے ۔
حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حکایت میں قرآن مجید کی اس یہ آیہ شریفہ کی تشریح کی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ جو تجھ سے توڑے تو اس سے جوڑ، جو تجھے محروم کرے تو اسے دے ۔
اس میں شک نہیں کہ خدائی قانون میں بھی بدلہ اور انتقام لینے کی اجازت ہے لیکن مقام احسان یہ ہے کہ برائی کرنے والے کے ساتھ بھلائی کی جائے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

عقل مند سیاح

سیاحوں کی ایک جماعت سفر پر روانہ ہورہی تھی ۔ حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ خواہش ظاہر کی کہ مجھے بھی ساتھ لے چلو۔ انہوں نے انکار کیا۔ میں نے انہیں یقین دلایا میں آپ حضرات کے لیے مصیبت اور پریشانی کا باعث نہ بنوں گا بلکہ جہاں تک ہوسکے گا خدمت کروں گا لیکن وہ پھر بھی رضا مند نہ ہوئے ۔
سیاحوں میں سے ایک شخص نے کہا ۔ بھائی ہمیں معاف ہی رکھو ۔ اس سے پہلے رحم دلی کے باعث ہم سخت نقصان اٹھا چکے ہیں ۔ کچھ عرصہ پہلے تمہاری طرح ایک شخص ہمارے پاس آیااور ساتھ سفر کرنے کی اجازت مانگی ۔ اس شخص کا لباس اور شکل وصورت درویشوں کی سی تھی ۔ ہم نے اعتبار کیاا ور ساتھی بنایا ۔ سفر کرتے کرتے ہم لوگ ایک قلعے کے پاس پہنچے تو آرام کرنے کے ایک موزوں جگہ ٹھہر گئے اور جب سونے کے لیے اپنے بستروں پر لیٹے تو اس شخص نے یہ کہہ کر ایک سیاح سے پانی کی چھاگل لی کہ پیشاب پاخانے کے لیے جانا چاہتا ہوں۔ چھاگل لے کر وہ قلعے میں جاگھسا اور وہاں سے قیمتی سامان چرا کر رفو چکر ہوگیا ۔ قلعہ والوں کو چوری کا پتہ چلا تو انہوں نے ہم لوگوں پر شک کیا اور پکڑ کر قیدی کردیا ۔ بڑی مشکل سے نجات ملی ۔ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیاح کا شکریہ ادا کرکے کہا کہ اگرچہ مجھے آپ کا ہم سفر بننے کی عزت حاصل نہ ہوسکی لیکن آپ نے جواچھی باتیں سنائیں ان سے مجھے بہت فائدہ حاصل ہوا۔ سچ ہے ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کردیتی ہے ۔
حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حکایت میں ایک نہایت ہی لطیف نکتہ بیان کیا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ گناہ کرنے والے کا فعل صرف اسی کی ذات تک محدود نہیں ہوتا ۔ جن لوگوں کو وہ براہ راست نقصان پہنچاتا ہے ۔ ان کے علاوہ نہ جانے اور کتنے لوگ اس کی بدکاری کے باعث جائز فائدوں سے محروم ہو جاتے ہیں ۔ لوگ کسی فریب کار کے ہاتھوں نقصان اٹھا کر شریف اور مستحق لوگوں کا بھی اعتبار نہیں کرتے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اچھا مشورہ

