صفحات

آب حیات از عمیرہ احمد (قسط نمبر 1 تا 10)



 قسط نمبر 1۔

اس نے دور سے سالار کو اپنی طرف آتے دیکھا ۔ اس کے ہاتھ میں سوفٹ ڈرنک کا ایک گلاس تھا ۔۔
تم یہاں کیوں آکر بیٹھ گئی ؟ امامہ کے قریب آتے ہوئے اس نے دور سے کہا ۔
ایسے ہی ۔۔۔۔ شال لینے آئی تھی ۔۔۔۔ پھر یہی بیٹھ گئی ۔۔ وہ مسکرائی ۔ اس کے قریب بیٹھتے ہوئے سالار نے سوفٹ ڈرنک کا گلاس اپنی ٹانگوں کے کے درمیاں نچلی سیڑھی پر رکھ دیا ۔ امامہ لکڑی کے ستوں سے ٹیک لگائے ایک گھٹنے پر کھانے کی پلیٹ ٹکائے کھاتے ہوئے دور لان میں ایک کینوپی کے نیچے اسٹیج پر بیٹھے گلوکار کو دیکھ رہی تھی ، جو نئی غزل شروع کرنے سے پہلے سازندوں کو ہدایت دے رہا تھا ۔ سالار نے کانٹا اٹھا کر اس کی پلیٹ سے کباب کا ایک ٹکڑا اپنے منہ میں ڈالا ۔ وہ بھی اب گلوکار کی طرف متوجہ تھا جو اپنی نئی غزل شروع کر چکا تھا ۔
ہاں ۔ اس نے مسکرا کر کہا وہ غزل سن رہی تھی ۔
کسی کی آنکھ پرنم ہے ، محبت ہوگئی ہوگی
زبان پر قصۂ غم ہے ، محبت ہوگئی ہوگی
وہ بھی غزل سننے لگا تھا ۔
کبھی ہنسنا کبھی رونا، کبھی ہنس ہنس کر رودینا
عجب دل کا یہ عالم ہے ، محبت ہوگئی ہوگی
اچھا گا رہا ہے ۔۔ امامہ نے ستائشی انداز میں کہا ۔ سالار نے کچھ کہنے کی بجائے سر ہلا دیا ۔
خوشی کا حد سے بڑھ جانا بھی اب اک بے قراری ہے
نہ غم ہونا بھی اک غم ہے محبت ہوگئی ہوگی
سالار سوفٹ ڈرنک پیتے پیتے ہنس پڑا ۔ امامہ نے اس کا چہرا دیکھا ۔ وہ جیسے کہیں اور پہنچا ہوا تھا ۔
تمھیں کچھ دینا چاہ رہا تھا میں ۔۔۔۔۔ وہ جیکٹ کی جیب میں کچھ ڈھونڈکر نکالنے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔
میں بہت دنوں سے تمھیں کچھ دینا چاہ رہا تھا لیکن ۔۔۔۔ وہ بات کرتے کرتے رک گیا ۔۔۔ اس کے ہاتھ میں ایک ڈبیا تھی ۔۔۔
امامہ کے چہرے پر بے حد مسکراہٹ آئی ۔۔۔ اچھا تو اسے خیال آگیا ۔۔۔۔۔ اس نے ڈبیا لیتے ہوئے سوچا اور اسے کھولا ۔۔ وہ ساکت رہ گئی ۔۔۔ اندر ایر رنگز تھے ۔۔۔۔۔ ان ایر رنگز سے ملتے جلتے جو وہ اکثر اپنے کانوں میں پہنے رہتی تھی اس نے نظریں اٹھا کر سالار کو دیکھا ۔۔
میں جانتا ہوں یہ اتنے ویلیو ایبل نہیں ہوں گے جتنے تمھارے ابو کے ہیں لیکن مجھے اچھا لگے گا اگر تم کبھی کبھی انہیں بھی پہنو ان ایر رنگز کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔
تم نہیں پہنا چاہتی تو بھی ٹھیک ہے میں ریپلیس کرنے کے لئے نہیں دے رہا ہوں ۔۔ سالار نے اس کی آنکھوں میں ہوتی نمی دیکھ کر بے ساختہ کہا ۔۔ وہ نہیں جانتا تھا ۔۔۔ بہت ساری چیزیں پہلے ہی اپنی جگہ بدل چکی ہیں ۔ اور وہ اپنی جگہ بنا چکی ہیں ۔۔۔ اس کی خواہش اور ارادے کے نہ ہونے کے باوجود ۔۔۔
کچھ کہنے کے بجائے امامہ نے اپنے دائیں کان میں لٹکا ہوا جھمکا اتارا ۔۔۔
میں پہنا سکتا ہوں ؟؟ سالار نے ایک ایر رنگ نکالتے ہوئے پوچھا ۔۔ امامہ نے سر ہلا دیا ۔۔ سالار نے باری باری اس کے دونوں کانوں میں وہ ایر رنگ پہنا دیئے ۔۔
وہ نم آنکھوں سے مسکرائی ۔۔ وہ بہت دیر تک کچھ کہے بغیر محبت سے اسے دیکھتا رہا ۔
اچھی لگ رہی ہو ۔۔ وہ اس کے کانوں میں لٹکے ہوئے ہلکورے کھاتے موتی کو چھوتے ہوئے مدھم آواز میں بولا ۔
تمھیں کوئی مجھ سے زیادہ محبت نہیں کر سکتا ۔ مجھ سے زیادہ خیال نہیں رکھ سکتا ۔۔ میرے پاس ایک واحد قیمتی چیز تم ہو ۔۔
اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ اس سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ وعدہ کر رہا تھا ۔۔۔ یاد دہانی کرا رہا تھا ۔۔۔ یاں کچھ جتا رہا تھا ۔۔۔ وہ جھک کر اب اس کی گردن چوم رہا تھا ،،،
مجھے نوازا گیا ہے ۔۔۔ سیدھا ہوتے ہوئے اس سرشاری سے کہا ۔۔۔
رومانس ہورہا ہے ؟؟؟ اپنے عقب میں آنے والی کامران کی آواز پر دونوں ٹھٹکے تھے ۔۔۔ وہ شائد شارٹ کٹ کی وجہ سے برآمدے کے اس دروازے سے نکلا تھا ۔۔۔
کوشش کررہیں ہیں ۔۔ سالار نے پلٹے بغیر کہا ۔۔
گڈ لک ۔۔ وہ کہتے ہوئے ان کے پاس سیڑھیاں اترتا ہوا انہیں دیکھے بغیر چلا گیا ۔۔ امامہ کی رکی ہوئی سانس بحال ہوئی ،، وہ جیھنپ گئی تھی سالار اور اس کی فیملی کم از کم ان معاملات میں بے حد آزاد خیال تھے ۔۔۔
کسی کو سامنے پاکر ، کسی کے سرخ ہونٹوں پر
انوکھا سا تبسم ہے ، محبت ہو گئی ہوگی
امامہ کو لگا وہ زیر لب گلوکار کے ساتھ گا رہا ہے ۔۔۔
جہاں ویران راہیں تھیں ، جہاں حیران آنکھیں تھیں
وہاں پھولوں کا موسم ہے ، محبت ہوگئی ہوگی
لکڑی کی ان سیڑھیوں پر ایک دوسرے کے قریب بیٹھے وہ خاموشی کو توڑتی آس پاس کے پہاڑوں میں گونج کی طرح پھیلتی گلوکار کی سریلی آواز سن رہے تھے ۔۔ زندگی کے وہ لمحے یادوں کا حصہ بن رہے تھے
دوبارہ نہ آنے کے لئے گزررہے تھے ان کے اپارٹمنٹ کی دیوار پر لگنے والی ان دونوں کی پہلی اکھٹی تصویر اس فارم ہاؤس کی سیڑھیوں ہی کی تھی ۔۔سرخ لباس میں گولڈن کڑھائی والی سیاہ پشمینہ شال اپنے بازوں کے گرد اوڑھے کھلے سیاہ بالوں کو کانوں کے پیچھے سمیٹے خوشی اس کی مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک نہیں بلکہ اس قرب میں
جھلک رہی تھی جو اس کے اور سالار کے درمیان نظر آرہا تھا ۔ سفید شرٹ اور سیاہ جیکٹ میں اسے اپنے ساتھ لگائے سالار کی آنکھوں کی چمک جیسے اس فوٹو گراف میں موجود دوسری ہر شے کو مات کر رہی تھی ۔۔۔ کوئی بھی کیمرے کے لئے بنائے ہوئے اس ایک پوز میں نظر آنے والے جوڑے کو دیکھ کر چند لمحوں کے لئے ضرور ٹھٹکتا ۔۔
سکندر نے اس فوٹو گراف کو فریم کروا کر انہیں ہی نہیں بھیجا تھا انہوں نے اپنے گھر کی فیملی وال فوٹوز میں بھی اس تصویر کا اضافہ کیا تھا ۔۔۔

قسط نمبر 2

وہ شخص دیوار پر لگی تصویر کے سامنے اب پیچھے پندرہ منٹ کھڑا تھا پلکیں جھپکائے بغیر ٹکٹکی لگائے اس لڑکی کا چہرہ دیکھتے ہوئے ۔۔۔ چہرے میں کوئی شباہت تلاش کرتے ہوئے ۔۔۔ اس شخص کے شجرہ میں دبے آتش فشاں کی شروعات ڈھونڈتے ہوئے ۔۔۔ اگر وہ اس شخص کو نشانہ بنا سکتا تھا تو اسی ایک جگہ سے بنا سکتا تھا ۔۔۔وہ ہونٹ کاٹتے ہوئے ساتھ ساتھ کچھ بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔ خود کلامی ۔۔۔ ایک اسکینڈل کا تانا بانا تیار کرنے کے لئے ایک کے بعد ایک مکرو فریب کا جال ۔۔۔ وجوہات ۔۔۔۔ حقائق کو مخفی کرنے ۔۔۔۔ وہ ایک گہرا سانس لے کر اپنے عقب میں بیٹھے لوگوں کو کچھ ہدایت دینے کے لئے مڑا تھا ۔۔

سی آئی اے ہیڈ کواٹر کے اس کمرے کی دیواروں پر لگے بورڈ چھوٹے بڑے نوٹس چارٹس فوٹو گرافس اور ایڈریسز کی چٹیوں سے بھرے ہوئے تھے ۔۔۔

کمرے میں موجود چار آدمیوں میں سے تین اس وقت کمپیوٹر پر مختلف ڈیٹا کھنگالنے میں لگے ہوئے تھے ۔۔۔

یہ وہ کام پچھلے ڈیڑھ ماہ تک کر رہے تھے ۔ اس کمرے میں جگہ جگہ بڑے بڑے ڈبے پڑے تھے جو مختلف فائلز ٹیپس میگزینز اور نیوز پیپر کے تراشوں اور دوسرے رکارڈ سے بھرے ہوئے تھے کمرے میں موجود ریکارڈ کیبنٹس پہلے ہی بھری ہوئی تھیں،، کمرے میں موجود تمام ڈیٹا ان کمپیوٹر کی ہارڈکس میں بھی محفوظ تھا ۔۔

کمرے میں موجود آدمی پچھلے ڈیڑھ ماہ سے اس شخص کے بارے میں آن لائن آنے والے تمام ریکارڈ اور معلومات اکٹھی کر رہا تھا ۔۔ کمرے میں موجود تیسرا آدمی اس شخص اور اس کی فیملی کے ہر فرد کی ای میلز کا رکارڈ کھنگالتا رہا تھا ۔۔ چوتھا شخص اس فیملی اور مالی معلومات چیک کرتا رہا تھا ۔۔ اس ساری جدوجہد کا نتیجہ ان تصویروں اور شجرہ نسب کی صورت میں ان بورڈ پر موجود تھا ۔۔

وہ چار لوگ دعوا کر سکتے تھے کہ اس شخص اور اس کی فیملی کی پوری زندگی کا رکارڈ اگر خدا کے پاس موجود تھا تو اس کی ایک کاپی اس کمرے میں تھی ۔۔ اس شخص کی زندگی کے بارے میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں تھی جو ان کے علم میں نہیں تھی یاں جس کے بارے میں وہ ثبوت نہ دے سکتے تھے ۔۔۔

سی آئی اے کے شدید آپریشنز سے لے کر گرل فرینڈ تک اور اس کی مالی معاملات سے لے کر اسکی اولاد کی پرسنل اور پرائیوٹ لائف تک اس کے پاس ہر چیز کی تفصیلات تھیں ۔۔۔

لیکن سارا مسئلہ یہ تھا کہ ڈیڑھ ماہ کی اس محنت اور پوری دنیا سے اکھٹے کئے ہوئے اس ڈیٹا میں سے وہ ایسی کوئی چیز نہیں نکال سکے تھے جس سے اس کی کردار کشی کرسکتے ۔۔

وہ ٹیم جوپیندرہ سال سے اسی مقاصد پر کام کرتی رہی تھی یہ پہلی بار تھا کہ وہ اتنی سر جوڑ محنت کے باوجود اس شخص اور اس کے گھرانے کے کسی شخص کے حوالے سے کسی قسم کا بری حرکت عمل نشان دہی نہیں کر پائی تھی ۔۔۔ دو سو پوانٹس کی وہ لسٹ جو انہیں دی گئی تھی وہ دو سو کراسز سے بھری ہوئی تھی اور یہ ان سب کی زندگی میں پہلی بار ہوا تھا ۔۔ انہوں نے ایسا صاف ریکارڈکسی کا نہیں دیکھا تھا ۔۔۔

کسی حد تک ستائش کے جذبات رکھنے کے باوجود ایک آخری کوشش کررہے تھے ۔۔ ایک آخری کوشش۔۔

کمرے کے ایک بورڈ سے دوسرے بورڈ اور دوسرے بورڈ سے تیسرے بورڈ تک جاتے جاتے وہ آدمی اس کے شجرہ نسب کی اس تصویر پر رکا ہوا تھا ۔ اس تصویر کے آگے کچھ اور تصویریں تھیں اور ان کے ساتھ کچھ بلٹ پوانٹس ۔۔۔ ایک دم بجلی سا جھٹکا لگا ۔۔ اس نے اس لڑکی کی تصویر کے نیچے تاریخ پیدائش دیکھی ۔۔ پھر مڑ کر کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے ہوئے آدمی کو وہ سال بتاتے ہوئے کہا ۔۔

دیکھو یہ سال یہ کہاں تھا ؟

کمپیوٹر پر بیٹھے آدمی نے چند منٹوں کے بعد اسکرین دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

پاکستان میں ۔۔۔ اس شخص کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ آگئی تھی ۔۔۔

کب سے کب تک ؟۔۔۔ اس آدمی نے اگلا سوال کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ کمپیوٹر پر بیٹھے ہوئے آدمی نے تاریخیں بتائیں ۔۔

آخر کار ہمیں کچھ مل ہی گیا ۔۔ اس آدمی نے بے اختیار ایک سیٹی بجاتے ہوتے کہا تھا ۔۔ انہیں جہاز ڈبونے کے لئے تار پیڈو مل گیا تھا ۔۔۔۔

یہ پندرہ منٹ پہلے کی روداد تھی ۔۔ پندرہ منٹ بعد اب وہ جانتا تھا کہ اسے اس آتش فشاں کا منہ کھولنے کے لئے کیا کرنا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ یہاں کسی جذباتی ملاقات کے لئے نہیں آئی تھی ۔۔ سوال و جواب کے لمبے چوڑے سیشن کے لئے بھی نہیں ۔۔۔ لعنت و ملامت کے کسی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بھی نہیں ۔۔۔ وہ یہاں کسی کا ضمیر جنجھوڑنے آئی تھی ۔۔۔ نہ ہی کسی سے نفرت کا اظہار کرنے کے لئے ۔۔۔ اور نہ ہی کسی کو بتانے آئی تھی کہ وہ اذیت کے ماؤنٹ ایورسٹ پر کھڑی تھی ۔۔۔ نہ ہی وہ اپنے باپ کو گریبان سے پکڑنا چاہتی تھی ۔۔ نہ اسے یہ بتانا چاہتی تھی کہ اس نے اس کی زندگی تباہ کر دی ہے ۔۔۔

اس کے صحت مند ذہن اور جسم کو ہمیشہ کے لئے مفلوج کر دیا تھا ۔۔

وہ یہ سب کچھ کہتی ۔۔۔ یہ سب کرتی اگر اسے یقین ہوتا کہ یہ سب کرنے کے بعد اسے سکون مل جائے گا ۔۔۔

اس کا باپ احساس جرم یا پچھتاوے جیسی چیز کو پالنے لگا تھا ،،،،

پچھلے کئی ہفتوں سے وہ آبلہ پا تھی ۔۔۔ وہ راتوں کو سکون آور گولیاں لئے بغیر سو نہیں پارہی تھی اور اس سے بڑھ کر تکلیف دہ چیز یہ تھی وہ سکون آور ادویات لینا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ وہ سونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ وہ سوچنا چاہتی تھی اس بھیانک خواب کے بارے میں جس میں وہ چند ہفتے پہلے داخل ہوئی تھی اور جس سے اب وہ ساری زندگی نکل نہیں سکتی تھی ۔۔

وہ یہاں آنے سے پہلے پچھلی پوری رات روتی رہی تھی ۔۔۔ یہ بے بسی کی وجہ سے نہیں تھا ۔۔ یہ اذیت کی وجہ سے بھی نہیں تھا ۔۔۔ یہ اس غصے کی وجہ سے تھا جو وہ اپنے باپ کے لئے اپنے دل میں اتنے دنوں سے محسوس کر رہی تھی ایک آتش فشاں تھا یا جیسے کوئی الاؤجو اس کو اندر سے سلگا رہا تھا اندر سے جلا رہا تھا ۔۔۔

کسی سے پوچھے ، کسی کو بتائے بغیر یوں اٹھ کر آجانے کا فیصلہ جذباتی تھا احمقانہ تھا اور غلط تھا ۔۔۔ اس نے زندگی میں پہلی بار اک جذباتی احمقانہ اور غلط فیصلہ بے حد سوچ سمجھ کر کیا تھا ۔۔ ایک اختتام چاہتی تھی وہ اپنی زندگی کے اس باب کے لئے جس کے بغیر وہ آگے نہیں بڑھ سکتی تھی اور جس کی موجودگی کا انکشاف اس کے لئے دل دہلادینے والا تھا ۔۔۔

اس کا ایک ماضی تھا وہ جانتی تھی لیکن اسے کبھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کے ماضی کا ماضی بھی ہو سکتا ہے۔۔۔

ایک دفعہ کا ذکر تھا جب وہ خوش تھی اپنی زندگی میں ۔۔۔۔۔ جب وہ خود کو باسعادت سمجھتی تھی ۔۔ اور مقرب سے ملعون ہونے کا فاصلہ اس نے چند سیکنڈز میں طے کر لیا تھا چند سیکنڈز شاید زیادہ وقت تھا شاید اس سے بھی کم وقت تھا جس میں وہ احساس کمتری احساس محرومی احساس ندامت اور ذلت و بدنامی کے ایک ڈھیر میں تبدیل ہوئی تھی ۔۔۔

اور یہاں وہ اس کو دوبارہ وہی شکل دینے آئی تھی اس بوجھ کواس شخص کے سامنے اتار پھینکنے آئی تھی جس نے وہ بوجھ اس پر لادا تھا ۔۔ زندگی کسی کو اس وقت یہ پتا نہیں تھا کہ وہ وہاں تھی ۔۔۔۔ کسی کو پتا ہوتا تو وہاں آہی نہیں سکتی تھی ۔۔۔ اس کا سیل فون پچھلے کئی گھنٹوں سے آف تھا ۔۔ وہ چند گھنٹوں کے لئے خود کو اس دنیا سے دور لے آئی تھی جس کا وہ حصہ تھی ۔۔۔ اس دنیا کا حصہ یا پھر اس دنیا کا حصہ جس میں وہ اس وقت موجود تھی ۔۔۔ یا پھر اس کی کوئی بنیاد نہیں تھی ۔۔۔

وہ کہیں کی نہیں تھی ۔۔۔ اور جہاں کی تھی ۔ جس سے تعلق رکھتی تھی اس کو اپنا نہیں سکتی تھی ۔۔

انتظار لمبا ہوگیا تھا ۔۔۔ انتظار ہمیشہ لمبا ہوتا ہے ۔۔۔ کسی بھی چیز کا انتظار ہمیشہ لمبا ہوتا ہے ۔۔ چاہے آنے والی شے پاؤں کی زنجیر بننے والی ہو یاں پھر گلے کا ہار ۔۔۔ سر کا تاج بن کر سجنا ہو اس نے پاؤں کی جوتی ۔۔۔ انتظار ہمیشہ لمبا ہی لگتا ہے ۔۔

وہ ایک سوال کا جواب چاہتی تھی اپنے باپ سے ۔۔۔ صرف ایک چھوٹے سے سوال کا ۔۔۔ اس نے اس کی فیملی کو کیوں مار ڈالا ؟؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گرینڈ حیات ہوٹل کا پال روم اس وقت اسکرپ نیشنل اسپیلنگ بی کے ۹۲ ویں مابلے کے فائنل میں پہنچنے والے فریقین سمیت دیگر شرکا ان کے والدین بہن بھائیوں اور اس مقابلے کو دیکھنے کے لئے موجود لوگوں سے کچھا کچھ بھرا ہونے کے باوجود ایسا خاموش تھا کہ سوئی گرنے کی آواز بھی سنی جاسکے ۔۔

وہ دو افراد جو فائنل میں پہنچے تھے ان کے درمیان چودھواں راؤنڈ کھیلا جارہا تھا ۔۔ تیرہ سالہ نینسی اپنے لفظ کے ہجے کرنے کے لئے اپنی جگہ پر آچکی تھی ۔۔ پچھلے بیانوے سالوں سے اس ہال روم میں دنیا کے بیسٹ اسپیلر کی تاج پوشی ہو رہی تھی ۔۔ امریکا کی مختلف ریاستوں کے علاوہ دنیا کے بہت سارے ممالک میں اسپیلنگ بی کے مقامی مقابلے جیت کر آنے والے پندرہ سال سے کم عمر کے بچے اس آخری راؤنڈ کو جیتنے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہے تھے ۔۔ا یسی ہی ایک بازی کے شرکا آج بھی اسٹیج پر موجود تھے ۔۔۔۔