ملک کے مصر کے شہر اسکندریہ میں ایک بار بہت سخت قحط پڑا ۔ کافی عرصہ سے بارش نہیں ہوئی تھی، اس لئے زمین جھلس کررہ گئی تھی ۔ فصلیں برباد ہوگئی تھیں ، لوگ پانی کے ایک گھونٹ اور روٹی کے نوالہ کے لئے ترس رہے تھے ۔
ان سخت دنوں میں ایک ہیجڑے نے لنگر جاری کردیا ۔ بھوکے اس کے در پر جا کر اپنی پیٹ کی آگ بجھاتے اور خوشی خوشی واپس لوٹتے ۔ ان حالات میں درویشوں کی حالت تو اور بھی خراب تھی ۔ چنانچہ رزق کی تنگی سے گھبرا کر خدا رسیدہ بزرگوں کے ایک گروہ نے اس ہیجڑے سے امداد طلب کرنے کا ارادہ باندھا ، اور شیخ سعدی سے مشورہ طلب کیا ۔
” ہمیں بتایئے ، اس ہیجڑے سے امداد لینا بہتر رہے گا یا نہیں “
شیخ سعدی فرماتے ہیں :
میں نے زور دار الفاظ میں کہا :
آپ حضرات دل میں اس قسم کا خیال بھی نہ لائیں ۔ اگرشیر بھوک سے تڑپ رہا ہو، اس کو جان کے لالے پڑگئے ہوں تو پھر وہ کتے کا چھوڑا نہیں کھاتا ۔ خود دار انسان کبھی بھی گندگی کے ڈھیرسے رزق نہیں لیتے ، اور متقی انسان کبھی سفلے کے در پر نہیں جاتا ۔
حضرت سعدی نے اس حکایت میں یہ بات واضح کردی ہے کہ حصول رزق اور اپنی حاجات پوری کرنے کے لئے شرفا کو وہ پستی اختیار نہیں کرنی چاہئے ۔ جو جانوروں کا خاصہ ہے ۔ انسان کے اشرف المخلوقات ہونے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انتہائی ضرورت اور تکلیف کے وقت بھی وہ جائز اور ناجائز ، حلال وحرام کو فراموش نہیں کرتا ۔جو لوگ یہ احتیاط نہیں کرتے ۔ جانوروں کی صف میں شامل ہوجاتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فتح کی خوشخبری

ملک عزب کا ایک بادشاہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ۔ اس زمانے میں اسے ایک سخت مرض نے آپکڑا ، جس کے باعث وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوگیا اور یہ تمنا کرنے لگا کہ موت کا فرشتہ جلد آئے اور اسے تکلیفوں سے چھڑادے ۔
انہی ایام میں محاذ جنگ سے ایک سپاہی نے اس کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ خوشخبری سنائی :
حضور کے اقبال کی یاوری ہماری فوج نے دشمن کو شکست دے کر فلاں علاقے پر قبضہ کرلیا ، اور اس علاقے کے باشندے سچے دل سے حضور کے فرمانبردار بن گئے ۔
بادشاہ نے یہ خوشخبری افسردہ ہو کر سنی اور پھر آہ بھر کر بولا:
یہ خوشخبری میرے لیے نہیں بلکہ میرے دشمنوں کے لئے ہے ، یعنی ان کے لئے جو میری جگہ تمام اقتدار سنبھالنے کے لئے میرے مرنے کی دعائیں مانگ رہی ہیں ۔
شیخ سعدی نے اس حکایت میں انسان کو اس کی آرزوؤں کے انجام سے آگاہ کیا ہے ۔ انسان کیسا بھی صاحب اقتدار بن جائے اس کا انجام فنا ہے ۔ موت مقررہ وقت پر اس کے دروازے پر دستک دے گی اور اسے اپنا تمام سازوسامان چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہونا پڑے گا، اور اس وقت وہ محسوس کرے گا جن آرزوؤں اور تمناؤں کو اس نے زندگی کا مقصد بنالیا تھا، اس کی حیثیت کم قیمت کھلونوں سے زیادہ نہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بزدل غلام