سسافراس نینسی نے رکی ہوئی سانس کے ساتھ پروناؤنسر کا لفظ سنا ۔۔ اس نے پروناؤسر کو لفظ دہرانے کے لئے کہا ۔۔ پھر اسنے لفظ کو دہرایا ۔۔ وہ چیمپیئن شپ ورڈ میں سے ایک تھا لیکن فوری طور پر اسے وہ یاد نہیں آسکا ۔۔ بہر حال اس کی ساؤنڈ سے وہ اسے بہت مشکل لگا تھا اور اگر سننے میں اتنا مشکل نہیں تھا تو اس مطلب تھا وہ ترکی لفظ ہو سکتا تھا۔

نو سالہ دوسرا فائنلسٹ اپنی کرسی پر بیٹھے گلے میں لٹکے اپنے نمبر کارڈ کے پیچھے انگلی سے اس لفظ کی ہجے کرنے میں لگا ہوا تھا ۔۔ وہ اس کا لفظ نہیں تھا لیکن وہاں بیٹھا ہر بچہ ہی لاشعوری طور پر اس وقت یہی کرنے میں مصروف تھا ۔ جو مقابلے سے آؤٹ ہو چکا تھا ۔۔

نینسی کا ریگولر ٹائم ختم ہو چکا تھا ۔۔

ایس ۔ اے ۔ ایس ۔ ایس ۔۔ اس نے رک رک کر الفاظ کی ہجے کرنا شروع کی وہ پہلے چار حروف بتانے کے بعد ایک لمحہ کے لئے رکی ۔ زیر لب اس نے باقی کے پانچ حروف دہرائے پھر دوبارہ بولنا شروع کیا ۔۔

اے ۔ ایف ۔ آر ۔ وہ ایک بار پھر رکی ۔ دوسرے فائنلسٹ نے بیٹھے بیٹھے زیر لب آخری دو حروف دہرائے ۔۔

یو ۔ ایس ۔۔ مائیک کے سامنے کھڑی نینسی نے بھی بلکل اس وقت یہی دو حروف بولے اور پھر بے یقینی سے اس گھنٹی کو بجتے سنا جو اسپیلنگ کے غلط ہونے پر بجتی تھی ۔۔ شاک صرف اس کے چہرے پر نہیں تھا ۔۔۔ دوسرے فائنلسٹ کے چہرے پر بھی تھا ۔۔ پروناؤنسر اب سسافراس کے درست اسپیلنگ دہرا رہا تھا ۔۔۔ نینسی نے بے اختیار آنکھیں بند کیں ۔۔

آخری لیٹر سے پہلے اے ہونا چاہیئے تھا ۔۔۔ میں نے یو کیا سوچ کر لگا دیا ؟

اس نے خود کو کوسا ۔۔۔ تقریباَ فق رنگت کے ساتھ نینسی گراہم نے مقابلے کے شرکا کے لئے رکھی ہوئی کرسیوں کی طرف چلنا شروع کردیا ۔۔

ہال تالیوں سے گونج رہا تھا ۔۔ یہ ممکنہ رنر اپ کو کھڑے ہو کر دی جانے والی داد و تحسین تھی ۔۔۔ نو سالہ دوسرا فائنل میں پہنچنے والا بھی اس کے لئے کھڑا تالیاں بجا رہا تھا ۔۔۔ نینسی کے قریب پہنچنے پر پر اس نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا ۔۔۔

نینسی نے ایک مدہم سی مسکراہٹ کے ساتھ اسے جواب دیا اور اپنی سیٹ سنبھال لی ۔۔ ہال میں موجود لوگ دوبارہ اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے اور دوسرا فائنلسٹ مائیک کے سامنے آچکا تھا ۔۔ نینسی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔

اسے ایک موہوم سی امید تھی کہ اگر وہ بھی اپنے لفظ ہجے غلط کرتا ہے تو وہ دوبارہ فائنل میں آسکتی ہے ۔۔۔

دیٹ واز آ کیچ 22 اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے اس نے کہا ۔۔ وہ اندارہ نہیں لگا سکی وہ اس کے لئے کیا کہہ رہا تھا یا وہ اس لفظ کو واقعی اپنے لئے کیچ 22 ہی سمجھ رہا تھا ۔۔۔ وہ چاہتی تھی ایسا ہوتا ۔۔ ہر کوئی چاہتا ۔۔۔ سینئر اسٹیج پر ان نو سالہ فائنلسٹ تھا ۔۔ اپنی اسی شرارتی مسکراہٹ اور گہری چمکتی آنکھوں کے ساتھ اس نے اسٹیج سے نیچے بیٹھے چیف پروناؤسر کو دیکھتے ہوئے سر ہلایا جو ناتھن جواباَ مسکرایا تھا اور صرف جوناتھن ہی نہیں وہاں کے سب کے لبوں پر ایسی مسکراہٹ تھی ۔ وہ نوسالہ فائنلسٹ اس چیمپئن شپ کو دیکھنے والے حاضرین کا سویٹ ہارٹ تھا ۔۔

اس کے چہرے پر بلا کی معصومیت تھی ۔۔ چمکتی ہوئی تقریبا گول آنکھیں جو کسی کارٹون کریکٹر کی طرح پر جوش اور جان دار تھیں اور تقریبا گلابی ہونٹ جن پر وقتاَ فوقتاَ زبان پھیر رہا تھا اور جن پر آنے والا ذرا سا خم بہت سے لوگوں کو بلا وجہ مسکرانے پر مجبور کررہا تھا ۔۔۔ مو معصوم فتنہ تھا یہ صرف اس کے والدین جانتے تھے جو دوسرے بچوں کے والدین کے ساتھ اسٹیج پر بائیں کی جانب بیٹھے ہوئے تھے ۔۔ وہاں بیٹھے دوسرے فائنلسٹس کے والدین کے برعکس وہ بے حد سکون تھے ۔۔ اس کے چہرے پر تھی تو وہ ان سات سالہ بیٹی کے چہرے پر تھی جو دو دن پر مشتمل اس پورے مقابلے کے دوران ہلکا رہی تھی اور وہ اب بھی آنکھوں پر گلاسز ٹکائے پورے انہماک کے ساتھ اپنے نو سالہ بھائی کو دیکھ رہی تھی جو پروناؤنسر کے لفظ کے لئے تیار تھا ۔۔Cappelleti

جو ناتھن لفظ ادا کیا ۔۔ اس فائنلسٹ کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آئی تھی جسے وہ بمشکل اپنی ہنسی کو کنٹرول کررہا ہو ۔۔ اس کی آنکھیں پہلے کلاک وائز اور پھر اینٹی کلاک وائز گھوم رہی تھیں ۔۔ ہال میں کچھ کھلکھلاہٹیں ابھری تھیں ۔۔ اس نے چیمپیئن شپ میں اپنا ہر لفظ سننے کے بعد ایسے ہی ریئکٹ کیا تھا کمال کی خود اعتمادی تھی اس میں کئی دیکھنے والوں نے اسے داد دی اس کے حصے میں آوالے الفاظ دوسروں کی نسبت زیادہ مشکل ہوتے تھے یہ اس کے لئے مشکل وقت ہوتا تھا لیکن بے حد روانی اور بغیر اٹکے بغیر گھبرائے اسی پر اعتماد مسکراہٹ کے ساتھ وہ ہر پہاڑ سر کرتا رہا تھا اور اب اس کی آخری چوٹی سامنے آگئی تھی ۔۔

ڈیفینیشن پلیز اس نے اپنا ریگولر ٹائم استعمال کرنا شروع کیا ۔۔۔

اس کی بہن اسے بے چینی سے دیکھ رہی تھی اس کے والدین اب بھی سکون میں تھے اس کے تاثرات بتا رہے تھے کہ یہ لفظ اس کے لئے آسان تھا وہ ایسے ہی تاثرات کے ساتھ پچھلے تمام الفاظ ہجے کرتا تھا ۔۔

پلیز اس لفظ کو کسی جملے میں استعمال کرو وہ اب پروناؤنسر سے کہہ رہا تھا پروناؤنسر کا بتایا ہوا جملہ سننے کے بعد گلے میں لٹکے ہوئے کارڈ نمبر کی پشت پر انگلی سے وہ لفظ کو لکھنے لگا ۔۔۔

اب آپ کا ٹائم ختم ہونے والا ہے اسے آخری تیس سیکنڈز کے شروع ہونے کی اطلاع دی گئی جس میں اس نے اپنے لفظ کی ہجے کرنا تھا اس کی آنکھیں گھومنا بند ہوگئی ۔۔

سی اے پی پی ای ٹی آئی وہ ہجے کرتے ہوئے ایک لخطہ کے لئے رکا پھر ایک سانس لیتے ہوئے اس نے دوبارہ ہجے کرنا شروع کیا ۔۔

ای ٹی ٹی آئی ۔۔

ہال تالیوں سے گونگ پڑا اور بہت دیر تک گونجتا رہا ۔۔

اسپیلنگ بی کا نیا چیمپئن صرف ایک لفظ کے فاصلے پر رہ گیا تھا ،،،

تالیوں کی گونج تھمنے کے بعد جوناتھن نے اسے آگاہ کیا کہ اسے اب ایک اضافی لفظ کے حروف بتانے ہیں ۔۔

اس نے سر ہلایا ۔۔۔ اس لفظ کی ہجے نہ کر سکنے کی صورت میں نینسی دوبارہ مقابلے میں آسکتی ہے ۔۔Weissnichtwo اس کے لئے لفظ پروناؤنس کیا گیا ایک لمحے کے لئے اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب تھی پھر اس کا منہ کھلا اور اس کی آنکھیں پھیل گئی اوہ مائی گاڈ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا تھا وہ سکتہ میں تھا پوری چیمپیئن شپ میں یہ پہلی بار تھا کہ اس کی آنکھیں اور وہ خود اس طرح جامد ہوا تھا ۔۔۔

نینسی بے اختیا اپنی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی تو کوئی ایسا لفظ آگیا تھا جو اسے دوبارہ چیمپئن شپ میں لے جاسکتا تھا ۔۔

اس کے والدین کو پہلی بار اس کے تاثرات نے کچھ بے چین کیا تھا اس کا بیٹا اب اپنے نمبر کارڈ سے اپنا چہرہ حاضرین سے چھپا رہا تھا حاضرین اس کی انگلیوں اور ہاتھوں کی کپکہاہٹ بڑی آسانی سے اسکرین پر دیکھ سکتے تھے ۔۔

اور ان میں سے بہت سوں نے اس بچے کے لئے واقعی بہت ہمدردی محسوس کی وہاں بہت کم تھے جو اسے جیتتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتا تھے ۔۔۔

ہال میں بیٹھا ہوا صرف ایک شخص مطمئن اور پر سکون تھا ۔۔۔ پر سکون ۔۔۔ یا پر جوش ۔۔۔۔؟۔۔۔۔۔ کہنا مشکل تھا اور وہ اس بچے کی سات سالہ بہن تھی جو اپنے ماں باپ کے درمیان بیٹھی ہوئی تھی اور جس نے اپنے بھائی کے تاثرات پر پہلی بار بڑے اطمینان کے ساتھ کرسی کی پشت کے ساتھ مسکراتے ہوئے ٹیک لگائی گود میں رکھے ہوئے اپنے دونوں ہاتھوں کو بہت آہستہ آہستہ اس نے تالی کے انداز میں بجانا شروع کیا اس کے ماں باپ نے بیک وقت اس کے تالی بجاتے ہاتھوں اور اس کے مسکراتے چہرے کو الجھے انداز میں دیکھا پھر اسٹیج پر اپنے لرزتے کانپتے کنفیوز بیٹے کو جو نمبر کارڈ کے پیچھے اپنا چہرہ چھپائے انگلی سے کچھ لکھنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قسط نمبر 3۔۔۔۔

اس کے پیروں کے نیچے وہ زمین جیسے سبز مخمل کی تھی… مخمل … یا کچھ اور تھا… تاحد نظر زمین پر سبزے کی طرح پھیلا ہوا … درختوں پر اُگنے جوالی پیلی کونپلوں جیسا سبز… اور پھر ایک دم سمندر کے اندر پیدا ہونے والی کائی جیسی رنگ لیے… نمی کے ننھے ننھے قطرے اپنے وجود پر لیے سبزے کی پتیاں معطر ہوا کے جھونکوں سے ہلتی جیسے کسی رقص میں مصروف تھیں… پانی کے ننھے شفاف موتی سبز پتیوں کے وجود پر پھسل رہے تھے، سنبھل رہے تھے یوں جیسے مخمور ہو کر بہک رہے ہوں… پتیوں کے وجود سے لپٹتے، ڈگمگاتے، سنبھلتے، پھسلتے…تیز ہوا کا ایک جھونکا چلتا، سبزے میں ایک لہر اُٹھتی، سمندر میں جوار بھاٹا کی پہلی لہر کی طرح اُٹھتی، رقص کرتی، لہراتی وہ سبزے کو سہلاتی، بہلاتی ایک عجیب سی سرشاری میں مبتلا کرتی ایک طرف سے دوسری طرف گزر جاتی۔ زمین جیسے رقص کرتنے میں مصروف تھی۔

سبزے کا وجود ننھے ننھے پھولوں سے سجا ہوا تھا… ہر رنگ کے پھولوں سے… اتنے رنگ اور ایسے رنگ جو نظر کو ششدر کر دیں۔ سبزے کے وجود پر بکھرے وہ ننھے ننھے پھول یہاں سے وہاں ہر جگہ تھے۔ سبزے میں ہوا سے پیدا ہونے والی ہر لہر اور ہر موج کے ساتھ وہ بھی عجیب مستی تھا۔

سرشاری سے رقص کرنے لگتے۔

آسمان صاف تھا… آنکھوں کو سکون دینے والا ہلکا نیلا اور اب بھی کسی گنبد کی طرح پھیلا ہوا… گہرا اونچا… بہت اونچا… یہاں سے وہاں تک ہر طرف۔

ہوا معطر تھی، مخمور تھی، گنگنا رہی تھی۔ وہاں موجود ہر شے کے ساتھ اٹکھیلیاں کر رہی تھی۔ ہنستی، چھیڑ کر جاتی پھر پلٹ کر آتی… کبھی تھپکتی… کبھی تھمتی… پھر چلتی… پھر گنگناتی… پھر لہراتی… وہاں تھی، نہیں تھی… کہاں تھی؟

وہ کسی راستے پر تھا… کیا راستہ تھا…! وہ کسی انتظار میںتھا۔ کیا انتظار تھا…! اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس راستے کے دونوں طرف دو رویہ درختوں کی قطار کے ایک درخت کے ساتھ وہ ٹکا کھڑا تھا۔ سہارا لیے یا سہارا دیے۔

وہ آگئی تھی… اس نے بہت دور اس راستے پر اُسے نمودار ہوتے دیکھ لیا۔

وہ سفید لباس میں ملبوس تھی۔ بہت مہین، بہت نفیس … وہ ریشم تھا…؟ اطلس تھا…؟ کم خواب یا وہ کچھ اور تھا؟ اتنا ہلکا… اتنا نازک کہ ہوا کا ہلکا سا جھونکا اس سفید گاوؑن نما لباس کو اڑانے لگا… اس کی دودھیا پنڈلیاں نظر آنے لگتیں۔ وہ ننگے پاوؑں تھی اور سبزپر دھرے اس کے خوب صورت پاوؑں جیسے سبزے کی نرمی کو برداشت نہیں کر پارہے تھے۔ وہ پاوؑں رکھتی چند لمحوں کے لیے لڑکھڑاتی… جیسے مخمور ہو کر ہنستی… پھر سنبھل جاتی… پھر بڑے اشتیاق سے ایک بار پھر قدم آگے بڑھا دیتی۔

اس کے سیاہ بال ہوا کے جھونکوں سے اس کے شانوں اور اس کی کمر تک ہلکورے کھا رہے تھے۔ اس کے گالوں اور چہرے کو چومتے آگے پیچھے جا رہے تھے… اس کے چہرے پر آتے… اس کے سینے سے لپٹتے… اس کے کندھے پر، پھر ہوا میں لہرا کر ایک بار پھر نیچے چلے جاتے۔ وہ خوب صورت سیاہ چمک دار ریشمی زلفیں جیسے اس کے سفید لباس کے ساتھ مل کر اس کے وجود کے ساتھ رقص کرنے میں مصروف تھیں۔

اس کے مرمریں وجود پر وہ سفید لباس جیسے پھسل رہا تھا… سنبھالے نہیں سنبھل رہا تھا… ہوا کے ہر جھونکے کے ساتھ وہ اس کے جسم کے خدوخال کو نمایاں جکرتا، اسے پیروںسے کندھوں تک چومتا … اس کے وجود کے لمس سے مخمور ہوتا… ہوش کھوتا… دیوانہ وار اس کے وجود کے گرد گھومتا… کسی بھنور کی طرح اس کے جسم کو اپنی گرفت میں لیتا اس سے لپٹ رہا تھا۔ ہوا کا دوسرا جھونکا اس کے سیاہ ریشمی زلفوں کو بھی اس رقص میں شامل کر دیتا… وہ اس کے کندھوں اور کمر پر والہانہ انداز میں پھسلتیں… ہوا میں ہلکا سا اڑتیں پھر نرمی اور ملائمت سے اس کے چہرے اور سینے پر گرتیں… اس کے وجود سے پھوٹتی خوشبو سے یک دم سرشار ہوتیں… پھر اس کے جسم کو جیسے اپنے وجود سے چھپانے کی کوشش کرنے لگتیں۔ ہوا کا ایک اور جھونکا انہیں ہولے سے اٹھا کر پھر پیچھے پھینک دیتا۔

اس رقص میں اب پھر اس کے سفید لبا س کی باری تھی… وہ آگے بڑھ آیا۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ وہ عجیب سی حیرت میں مبتلا وہاں کی ہر شے کو سحر زدہ انداز میں دیکھ رہی تھی… بچوں جیسی حیرت اور اشتیاق کے ساتھ۔

اس راستے پر چلتے چلتے اس نے اسے دیکھ لیا… اس کے قدم تھمے، دونوں کی نظریں ملیں پھر اس کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی… پہلے مسکراہٹ پھر ہنسی… اس نے اسے پہچان لیا تھا… وہاں موجود ہ واحد وجود تھا، جسے وہ پہچانتی تھی۔

اس نے ہاتھ بڑھایا۔ وہ اس کا ہاتھ تھام کر اس کے قریب آگئی۔ دونوں ایک عجیب سی سرشاری میں ایک دوسرے کے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے۔

اس کی گہری سیاہ مسکراتی ہوئی آنکھیں، ہیرے کی کنپوں کی طرح چمک رہی تھیں اور یہ چمک اسے دیکھ کر بڑھ گئی تھی۔ اس کے خوب صورت گلابی ہونٹوں پر نمی کی ہلکی سی تہہ تھی، یوں جیسے وہ ابھی کچھ پی کر آئی ہو… اس کی ٹھوڑی ہمیشہ کی طرح اٹھی ہوئی تھی۔ اس کی صراحی دار گردن کو دیکھتے ہوئے اس نے اس کا دوسرا ہاتھ بھی اپنی گرفت میں لے لیا… اس کی آنکھوں کی چمک اور اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی… وہ جیسے اس لمس سے واقف تھی، پھر وہ دونوں بے اختیار ہنسے۔

”تم میرا انتظار کر رہے تھے؟”

”ہاں۔”

”بہت دیر کر دی؟”

”نہیں… بہت زیادہ نہیں۔” وہ اس کا ہاتھ تھامے اس راستے پر چلنے لگا۔

ہوا ابھی بھی ان دونوں کے وجود کے ساتھ اور وہاں موجود ہر شے کے ساتھ اٹھکھیلیاں کرنے میں مصروف تھی۔

وہ اب بھی بچوں جیسی حیرت اور خوشی کے ساتھ وہاں موجود ہر شے کو کھوجنے میں مصروف تھی۔ اس کی کھلکھلاہٹ اور شفاف ہنسی وہاں فضا کو ایک نئے رنگ سے سجانے لگے تھے۔ فضا میں یک دم ایک عجیب دلفریب سے ساز بجنے لگا تھا… وہ ٹھٹھکی، پھر بے اختیار کھلکھلائی… اس کے ہاتھ سے ہاتھ چھڑاتے ہوئے اس نے اس راستے پر قدم آگے بڑھائے، پھر مرد نے اسے دونوں بازو ہوا میں پھیلائے رقص کے انداز میں گھومتے دیکھا… وہ بے اختیار ہنسا۔ وہ اس راستے پر کسی ماہر بیلے رینا کی طرح رقص کرتی دور جا رہی تھی۔ اس کے جسم پر موجود سفید لباس اس کے گھومتے جسم کے گرد ہوا میں اب کسی پھول کی طرح رقصاں تھا۔ وہ اب آہستہ آہستہ ہوا میں اٹھنے لگی تھی… ہوا کے معطر جھونکے بڑی نرمی سے اسے جیسے اپنے ساتھ لیے جا رہے تھے۔ وہ اب بھی اسی طرح ہنستی، رقص کے انداز میں بازو پھیلائے گھوم رہی تھی۔ وہ سحر زدہ اسے دیکھتا رہا… وہ اب کچھ گنگنا رہی تھی، فضا میں یک دم کوئی ساز بجنے لگا تھا۔ پہلے ایک … پھر دوسرا … پھر تیسرا… پھر بہت سارے… پوری کائنات یک دم جیسے کسی سمفنی میں ڈھل گئی تھی اور وہ اب بھی ہوا میں رقصاں تھی۔ کسی مخملیں پر کی طرح ہوا کے دوش پر اوپر نیچے جاتے، وہ سحر زدہ اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی ساتھی رقص کرتے ہوئے ایک بار پھر اسے دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسی، پھر اس نے اپنا ایک ہاتھ بڑھایا یوں جیسے اسے اپنے پاس آنے کی دعوت دے رہی ہو۔ وہ ہنس پڑا وہ ہاتھ بڑھاتی اور وہ کھنچا نہ چلا آتا۔

وہ بھی اس کا ہاتھ پکڑے اب فضا میں رقصاں تھا… زمین سے دور… اس کے قریب … اس کے ساتھ … یک دم دور کی، جیسے کائنات ٹھہر گئی ہو۔ وہ اب آسمان کو دیکھ رہی تھی پھر یک دم آسمان تاریک ہو گیا… دن رات میں بدل گیا تھا… اور رات دن سے بڑھ کر خوب صورت تھی… سیاہ آسمان خوب صورت چمکتے ہوئے ستاروں سے سجا ہوا تھا… ہر رنگ کے ستاروں سے… اور ان سب کے درمیان چاند تھا… کسی داغ کے بغیر، روشنی کا منبع۔

دن کی روشنی اجلی تھی… سکون آور تھی… مدہوش کر دینے والی تھی۔ رات کی روشنی میں بے شمار رنگ تھے، کائنات میں ایسے رنگ انہوں نے کب دیکھے تھے… کہاں دیکھے تھے۔ زمین جیسے ہر رنگ کی روشنی میں نہا رہی تھی۔ ایک ستارہ ٹمٹماتا… پھر دوسرا… پھر تیسرا… اور زمین پر کبھی ایک رنگ بڑھتا، کبھی دوسرا، کبھی تیسرا… آسمان کو جیسے کسی نے روشنیوں میں پرو دیا تھا۔

وہ اس کا ہاتھ پکڑے جیسے سرشاری کی انتہا پر پہنچی ہوئی تھی… اس کی حیرت، اس کی سرشاری جیسے اسے محظوظ کر رہی تھی… گدگدا رہی تھی۔

وہ اب پھر زمین پر آگئے تھے۔ رات ایک بار پھر دن میں بدل گئی تھی… سبزہ، پھول، پتے، مہکتی معطر ہوا، سب وہیں تھے۔

اس کے ساتھ چلتے چلتے اس نے اپنے پیروں کے نیچے جآتے مخملیں سبزے پر سجے پھولوں کو دیکھا پھر ہاتھ بڑھایا۔ اس کے ہاتھ میں وہ پھول آگیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا… پھر دور دور تک پھیلے سبزے کے سارے پھول جیسے کسی مقناطیس کی طرح اس کی طرف آئے تھے۔ سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں… لاتعداد، بے شمار، اتنے کہ اس کے ہاتھ سنبھال نہیں پائے تھے۔ وہ اب اس کے ہاتھوں پر… اب اس کے بالوں پر، اب اس کے لباس پر، اب اس کے جسم پر… وہ خوشی سے بے خود ہو رہی تھی، سرشار ہو رہی تھی۔ پھر اس نے ہاتھ کے اشارے سے انہیں ہوا میں اچھالا… وہ پلک جھپکتے میں آسمان کی طرف گئے… پورا آسمان پھولوں سے بھر گیا تھا۔ چند لمحوں کے لیے پھر پھولوں کی بارش ہونے لگی تھی۔ وہ دونوں ہنس رہے تھے۔ پھولوں کو بارش کے قطروں کی طرح مٹھیوں میں بھرتے اور چھوڑتے، بھاگتے، کھلکھلاتے وہ سب پھول زمین پر گر کر ایک بار پھر سبزے میں اپنی اپنی جگہ سج گئے تھے… وہاں جہاں وہ تھے… وہیں جہاں انہیں ہونا چاہیے تھا۔

وہ ایک بار پھر آسمان کو دیکھ رہے تھے، وہاں اب بادل نظر آرہے تھے۔ روئی کے گالوں جیسے حرکت کرتے بادل، وہ سب بادل وہاں جمع ہو رہے تھے، جہاں وہ کھڑے تھے… پھر اس نے آسمان پر بارش کا پہلا قطرہ دیکھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی ہتھیلی پر لیا۔ اس قطرے کو دیکھ کر دوبارہ ہنستے ہوئے آسمان کی طرف اچھال دیا۔ اس بار وہ قطرہ اوپر جا کر اکیلا واپس نہیں آیا تھا۔ وہ بہت سارے دوسرے قطروں کو ساتھ لے کر آیا تھا… بہت سارے نرم لمس کے گدگدانے والے قطرے… بارش برس رہی تھی اور وہ دونوں بچوں کی طرح ہنستے، کھلکھلاتے پانی کے ان قطروں کو ہاتھوں سے پکڑ کر ایک دوسرے پر اچھال رہے تھے… وہ بارش تھی۔ پانی تھا مگر وہ قطرے ان کے بالوں، ان کے جسم کو گیلا نہیں کر رہے تھے۔ وہ جیسے شفاف موتیوں کی بارش تھی، جو ان کے ہاتھ اور جسم کی ایک جنبش پر ان کے بالوں اور لباس سے الگ ہو کر دور جا گرتے… سبزرے اور پھولوں کے اوپر اب بارش کے شفاف موتی جیسے قطروں کی ایک تہہ سی آگئی تھی، یوں جیسے کسی نے زمین پر کوئی شیشہ پھیلا دیا ہو… اور وہ اس شیشے پر چل رہے تھے۔ ان کو اپنے سائے میں لیے وہ رکتے، ہاتھ ہلاتے، آسمان پر بادلوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ بھیجتے پھر اپنی طرف بلاتے وہ آسمان پر جیسے پانی سے مصوری کر رہے تھے۔

پھر جیسے وہ اس کھیل سے تھک گئی… وہ رکی… بارش تھمی… زمین سے پانی کے قطرے غائب ہونے لگے پھر بادل… چند ساعتوں میں آسمان صاف تھا۔ یوں جیسے وہاں کبھی بادل نام کو کوئی شے آئی ہی نہ ہو۔

وہ اب اس کا ہاتھ پکڑ رہا تھا۔ اس نے چونک کر اسے دیکھا۔

”تمہیں کچھ دکھانا ہے۔” وہ مسکرایا۔

”کچھ اور بھی بھی؟” اس کی خوشی کچھ اور بڑھی۔

”ہاں، کچھ اور بھی۔” اس نے اثبات میں سرہلایا۔

”کیا؟” اس نے بے ساختہ اس سے پوچھا تھا… وہ خاموسی سے مسکرا دیا۔

”کیا…؟” اس نے بچوں کی طرح اصرار کیا۔

وہ پہلے سے زیادہ پُراسرار انداز میں مسکرایا تھا۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسی نئے راستے کی طرف جا رہا تھا۔ پھر ان دونوں کو دور سے کچھ نظر آنے لگا تھا۔

٭٭٭٭

سالار نے ہڑ بڑا کر آنکھ کھولی۔ کمرے میں مکمل تاریکی تھی۔ وہ فوری طور پر سمجھ نہیں سکا کہ وہ کہاں ہے۔ اس کی سماعتوں نے دور کہیں کسی مسجد سے سحری کے آغاز کا اعلان سنا۔ اس کمرے کے گھپ اندھیرے کو کھلی آنکھوں سے کھوجتے ہوئے اسے اگلا خیال اس خواب اور امامہ کا آیا تھا… وہ کوئی خواب دیکھ رہا تھا، جس سے وہ بیدار ہوا تھا۔

مگر خواب میں وہ امامہ کو کیا دکھانے والا تھا، اسے کچھ یاد نہیں آیا…”امامہ!” اس نے دل کی دھڑکن جیسے ایک لمحے کے لیے رکی… وہ کہاں تھی؟ کیا پچھلی رات ایک خواب تھی؟

وہ یک دم جیسے کرنٹ کھا کر اٹھا۔ اپنی رکی سانس کے ساتھ اس نے دیوانہ وار اپنے بائیں جانب بیڈ ٹیبل لیمپ کا سوئچ آن کیا۔ کمرے کی تاریکی جیسے یک دم چھٹ گئی۔ اس نے برق رفتاری سے پلٹ کر اپنی داہنی جانب دیکھا اور پرسکون ہو گیا۔ اس کی رکی سانس چلنے لگی۔ وہ وہیں تھی۔ وہ ”ایک خواب”سے کسی ”دوسرے خواب” میں داخل نہیں ہوا تھا۔

یک دم آن ہونے والے بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ کی تیز روشنی چہرے پر پڑنے پر امامہ نے نیند میں بے اختیار اپنے ہاتھ اور بازو کی پشت سے اپنی آنکھوں اور چہرے کو ڈھک دیا۔

سالار نے پلٹ کر لیمپ کی روشنی کو ہلکا کر دیا۔ وہ اسے جگانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اس سے چند فٹ کے فاصلے پر تھی۔ گہری پر سکون نیند میں۔ اس کا ایک ہاتھ تکیے پر اس کے چہرے کے نیچے دبا ہوا تھا اور دوسرا اس وقت اس کی آنکھوں کو ڈھانے ہوئے تھا۔

اس کی ادھ کھلی ہتھیلی اور کلائی پر مہندی کے خوب صورت نقش و نگار تھے۔ مٹتے ہوئے نقش و نگار، لیکن اب بھی اس کے ہاتھوں اور کلائیوں کو خوب صورت بنائے ہوئے تھے۔

سالار کو یاد آیا، وہ مہندی کسی اور کے لیے لگائی گئی تھی… اس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ آئی۔ اس نے بے اختیار چند لمحوں کے لیے آنکھیں بند کیں۔

کسی اور کے لیے؟

پچھلی ایک شام ایک بار پھر کسی فلم کی طرح اس آنکھوں کے سامنے سیکنڈ کے ہزاروں حصے میں گزر گئی تھی۔ اس نے سعیدہ اماں کے صحن میں اُس چہرے کو نو سال کے بعد دیکھا تھا اور نو سال کہیں غائب ہو گئے تھے۔ وہ ذرا سا آگے جھکا اس نے بڑی نرمی سے اس کے ہاتھ کو اس کے چہرے سے ہٹا دیا۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ کی زرد روشنی میں اس سے چند انچ دور وہ اس پر جھکا، اسے مبہوت دیکھتا رہا۔ وہ گہرے سانس لیتی جیسے اسے زندگی دے رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے وہ جیسے کسی طلسم میں پہنچا ہوا تھا۔ بے حد غیر محسوس انداز میں اس نے امامہ کے چہرے پر آئے کچھ بالوں کو اپنی انگلیوں سے بڑی احتیاط سے ہٹایا۔

٭٭٭٭

”میں لائٹ آف کر کے نہیں سو سکتا۔” امامہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔ اس نے سالار کو سونے سے پہلے لائٹ آف کرنے کے لیے کہا تھا۔

فوری طور پر امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیا کہے… اگر وہ لائٹ آف کر کے نہیں سو سکتا تھا تو وہ لائٹ آن رکھ کر نہیں سو سکتی تھی، لیکن وہ یہ بات اسے اتنی بے تکلفی سے نہیں کہہ سکتی تھی، جتنے اطمینان سے وہ اسے کہہ رہا تھا۔

”کیا ہوا؟” الارم سیٹ کر کے سیل فون کو بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اسے دیکھ کر ٹھٹھکا۔ وہ کمبل لپیٹے اسی طرح بیڈ پر بیٹھی جیسے کچھ سوچ رہی تھی۔ یہ سالار کے گھر اس کی پہلی رات تھی۔

”کچھ نہیں۔” وہ اپنے بال لپیٹتے ہوئے اپنا تکیہ سیدھا کرنے لگی۔

”تم شاید لائٹ آف کر کے سوتی ہو۔” سالار کو اچانک خود ہی احساس ہو گیا تھا۔ وہ بستر پر لیٹتے لیٹتے رک گئی۔

”ہمیشہ۔” اس نے بے ساختہ کہا۔

”پھر کچھ کرتے ہیں۔” سالار نے بے ساختہ گہرا سانس لے کر سر کھجاتے ہوئے کچھ سوچنے والے انداز میں کمرے کی لائٹس کا جائزہ لیا۔

”میں دیکھتا ہوں، دوسرے بیڈ روم میں زیرو کا بلب ہے اگر وہ…” وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔ امامہ نے تاثرات سے اسے لگا کہ یہ حل بھی اس کے لیے قابل قبول نہیں تھا۔

”زیرو کے بلب کی کتنی روشنی ہوتی!” سالار نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھ کر کہا۔

”کمرے میں تھوڑی سی بھی روشنی ہو تو میں نہیں سو سکتی۔ میں ”اندھیرے ” میں سوتی ہوں۔” اس نے پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنا مسئلہ بتایا۔

”عجیب عادت ہے۔” وہ بے ساختہ کہہ کر ہنسا۔

اس کی بات سے زیادہ اس کی ہنسی امامہ کو کھلی۔

”ٹھیک ہے لائٹ آن رہنے دو۔” اس نے آہستہ سے کہا۔

”نہیں… نو پرابلم میں اسے آف کر رہا ہوں۔”

دونوں بیک وقت اپنے اپنے موقف سے دست بردار ہوئے تھے۔

سالار نے لائٹ آف کر دی اور پھر سونے کے لیے خود بھی بستر پر لیٹ گیا لیکن وہ جانتا تھا، یہ اس کے لیے مشکل ترین کام تھا۔ مارگلہ کی پہاڑی پر آٹھ سال پہلے گزاری ہوئی اس ایک رات کے بعد وہ کبھی کمرے کی لائٹ بند کر کے نہیں سو سکا تھا، لیکن اس وقت اس نے مزید بات نہیں کی۔ چند گھنٹوں کے بعد اسے دوبارہ سحری کے لیے اٹھ جانا تھا۔ وہ یہ چند گھنٹے بستر میں چپ چاپ لیٹ کر گزار سکتا تھا۔ ویسے بھی ”اندھیرا” تھا، پر آج وہ ”اکیلا” نہیں تھا۔

کچھ دیر دونوں کے درمیان مکمل خاموشی رہی۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ بات کا آغاز کیسے کریں… سالار کے لیے خاموشی کا یہ وقفہ زیادہ تکلیف دہ تھا۔

تاریکی میں امامہ نے سالار کو گہرا سانس لے کر کہتے سنا۔

”اب اگر اتنی بڑی قربانی دے رہا ہوں میں لائٹ آف کر کے تو ”کوئی ” ہاتھ ہی پکڑ لے۔” امامہ کو بے اختیار ہنسی آئی۔ وہ اندھیرے میں اس کے کچھ قریب ہوئی اور سالار کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔

”تمہیں ڈر لگ رہا ہے کیا؟” اس کے لہجے میں نرمی اور اپنائیت تھی۔

”اگر ہاں کہوں گا تو کیا کرو گی؟” سالار نے جان بوجھ کر اسے چھیڑا۔

”تسلی دوں گی اور کیا کروں گی۔” وہ محجوب ہوئی تھی۔

”جیسے اب دے رہی ہو؟” اسے امامہ کو تنگ کرنے میں مزا آرہا تھا لیکن یہ جملہ کہنے سے پہلے اس نے اپنے سینے پر دھرے اس کے ہاتھ کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ اس کے متوقع جوابی عمل کو سالار سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا۔ امامہ واقعی ہاتھ ہٹانے ہی والی تھی۔

”ڈر کیوں لگتا ہے تمہیں؟” امامہ نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔

”ڈر نہیں لگتا، بس صرف سو نہیں سکتا۔”

”کیوں؟” وہ اس سے پوچھ رہی تھی۔

وہ فوری جواب نہیں دے سکا۔ مارگلہ کی وہ رات سالار کی نظروں میں گھومنے لگی تھی۔ امامہ چند لمحے اس کے جواب کا انتظار کرتی رہی پھر بولی۔

”بتانا نہیں چاہتے…؟” سالار کو حیرانی ہوئی۔ وہ کیسے اس کا ذہن پڑھ رہی تھی؟

”اور ایسا کب سے ہے؟” امامہ نے اپنے سوال کو بدل دیا تھا۔

”آٹھ سال سے۔” سالار نے جواب دیا۔

وہ مزید کوئی سوال نہیں کر سکی۔ اسے بھی بہت کچھ یاد آنے لگا تھا… آٹھ سال، آٹھ سال… وہ آٹھ سال سے اندھیرے سے خوف زدہ تھا… اور وہ نو سال سے روشنی سے خوف کھاتی پھر رہی تھی… دنیا سے چھپتی پھر رہی تھی۔ اس نے سالار سے پھر کوئی سوال نہیں کیا۔ ایک دوسرے کے وجود میں پیوست کانٹوں کو نکالنے کے لیے ایک رات ناکافی تھی۔ وہ اب اس کے ہاتھ کی پشت کو چوم کر اسے اپنی بند آنکھوں پر رکھ رہا تھا۔ امامہ بے اختیار رنجیدہ ہوئی۔

”میں لائٹ ‘آن کر دیتی ہوں۔” اس نے کہا۔

”نہیں… اندھیرا اچھا لگنے لگا ہے مجھے۔” وہ اسی طرح اس کا ہاتھ آنکھوں پر رکھے بڑبڑایا تھا۔

٭٭٭٭

بہت نرمی سے جھک کر اس نے امامہ کے چہرے کو اپنے ہونٹوں سے چھوا۔ وہ اس سے باتیں کرتا کس وقت سویا تھا، اسے اندازہ نہیں ہوا اور اب وہ جاگا تو اسے حیرت ہو رہی تھی۔ اندھرے میں سونا اتنا مشکل اور اتنا ہولناک ثابت نہیں ہوا تھا، جتنا وہ سمجھتا رہا تھا۔

کمبل کو کچھ اوپر کھینچتے ہوئے اس نے اسے گردن تک ڈھانپ دیا اور پھر لیمپ آف کرتے ہوئے بڑی احتیاط سے بستر سے اٹھ گیا۔ ڈرائنگ روم کی طرف جاتے جاتے وہ اپنے سیل فون پر لگا الارم آف کر گیا۔

واش روم میں اس نے واش بیسن پر امامہ کے ہاتھ سے اتری کانچ کی کچھ چوڑیاں اور اس کے ایر رنگز دیکھے۔ اس نے ایر رنگز اٹھا لیے۔ وہ دیر تک انہیں اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھے دیکھتا رہا۔ وہ بہت خوب صورت جتھے مگر اب پرانے ہو رہے تھے۔

جس وقت وہ نہا کر باہر نکلا، وہ تب بھی گہری نیند میں تھی۔ کمرے کی لائٹ آن کیے بغیر وہ دبے پاوؑں بیڈ روم سے باہر آگیا۔ بہت دور کسی مسجد میں کوئی نعت پڑھ رہا تھا یا محمد… آواز اتنی مدھم تھی کہ سمجھنا مشکل تھا۔ اس نے سٹنگ ایریا کی لائٹ آن کر دی۔ لائٹ آن کرتے ہی اس کی نظر سینٹر ٹیبل پر پڑے کافی کے دو مگز پر پڑی۔

وہ دنوں رات کو وہیں بیٹھے کافی پیتے ہوئے باتیں کرتے رہے تھے۔ صوفے پر اس کی اونی شال پڑی تھی، جس میں وہ اپنے پاوؑں چھپائے بیٹھی رہی تھی۔ رات ایک بار پھر جیسے کسی خواب کا قصہ لگنے لگی تھی… بے یقینی تھی کہ ختم ہونے میں ہی نہیں آرہی تھی… خوش قسمتی تھی کہ اب بھی گمان بنی ہوئی تھی۔

وہ بھول گیا کہ وہ بیڈ روم سے یہاں کیا کرنے آیا تھا۔ چند لمحوں کے لیے وہ واقعی سب کچھ بھول گیا تھا۔ بس ”وہ” تھی اور ”وہ” تھی تو سب کچھ تھا۔

اس کے سیل پر آنے والی فرقان کی کال نے یک دم اسے چونکا دیا تھا۔ کال ریسیو کیے بغیر وہ بیرونی دروازے کی طرف گیا۔ وہ اسے سحری دینے آیا تھا۔

٭٭٭٭

اس کی آنکھ الارم کی آواز سے کھلی تھی۔ مندھی آنکھوں کے ساتھ اس نے لیٹے لیٹے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑے اس الارم کو بند کرنے کی کوشش کی، لیکن الارم کلاک بند ہونے کے بجائے نیچے کارپٹ پر گر گیا۔ امامہ کی نیند یک دم غائب ہو گئی۔ الارم کی آواز جیسے اس کے اعصاب پر سوار ہونے لگی تھی۔ وہ کچھ جھلا کر اٹھی تھی۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ آن کر کے وہ کمبل سے نکلی اور بے اختیار کپکپائی۔ سردی بہت تھی۔ اس نے کمبل ہٹاتے ہوئے بیڈ کی پائنتی کی طرف اپنی اونی شال ڈھونڈنے کی کوشش کی… وہ وہاں نہیں تھی۔ اس نے جھک کر کارپٹ پر دیکھا اب بھی بج رہا تھا۔ مگر نظر اب بھی نہیں آرہا تھا۔ اس کی جھنجھلاہٹ بڑھ گئی تھی۔ تب ہی اس نے اچانک کوئی خیال آنے پر سالار کے بستر کو دیکھا۔ وہ خالی تھا۔ اسے جیسے یک دم یاد آیا کہ وہ ”کہاں” تھی۔ جھنجھلاہٹ یک دم غائب ہوئی تو اور ساتھ ہی الارم کی آواز بھی… یہ سحری کا وقت تھا۔

امامہ، سالار کے گھر پر تھی ا ور یہ اس کی نئی زندگی کا پہلا دن تھا۔

وہ دوبارہ اپنے بیڈ پر بیٹھ گئی۔ کمبل کے ایک کونے سے اس نے اپنے کندھے ڈھانپنے کی کوشش کی۔ اس کے جسم کی کپکپاہٹ کچھ کم ہوئی۔ اس نے پہلی بار اپنے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑی چیزوں کو غور سے دیکھا۔ وہاں رات کو سالار نے گھڑی رکھی تھی… لیکن اب وہاں نہیں تھی۔ ایک چھوٹا رائٹنگ پیڈ اور پین بھی تھا۔ پاس ہی کارڈ لیس فون تھا۔ پانی کی ایک چھوٹی بوتل بھی وہیں تھی اور اس کے پاس اس کا سیل پڑا تھا۔ اسے ایک بار پھر الرام کلاک کا خیال آیا۔ اسے یاد تھا کہ اس نے الارم نہیں لگایا تھا۔ یہ کام سالار کا تھا۔ شاید اس نے اپنے لیے الارم لگایا تھا۔