ایک بادشاہ کشتی میں بیٹھ کر دریا کی سیر کر رہا تھا۔ کچھ درباری اور چند غلام بھی ساتھ تھے۔ ان میں ایک غلام ایسا تھا جو پہلے کبھی کشتی میں نہ بیٹھا تھا اس لیے وہ بہت خوفزدہ تھا اور ڈوب جانے کے خوف سے رو رہا تھا۔ بادشاہ کو اس کا اس طرح رونا اور خوف زدہ ہونا بہت ناگوار گزر رہا تھا لیکن غلام پر منع کرنے اور ڈانٹنے ڈپٹنے کا بالکل اثر نہ ہوتا تھا۔
کشتی میں ایک جہاندیدہ اور دانا شخص بھی سوار تھا۔ اس نے غلام کی یہ حالت دیکھی تو بادشاہ سے کہا کہ اگر حضور اجازت دیں تو یہ خادم اس خوفزدہ غلام کا ڈر دور کر دے؟ بادشاہ نے فوراً اجازت دے دی اور دانشمند شخص نے غلاموں کو حکم دیا کہ اس شخص کو اٹھا کر دریا میں پھینک دو۔
غلاموں نے حکم کی تعمیل کی اور رونے والے غلام کو اٹھا کر دریا کے اندر پھینک دیا۔ جب وہ تین چار غوطے کھا چکا تو دانا شخص نے غلاموں سے کہا کہ اب اسے دریا سے نکلا کر کشتی میں سوار کر لوَ چنانچہ غلاموں نے اس کے سر کے بال پکڑ کر کشتی میں گھسیٹ لیا اور وہ غلام جو ذرا دیر پہلے ڈوب جانے کے خوف سے بڑی طرح رو رہا تھا بالکل خاموش اور پر سکون ہو کر ایک طرف بیٹھ گیا۔
بادشاہ نے حیران ہو کر سوال کیا کہ آخر اس بات میں کیا بھلائی تھی کہ تم نے ایک ڈرے ہوئے شخص کو دریا میں پھنکوا دیا تھا اور مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ اب خاموش بھی ہو گیا ہے؟
دانا شخص نے جواب دیا حضور والا! اصل بات یہ تھی کہ اس نے کبھی دریا میں غوطے کھانے کی تکلیف نہ اٹھائی تھی۔ اس طرح اس کے دل میں اس آرام کی کوئی قدر نہ تھی جو اسے کشتی کے اندر حاصل تھا۔ اب ان دونوں کی حقیقت اس پر روشن ہو گئی اور خاموش ہو گیا۔
جس نے دیکھی نہ ہو کو ئی تکلیف قدر آرام کی وہ کیا جانے
نعمتوں سے بھرا ہو جس کا پیٹ جو کی روٹی کو کب غذا مانے
سبق: حضرت سعدیؒ نے اس حکایت میں انسان کی یہ نفساتی کیفیت بیان فرمائی ہے کہ جس شخص نے کبھی تکلیف دیکھی ہی نہ ہو وہ اس کی قدر و قیمت سے آگاہ نہیں ہوتا جو اسے حاصل ہے۔ اس کے علاوہ ایساشخص جسارت اور قوت برداشت سے بھی محروم ہوتا ہے۔ مسرت اور کامیاب زندگی وہی شخص گزار سکتا ہے جو رنج و راحت دونوں سے بخوبی آگاہ ہو۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بابرکت درخت

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان فرماتے ہیں میں دیاربکر میں ایک امیر آدمی کے گھر مہمان تھا ۔ مال ودولت کے علاوہ خدا نے اس شخص کو ایک خوبروبیٹا بھی دیا تھا ۔ ایک رات وہ شخص مجھ سے کہنے لگا کہ سعدی رحمتہ اللہ علیہ شاید تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ میرے گھر بیٹا ایک مدت کی دعاؤں اور تمناؤں کے بعدپیدا ہوا ہے فلاں مقام پر ایک بابرکت درخت ہے لوگ اس درخت کے قریب جا کر دعائیں مانتے ہیں اور ان کی مرادیں مل جاتی ہیں میں نے اس بابرکت درخت کے پاس جا کر دعا مانگی اور اللہ نے میری مراد پوری کردی ۔
شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس وقت امیر باپ اپنے بیٹے کے بارے میں یہ باتیں کررہا تھا بیٹا اپنے دوستوں کی محفل میں بیٹھا ہوا یہ کہہ رہا تھا کہا اے کاش ! مجھے معلوم ہوجائے کہ وہ بابرکت درخت کس جگہ ہے میں آج ہی وہاں جاؤں اور یہ دعا مانگوں کہ میرا باپ جلد مر جائے تاکہ سارا مال اور جائیداد میرے قبضے میں آئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مکافات عمل

حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ باختر کے حاکم کے دو بیٹے تھے اور دونوں ہی فنون سپہ گری میں ماہر شہ زور اور حوصلہ مند تھے حاکم نے محسوس کیا کہ میرے بعد ان دونوں کی کوشش ہو گی کہ وہ حکومت پر قابض کریں اور یوں دونوں ایک دوسرے کے قتل کے درپے ہوں گے اس نے جب تمام پہلوؤں پر غور کر لیا تو اس نے ارادہ کیا کہ ملک کو دو حصوں میں برابر تقسیم کر کے ان دونوں کو حکومت سونپ دی جائے اور انہیں نصیحت کی جائے کہ یہ آپس میں متحد رہیں اور بوقت ضرورت ایک دوسرے کی مدد کرتے رہیں کہ اس میں ہی ان دونوں کی بھلائی ہے ۔باختر کے حاکم کے دونوں بیٹے اپنی عادتوں میں ایک دوسرے کے مخالف تھے ۔
ایک بیٹا خدا ترس اور خوش اخلاق تھا تو دوسرا بیٹا سخت گیر اور لالچی تھا باپ کی زندگی میں دونوں بھائیوں کے درمیان بظاہر کوئی اختلاف پیدا نہ ہوا کیونکہ دونوں باپ کے سایہ شفقت میں تھے مگر جب باپ کی وفات ہوئی تو دونوں کا مزاج کھل کر سامنے آ گیاپہلا بیٹا جو خدا ترس اور خوش اخلاق تھا اس کو اپنی عوام میں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی ملک میں باغوں کا جال بچھ گیا اور کھیت غلے کے انبار لگنا شروع ہو گئے عوام اس کی تعریف کرتے نہ تھکتے تھے اور اس کی لمبی عمر کیلئے دعائیں مانگتے تھے دوسرا بیٹا جو کہ لالچی اور سخت طبیعت کا مالک تھا اسے ہر وقت یہی فکر لاحق رہتی کہ کس طرح وہ اپناخزانہ بھر لے اس نے اپنی لالچی طبیعت کی وجہ سے عوام الناس کا جینا دوبھر کر دیا اور لوگ اپنے گھر اور زمینیں چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ لینے لگے ۔
جب ہمسایہ ملک کے بادشاہ کو اس ملک کی زبوں حالی کا علم ہوا تو اس نے اس پر چڑھائی کر دی اور اس ملک پر قبضہ کر لیا۔ شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں بیان کرتے ہیں کہ جو بوئے وہی کاٹے جو لڑکا نیک تھا اس کا طرز حکومت بھی لوگوں کی فلاح وبہبود تھا اور جو لڑکا لالچی تھا اس کا طرز حکومت اپنی بھلائی میں تھا۔ پس انسانوں کو ان کے اعمال کے مطابق اجر ملتا ہے اور اسی کا نام مکافات عمل ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انسانیت

حضرت سعدی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت لقمان ایک نہایت معمولی نقش و نگار رکھنے والے حبشی تھے ایک دن اس کم صورتی کے باعث آپ کو بازار سے گزرتے ہوئے ایک شخص نے اپنا مفرو ر غلام سمجھ کر پکڑ لیا اور مٹی کھودنے کے کام پر لگا دیا وہ شخص اپنا مکان بنا رہا تھا ۔
حضرت لقمان اس شخص کی غلط فہمی کے ہاتھوں حالات کا شکار ہوکر ایک سال تک اسی مشقت میں مبتلا رہے ۔ایک سال بعد اتفاقاََ وہ مفرور غلام لوٹ آیا ۔وہ حضرت لقمان کو ذاتی طور پر جانتا تھا ،وہ آپ کو اس عالمِ بیقراری میں دیکھ کر سخت رنجیدہ ہوا اور ندامت سے آپ کے قدموں میں گر گیا اور جب اس غلام کی زبانی اس کے آقا کو آپ کے مرتبے کا علم ہوا تو وہ بھی مارے شرمندگی کے زمین پر گر گیا اور آپ سے معافی کا طلب گار ہوا۔
حضرت لقمان نے انتہائی تحمل سے کہا ”جو ہونا تھا ہوا لیکن میں بھی نقصان میں نہیں رہا “اس مصیبت اور آزمائش کی گھڑی میں ،میں نے ایک دانائی کی بات سمجھ لی ہے کہ کسی کو حقیر سمجھ کر اسے تکلیف میں مبتلا نہیں کرنا چا ہیے ،میرے پاس بھی ایک غلام ہے ،آج سے پہلے میں اس سے ہر طرح کی مشقت لیتا تھا لیکن یہ مشقت اٹھا کر مجھے معلوم ہوگیا کہ اس کے اوپر کیا گزرتی ہوگی ،اب میں اپنے غلام سے ایسی بیگارہر گز نہیں لوں گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