پھر جیسے اس کے ذہن میں ایک جھماکہ سا ہوا۔ بیڈ کی وہ سائیڈ جو رات کو اس نے سونے کے لیے منتخب کی تھی، وہ سالار کا بستر تھا۔ وہ عادتاً دائیں طرف گئی تھی اور سالار اسے روک نہیں سکا۔ وہ کچھ دیر چپ چاپ بیٹھی رہی، پھر اس نے بے حد ڈھیلے انداز میں اپنے سیل فون اٹھا کر ڑائم دیکھا اور جیسے کرنٹ کھا کر اس نے کمبل اتار پھینکا۔ سحری ختم ہونے میں صرف دس منٹ باقی تھے اور سالار وہ الارم یقینا اسے بیدار کرنے کے لیے لگا کر گیا تھا۔ اسے بے ساختہ غصہ آیا، وہ اسے خود بھی جگا سکتا تھا۔

جب تک وہ کپڑے تبدیل کر کے لاوؑنج میں گئی، اس کا غصہ غائب ہو چکا تھا۔ کم از کم آج وہ اس سے خوش گوار موڈ میں ہی سامنا چاہتی تھی۔سٹنگ ایریا کے ڈائننگ ٹیبل پر سحری کے لیے کھانا رکھا تھا۔ وہ بہت تیزی سے کچن میں کھانے کے برتن لینے کے لیے گئی تھی لیکن سنک میں دو افراد کے استعمال شدہ برتن دیکھ کر اسے جیسے دھچکا لگا تھا۔ وہ کھانا یقینا فرقان کے گھر سے آیا تھا اور وہ فرقان کے ساتھ ہی کھا چکا تھا۔ اسے خوامخواہ خوش فہمی ہوئی تھی کہ آج اس کے گھر میں پہلی سحری تو وہ ضرور اسی کے ساتھ کرے گا… بوجھل دل کے ساتھ ایک پلیٹ لے کر وہ ڈائننگ ٹیبل پر آگئی، لیکن چند لقموں سے زیادہ نہیں لے سکی۔ اسے کم از کم آج اس کا انتظار کرنا چاہیے تھا… اس کے ساتھ کھانا کھانا چاہیے تھا… امامہ کو واقعی بہت رنج ہوا تھا۔

چند لقموں کے بعد ہی وہ بڑی بے دلی سے ٹیبل سے برتن اٹھانے لگی۔

برتن دھوتے دھوتے اذان ہونے لگی تھی، جب اسے پہلے بار خیال آیا کہ سالار گھر میں نظر نہیں آرہا۔

اپنے ہاتھ میں موجود پلیٹ دھوتے دھوتے وہ اسے اسی طرح سنک میں چھوڑ کر باہر آگئی۔ اس نے سارے گھر میں دیکھا۔ وہ گھر میں نہیں تھا۔

پھر کچھ خیال آنے پر وہ بیرونی دروازے کی طرف آئی۔ دروازہ مقفل تھا لیکن ڈور چین ہٹی ہوئی تھی۔ وہ یقینا گھر پر نہیں تھا… کہاں تھا؟ اس نے نہیں سوچا تھا۔

اس کی رنجیدگی میں اضافہ ہوا۔ وہ اس کی شادی کے دوسرے دن اسے گھر پر اکیلا چھوڑ کر کتنی بے فکری سے غائب ہو گیا تھا۔ اسے پچھلی رات کی ساری باتیں جھوٹ کا پلندہ لگی تھیں۔ واپس کچن میں آکر وہ کچھ دیر بے حد دل شکستگی کی کیفیت میں سنک میں پڑے برتنوں کو دیکھتی رہی۔ وہ ”محبوبہ” سے ”بیوی” بن چکی تھی مگر اتنی جلدی تو نہیں۔ ناز برداری نہ سہی خیال تو کرنا چاہیے۔ اس کی آزردگی میں کچھ اور اضافہ ہوا تھا۔ ”چند گھنٹوں کے اندر کوئی اتنا بدل سکتا ہے، مگر رات کو تو وہ… ” اس کی زنجیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔

”یقیناً سب کچھ جھوٹ کہہ رہا ہو گا ورنہ میرا کچھ تو خیال کرتا۔” وہ رنجیدگی اب صدمے میں بدل رہی تھی۔

وہ نماز پڑھ چکی تھی اور سالار کا ابھی بھی کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ اسے تھوڑی سی تشویش ہوئی۔ اگر وہ فجر کی نماز کے لیے بھی گیا تھا تو اب تک اسے آجانا چاہیے تھا۔ پھر اس نے اس تشویش کو سر سے جھٹک دیا۔

٭٭٭٭

سالار جس وقت دوبارہ اپارٹمنٹ میں آیا، وہ گہری نیند میں تھی۔ بیڈ روم کی لائٹ آف تھی اور ہیٹر آن تھا۔ وہ اور فرقان فجر کی نماز سے بہت دیر پہلے مسجد میں چلے جاتے اور قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ فجر کی نماز کے بعد وہ دونوں وہیں سے بلڈنگ کے جم میں چلے جاتے اور تقریباً ایک گھنٹے کے ورک آوؑٹ کے بعد وہاں سے آتے اور آج یہ دورانیہ ”آمنہ” کے امامہ ہونے کی وجہ سے کچھ لمبا ہو گیا تھا۔ فرقان سحری کے وقت ان دونوں کے لیے کھانا لے کر آیا تھا اور وہ بھونچکا بیٹھا رہ گیا تھا۔ وہ رات کو سالار کے جس بیان کوصدمے کی وجہ سے ذہنی حالت میں ہونے والی کسی خراب کا نتیجہ سمجھ رہا تھا، وہ کوئی ذہنی خرابی نہیں تھی۔

وہ اطمینان سے اس کے سامنے بیٹھا سحری کر رہا تھا اور فرقان اسے رشک سے دیکھ رہا تھا۔ رشک کے علاوہ کوئی اس پر کر بھی کیا سکتا تھا۔

”کیا ہوا؟” سالار نے سحری کرتے ہوئے اس کی اتنی لمبی خاموشی پر اسے کچھ حیرانی سے دیکھا۔ فرقان اس کے سامنے بیٹھا یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔

”تم آج اپنی نظر اتروانا۔” فرقان نے بالآخر اس سے کہا۔

”اچھا…؟” وہ ہنس پڑا۔ اس سے زیادہ احمقانہ بات کم از کم اس گفتو کے بعد کوئی نہیں کر سکتا تھا۔

”میں مذاق نہیں کر رہا۔” فرقان نے اپنے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے کہا۔

جوکچھ ہوا تھا، اسے سمجھنے سے زیادہ اسے ہضم کرنے میں اسے دقت ہو رہی تھی۔ کسی کو بھی ہو سکتی تھی سوائے سامنے بیٹھے ہوئے اس شخض کے، جو اس وقت کانٹے کے ساتھ آملیٹ کلا آخری ٹکڑا اپنے منہ میں رکھ رہا تھا۔

”اور اگر کوئی صدقہ جوغیرہ دے سکو تو وہ بھی بہتر ہے۔” فرقان نے اس کے ردِ عمل کو مکمل طور پر نظر انداز جکرتے ہوئے کہا۔ سالار اب بھی خاموش رہا۔

”آمنہ سحری نہیں کرے گی؟” فرقان کو یک دم خیال آیا۔

”سو رہی ہے وہ ابھی… میں الارم لگا آیا ہوں، ابھی کافی وقت ہے سحری کا ٹائم ختم ہونے میں۔” سالار نے کچھ لاپروائی سے اس سے کہا۔

”فرقان! اب بس کرو…” اس سے بات کرتے کرتے وہ ایک بار پھر فرقان کی نظروں سے جھنجھلایا۔ وہ پھر اسے ویسے ہی دیکھ رہا تھا۔
قسط نمبر 4
”مجھے اس طرح آنکھیں پھاڑ کر دیکھنا بند کرو۔” اس نے اس بار کچھ خفگی سے فرقان سے کہا۔

”تم… تم بہت نیک آدمی ہو سالار…! اللہ تم سے بہت خوش ہے…” وہ آملیٹ کا ایک اور ٹکڑا لیتے لیتے فرقان کی بات پر ٹھٹھک گیا۔
اس کی بھوک یک دم ختم ہو گئی تھی۔ مزید ایک لفظ کہے بغیر اس نے پلیٹ پیچھے ہٹا دی اور اپنے برتن اٹھا کر اندر کچن میں لے گیا۔ وہ خوشی، سرشاری، اطمینان اور سکون جو کچھ دیر پہلے جیسے اس کے پورے وجود سے چھلک رہا تھا، فرقان نے پلک جھپکتے اسے دھواں بن کر غائب ہوتے دیکھا۔
مسجد کی طرف جاتے ہوئے فرقان نے بالآخر اس سے پوچھا تھا۔
”اتنے چپ کیوں ہو گئے ہو؟” وہ اسی طرح خاموشی سے چلتا رہا۔
”میری کوئی بات بری لگی ہے؟”

وہ اب بھی خاموش رہا۔ مسجد کے دروازے پر اپنے جو گرز اتار کر اندر جانے سے پہلے اس نے فرقان سے کہا۔

”مجھے تم سب کچھ کہہ لینا فرقان! لیکن کبھی نیک آدمی مت کہنا۔”

فرقان کچھ بول نہیں سکا۔ سالار مسجد میں داخل ہو گیا تھا۔

٭٭٭٭

امامہ کی آنکھ گیارہ بجے سیل فون پر آنے والی ایک کال سے کھلی تھی، وہ ڈاکٹر سبط علی تھے۔ ان کی آواز سنتے ہی اس کا دل بھر آیا تھا۔

”میں نے آپ کو نیند سے جگھورا۔

؟”

وہ معذرت خواہانہ انداز میں بولے۔ انہوں نے اس کی رندھی ہوئی آواز پر غور نہیں کیا تھا۔

”نہیں، میں اٹھ گئی تھی۔” اس نے بستر سے اٹھتے ہوئے جھوٹ بولا۔

وہ ا س کا حال احوال پوچھتے رہے۔ وہ بڑے بوجھل دل کے ساتھ تقریباً خالی الذہنی کے عالم میں ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔

چند منٹ اور بات کرنے کے بعد انہوں نے فون بند کر دیا۔ کال ختم کرتے ہوئے اس کی نظر اپنے سیل فون میں چمکتے ہوئے نام پر پڑی تھی۔ وہ چونک اٹھی، اسے فوری طور پر یاد نہیں آیا کہ اس نے سالار کا نام اور فون نمبر کب محفوظ کیا تھا۔ یقینا یہ بھی اسی کا کارنامہ ہو گا۔ اس نے اس کا ایس ایم ایس پڑھنا شروع کیا۔

”پلیز جاگنے کے بعد مجھے میسج کرنا۔ مجھے ضروری بات کرنا ہے۔” اسے نجانے کیوں اس کا میسج پڑھ کر غصہ آیا۔

”بڑی جلدی یاد آگئی ہیں۔” وہ میسج کا ٹائم چیک کرتے ہوئے بڑبڑائی۔ وہ شاید دس، پچاس پر آیا تھا۔ ”اگر آفس جاتے ہوئے اسے میں یاد نہیں آئی تو آفس میں بیٹھ کر کیسے آسکتی ہوں۔” وہ اس وقت اس سے جی بھر کر بدگمان ہو رہی تھی اور شاید ٹھیک ہی ہو رہی تھی۔ وہ پچھلی رات کے لیے ”چیف گیسٹ” تھی اور اگلی صبح وہ اس کے ساتھ بن بلائے مہمان جیسا سلوک کر رہا تھا۔ کم از کم امامہ اس وقت یہی محسوس کر رہی تھی وہ اس وقت وہ باتیں جسوچ رہی تھی جو سالار کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھیں۔

وہ کچھ عجیب انداز میں خود ترسی کا شکار ہو رہی تھی۔ اس نے کمبل تہہ کرتے ہوئے بستر ٹھیک کیا اور بیڈ روم سے باہر نکل آئی۔ اپارٹمنٹ کی خاموشی نے اس کی اداسی میں اضافہ کیا تھا۔ کھڑکیوں سے سورج کی روشنی اندر آرہی تھی۔ کچن کے سنک میں وہ برتن ویسے ہی موجود تھے جس طرح وہ چھوڑ کر گئی تھی۔

”ہاں، وہ بھلا کیوں دھوتا، یہ سارے کام تو ملا زماوؑں کے ہوتے ہیں۔ لیکن میں تو نہیں دھووؑں گی، چاہے ایک ہفتہ ہی پڑے رہیں۔ میں ملازمہ نہیں ہوں۔” ان برتنوں کو دیکھ کر اس کی خفگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ اس وقت وہ ہر بات منفی انداز میں لے رہی تھی۔

وہ بیڈ روم میں آئی تو اس کا سیل فون بج رہا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے اس کو خیال آیا کہ شاید سالار کی کال ہو، لیکن وہ مریم کی کال تھی۔ امامہ کا حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے بڑے اشتیاق کے عالم میں امامہ سے پوچھا۔

”سالار نے منہ دکھائی میں کیا دیا تمہیں؟” امامہ چند لمحے بول نہیں سکی۔ اس نے تو کوئی تحفہ نہیں دیا تھا اسے، سالار کے نامہ اعمال میں جایک اور گناہ کا اضافہ ہو گیا تھا۔

”کچھ بھی نہیں۔” امامہ نے کچھ دل شکستہ انداز میں کہا۔

”اچھا…؟ چلو کوئی بات نہیں، بعد میں دے دے گا، شاید اسے خیال نہیں آیا۔” مریم نے بات بدل دی تھی، لیکن اس کا آخری جملہ امامہ کو چبھا۔ اسے خیال نہیں آیا… ہاں واقعی اسے خیال نہیں آیا ہو گا۔ وہ بے حد خفگی کے عالم میں سوچتی رہی۔

سالار سے اس کے گلے شکوے اس گھر میں آنے کے دوسرے دن ہی شروع ہو گئے تھے لیکن اس کے باوجود وہ لاشعوری طور پر اس کی کال کی منتظر تھی۔ کہیں نہ کہیں اسے اب بھی امید تھی کہ جوہ کم از کم دن میں ایک بار تو اسے کالل کرے گا۔ کم از کم جایک بار… ایک لمحے کو اسے خیال آیا کہ اسے میسج کر کے اسے اپنے ہونے کا احساس تو دلانا چاہیے۔ لیکن دوسرے ہی لمحے اس نے اس خیال کو ذہن سے جھٹک دیا۔

وہ بے حد بے دلی سے اپنے کپڑے نکال کر نہانے کے لیے چلے گئی۔ واش روم سے باہر نکلتے ہی اس نے سب سے پہلے سیل فون چیک کیا تھا وہاں کوئی میسج تھا اور نہ کوئی مسڈ کال۔

چند لمحے وہ سیل فون پکڑے بیٹھی رہی پھر اس نے اپنی ساری انا اور سارے غصے کو بالائے طاق رکھ کر اسے مسیج کر دیا۔

اس کاخیال تھا، وہ اسے فوراً کال کرے گا لیکن اس کا یہ خیال غلط ثابت ہوا تھا۔ پانچ منٹ… دس منٹ… پندرہ منٹ… اس نے اپنی انا کا کچھ اور مٹی کرتے ہوئے اسے میسج کیا۔ بعض دفعہ میسج بھی تو نہیں ہیں، اس نے اپنی عزت نفس کی ملامت سے بچنے کے لیے بے حد کمزور تاویل تلاش کی۔

”آج کل ویسے بھی نیٹ ورک اور سگنلز کا اتنا زیادہ مسئلہ ہے۔”

”عزت نفس” نے اسے جواباً ڈوب مرنے کے لیے کہا تھا۔ فون اب بھی نہیں آیا تھا، لنچ بریک کے باوجود۔ ماہ رمضان نہ ہوتا تو شاید وہ اس وقت اپنی ”عزت نفس” کو اس کے لنچ میں مصروف ہونے کا بہانہ پیش کرتی۔

اب وہ واقعی ناخوش تھی بلکہ ناخوش سے بھی زیادہ، اب اس کا دل رونے کو چاہ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد اس نے سالار کے سیل پر کال کی۔ دو بیلز کے بعد کال کسی لڑکی نے ریسیو کی۔ ایک لمحے کے لیے امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا۔ وہ سالار کے بجائے کسی لڑکی کی آواز کی توقع نہیں کر رہی تھی۔

”میں آپ کی کیا ہیلپ کر سکتی ہوں میم؟” لڑکی نے بڑی شائستگی کے ساتھ اس سے پوچھا۔

”مجھے سالار سے بات کرنی ہے۔” اس نے کچھ تذبذب سے کہا۔

”سالار سکندر صاحب تو ایک میٹنگ میںہیں۔ اگر آپ کوئی کلائنٹ ہیں اور آپ کو بینک سے متعلقہ کوئی کام ہے تو میں آپ کی مدد کر سکتی ہوں یا آپ میسج چھوڑ دیں ان کے لیے… میٹنگ میں بریک آئے گی تو میں انہیں انفارم کر دوں گی۔” اس لڑکی نے بے حد پروفیشنل انداز میں کہا۔ امامہ خاموش رہی۔

”ہیلو… مس امامہ!” اس لڑکی نے یقینا سالار کے سیل پر اس کی آئی ڈی پڑھ کر اس کا نام لیا تھا۔ وہ اب اسے متوجہ کر رہی تھی۔

”میں بعد میں کال کر لوں گی۔” اس نے بد دلی کے ساتھ فون بند کر دیا۔

”تو وہ میٹنگ میں ہے اور اس کس سیل تک اس کے پاس نہیں… اور مجھے کہہ رہا تھا کہ میں جاگنے کے بعد اسے انفارم کروں… کس لیے؟” وہ دل برداشتہ ہو گئی تھی۔

٭٭٭٭

“ارے بیٹا! میں تو کب سے تمہارے فون کے انتظار میں بیٹھی ہو۔ تمہیں اب یاد آئی سعیدہ اماں کی۔” سعیدہ اماں نے اس کی آواز سنتے ہی گلہ کیا۔

اس نے جواباً بے حد کمزور بہانے پیش کیے۔ سعیدہ اماں نے اس کی وضاحتوں پر غور نہیں کیا۔

”سالار ٹھیک تو ہے نا تمہارے ساتھ؟”

انہوں نے اس سوال کے مضمرات کا اس صورت حال میں سوچے بغیر پوچھا اور امامہ کے صبر کا جیسے پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔ وہ یک دم پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی۔ سعیدہ اماں بری طرح گھبرا گئی تھیں۔

”کیا ہوا بیٹا؟… ارے اس طرح کیوں رو رہی ہو…؟ میرا تو دل گھبرانے لگا ہے… کیا ہو گیا آمنہ؟” سعیدہ اماں کو جیسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے تھے۔

”سالار نے کچھ کہہ دیا ہے کیا؟” سعیدہ اماں کو سب سے پہلا خیال یہی آیا تھا۔

”مجھے اس سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔” امامہ نے ان کے سوال کا جواب دیے بغیر کہا۔

سعیدہ اماں کی حواس باختگی میں اضافہ ہوا۔

”میں نے کہا بھی تھا آپ سے۔” وہ روتی جا رہی تھی۔

”کیا وہ اپنی پہلی بیوی کی باتیں کرتا رہا ہے تم سے؟”

سعیدہ اماں نے سالار کے حوالے سے واحد خدشے کے بے اختیار ذکر کیا۔

”پہلی بیوی…؟” امامہ نے روتے روتے کچھ حیرانی سے سوچا۔

لیکن سالار کے لیے اس وقت اس کے دل میں اتنا غصہ بھرا ہوا تھا کہ اس نے بلا سوچے سمجھے سعیدہ اماں کے خدشے کی تصدیق کی تھی۔

”جی…!” اس نے روتے ہوئے جواب دیا۔

سعیدہ اماں کے سینے پر جیسے گھونسا لگا۔ یہ خدشہ تو نہیں تھا لیکن ان کا خیال تھا کہ اپنے گھر لے جاتے ہی پہلے دن تو وہ کم از کم اپنی اس کئی سال پرانی منکوحہ کا ذکر نہیں کرے گا۔ امامہ کو سالار پر کیا غصہ آنا تھا جو سعیدہ اماں کو آیا تھا، انہیں یک دم پچھتاوا ہوا تھا۔ واقعی کیا ضرورت تھی یوں راہ چلتے کسی بھی دو ٹکے کے آدمی کو پکڑ کر یوں اس کی شادی کر دینے کی۔ انہوں نے پچھتاتے ہوئے سوچا۔

”تم فکر نہ کرو… میں خود سبط علی بھائی سے بات کروں گی۔” سعیدہ اماں بے حد غصے میں کہا۔

”کوئی فائدہ نہیں اماں! بس میری قسمت ہی خراب ہے۔”

سعیدہ اماں کے پاس آنے والی عورتوں کے منہ سے کئی بار سنا ہوا گھسا پٹا جملہ کس طرح اس کی زبان پر آگیا، اس کا اندازہ امامہ کو نہیں ہوا لیکن اس جملے نے سعیدہ اماں کے دل پر جیسے آری چلا دی۔

”ارے کیوں قسمت خراب ہے… کوئی ضرورت نہیں ہے وہاں رہنے کی… تم ابھی آجاوؑ اس کے ھر سے… ارے میری معصوم بچی پراتنا ظلم… ہم نے کوئی جہنم میں تھوڑا پھنکنا ہے تمہیں۔”

امامہ کو ان کی باتوں پر اور رونا آیا۔ خود ترسی کا اگر کوئی ماوؑنٹ ایورسٹ ہوتا تو وہ اس وقت اس کی چوٹی پر جھنڈا گاڑ کر بیٹھی ہوتی۔

”بس ! تم ابھی رکشہ لو اور میری طرف آجاوؑ۔ کوئی ضرورت نہیں ہے ادھر بیٹھے رہنے کی۔”

سعیدہ اماں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔

یہ گفتگو مزید جاری رہتی تو شاید امامہ بغیر سوچے سمجھے روتے ہوئے اسی طرح وہاں سے چل بھی پڑتی۔ وہ اس وقت کچھ اتنی ہی جذباتی ہو رہی تھی لیکن سالار کے ستاروں کی گردش اس دن صرف چند لمحوں کے لیے اچھی ثابت ہوئی۔ سعیدہ اماں سے بات کرتے کرتے کال کٹ گئی تھی، اس کا کریڈٹ ختم ہو گیا تھا۔ امامہ نے لینڈ لائن سے کال کرنے کی کوشش کی لیکن کال نہیں ملی۔ شاید سعیدہ اماں نے فون کا ریسیور کریڈل پر ٹھیک سے نہیں رکھا تھا۔ وہ بری طرح جھنجھلائی۔

سعیدہ اماں سے بات کرتے ہوئے وہ اتنی دیر میں پہلی بار بہت اچھا محسوس کر رہی تھی، یوں جیسے کسی نے اس کے دل کا بوجھ ہلکا کر دیا ہو۔ اسے اس وقت جس ”متعصب” جانب داری کی ضرورت تھی، انہوں نے اسے وہی دی تھی۔ ان سے بات کرتے ہوئے روانی اور فراوانی سے بہنے والے آنسو اب یک دم خشک ہو گئے تھے۔

وہاں سے دس میل کے فاصلے پر اپنے بینک کے بورڈ روم میں بیٹھیevaluation team کو دی جانے والی پریزینٹیشن کے اختتامیہ سوال و جواب کے سیشن پر credibility and trust factors سے متعلقہ کسی سوال کے جواب میں بولتے ہوئے سالار کو اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کے گھر پر موجود اس کی ایک دن کی بیوی اور نو سالہ ”محبوبہ” گھر پر بیٹھی اس کی ”ساکھ” اور ”نام” کا تیاپانچہ کرنے میں مصروف تھی۔ جس کو اس وقت اس وضاحت کی اس ایویلیویشن ٹیم سے زیادہ ضرورت تھی۔

سونا ہو گیا… رونا بھی ہو گیا… اب اور کیا رہ گیا تھا… امامہ نے ٹشو پیپر سے آنکھیں اور ناک رگڑتے ہوئے بالآخر ریسیور رکھتے ہوئے سوچا۔ اسے کچن کے سنک میں پڑے برتنوں کا خیال آیا، بڑی نیم دلی سے وہ کچن میں گئی اور ان برتنوں کو دھونے لگی۔

وہ شام کے لیے اپنے کپڑے نکالنے کے لیے ایک بار پھر بیڈ روم میں آگئی اور تب ہی اس نے اپنا سیل فون بجھتے سنا۔ جب تک وہ فون کے پاس پہنچی، فون بند ہو چکا تھا۔ وہ سالار تھا اور اس کے سیل پر یہ اس کی چوتھی مسڈ کال تھی۔ وہ سیل ہاتھ میں لیے اس کی اگلی کال کا انتظار کرنے لگی۔ کال کے بجائے اس کا میسج آیا۔ وہ اسے اپنے پروگرام میں تبدیلی کے بارے میں بتا رہا تھا کہ ڈاکٹر سبط علی کا ڈرائیور ایک گھنٹے تک اسے وہاں سے ڈاکٹر صاحب کے گھر جائے گا اور وہ افطار کے بعد آفس سے سیدھا ڈاکٹر صاحب کے گھر آنے والا تھا۔

چند لمحوں کے لیے اس کا دل چاہا، وہ فون کو دیوار پر دے مارے لیکن وہ اس کا اپنا فون تھا۔ سالار کو کیا فرق پڑتا۔

وہ اس سے رات کو اتنا لمبا چوڑا اظہار محبت نہ کرتا تو وہ آج اس سے توقعات کا یہ انبار لگا نہ بیٹھی ہوتی لیکن سالار کے ہر جملے پر اس نے لاشعوی طور پر پچھلی رات اپنے دامن کے ساتھ ایک گرہ باندھ لی تھی اور گرہوں سے بھرا وہ دامن اب اسے بری طرح تنگ کرنے لگا تھا۔

ڈاکٹر سبط علی گھر پر نہیں تھے۔ آنٹی کلثوم نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور وہ بھی جس حد تک مضنوعی جوش و خروش اور اطمینان کا مظاہرہ کر سکتی تھی، کرتی رہی۔ آنٹی کے منع کرنے کے باوجود وہ ان کے ساتھ مل کر افطار اور ڈنر کی تیاری کرواتی رہی۔

ڈاکٹر سبط علی افتار سے کچھ دیر پہلے آئے تھے اور انہوں نے امامہ کی سنجیدگی نوٹ کی تھی۔ مگر اس کی سنجیدگی کا تعلق سالار سے نہیں جوڑا تھا۔ وہ جوڑ بھی کیسے سکتے تھے۔

سالار افطار کے تقریباً آدھ گھنٹے بعد آیا تھا۔

اور امامہ سے پہلی نظر ملتے ہی سالار کو اندازہ ہو گیا تھا کہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ وہ اس کی خیر مقدمی مسکراہٹ کے جواب میں مسکرائی تھی، نہ ہی اس نے ڈاکٹر سبط علی اور ان کی بیوی کی طرح گرم جوشی سے اس کے سلام کا جواب دیا تھا۔ وہ بس نظریں چرا کر لاوؑنج سے اٹھ کر کچن میں چلی گئی تھی۔ ایک لمحہ کے لیے سالار کو لگا کہ شاید اسے غلط فہمی ہوئی ہے۔ آخر وہ اس سے کس بات پر نارض ہو سکتی ہے۔

وہ ڈاکٹر سبط علی کے پاس بیٹھا ان سے باتایں کرتا ہوا اپنے ذہن میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے واقعات کو دہراتا اور کوئی ایسی بات ڈھونڈنے کی کوشش کرتا رہا جو امامہ کو خفا کر سکتی تھی۔ اسے ایسی کوئی بات یاد نہیں آئی۔ ان کے درمیان آخری گفت گو رات کو ہوئی تھی۔ وہ اس کے بازو پر سر رکھے باتیں کرتی سوئی تھی۔ خفا ہوتی تو… وہ الجھ رہا تھا…

”کم از کم میں نے ایسا کچھ نہیں کیا جو اسے برا لگا ہو، شاید یہاں کوئی ایسی بات ہوئی ہو۔” سالار نے خود کو بری الذمہ قرار دیتے ہوئے سوچا۔ ”لیکن یہاں کیا بات ہوئی ہو گی…؟… شاید میں کچھ ضرورت سے زیادہ حساس ہو کر سوچ رہا ہوں، غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے مجھے۔”

وہ اب خود کو تسلی دے رہا تھا لیکن اس کی چھٹی حس اسے اب بھی اشارہ دے رہی تھی۔ بے شک وہ اس سے نو سال بعد ملا تھا مگر نو سال پہلے دیکھے جانے والا س کا ہر موڈ اس کے ذہن پر رجسٹرڈ تھا اور وہ امامہ کے اس موڈ کو بھی جانتا تھا۔

ڈنر ٹیبل پر بھی زیادہ تر گفت گو ڈاکٹر سبط علی اور سالار کے درمیان ہی ہوئی۔ وہ آنٹی کے ساتھ وقفے وقفے سب کو ڈشز سرو کرتی رہی، خاموشی اب بھی برقرار تھی۔

وہ ڈاکٹر سبط علی کے ساتھ مسجد میں تراویج پڑھنے آیا اور حفظ قرآن کے بعد آج پہلی بار تروایح کے دوران اٹکا۔ ایک بات نہیں دوبار… اس نے خود کو سنبھال لیا تھا لیکن وہ بار بار ڈسٹرب ہو رہا تھا۔

وہ ساڑھے دس بجے کے قریب ڈاکٹر سبط علی کے گھر سے سعیدہ اماں کے گھر جانے کے لیے نکلے تھے اور سالار نے بالآخر اس سے پوچھ ہی لیا۔

”تم مجھ سے خفا ہو؟”

کھڑکی سے باہر دیکھتے وہ چند لمحوں کے لیے ساکت ہوئی پھر اس نے کہا۔

”میں تم سے کیوں خفا ہوں گی؟” وہ بدستور کھڑکی کی طرف گردن موڑے باہر دیکھ رہی تھی۔ سالار کچھ مطمئن ہوا۔

”ہاں، میں بھی سوچ رہا تھا کہ ایسی تو کوئی بات نہیں ہوئی جس پر تمہار اموڈ آف ہوتا۔” کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے امامہ نے اس کی بات سنی ور اس کی برہمی کچھ اور بڑھی۔

”یعنی میں عقل سے پیدل ہوں جو بلا وجہ اپنا موڈ آف کرتی پھر رہی ہوں… اور اس نے میرے رویے اور حرکتوں کا نوٹس ہی نہیں لیا۔”

”میں تمہیں آج فون کرتا رہا لیکن تم نے فون ہی نہیں اٹھایا۔” وہ ڈرائیو کرتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

امامہ کو سوچتے ہوئے عجیب سی تسلی ہوئی۔

”اچھا ہوا نہیں اٹھایا یعنی اس نے محسوس تو کیا کہ میں جان بوجھ کر اس کی کال نہیں لیتی رہی۔”

”پھر میں نے گھر کے نمبر پر فون کیا۔ وہ بھی انگیجڈ تھا، تم یقینا اس وقت مصروف تھی اس لیے کال نہیں لے سکیں۔” وہ بے حد عام سے لہجے میں کہہ رہا تھا۔ وہاں بے نیازی کی انتہا تھی۔

امامہ کے رنج میں اضافہ ہوا۔ پھر اسے یاد آیا کہ اس کے فون کا بیلنس ختم ہو چکا تھا۔

”مجھے اپنے فون کے لیے کارڈ خریدنا ہے۔”

سالار نے اسے ایک دم کہتے سنا، وہ اپنا ہینڈ بیگ کھولے اس میں سے کچھ نکال رہی تھی اور جو چیز اس نے نکال کر سالار کو پیش کی تھی، اس نے چند لمحوں کے لیے سالار کو ساکت کر دیا تھا۔ وہ ہزار وپے کا ایک نوٹ تھا۔ وہ اس کے تاثرات سے بے خبر اب ونڈ سکرین سے باہر کسی ایسی شاپ کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی جہاں پر وہ کارڈز دستیاب ہوتے۔ سالار نے اپنی طرف بڑھے ہوئے اس کے ہاتھ کو پیچھے کرتے ہوئے کہا۔

”واپسی پر لیتے ہیں… اور اس کی ضرورت نہیں ہے۔”

امامہ نے چونک کر اسے دیکھا۔

”تمہیں آنکھیں بند کر کے اپنے سیل فون تھما دیا تھا جب تم میری کچھ نہیں تھی تو اب کیا پیسے لوں گا تم سے!”

گاڑی میں کچھ عجیب سی خاموشی در آئی تھی۔ دونوں کو بیک وقت کچھ یاد آیا تھا اور جو یاد آیا تھا اس نے یک دم وقت کو وہیں روک دیا تھا۔

بہت غیر محسوس انداز میں امامہ نے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کے اس ٹکڑے کو بہت سی تہوں میں لپیٹنا شروع کر دیا۔ اس نے اس کی ساری رقم لوٹا دی تھی، بلکہ اس سے زیادہ ہی جتنی اس نے فون، فون کے بل اور اس کے لیے خرچ کی ہو گی۔ مگر احسان… یقینا اس کے احسانوں کا وزن بہت زیادہ تھا۔ اس نے کاغذ کی لپٹی تہوں کو دوبارہ بیگ میں ڈال لیا۔ صبح سے اکٹھی کی ہوئی بدگمانیوں کی دھند یکدم چھٹ گئی تھی یا کچھ دیر کے لیے امامہ کو ایسا ہی محسوس ہوا۔

باہر سڑک پر دھند تھی اور وہ بڑی احتیاط سے گاڑی چلا رہا تھا۔ امامہ کا دل چاہا، وہ اس سے کچھ بات کرے لیکن وہ خاموش تھا۔ شاید کچھ سوچ رہا تھا یا لفظ ڈھونڈ رہا تھا۔

”آج سارا دن کیا کرتی رہیں تم؟”

اس نے بالآخر گفت گو کا دوبارہ آغاز کرنے کی کوشش کی تھی۔ پورا دن فلیش کی طرح امامہ کی آنکھوں کے سامنے سے گزر گیا۔ امامہ کو ندامت ہوئی، وہ جو کچھ کرتی رہی تھی، اسے بتا نہیں سکتی تھی۔

”میں سوتی رہی۔” اس نے پورے دن کو تین لفظوں میں سمیٹ دیا۔

”ہاں، مجھے اندازہ تھا، جاگ رہی ہوتیں تو میری کال ضرور ریسیو کرتیں۔” ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔

”پاپا، ممی اور انتیا آرہے ہیں کل شام۔” سالار نے کچھ دیر کے بعد کہا۔

امامہ نے چونک کر اسے دیکھا۔

”تم سے ملنے کے لیے؟” اس نے مزید اضافہ کیا اور بالآخر سسرال کے ساتھ اس کا پہلا رابطہ ہونے والال تھا۔ امامہ کو اپنے پیٹ میں گرہیں لگتی محسوس ہوئیں۔

”تم نے انہیں میرے بارے میں بتایا ہے؟” اس نے بے حد نپے تلے الفاظ میں پوچھا۔

”نہیں، فی الحال نہیں، لیکن آج بتاوؑں گا پاپا کو فون پر۔” وہ ونڈ سکرین سے باہر دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

امامہ نے اس کے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کی۔ کوئی پریشانی، تشویش، اندیشہ، خدشہ، خوف، پچھتاوا… وہ کچھ بھی پڑھنے میں ناکام رہی۔ اس کا چہرہ بے تاثر تھا اور اگر اس کے دل میں کچھ تھا بھی تو وہ اسے بڑی مہارت سے چھپائے ہوئے تھا۔

سالار نے اس کو کھوجتی نظروں کو اپنے چہرے پر محسوس کیا۔ اس نے امامہ کی طرف دیکھا اور مسکرایا۔ امامہ نے بے اختیارنظریں ہٹائیں۔

”انیتا کی فلائٹ ساڑھے پانچ بجے اور پاپا کی سات بجے ہے… میں کل بینک سے جلدی ایئرپورٹ چلا جاوؑں گا، پھر ممی اور پاپا کو لے کر میرا خیال ہے نو یا ساڑھے نو بجے تک گھر پہنچوں گا۔”

”یہ تم نے کہا پہنا ہوا ہے؟” سالار نے یک دم اس کے لباس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا۔

تین گھنٹے پینتالیس منٹ کے بعد بالآخر اسے یاد آگیا کہ میں نے کچھ پہنا ہوا ہے۔ یہ سوچ کر امامہ کی خفگی میں کچھ اضافہ ہوا۔

”کپڑے۔” امامہ نے جواب دیا۔

سالار اس کی بات پر بے اختیار ہنسا۔ ”جانتا ہوں کپڑے پہنے ہیں، اسی لیے تو پوچھ رہا ہوں۔”

امامہ گردن موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی کہ اب وہ تعریف کرے گا۔ اس نے سوچا۔ دیر سے سہی، لیکن اسے میرے کپڑے نظر تو آئے۔ اس کی خفگی میں کچھ اور کمی ہوئی۔

”کون سا کلر ہے یہ؟” سالار نے اپنے پیروں پر پہلی کلہاڑی ماری۔

کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے امامہ کا دل چاہا، وہ چلتی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر کود جائے۔ پونے چار گھنٹے میں وہ اس کے کپڑوں کا رنگ بھی نہیں پہچان سکا تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ اس نے اسے غور سے دیکھا نہیں تھا۔

”پتا نہیں۔” اس نے اسی طرح کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے بے حد سرد مہری سے کہا۔

”ہاں، میں بھی اندازہ نہیں کر سکا۔ آج کل خواتین پہنتی بھی تو بڑے عجیب عجیب کلر ہیں۔” سالار نے اس کے لہجے پر غور کیے بغیر عام سے انداز میں کہا۔

وہ زنک اور کاپر کے سب سے زیادہ اِن شیڈ کو ”عجیب” کہہ رہا تھا۔ امامہ کو رنج سا رنج ہوا۔ سالار شوہروں کی تاریخی غلطیاں دہرا رہا تھا۔ اس بار امامہ کا دل تک نہیں چاہا کہ وہ اس کی بات کا جواب دے، وہ اس قابل نہیں تھا۔ اسے یاد آیا، اس نے کل بھی اس کے کپڑوں کی تعریف نہیں کی تھی۔ کپڑے…؟ اس نے تو اس کی بھی تعریف نہیں کی تھی… اظہار محبت کیا تھی اس نے … لیکن تعریف… ہاں، تعریف تو نہیں کی تھی اس نے … وہ جیسے پچھلی رات کو یاد کرتے ہوئے تصدیق کر رہی تھی، اسے دکھ ہوا۔ کیا وہ اُسے اتنی بھی خوب صورت نہیں لگی تھی کہ وہ ایک بار ہی کہہ دیتا۔ کوئی ایک جملہ، ایک لفظ، کچھ بھی نہیں، وہ ایک بار پھر خود ترسی کا شکار ہونے لگی۔ عورت اظہار محبت اور ستائش کو کبھی ”ہم معنی” نہیں سمجھتی۔ یہ کام مرد کرتا ہے اور غلط کرتا ہے۔

ڈرائیونگ کرتے ہوئے سالار کو اندازہ نہیں ہوا کہ گفت گو کے لیے موضوعات کی تلاش میں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتے اس نے کس قدر سنگین موضوع کو چھیڑ دیا تھا۔ وہ بڑے اطمینان سے جیسے ایک بارودی سرنگ کے اوپر پاوؑں رکھ کر کھڑا ہو گیا تھا جو اس کے پاوؑں اٹھاتے ہی پھٹ جاتی۔

سعیدہ اماں کی گلی میں گاڑی پارک کرنے کے بعد سالار نے ایک بار پھر امامہ کے موڈ میں تبدیلی محسوس کی۔ اس نے ایک بار پھر اسے اپنا وہم گردانا۔ ابھی کچھ دیر پہلے ڈاکٹر سبط علی کے گھر پہ بھی غلط فہمی کا شکار رہا۔ آخر ہو کیا گیا ہے مجھے…؟ وہ بھلا کیوں صرف چوبیس گھنٹے میں مجھ سے ناراض ہوتی پھرے گی۔ اس نے اطمینان سے سوچا۔

سعیدہ اماں دراوزہ کھولتے ہی امامہ سے لپٹ گئی تھیں۔ چند لمحوں بعد وہ آنسو بہا رہی تھیں۔ سالار جزبز ہوا۔ آخر اتنے عرصے سے وہ اکٹھے رہ رہی تھیں۔ یقینا دونوں ایک دوسرے کو مس کر رہی ہوں گی۔ اس نے بالآخر خود کو سمجھا۔

سعیدہ اماں نے سالار کے سلام کا جواب دیا، نہ ہی ہمیشہ کی طرح اسے گلے لگا کر پیار کیا۔ انہوں نے امامہ کو گلے لگایا، اس سے لپٹ کر آنسو بہائے اور پھر اسے لے کر اندر چلی گئیں۔ وہ ہکا بکا دروازے میں ہی کھڑا رہ گیا تھا۔ انہیں کیا ہوا؟ وہ پہلی بار بری طرح کھٹکا تھا۔ اپنے احساس کو وہم سمجھ کر جھٹکنے کی کوشش اس بار کامیاب نہیں ہوئی۔ کچھ غلط تھا مگر کیا…؟ وہ کچھ دیر وہیں کھڑا رہا پھر اس نے پلیٹ کر بیرونی دروازہ بند کیا اور اندر چلا آیا۔

وہ دونوں کچھ باتیں کر رہی تھیں، اسے دیکھ کر یک دم چپ ہو گئیں۔ سالار نے امامہ کو اپنے آنسو پونچھتے دیکھا۔ وہ ایک بار پھر ڈسٹرب ہوا۔

”میں چائے لے کر آتی ہوں… بادام اور گاجر کا حلوہ بنایا ہے آج میں نے۔” سعیدہ اماں یہ کہتے ہوئے کھڑی ہوئیں۔ سالار نے بے اختیار نہیں ٹوکا۔

”سعیدہ اماں! کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم لوگ کھانا کھا کر آئے ہیں اور چائے بھی پی لی ہے۔ صرف آپ سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔”

وہ کہتے کہتے رک گیا، اسے احساس ہوا کہ وہ پیش کش سرے سے اسے کی ہی نہیں گئی تھی۔ سعیدہ اماں مکمل طور پر امامہ کی طرف متوجہ تھیں اور امامہ اسے کچھ کھانے پینے میں متامل نظر نہیں آئی۔

”میں کھاوؑں گی اور میں آ پ کے ساتھ چلتی ہوں آپ کس طرح اٹھائیں گی برتن۔” امامہ نے سعیدہ اماں سے کہا اور پھر ان کے ساتھ ہی کچن میں چلی گئی۔ سالار ہونقوں کی طرح وہاں بیٹھا رہ گیا۔

اگلے پندرہ منٹ وہ اس صورت حال پر غور کرتا، وہیں بیٹھا کمرے کی چیزوں کو دیکھتا رہا۔

بالآخر پندرہ منٹ کے بعد امامہ اور سعیدہ اماں کی واپسی ہوئی۔ اسے امامہ کی آنکھیں پہلے سے کچھ زیادہ سرخ اور متورم لگیں، یہی حال کچھ اس کی ناک کا تھا۔ وہ یقینا کچن میں روتی رہی تھی مگر کس لیے؟ وہ اب الجھ رہا تھا۔ کم از کم اب وہ آنسو اسے سعیدہ اماں اور اس کی باہمی محبت و یگانگت کا نتیجہ نہیں لگ رہے تھے۔ سعیدہ اماں کے چہرے اور آنکھوں میں اسے پہلے سے بھی زیادہ سردمہری نظر آئی۔

اسے اس وقت چائے میں دلچسپی تھی نہ کسی حلوے کی طلب… کچھ بھی کھانا اس کے لیے بدہضمی کا باعث ہوتا لیکن جو ماحول یک دم وہاں بن گیا تھا، اس نے اسے ضرورت سے زیادہ محتاط کر دیا تھا۔ کسی انکار کے بغیر اس نے خاموشی سے پلیٹ میں تھوڑا سا حلوہ نکالا۔ امامہ نے ڈاکٹر سبط علی کے گھر کی طرح یہاں بھی اس سے پوچھے بغیر اس کی چائے میں دو چمچ چینی ڈال کر اسے کے سامنے رکھ دی، پھر اپنی پلیٹ میں لیا حلوہ کھانے لگی۔

چند منٹوں کی خاموشی کے بعد بالآخر سعیدہ اماں کی قوت برداشت جواب دے گئی تھی۔ اپنے ہاتھ میں پکڑی پلیٹ ایک طرف رکھتے ہوئے انہوں نے اپنی عینک کو ناک پر ٹھیک کرتے ہوئے تیز نظروں سے سالار کو گھورا۔

قسط نمبر 5

اپنی پلیٹ میں ڈالے حلوے کو چمچ سے ہلاتے سالار ٹھٹھکا۔ اس نے پہلے سعیدہ اماں کو دیکھا، پھر امامہ کو… وہ بھی ٹھٹھکی تھی… اور کچھ گڑبڑائی بھی… سالار کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی اور اس کے گلے شکوے کرنا اور بات تھی مگر اس کے سامنے بیٹھ کر وہی کچھ دہرانا، خاص طور پر جب ان الزامات کا کچھ حصہ کسی جھوٹ پر مبنی ہو۔ وہ واقعی گھبرا گئی تھی۔

سالار کو یہ سوال نہیں، تبصرہ لگا۔

”جی۔” اس نے ان کی تائید کی۔

”وہ مرد دوزخ میں جاتے ہیں جو اپنی بیویوں کو تنگ کرتے ہیں۔” سعیدہ اماں نے اگلا جملہ بولا۔

اس بار سالار فوری طور پر تائید نہیں کر سکا۔ وہ خود مرد تھا اور شوہر بھی، لاکھ وہ امامہ پر مرتا ہو لیکن ”بیوی” کی موجودگی میں اس تبصرہ کی تائید اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مصداق تھا۔ وہ شادی کے دوسرے ہی دن اتنی فرماں برداری نہیں دکھا سکتا تھا جس پر وہ بعد میں ساری عمر پچھتاتا۔

اس بار کچھ کہنے کے بجائے اس نے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگا لیا۔ اس کی خاموشی نے سعیدہ اماں کو کچھ اور پتا دیا۔

”دوسروں کے دل دکھانے والے کو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا۔” سالار نے حلوہ کھاتے کھاتے اس جملے پر غور کیا، پھر تائید میں سر ہلا دیا۔

”جی بالکل۔” سعیدہ اماں کو اس کی ڈھٹائی پر غصہ آیا۔

”شریف گھرانے کے مردوں کا وتیرہ نہیں ہے کہ دوسروں کی بیٹیوں کو پہلے بیاہ کر لے جائیں اور پھر انہیں پہلی بیویوں کے قصے سنانے بیٹھ جائیں۔”

امامہ کی جیسے جان پر بن گئی۔ یہ کچھ زیادہ ہی ہو رہا تھا۔

”آپ کی چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے اماں!” اس نے صورتِ حال سنبھالنے کی کوشش کی۔

سالار نے باری باری ان دونوں کو دیکھا، اسے اس جملے کا سر پیر سمجھ میں نہیں آیا تھا اور پہلے جملوں سے ان کا کیا تعلق تھا، وہ بھی سمجھ نہیں پایا لیکن تائید کرنے میں کوئی برائی نہیں تھی کیوںکہ بات مناسب تھی۔

”ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ” اس نے بالآخر کہا۔

اس کی سعادت مندی نے سعیدہ اماں کو مزید پتا دیا۔ شکل سے کیسا شریف لگ رہا ہے۔ اسی لیے تو سبط بھائی بھی دھوکا کھا گئے۔ انہوں نے ڈاکٹر سبط علی کو غلطی کرنے پر چھوٹ دی۔

”آمنہ کے لیے بہت رشتے تھے۔” سعیدہ اماں نے سلسلہ کلام جوڑا۔

انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک غلط آدمی کو امامہ کی قدروقیمت کے بارے میں غلط لیکچر دے رہی تھیں۔ حلوے کی پلیٹ ہاتھ میں لیے سالار نے ایک نظر امامہ کو دیکھا پھر سعیدہ اماں کو، جو بے حد جوش و خروش سے کہہ رہی تھیں۔

”یہ سامنے والے ظہور صاحب کے بڑے بیٹے نے آمنہ کو کہیں دیکھ لیا تھا۔ ماں باپ کو صاف صاف کہہ دیا اس نے کہ شادی کروں گا تو اسی لڑکی سے۔ خالہ کی بیٹی کے ساتھ بچپن کی منگنی بھی توڑ دی۔”

اس بار سالار نے حلوے کی پلیٹ ٹیبل پر رکھ دی۔ وہ کم از کم امامہ کے کسی ایسے رشتے کی تفصیلات مزے سے حلوہ کھاتے ہوئے نہیں سن سکتا تھا۔ امامہ نے اس بار سعیدہ اماں کو روکنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ بڑی ہی عامیانہ بات تھی لیکن وہ بھی جیسے چاہتی تھی کہ کوئی سالار کو بتائے کہ وہ ”قابل قدر” ہے، وہ اسے صرف ”بیوی” سمجھ کر برتاؤ نہیں کر سکتا۔

”جوتے گھس گئے لڑکے کی ماں کے یہاں کے چکر لگا لگا کر، محلے کے ہر معزز آدمی سے کہلوایا اس نے، میرے بیٹے تک کو انگلینڈ فون کرایا اس رشتے کے لیے۔” سعیدہ اماں بول رہی تھیں۔

سالار اب بے حد سنجیدہ تھا اور امامہ قدرے لا تعلقی کے انداز میں سر جھکائے حلوے کی پلیٹ میں چمچ بلا رہی تھی۔

”اس کے ماں باپ نے کہا کہ جو چاہیں حق مہر میں لکھوا لیں، بس اپنی بچی کو ہماری بیٹی بنا دیں۔”

سالار نے بے حد جتانے والے انداز میں اپنی رسٹ واچ یوں دیکھی جیسے اسے دیر ہو رہی تھی۔ سعیدہ اماں کو اس کی اس حرکت پر بری طرح تاؤ آیا۔ اس گفت گو کے جواب میں کم از کم وہ اس سے اس بے نیازی کی توقع نہیں کر رہی تھیں۔

”ابھی آج بھی اس کی ماں آئی ہوئی تھی۔ بہت افسوس سے کہہ رہی تھی کہ بڑی زیادتی کی ان کے بیٹے کے ساتھ میں نے… ایک بار نہیں، دو بار … کہہ رہی تھی کہ ہمیں چھوڑ کر کسی ایرے غیرے کے ساتھ پکڑ کر بیاہ دیا۔ میرا بیٹا کیوں نظر نہیں آیا آپ کو… رانیوں کی طرح رکھتا آمنہ کو… دیکھ دیکھ کر جیتا اسے۔”

سعیدہ اماں اب مبالغہ آمیزی کی آخری حدود کو چھونے کی سر توڑ کوشش کر رہی تھی۔ سامنے بیٹھے ہوئے شخص کے چہرے پر اب بھی مرعوبیت نام کی کوئی چیز نمودار نہیں ہوئی تھی۔ وہ سنجیدہ چہرے کے ساتھ انہیں یک ٹک دیکھ رہا تھا۔ سعیدہ اماں کو لگا، انہوں نے اس کے ساتھ شادی کر کے واقعی آمنہ کی قسمت پھوڑی تھی۔

بے حد خفگی کے عالم میں انہوں نے سردی کے موسم میں بھی پانی کا گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ میں پیا تھا۔ اس کی یہ خاموشی امامہ کو بھی بری طرح چبھی تھی۔ وہ رات کو اس سے کیا کچھ کہہ رہا تھا اور اب یہاں سعیدہ اماں کو بتانے کے لیے اس کے پاس ایک لفظ بھی نہیں تھا کہ وہ اس کے لیے اہم ہے… یا وہ اُس کا خیال رکھے گا… یا کوئی اور وعدہ… کوئی اور تسلی… کوئی اور بات… کچھ تو کہنا چاہیے تھا اسے سعیدہ اماں کے سامنے… اسے عجیب بے قدری اور بے وقعتی کا احساس ہوا تھا… رنج کچھ اور سوا ہو… فاصلہ کچھ اور بڑھا تھا… اس نے کسی دوسرے کے سامنے بھی اسے تعریف کے دو لفظوں کے قابل نہیں سمجھا تھا۔ اکیلے میں تعریف نہ کرے لیکن یہاں بھی کچھ کہہ دیتا… کچھ تو… اس کا دل ایک بار پھر بھر آیا۔ وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ سالار اس سے روایتی شوہروں والا رویہ رکھے لیکن خود وہ اس سے روایتی بیوی والی ساری توقعات لیے بیٹھی تھی۔

”بہت دیر ہو گئی، میرا خیال ہے، ہمیں اب چلنا چاہیے۔ مجھے صبح آفس جانا ہے، آج کل کام کچھ زیادہ ہے۔” سالار کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا تھا۔

اس نے بڑے تحمل کے ساتھ سعیدہ اماں سے کہا اور پھر اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ اب امامہ کے کھڑے ہونے کا منتظر تھا لیکن امامہ نے ٹیبل پر رکھے برتن اٹھا کر ٹرے میں رکھتے ہوئے اسے دیکھے بغیر بڑی سرد مہری کے ساتھ کہا۔ ”میں آج یہیں رہوں گی سعیدہ اماں کے پاس…”

سالار چند لمحوں کے لیے بھونچکا رہ گیا۔ اس نے پچھلے کئی گھنٹوں میں ایک بار بھی ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ سعیدہ اماں کے پاس رات گزارنے کا اردہ رکھتی ہے اور اب یک دم بیٹھے بیٹھائے یہ فیصلہ…

”ہاں، بالکل یہیں چھوڑ جاؤ اسے۔” سعیدہ اماں نے فوری تائید کی۔ امامہ اس کے انکار کی منتظر تھی۔

”ٹھیک ہے، یہ رہنا چاہتی ہیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” سالار نے بڑی سہولت سے کہا۔

برتن سمیٹتی امامہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا۔ا س نے ایک منٹ کے لیے بھی اسے ساتھ لے جانے پر اصرار نہیں کیا تھا، وہ اتنا تنگ آیا ہوا تھا اس سے…

اس سے پہلے کہ سالار کچھ اور کہتا ، دو ایک جھپاکے کے ساتھ کمرے سے نکل گئی۔ سعیدہ اماں نے بے حد قہر آلود نظروں سے اسے دیکھا، سالار نے جیسے امامہ کے ہر الزام کی تصدیق کر دی تھی۔ سالار کو امامہ کے یوں جانے کی وجہ سمجھ میں آئی، نہ سعیدہ اماں کی ان ملامتی نظروں کا مفہوم سمجھ سکا وہ۔ وہ گفت گو جتنی اپ سیٹ کرنے والی تھی اتنا ہی امامہ کا یک دم کیا جانے والا یہ اعلان تھا کہ وہ آج وہیں رہے گی۔ اسے برا لگا تھا لیکن اتنا برا نہیں لگا تھا کہ وہ اس پر اعتراض یا خفگی کا اظہار کرتا اور وہ بھی سعیدہ اماں کے سامنے۔

”اوکے… میں چلتا ہوں پھر۔” وہ سعیدہ اماں کے ساتھ باہر صحن میں نکل آیا۔

اس کا خیال تھا، امامہ کچن میں برتن رکھ کر اسے خدا حافظ کہنے تو ضرور جآئے گی لیکن وہ نہیں آئی تھی۔ وہ کچھ دیر سعیدہ اماں سے بے مقصد باتیں کرتا صحن میں کھڑا اس کا انتظار کرتا رہا۔ سعیدہ اماں کے لہجے میں اتنی سرد مہری نہ ہوتی تو ان سے امامہ کو بلوانے جکا کہتے ہوئے اسے جھجک محسوس نہ ہوتی۔

سعیدہ اماں کے گھر سے نکلتے ہوئے اس نے پہلی بار اس محلے اس کے سامنے والے گھر کو سر اٹھا کر دیکھا تھا۔ وہاں سے اکیلے واپس آنا اسے کھل رہا تھا۔ وہ اتنے سال اس کے بغیر ہی رہا تھا۔ اسے کبھی تنہائی نہیں چبھی تھی۔ اس نے ایک رات اس کے ساتھ گزاری تھی اور تنہائی کا مفہوم اس کی سمجھ میں آگیا تھا۔ وہاں سے واپسی کی ڈرائیو کی زندگی کی سب سے طویل ڈرائیو تھی۔

٭٭٭٭

”کل بھائی صاحب کے ہاں چلیں گے۔ انہیں بتائیں گے یہ سب کچھ… وہی بات کریں گے سالار سے۔” سعیدہ اماں اس کے پاس بیٹھی کہہ رہی تھیں۔ وہ بے حد پریشان تھیں۔

امامہ نے ان کی بات کی تائید کی نہ تردید۔ اب اس کا دل کچھ بھی کہنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ وہ بس اپنے بیڈ پر کمبل اوڑھے چپ چاپ بیٹھی سعیدہ جاماں کی باتیں سنتی رہی۔

”اچھا، چلو اب سو جاؤ بیٹا! صبح سحری کے لیے بھی اٹھنا ہو گا۔”

سعیدہ اماں کو اچانک خیال آیا۔ بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے نکلتے ہوئے انہوں نے پوچھا۔

”لائٹ آف کر دوں؟”

پچھلی رات ایک جھماکے کے ساتھ اسے یاد آئی تھی۔

”نہیں… رہنے دیں۔” وہ بھرائی ہوئی آواز میں کہتے ہوئے لیٹ گئی۔

سعیدہ اماں دروازہ بند کر کے چلی گئیں۔ کمرے کی خاموشی نے اسے سالار کے بیڈ روم کی یاددلائی۔

”ہاں، اچھا ہے نا… میں نہیں ہوں، آرام سے لائٹ آن کر کے سو تو سکتا ہے۔ یہی تو چاہتا تھا وہ…” وہ پھر سے رنجیدہ ہونے لگی اور تب ہی اس کا سیل فون بجنے لگا۔ امامہ کے خون کی گردش پل بھر کے لیے تیز ہوئی، وہ اسے بالآخر کال کر رہا تھا۔ اس نے بے حد خفگی کے عالم میں فون بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پھینک دیا۔

وہ اسے ساتھ لے کر نہیں گیا اور اب اسے اس کی یاد آرہی تھی۔ اس کی رنجیدگی، غصے میں بدل رہی تھی۔ وہ اس طرح کیوں کرہی تھی کہ رائی کا پہاڑ بنا رہی تھی۔

اس نے جیسے اپنا تجزیہ کیا اور اس تجزیے نے بھی اسے اذیت دی۔ میں زود رنج ہو گئی ہوں یا وہ مجھے جان بوجھ کر بری طرح اگنور کر رہا ہے۔ یہ جتانا چہاتا ہے کہ میں اس کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ اس کے دوست، اس کا آفس، اس کی فیملی… بس یہ اہم ہیں اس کے لیے… دوبارہ کال نہیں آئی، چند سیکنڈ کے بعد اس کا میسج آیا تھا۔ اسے یقین تھا کہ وہ یقینا اس سے کہے گا وہ اسے مس کر رہا تھا۔

ٹیکسٹ میسج میں اس کے لیے ایک ری لوڈ کارد کا نمبر تھا اور اس کے نیچے دو لفظ… ”گڈ نائٹ سوئیٹ ہارٹ!”

پہلے اسے شدید غصہ آیا پھر بری طرح رونا۔ اسے پہلے بھی زندگی میں سالار سکندر سے برا کوئی نہیں لگا تھا اور آج بھی اس سے برا کوئی نہیں لگ رہا تھا۔

٭٭٭٭

”آمنہ سے بات کروا دو… میں اور طیبہ بھی اس سے بات کر لیں… شادی کر لی… اسے گھر بھی لے آؤ… اب کسی کام میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے یا نہیں۔” سکندر نے ابتدائی سلام و دعا کے ساتھ چھوٹتے ہی اس سے کہا۔

”وہ آج اپنے میکے میں ہے۔” سالار نے کچھ سوچ کر کہا۔ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی سعیدہ اماں کے گھر سے واپس آیا تھا۔

”تو برخوردار! تم بھی اپنے سسرال میں ہی ٹھہرتے ، تم منہ اٹھا کر اپنے اپارٹمنٹ کیوں آگئے؟” سکندر نے اسے ڈانٹا، وہ جواباً ہنسا۔

”ممی پاس ہی ہیں؟” اس نے موضوع بدلا۔

”ہاں… کیوں، بات کرنی ہے؟”

”نہیں، فی الحال تو آپ ہی سے بات کرنی ہے… بلکہ کچھ زیادہ سیریس بات کرنی ہے۔”

سکندر یک دم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ ”یہ سالار سکندر ” تھا، وہ اگر سیریس کہہ رہا تھا تو بات یقینا ”بہت سیریس تھی۔”

”کیا بات ہے؟”

”مجھے… اصل میں آمنہ کے بارے میں آپ کو کچھ بتانا ہے۔”

سکندر الجھ گئے۔ وہ آمنہ کے بارے میں انہیں نکاح کے بعد بتا ہی چکا تھا۔ ڈاکٹر سبط علی کی بیٹی جس کے ساتھ اس نے اپنی کچھ ذاتی وجوہات کی بنا پر ایمرجنسی میں نکاح کیا تھا… سکندر عثمان، ڈاکٹر سبط علی کو جانتے تھے اور سالار کے توسط سے دو تین بار ان سے مل بھی چکے تھے۔ وہ ڈاکٹر سبط علی کی بیٹی کے بجائے کسی بھی لڑکی سے اس طرح اچانک ان لوگوں کو مطلع کیے بغیر نکاح کرتا، تب بھی انہیں اعتراض نہ ہوتا۔ وہ اور ان کی فیملی کچھ اتنی ہی لبرل تھی اور سالار تو بہرحال ”اسپیشل کیس” تھا… یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ شادی ”انسانوں” کی طرح کرتا۔ یہ تبصرہ طیبہ کاتھا جو انہوں نے اس کے نکاح کی خبر ملنے پر قدرے خفگی لیکن اطمینان کے ساتھ کیا تھا اور اب وہ کہہ رہا تھا کہ اسے آمنہ کے بارے میں کچھ بتانا تھا۔

”کیا بتانا ہے آمنہ کے بارے میں؟”

سالار نے گلا صاف کیا۔ بات کیسے شروع کرے، سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔

”آمنہ اصل میں امامہ ہے۔” تمہید اس نے زندگی کبھی نہیں باندھی تھی، پھر اب کیسے باندھتا۔ دوسری طرف ایک دم خاموسی چھا گئی۔ سکندر کولگا، انہیں سننے میں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔

”کیا… کیا مطلب؟” انہوں نے جیسے تصدیق چاہی۔

”امامہ کو ڈاکٹر صاحب نے اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ وہ اتنے سالوں ان ہی کے پاس تھی۔ انہوں نے اس کا نام چینج کر دیا تھا اس کے تحفظ کے لیے۔ مجھے نکاح کے وقت یہ پتا نہیں تھا کہ وہ امامہ ہے، لیکن وہ امامہ ہی ہے۔”

آخری جملے کے علاوہ اسے باقی تفصیل احمقانہ نہیں لگی۔

سکندر عثمان نے رکتی ہوئی سانس کے ساتھ برابر کے بیڈ پر بیٹھی بیوی کو دیکھا جو اسٹار پلس پر کوئی ٹاک شور دیکھنے میں مصروف تھی اور یہ اچھا ہی تھا۔

وہ اسی طرح رکتی ہوئی سانس کے ساتھ، ننگے پاؤں اپنے بستر سے اتر کر بیڈ روم کا دروازہ کھول کر، بے حد عجلت کے عالم میں باہر نکل گئے۔ طیبہ نے کچھ حیرت سے انہیں اس طرح اچانک جاتے دیکھا۔

”ایک تو ان باپ بیٹے کا رومانس ہی ختم نہیں ہوتا، اب دو گھنٹے لگا کر آئیں گے۔” طیبہ نے قدرے خفگی سے سوچا اور دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہو گئیں۔

باہر لاؤنج میں سکندر عثمان کے چودہ طبق روشن ہو رہے تھے۔ وہ ابھی چند گھنٹے پہلے ہی طیبہ کے ساتھ اپنے آخری اولاد کے ”سیٹل” ہو جانے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اس کا ولیمہ پلان کر رہے تھے اور انہیں وقتی طور پر یہ بھول گیا تھا کہ وہ آخری اولاد ”سالار سکندر” تھا۔

دو گھنٹے تک لاؤنج میں اس کے ساتھ طویل گفت و شنید کے بعد وہ جب بالآخر واپس بیڈ روم میں آئے تو طیبہ سو چکی تھی لیکن سکندر عثمان کی نیند اور اطمینان دونوں رخصت ہو چکے تھے۔

٭٭٭٭

سکندر عثمان اس سے ناراض نہیں ہوئے تھے لیکن وہ ان تمام خدشات کو سمجھ سکتا تھا جو یک دم ان کے ذہن میں جاگ اٹھے تھے۔ اتنے سال سے ہاشم مبین کی فیملی کے ساتھ ان کے تمام تعلقات مکمل طور پر منقطع تھے لیکن اس کے باوجود سب کچھ پر سکون تھا۔ امامہ کی اس فوری گمشدگی کے بعد شروع کے چند مہینے وہ انہیں تنگ کرتے رہے تھے لیکن جوں جوں انہیں یقین ہوتا گیا کہ سکندر عثمان اور سالار کا واقعی امامہ کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے تو ساری گرد جیسے آہستہ آہستہ بیٹھتی گئی۔ اس کے باوجود ہاشم مبین کو اب بھی یقین تھا کہ رابطہ نہ ہونے کے باوجود امامہ کو بھاگنے میں سالار کا کسی نہ کسی طرح ہاتھ ضرور تھا، مگر یہ بات ثابت کرنا مشکل تھا اور اب نو سال بعد یک دم جیسے ”ثبوت” سامنے آگیا تھا۔ اس کے نتیجے میں ہاشم مبین اور اس کی فیملی کیا طوفان اٹھاتی، اس کے بارے میں سکندر کو کوئی خوش فہمی نہیں تھی۔ وہ اگر پریشان تھے تو سالار ان کی پریشانی سمجھ سکتا تھا۔

ان سے بات کرنے کے بعد وہ سونے کے لیے بیڈ پر آکر لیٹ گیا اور اس وقت اسے ایک بار پھر امامہ یاد آئی۔ اس نے گردن موڑ کر اس خالی بستر اور تکیے کو دیکھا۔ اسے پچھلی رات اس تکیے پر بکھری زلفیں یاد آئیں۔ چند لمحوں کے لیے اسے یوں لگا جیسے وہ وہیں تھی۔ اس تکیے سے اس کے کندھے اور اس کے کندھے سے اس کے سینے تک آتی ہوئی وہ سیاہ ریشمی زلفیں ایک بار پھر اس سے لپٹنے لگی تھیں۔

اس نے لائٹ آف کرنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ پچھلی رات نہیں تھی کہ اسے تاریکی میں بھی نیند آجاتی۔

٭٭٭٭

وہ ساری رات نہیں سوئی۔ غصہ، رنج ، افسوس اور آنسو… وہ ایک کیفیت سے نکلتی، دوسری میں داخل ہوتی رہی۔

سحری کے وقت بھی اس کا دل بستر سے نکل کر سعیدہ اماں کا سامنا کرنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔ وہ انہیں اپنی اتری ہوئی شکل دکھانا نہیں چاہتی تھی لیکن مجبوری تھی۔ سعیدہ اماں اسے مجبور نہ کرتیں تو وہ سحری کھائے بغیر روزہ رکھتی۔ واپس کمرے میں آنے پر اس نے ایک بار پھر اپنے سیل پر سالار کی مسڈ کال دیکھی۔ اس نے سیل آف کیا اور کمبل لپیٹ کر سو گئی۔

سالار نے دس بجے کے قریب آفس سے اسے کال کی، سیل آف تھا۔ گیارہ بجے کال کرنے پر ایک بار پھر سیل آف ملا۔ اس بار اس نے سعیدہ اماں کی لینڈ لائن پر کال کی۔

”امامہ سو رہی ہے۔” انہوں نے چھوٹتے ہی سرد مہری سے اسے اطلاع دی۔

”اچھا، جب وہ اٹھے تو آپ اس سے کہیں کہ مجھے کال کر لے۔” اس نے پیغام دیا۔

”دیکھوں گی، اگر اس کے پاس فرصت ہوئی تو کر لے گی۔” سعیدہ اماں نے یہ کہہ کر کھٹاک سے فون بند کر دیا۔ وہ سیل ہاتھ میں پکڑے رہ گیا۔ اگلے پانچ منٹ وہ اسی پوزیشن میں بیٹھا سعیدہ اماں کے جواب پر غور کرتا رہا۔

امامہ کو اس کا پیغام مل گیا تھا اور سعیدہ اماں نے سالار کو دیا جانے والا جواب اسے سنا دیا۔ وہ خاموش رہی۔

”آج بھائی صاحب کی طرف چلیں گے۔” سعیدہ اماں نے اسے چپ دیکھ کر کہا۔

”آج رہنے دیں، سالار کے گھر والے آرہے ہیں ، بعد میں بات کر لیں گے۔”امامہ نے سعیدہ اماں سے کہا۔ سالار نے ڈیڑھ بجے کے قریب فون کیا اور اس کی آواز سنتے ہی کہا۔

”تھینگ گاڈ! تمہاری آواز تو سننا نصیب ہوا مجھے…” وہ جواباً خاموش رہی۔

”ڈاکٹر صاحب کا ڈرائیور پہنچنے ہی والا ہو گا، تم تیار ہو جاؤ۔” سالار نے اس کی خاموشی نوٹس کیے بغیر اسے اطلاع دی۔

”ڈنر کے لیے کیا بنانا ہے؟”امامہ نے جواباً کہا۔

”کون سا ڈنر؟”

”تمہارے پیرنٹس کھانا نہیں کھائیں گے کیا؟”

”نہیں، ڈنر فرقان کے گھر پر ہے۔”

”میں ڈنر خود تیار کر لوں گی۔” اس نے اس اطلاع پر دو ٹوک انداز میں کہا۔

”یہ ڈنر وہ ہم دونوں کے لیے نہیں بلکہ ممی، ماما اور انیتا کے لیے کر رہا ہے۔” وہ کچھ خفیف سی ہو گئی۔

”لیکن سحری کے لیے تو کچھ نہ کچھ کرنا ہی ہو گا۔”

”میری فیملی میں روزے وغیرہ کوئی نہیں رکھتا، لیکن پوچھ لوں گا اور کر لیںگے کچھ نہ کچھ … فریج میں بہت کچھ ہے۔ تم اس جھنجھٹ میں نہ پڑو۔”

”ہیلو!” سالار نے جیسے لائن پر اس کی موجودگی کو چیک کیا۔

”میں سن رہی ہوں۔” اس نے جواباً کہا۔

”امامہ! تم اور سعیدہ اماں کل رات کو روکیوں رہی تھیں…؟”

سالار نے بالآخر وہ سوال کیا جو پچھلی رات سے اسے تنگ کر رہا تھا۔

”ایسے ہی۔” وہ کچھ دیر کے لیے جواب نہ دے سکی۔

”اور سعیدہ اماں کا موڈ بھی کچھ آف تھا؟”

”پتا نہیں… تم پوچھ لیتے۔” ” اس نے اب بھی اسی انداز سے کہا۔

”چلو تم اب تیار ہو جاؤ، گھر پہنچ جاؤ تو مجھے ٹیکسٹ میسج کرنا۔ اگر میں فری ہوا تو تمہیں کال کر لوں گا۔” امامہ نے جواباً خدا حافظ کہہ کر فون بند کر دیا۔ اس کا دل چاہا تھا، اس سے کہے۔ ”ضرورت نہیں۔”

٭٭٭٭

وہ تقریباً اڑھائی بجے ڈاکٹر صاحب کے ڈرائیور کے ساتھ اس کے اپارٹمنٹ پر پہنچی تھی اور اس نے آتے ہی سب سے پہلے دونوں بیڈ رومز چیک کیے تھے۔ بیڈ رومز یا باتھ رومز میں کچھ رکھنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

سالار آفس جانے سے پہلے یقینا ہر کام خود ہی کر کے گیا تھا۔ا س نے ایک بار پھر اپنے وجود کو ”بے مصرف” محسوس کیا۔

ایک بیڈ روم شاید پہلے ہی گیسٹ روم کے طور پر استعمال ہو رہا تھا، جب کہ دوسرا بیڈ روم وہ اسٹڈی کے طور پر بھی استعمال کر رہا تھا۔ وہاں ایک ریک پر کتابوں کے ڈھیر کے علاوہ اسی طرح کے ریکس پر سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز کے انبار بھی نظر آئے سٹنگ روم میں موجود جریکس پر بھی ڈی وی ڈیز اور سی ڈیز تھیں لیکن ان کی تعداد اس کمرے کی نسبت بہت کم تھی۔ کمرے میں کچھmusical instruments بھی پڑے ہوئے تھے اور ایک اسٹڈی ٹیبل پر جس ایک ڈیسک ٹاپ تھا۔ وہ اسٹڈی ٹیبل اس کمرے کی وہ واحد چیز تھی جس پر پڑے کاغذ، فائلز اور desk organiser اسے بے ترتیب نظر آئے۔ وہ اٹھنے سے پہلے اسے ٹھیک کرنا بھول گیا تھا یا شاید اس کے پاس وقت نہیں تھا۔

ایک لمحے کے لیے اسے خیال آیا کہ وہ ان پیپرز کو ٹھیک کر دے، اگلے ہی لمحے اس نے اس خیال کو اپنے ذہن سے جھٹک دیا۔ اسے خدشہ تھا وہ یہ کام سالار جیسی پرفیکشن جکے ساتھ نہیں کر سکتی تھی اور اگر کوئی پیپر اِدھر اُدھر ہو گیا تو…؟

وہ دروازہ بند کر کے باہر نکل آئی۔ فریج اور فریزر میں واقعی جکھانے کا بہت سا سامان تھا اور اس کو یقین تھا کہ ان میں سے نوے پرسنٹ اشیاء فرقان ور نوشین کی مرہون منت تھی۔ جو چیزیں سالار کی اپنی خریداری کا نتیجہ تھیں ان میں پھلوں کے علاوہ ڈرنکس اور ٹن پیکڈ فوڈ آئٹمز کی ایک محدود تعداد تھی۔ اس نے چند ٹن نکال کر دیکھے، وہ تقریباً سب کے سب سی فوڈ تھے۔

امامہ کو کھانے میں صرف ایک چیز ناپسند تھی۔ سی فوڈ… روزے کی وجہ سے اس کا معدہ خالی نہ ہوتا تو وہ ان ڈبوں پر بنے ہوئے کریبز اور پرانز دیکھ کر اسے وومٹنگ شروع ہو جاتی۔ اس نے بڑی مایوسی کے عالم میں ان ٹنز کو واپس فریج میں رکھ دیا۔ یقینا وہ ڈیکوریشن کے مقصد سے خرید کر نہیں رکھے گئے تھے۔ وہ خرید کر لاتا تھا تو یقینا کھاتا بھی ہو گا۔ اس کا خراب موڈ کچھ اور ابتر ہو ا۔ ابھی اور کیا کیا پتا چلنا تھا اس کے بارے میں…

اس نے کچن کے کیبنٹس کھول کر دیکھے اور بند کر دیے۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس کچن میں فریج کے علاوہ صرف کافی کیبنٹس اور برتنوں کے ریکس کے علاوہ کہیں کچھ نہیں۔ وہ کچن صرف ناشتے اور سینڈوچ والے میلز کے علاوہ صرف چائے یا کافی کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ وہاں اسے چند فرائنگ پینز کے علاوہ کسی قسم کے پکانے کے برتن نظر نہیں آئے۔ کچن میںموجود کراکری بھی، ایک ڈنر سیٹ اور چند واٹر اور ٹی سیٹس پر مشتمل تھی یا اس کے علاوہ کچھ مگز جتھے یا پھر بریک فاسٹ سیٹ۔ یقینا اس کے گھر آنے والے افراد کی تعداد بھی زیادہ نہیں تھی۔ وہ کچن سے نکل آئی۔

اپارٹمنٹ کا واحد غیر دریافت شدہ حصہ بالکونی تھا۔ وہ دروازہ کھول کر باہر نکل آئی اور وہ پہلی جگہ تھی جہاں آتے ہی اس کا دل خوش ہوا تھا۔ چھ فٹ چوڑی اور بارہ فٹ لمبی وہ ٹیرس نما بالکونی کو ٹیرس گارڈن کہنا زیادہ مناسب تھا۔ مختلف شکلوں اور سائزز کے گملوں میں مختلف قسم کے پودے اور بیلیں لگی ہوئی تھیں اور شدید سرد موسم میں بھی ان کی حالت بتا رہی تھی کہ ان پر خاصی محنت اور وقت لگایا گیا تھا۔ وہاں آس پاس کی بالکونیوں سے بھی اسے سبز رنگ کے پودے اور بیلیں جھانکتی نظر آرہی تھیں لیکن یقینا سالار کی بالکونی کی حالت سب سے بہتر تھی۔

لاؤنج کی قد آدم کھڑکیاں بھی اسی بالکونی میں تھیں اور بالکونی میں ان کھڑکیوں کے پاس دیوار کے ساتھ زمین پر ایک میٹ موجود تھا۔ وہ شاید یہاں آکر بیٹھتا ہو گا یا دھوپ میں لیٹتا ہو گا۔ شاید ویک اینڈ پر… ورنہ سردی کے موسم میں اس میٹ کی وہاں موجودگی کا مقصد اسے سمجھ میں نہیں آیا۔ بالکونی کی منڈیر کے قریب ایک اسٹول پڑا ہوا تھا۔ وہ یقینا وہاں آکر بیٹھتا تھا۔ نیچے دیکھنے کے لیے … منڈیر پر مگ کے چند نشان تھے۔ چائے یا کافی پیتا ہے یہاں بیٹھ کر … مگر کس وقت… یقینا رات جکو… اس نے سوچا اورآگے بڑھ کر نیچے جھانکا۔ وہ تیسری منزل تھی اور نیچے بلڈنگ کا لان اور پارکنگ تھے۔ کچھ فاصلے پر کمپاؤنڈ سے باہر سڑک بھی نظر آرہی تھی۔ وہ ایک پورش ایریا تھا اور سڑک پر ٹریفک زیادہ نہیں تھی۔ وہ واپس اندر آگئی۔

وہ کپڑے تبدیل کر کے ابھی اپنے بال بنا رہی تھی کہ جب اسے ڈور بیل کی آواز سنائی دی۔ فوری طور پر اسے نوشین ہی کا خیال آیا تھا۔

لیکن دروازے پر ایک ریسٹورنٹ کا ڈیلیوری بوائے چند پیکٹس لیے کھڑا تھا۔

”میں نے آرڈر نہیں کیا۔” اسے لگا شاید وہ کسی غلط اپارٹمنٹ میں آگیا ہے۔

اس نے جواباً سالار سکندر کا نام ایڈریس کے ساتھ دہرایا۔ چند لمحوں کے لیے وہ چپ سی ہو گئی۔ وہ کم از کم اتنا لاپروا نہیں تھا اس کے بارے میں کہ اس کے افطار کے لیے کچھ انتظام کرنا بھول جاتا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ وہ اپنے پیرنٹس کو لینے کے لیے آفس سے نکل چکا ہو گا اور ایئر پورٹ پہنچنے کی بھاگ دوڑ میں اسے شاید وہ یاد بھی نہیں ہو گی۔

کچن میں ان پیکٹس کو رکھتے ہوئے اس کا غصہ اور رنجیدگی کچھ کم ہوئی اور یہ شاید اس کا ہی اثر تھا کہ اس نے کال کر کے سالار کو مطلع کرنا اور اس کا شکریہ ادا کرنا ضروری سمجھا۔ وہ اس وقت ایئر پورٹ کی طرف جا رہا تھا۔ اس نے فوراً کال ریسیو کی تھی۔

امامہ نے اسے کھانے کے بارے میں بتایا۔

”میں رات کا کھانا اکثر اس ریسٹورنٹ سے منگواتا ہوں۔ کھانا اچھا ہوتا ہے ان کا…” اس نے جواباً بڑے معمول کے انداز میں کہا۔میں نے سوچا” میں جب تک ان لوگوں کو لے کر گھر آؤں گا تب تک بھوکی بیٹھی رہو گی۔”

وہ اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی مگر یک دم اسے احساس ہوا کہ یہ بہت مشکل کام ہے سالار سے یہ دو لفظ کہنا، ایک عجیب سی جھجک جو اسے محسوس ہو رہی تھی۔

٭٭٭٭

وہ تقریباً سوا نو بجے کے قریب ایا اور ڈور بیل کی آواز پر وہ بے اختیار نروس ہو گئی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ سالار کی فیملی کے رد عمل سے خائف تھی۔ ایک ہمسائے کے طور پر بھی دونوں فیملیز کے درمیان بے حد رسمی تعلقات تھے اور بعد میں ہونے والے واقعات نے تو یہ فارمیلٹی بھی ختم کر دی تھی۔ اسے کئی سال پہلے سکندر عثمان سے فون پر ہونے والی گفت گو یاد تھی اور شاید اس کے خدشات کی وجہ سے بھی وہی کال تھی۔

بیرونی دروازہ کھولتے ہوئے اسے احساس ہوا کہ اس کے ہاتھ بھی کانپ رہے تھے۔

سکندر عثمان سمیت تینوں افراد اس سے بڑی گرم جوشی کے ساتھ ملے تھے۔ وہ ان کے رویوں میں جس روکھے پن اور خفگی کو ڈھونڈ رہی تھی، وہ فوری طور پر اسے نظر نہیں آئی۔ امامہ کی نروس نیس میں کچھ کمی آئی۔

فرقان کے گھر ڈنر کے دوران اس کی یہ نروس نیس اور بھی کم ہوئی۔

انیتا اور طیبہ دونوں بڑے دوستانہ انداز میں نوشین اور اس سے باتیں کرتی رہیں۔ نوشین اور فرقان سالار کے والدین سے پہلے بھی مل چکے تھے لیکن نوشین، انیتا سے پہلی بار مل رہی تھی اور دونوں کا موضوع گفت گو ان کے بچے تھے۔ وہ بے حد پرسکون انداز میں ایک خاموش سامع کی طرح ان لوگوں کی باتیں سنتی رہی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ فرقان کے گھر میں اس کی شادی یا اس کی ذات موضوع گفتگو بنے۔

اپنے اپارٹمنٹ میں واپسی کے بعد پہلی بار سکندر اور طیبہ نے سٹنگ روم میں بیٹھے، اس سے بات کی اور تب امامہ نے ان کے لہجے میں چھپی اس تشویش کو محسوس کیا جو امامہ کی فیملی کے متوقع جرد عمل سے انہیں تھی۔ اس کا اعتماد ایک بار پھر غائب ہو گیا۔ اگرچہ انہوں نے کھلے عام امامہ کے سامنے ہاشم مبین یا ان کے خاندان کے حولے سے کوئی بات نہیں کی لیکن وہ لوگ اب ولیمہ کا فنکشن اسلام آباد کے بجائے لاہور میں منعقد کرنا چاہتے تھے۔ وہ سالار کی رائے سننا چاہتی تھی لیکن وہ گفت گو کے دوران خاموش رہا۔ جب گفت گو کے دوران خاموشی کے وقفوں کی تعداد بڑھنے لگی تو یک دم امامہ کو احساس ہوا کہ گفت گو جمیں آنے والی اس بے ربطی کی وجہ وہ تھی۔ وہ چاروں اس کی وجہ سے کھل کر بات نہیں کر پا رہے تھے۔

”بالکل ،بیٹا! تم سو جاؤ تمہیں سحری کے لیے اٹھنا ہو گا۔ ہم لوگ تو ابھی کچھ دیر بیٹھیں گے۔”

اس کے نیند انے کے بہانے پر سکندر عثمان نے فوراً کہا تھا۔

وہ اٹھ کر کمرے میں آگئی۔ نیند آنا بہت مشکل تھی۔ دو دن پہلے جن خدشات کے بارے میں اس نے سوچا بھی نہیں تھا، اب وہ ان کے بارے میں سوچنے لگی تھی۔

اسے اندازہ تھا کہ سکندر عثمان ان دونوں کی شادی کو خفیہ ہی رکھنا چاہتا ہیں تاکہ اس کی فیملی کو اس کے بارے میں پتا نہ چلے۔

وہ بہت دیر تک اپنے بیڈ پر بیٹھے ان خدشات اور خطرات کے بارے میں سوچتی رہی جو انہیں محسوس ہو رہے تھے۔ اس وقت وہاں اکیلے بیٹھی پہلی بار اس نے سوچا کہ اس سے شادی کر کے سالار نے کتنا بڑا خطرہ مول لیا تھا۔ جو بھی اس سے شادید کرتا، وہ کسی نہ کسی حد تک خود کو غیر محفوظ ضرور کر لیتا لیکن سالار سکندر کی صورت میں صورتِ حال اس لیے زیادہ خراب ہوتی کیوںکہ اس کے ساتھ اس کے اس رشتے کا انکشاف ہونے کے چانسز زیادہ تھے۔

وہ زیادہ سے زیادہ کیا کر سکتے تھے… اس نے سوچا… مجھے یا سالار کو جان سے تو کبھی نہیں ماریں گے… اسے اب بھی اندھااعتماد تھا کہ کہیں نہ کہیں اس کی فیملی اتنا لحاظ ضرور کرے گی۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا کہ وہ مجھے زبردستی اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کریں گے اور پھر سالار سے طلاق دلوا کر کہیں اور شادی کرنا چاہیں گے۔

اس اضطراب میں یک دم مزید اضافہ ہوا۔ سب کچھ شاید اتنا سیدھا نہیں تھا جتنا وہ سمجھ رہی تھی یا سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کہیں شادی کرنے کا مسئلہ نہیں تھا، یہ مذہب میں تبدیلی کا معاملہ تھا۔ اسے اپنے پیٹ میں گرہیں پڑتی محسوس ہوئیں، وہ واپس بیڈ پر آکر بیٹھ گئی۔ اس وقت پہلی بار سالار سے شادی کرنا اسے ایک غلطی لگی۔ وہ ایک بار پھر اسی کھائی کے کنارے آکر کھڑی ہو گئی تھی جس سے وہ اتنے سالوں سے بچتی پھر رہی تھی۔

٭٭٭٭

“اب کیا ہو گا؟” طیبہ نے بستر پر لیٹے ہوئے کہا۔

”اب ہونے کو رہ کیا گیا ہے؟” سکندر عثمان نے جواباً کہا۔ وہ جانتے تھے، طیبہ کا اشارہ کس طرف تھا۔

”ہاشم مبین کو پتا چل گیا تو…؟”

جاری



قسط نمبر 6۔۔۔۔۔۔

اسی لیے تو اس سے کہا ہے کہ امامہ کو وہیں رکھے لاہور میں۔ اسلام آباد نہیں لائے۔ ویسے بھی پی ایچ ڈی کے لیے تو اسے اگلے سال چلے ہی جانا ہے۔ تب تک تو cover ہو سکتا ہے یہ سب کچھ…” سکندر عثمان نے اپنے گلاسز اتارتے ہوئے کہا۔ وہ بھی سونے کے لیے لیٹنے والے تھے۔

طیبہ کچھ دیر خاموش رہیں پھر انہوں نے کہا ”مجھے تو بڑی عام سی لگی ہے امامہ۔”

”تمہارے بیٹے سے بہتر ہے۔” سکندر عثمان نے ترکی بہ ترکی کہا۔ طیبہ کچھ ناراض ہوئیں۔

”کیوں… سالار سے کس طرح بہتر ہے، وہ اس کا تو کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔ آپ خود ایمان داری سے بتائیں، ایسی کوئی بات ہے اس میں کہ نو سال بیٹھا رہا وہ اس کے لیے۔”

سکندر ہنس پڑے۔

”اتنی ہنسی کس بات پر آرہی ہے آپ کو؟” وہ چڑیں۔

سکندر واقعی بہت خوش گوار موڈ میں تھے۔

”میں واقعی بہت خوش ہوں کیوںکہ میرا بیٹا بڑا خوش ہے۔ اتنے سالوں بعد اس طرح باتیں کرتے دیکھا ہے اسے۔ میں نے زندگی میں کبھی اس کے چہرے پر ایسی رونق نہیں دیکھی۔ امامہ کے ساتھ اس کی شادی ہو گئی ہے، میرے تو کندھوں سے بوجھ اتر گیا ہے۔ اس کے سامنے کتنا شرمندہ رہتا تھا میں، تمہیں اندازہ بھی ہے۔”

طدیے۔

خاموشی سے ان کی بات سن رہی تھیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ غلط نہیں کہہ رہے ہیں۔

٭٭٭٭

نیند میں وہ اس کے ہاتھوں میں رسیاں باندھ کر اسے کھینچ رہے تھے۔ رسیاں اتنی سختی سے باندھی ہوئی تھیں کہ اس کی کلائیوں سے خون رسنے لگا تھا اور اس کے ہر جھٹکے کے ساتھ وہ درد کی شدت سے بے اختیار چلاتی۔ وہ کسی بازار میں لوگوں کی بھیڑ کے درمیان کسی قیدی کی طرح لے جائی جا رہی تھی۔ دونوں اطراف میں کھڑے ہوئے لوگ بلند آواز میں قہقہے لگاتے ہوئے اس پر آوازے کس رہے تھے۔ پھر ان لوگوں میں سے ایک مرد نے جو اس کی کلائیوں میں بندھی رسیوں کو کھینچ رہا تھا… پوری قوت سے رسی کو جھٹکا دیا۔ وہ گھٹنوں کے بل اس پتھریلے راستے پر گری۔

”امامہ… امامہ… Its me… اٹھ جاؤ… سحری ختم ہونے میں تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے۔”

وہ ہڑ بڑا کر اٹھی، بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ آن کیا۔ سالار اس کے پاس کھڑا نرمی سے اس کا کندھا ہلاتے ہوئے اسے جگا رہا تھا۔

”سوری… میں نے شاید تمہیں ڈرا دیا۔” سالار نے معذرت کی۔

وہ کچھ دیر تک خالی ذہن کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ وہ گزرے ہوئے سالوں میں ایسے خواب دیکھنے کی عادی ہو گئی تھی اور خوابوں کا یہ سلسلہ اب بھی نہیں ٹوٹا تھا۔

”کوئی خواب دیکھ رہی تھیں؟”

سالار نے جھک کر گود میں رکھے اس کے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے پوچھا۔ اسے یوں لگا تھا، وہ ابھی بھی نیند میں تھی۔ امامہ نے سرہلا دیا۔ وہ اب نیند میں نہیں تھی۔

”تم کمبل لیے بغیر سو گئیں؟” سالار نے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے کہا۔ امامہ نے چونک کر بیڈ پر پڑے کمبل کو دیکھا۔ وہ واقعی اسی طرح پڑا تھا۔ یقینا وہ بھی رات کو کمرے میں سونے کے لیے نہیں آیا تھا۔ کمرے کا ہیٹر آن رہا تھا، ونہ وہ سردی لگنے کی وجہ سے ضرور اٹھ جاتی۔

”جلدی آجاؤ، بس دس منٹ رہ گئے ہیں۔”

وہ اسے پانی کا گلاس تھماتے ہوئے کمرے سے نکل گیا۔

منہ ہاتھ دھونے کے بعد جب وہ سٹنگ ایریا میں آئی تو وہ سحری کر چکا تھا اور چائے بنانے میں مصروف تھا۔ لاؤنج یا کچن میں اور کوئی نہیں تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر اس کے لیے پہلے ہی سے برتن لگے ہوئے تھے۔

”میں چائے بناتی ہوں۔” وہ سحری کرنے کے بجائے مگ نکالنے لگی۔

”تم آرام سے سحری کرو، ابھی اذان ہو جائے گی۔ میں اپنے لیے چائے خود بنا سکتا ہوں، بلکہ تمہارے لئے بھی بنا سکتا ہوں۔” سالار نے مگ اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے اسے واپس بھیجا۔

وہ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔

”یہ سب لوگ سو رہے ہیں؟”

”ہاں… ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی سوئے ہیں۔ ساری رات تو باتیں کرتے رہے ہم لوگ اور شاید ہماری آوازوں جکی وجہ سے تم ڈسٹرب ہوتی رہیں۔”

”نہیں، میں سو گئی تھی۔” اس کا لہجہ بہت بجھا ہوا تھا۔ سالار نے محسوس کیا، وہ اسے بہت اپ سیٹ لگی۔

”کیا کوئی زیادہ برا خواب دیکھا ہے؟”

وہ چائے کے مگ ٹیبل پر رکھتے ہوئے کرسی کھینچ کر اس کے پاس بیٹھ گیا۔

”خواب…” وہ چونکی۔ ”نہیں… ایسے ہی …” وہ کھانا کھانے لگی۔

”صبح ناشتا کتنے بجے کریں گے یہ لوگ۔” اس نے بات بدلتے ہوئے پوچھا۔

وہ بے اختیار ہنسا۔

”یہ لوگ… کون سے لوگ… یہ تمہاری دوسری فیملی ہے اب … ممی، پاپا کہو انہیں اور انیتا کو انیتا…” وہ اس کی بات پر بے اختیار شرمندہ ہوئی۔ وہ واقعی کل رات سے ان کے لیے وہی دو لفظ استعمال کر رہی تھی۔

”ناشتا تو نہیں کریں گے۔ ابھی گھنٹہ، ڈیڑھ گھنٹہ تک اٹھ جائیں گے۔ دس بجے کی فلائٹ ہے۔” سالار نے اس کی شرمندگی کو بھانپتے ہوئے بات بدل دی۔

”صبح نو بجے کی… اتنی جلدی کیوں جا رہے ہیں؟” وہ حیران ہوئی۔

”صرف تم سے ملنے کے لیے آئے تھے یہ لوگ، پاپا کی کوئی میٹنگ ہے آج دو بجے اور انیتا تو اپنے بچوں کو ملازمہ کے پاس چھوڑ کر آئی ہے۔ چھوٹی بیٹی تو صرف چھ ماہ کی ہے اس کی۔” وہ بتا رہا تھا۔ ”چائے پئیں گے ناشتے کے بجائے، وہ تم بنا دینا۔ میں ابھی نماز پڑھ کر آجاؤں، پھرا ن کے ساتھ ہی آفس کے لیے تیار ہوں گا اور انہیں ایئرپورٹ چھوڑ کر پھر آفس چلا جاؤں گا۔” سالار نے جمائی روکتے ہوئے چائے کا خالی مگ اٹھایا اور کھڑا ہو گیا۔ امامہ نے کچھ حیرانی سے اسے دیکھا۔

”تم سوؤ گے نہیں؟”

”نہیں، شام کو آفس سے آنے کے بعد سوؤں گا۔”

”تم چھٹی لے لیتے۔” امامہ نے روانی سے کہا۔

سنک کی طرف جاتے ہوئے سالار نے پلٹ کر امامہ کو دیکھا اور پھر بے اختیار ہنسا۔ ”سونے کے لیے آفس سے چھٹی لے لیتا؟ میرے پروفیشن میں ایسا نہیں ہوتا۔”

”تم سوئے نہیں رات کو، اس لیے کہہ رہی ہوں۔” وہ اس کی بات پر جھینپی جتھی۔

”میں اڑتالیس، اڑتالیس گھنٹے بغیر سوئے یو این کے لیے کام کرتا رہا ہوں۔ وہ بھی شدید گرمی اور سردی میں۔Disaster striken areas میں اور رات کو تو ماں، باپ کے پاس بیٹھا پرفیکٹ کنڈیشنز میں باتیں کرتا رہا ہوں، تھکتا کیوں؟”

اذان ہو رہی تھی۔

”اب پلیز مگ مت دھونا، مجھے اپنے برتن دھونے ہیں۔” امامہ نے چائے کا مگ خالی کرتے ہوئے اسے روکا۔ وہ ٹی بیگ نکال کر ویسٹ باسکٹ میں پھینکنے لگی تھی۔

”ٹھیک ہے… دھویئے…”

سالار نے بڑی خوش دلی کے ساتھ مگ سنک میں رکھا اور پلٹا۔ وہ کوڑے دان کا ڈھکن ہٹائے ہوئے فق ہوتی رنگت کے ساتھ، ٹی بیگ ہاتھ میں پکڑَ کسی بت کی طرح کھڑی تھی۔ سالار نے ایک نظر اسے دیکھا، پھر کوڑے دان کے اندر پڑ اس چیز کو جس نے اسے یوں شاکڈ کر دیا تھا۔

نان الکحولک ڈرنک۔” وہ مدھم آواز میں کہتے ہوئے کچن سے باہر نکل گیا تھا۔

وہ بے اختیار شرمندہ ہوئی۔ اسے یقین تھا۔ وہ اس کوڑے دان کے اندر بڑے جنجر بیئر کے اس خالی کین کو وہاں سے نہیں دیکھ سکتا تھا، جہاں وہ کھڑا تھا، اس کے باوجود اس کو پتا تھا کہ وہ کیا چیز دیکھ کر سکتہ میں آئی تھی۔

اس نے جنجر بعد میں پڑھا تھا، بیئر پہلے… اور یہ سالار سکندر کا گھر نہ ہوتا تو اس کا ذہن پہلے نان الکحولک ڈرنکس کی طرف جاتا، مگر یہاں اس کا ذہن بے اختیار دوسری طرف گیا تھا۔ جھک کر ٹی بیگ پھینکتے ہوئے اس نے non alcoholicکے لفظ بھی کین پر دیکھ لیے تھے۔ کچھ دیر وہیں کھڑی وہ اپنی ندامت ختم کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ پتا نہیں وہ کیا سوچ رہا ہو تا میرے بارے میں اور سالار کو بھی واقعی کرنٹ لگا تھا۔ وہ دونوں اپنے درمیان اعتماد کا جو پل بنانے کی کوشش کر رہے تھے، وہ کبھی ایک طرف سے ٹوٹ رہا تھا، کبھی دوسری طرف سے۔

اس نے آخری بار شراب آٹھ سال پہلے پی تھی، لیکن وہ انرجی اورnon alcoholic drinks تقریباً ہر رات کام کے دوران پیتا تھا۔ امامہ کو ویسٹ باسکٹ کے پاس شاکڈ دیکھ کر اسے یہ جاننے میں سیکنڈز بھی نہیں لگے تھے کہ ویسٹ باسکٹ میں پڑی کون سی چیز اس کے لیے شاکنگ ہو سکتی ہے۔

وہ کارپوریٹ سکیٹر سے تعلق رکھتا تھا اور جن پارٹیز میں جاتا تھا وہاں ڈرنکس ٹیبل پر شراب بھی موجود ہوتی تھی اور ہر بار اس ”مشروب” سیا نکار پر کسی کے پچھلے آٹھ سال کے دوران شاید ایک بار بھی یہ نہیں سوچا ہو گا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے، کیوںکہ ان میں سے کوئی بھی نو سال پہلے والے سالار سکندر سے واقف نہیں تھا۔ لیکن وہ ایک فرد جو دو دن پہلے اس کے گھر میں آیا تھا، اس کے پاس سالار کی کسی بھی بات اور عمل پر شبہ کرنے کے لیے بڑی ٹھوس وجوہات موجود تھیں۔

”یہ سب تو ہو گا ہی… ایسی حرکتیں نہ کرتا تب قابل اعتبار ہوتا۔ اب جب کہ ماضی کچھ اتنا صاف نہیں ہے تو اس پر اپنا اعتبار قائم کرنے میں کچھ وقت تو لگے گا ہی۔” بیرونی دروازے کی طرف جاتے ہوئے اس نے بڑی آسانی کے ساتھ سارا الزام اپنے سر لے کر امامہ کو بری الذمہ قرار دے دیا تھا۔

”تمہارے کپڑے پریس کردوں؟” اس نے بیڈ روم میں آکر پوچھا۔ وہ ڈریسنگ روم میں وارڈ روب کھولے اپنے کپڑے نکال رہا تھا۔

”نہیں، میرے کپڑے تو پریس ہو کر آتے ہیں۔” ایک ہینگر نکالتے ہوئے وہ پلٹ کر مسکرایا تھا۔

امامہ کو یک دم اپنے کانوں کے بندے یاد آئے۔

”تم نے میرے ایر رنگز کہیں دیکھے ہیں میں نے واش روم میں رکھے تھے، وہاں نہیں ملے مجھے۔”

”ہاں میں نے اٹھائے تھے وہاں سے۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل پر ہیں۔” سالار دو قدم آگے بڑھا اور ایر رنگز اٹھا کر امامہ کی طرف بڑھا دیے۔

”یہ پرانے ہو گئے ہیں۔ تم آج میرے ساتھ چلنا، میںتمہیں نئے لے دوں گا۔”

وہ ایر رنگز کانوں میں پہنتے ہوئے ٹھنگی۔

”یہ میرے ابو نے دیے ہیں جب مجھے میڈیکل میں ایڈمیشن ملا تھا۔ میرے لیے پرانے نہیں ہیں۔ تمہیں ضرورت نہیں ہے اپنے پیسے ضائع کرنے کی۔”

اس کا ردِ عمل دیکھنے کے لیے امامہ نے پلٹ کر دیکھنے کی زحمت تک نہیں کی۔ وہ بیڈ روم کا دروازہ کھول کر باہر چلی گئی تھی۔ وہ اگلے کچھ سیکنڈز وہیں کھڑا رہا۔ وہ محبت سے کی ہوئی آفر تھی، جسے وہ اس کے منہ پر مار کر گئی تھی۔ کم از کم سالار نے یہی محسوس کیا تھا۔ اسے یہ احساس نہیں ہوا تھا کہ محبت سے کی جانے والی اس آفر کو اس نے ضرورت پوری کرنے والی چیز بنا دیا تھا۔ وہ مرد تھا، ضرورت اور محبت میں فرق نہیں کر پاتا تھا۔ وہ عورت تھی ضرورت اور محبت میں فرق رکھتے رکھتے مر جاتی۔

٭٭٭٭

ڈاکٹر سبط علی کو اس دن صبح ہی سعیدہ اماں سے طویل گفت گو کرنے کا موقع مل گیا تھا۔ وہ دود یا تین دن بعد ان کی خیریت دریافت کرنے کے لیے فون کیا کرتے تھے اور آج بھی انہوں نے سعیدہ اماں کی طبیعت پوچھنے کے لیے ہی فون کیا تھا۔ وہ ان کی آواز سنتے ہی پھٹ پڑی تھی۔ ڈاکٹر سبط علی بے یقینی سے ان کی باتیں سنتے رہے۔ انہیں سعیدہ اماں کی کوئی بھی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔

”آمنہ نے آپ سے یہ کہا کہ سالار اپنی پہلی بیوی کی باتیں کرتا رہا ہے؟” انہیں لگا کہ انہیں سعیدہ اماں کی بات سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔

”وہ بے چاری تو روتی رہی ہے… فون پر بھی… اور میرے پاس بیٹھ کر بھی… سالار نے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ اس سے ٹھیک طرح سے بات تک نہیں کرتا وہ۔ بھائی صاحب! آپ نے بڑا ظلم کیا ہے بچھی پر۔” سعیدہ اماں ہمیشہ کی طرح جذباتی ہو رہی تھیں۔

”مجھے لگتا ہے کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے، وہ دونوں تو پرسوں میرے پاس آئے ہوئے تھے۔ بالکل ٹھیک ٹھاک اور خوش تھے۔” ڈاکٹر سبط علی پریشان کم اور حیران زیادہ ہو رہے تھے۔

”اور آپ کے گھر سے واپسی پر وہ اسے یہاں چھوڑ گیا تھا۔ وہ بے چاری ساری رات روتی رہی۔”

”آمنہ آپ کے ہاں رہی پرسوں؟” وہ پہلی بار چونکے تھے۔

”تو اور کیا…؟ سالار تو اس کو لے جانا ہی نہیں چاہتا تھا۔ وہ تو اس کے ماں باپ آرہے تھے کل… تو اس لیے مجبوراً لے گیا اسے… اور آمنہ بھی بڑی پریشان ہے سارا دن چپ بیٹھی رہی۔ آپ تو بھائی صاحب بڑی تعریفیں کیا کرتے تھے، بڑا نیک ، صالح بچہ ہے لیکن یہ تو بڑا خراب نکلا۔ ابھی سے تنگ کرنا شروع کر دیا ہے اس نے۔”

اس وقت ڈاکٹر سبط علی کے چودہ طبق روشن ہو رہے تھے۔ امامہ اس رات ان کے گھر پر بھی خاموش بیٹھی رہی تھی، لیکن انہیں یہ شائبہ تک نہیں ہوا تھا کہ ان دونوں کے درمیان کسی قسم کا کوئی اختلاف ہوا ہے۔

”خیر، میںڈرائیور کو بھیجتا ہوں، آپ میری طرف آجائیں۔ سالار کو بھی افطار پر بلوا لیتے ہیں، پھر میں اس سے بات کر لوں گا۔”

امامہ نے بے اختیار آنکھیں بند کیں۔ اس وقت یہی ایک چیز تھی جو وہ نہیں چاہتی تھی۔

”وہ آج کل بہت دیر سے آفس سے آرہا ہے۔ کل رات بھی نو بجے آیا، شاید آج نہ آسکے۔” اس نے کمزور سی آواز میں کہا۔

”میں فون کر کے پوچھ لیتا ہوں اس سے۔” ڈاکٹر سبط علی نے کہا۔

”جی۔” اس نے بہ مشکل کہا۔ وہ ان کے کہنے پر آنکھیں بند کر کے کسی سے بھی شادی کرنے پر تیار ہو گیا تھا، وہ افطار کی دعوت پر نہ آنے کے لیے کسی مصروفیت کو جواز بناتا؟

وہ جانتی تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو کیا جواب ملنے والا ہے۔ فون بند کر کے وہ بے اختیار اپنے ناخن کاٹنے لگی… یہ درست تھا کہ اسے سالار سے شکایتیں تھیں، لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی تھی کہ شادی کے چوتھے ہی دن اس طرح کی کوئی بات ہوتی۔

”ہیلو! سویٹ ہارٹ۔” پانچ منٹ بعد اس نے اپنے سیل پر سالار کی چہکتی ہوئی آواز سنی اور اس کے ضمیر نے اسے بری طرح ملامت کیا۔

”بندہ اٹھتا ہے تو کوئی میسج ہی کر دیتا ہے… فون کر لیتا ہے… یہ تو نہیں کہ اٹھتے ہی میکے جانے کی تیاری شروع کر دے۔” وہ بے تکلفی سے حالات کی نوعیت کا اندازہ لگائے بغیر اسے چھیڑ رہا تھا۔

امامہ کے احساس جرم میں مزید اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر سبط علی نے یقینا اس سے فی الحال کوئی بات کیے بغیر اسے افطار پر بلایا تھا۔

”ڈاکٹر صاحب ابھی افطار کے بارے میں کہہ رہے تھے۔ میں نے انہیں کہ کہ میں آج آفس سے جلدی آجاؤں گا اور تمہیں اپنے ساتھ لے آؤں گا۔” وہ اسے بتا رہا تھا۔

امامہ کو یک دم کچھ امید بندھی۔ وہ اگر پہلے گھر آجاتا ہے تو وہ اس سے کچھ بات کر لیتی، کچھ معذرت کر کے اسے ڈاکٹر صاحب کے گھر متوقع صورتِ حال کے بارے میں آگاہ کر سکتی تھی۔ اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ ہاں، یہ ہو سکتاتھا۔

”لیکن اگر تم جانا چاہو تو میں تمہیں بھجوا دیتا ہوں۔” سالار نے اگلے ہی جملے میں اسے آفر کی۔

”نہیں… نہیں، میں تمہارے ساتھ چلی جاؤں گی۔” امامہ نے بے اختیار کہا۔

”اوکے… میں پھر انہیں بتا دیتا ہوں… اور تم کیا کر رہی ہو؟”

اس کا دل چاہا، وہ اس سے کہے کہ وہ اس گڑھے سے نکلنے کی کوشش کی رہی ہے جو اس نے سالار کے لیے کھودا تھا۔

”فرقان کی ملازمہ آئے گی آج صفائی کرنے کے لیے، عام طور پر تو وہ صبح میرے جانے کے بعد آکر صفائی کرتی ہے لیکن تم اس وقت سو رہی ہوتی ہو، تو میں نے اسے فی الحال اس وقت آنے سے منع کیا ہے۔ تم بھابھی کو کال کر کے بتا دینا کہ وہ اسے کب بھیجیں۔”

وہ شاید اس وقت آفس میں فارغ تھا اس لیے لمبی بات کر رہا تھا۔

”کچھ تو بولو یار… اتنی چپ کیوں ہو؟”

”نہیں… وہ… میں… ایسے ہی۔” وہ اس کے سوال پر بے اختیار گڑبڑائی۔” تم فری ہو اس وقت؟” اس نے بے حد محتاط لہجے میں پوچھا۔

اگر وہ فارغ تھا تو وہ ابھی اس سے بات کر سکتی تھی۔

”ہاں، ایویلیوایشن ٹیم چلی گئی ہے… کم از کم جآج کا دن تو ہم سب بہت ریلیکسڈ ہیں۔ اچھے کمنٹس دے کر گئے ہیں وہ لوگ۔” وہ بڑے مطمئن انداز میں اسے بتا رہا تھا۔

وہ اس کی باتوں پر غور کیے بغیر اس ادھیڑ بن میں لگی ہوئی تھی کہ بات کیسے شروع کرے۔

”آج اگر ڈاکٹر صاحب انوائیٹ نہ کرتے تو میں سوچ رہا تھا رات کو کہیں باہر کھانا کھاتے… فورٹریس میں انڈسٹریل ایگزی بیشن لگی ہوئی ہے… وہاں چلتے… بلکہ یہ کریں گے کہ ان کے گھر سے ڈنر کے بعد فورٹریس چلے جائیں گے۔”

چلو بھرپانی میں ڈوب مرنے کا محاورہ آج پہلی بار امامہ کی سمجھ میں آیا تھا۔ یہ محاورتاً نہیں کہا گیا تھا۔ جواقعی بعض سچویشنز جمیں چلو بھر پانی بھی ڈبونے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ وہ بات شروع کرنے کے جتن کر رہی تھی اور یہ کیسے کرے، یہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔

”ٹھیک ہے! پھر میں ذرا ڈاکٹر صاحب کو بتا دوں۔ وہ انتظار کر رہے ہوں گے۔” اس سے پہلے کہ وہ اسے کچھ کہتی، سالار نے بات ختم کرتے ہوئے کال بند کر دی۔ وہ فون ہاتھ میں پکڑے بیٹھی رہ گئی۔

٭٭٭٭

وہ تقریباً چار بجے گھر آیا تھا اور وہ اس وقت تک یہ طے کر چکی تھی کہ اسے اس سے کس طرح بات کرنی ہے۔ سالار اوپر نہیں آیا تھا۔ اس نے فون پر اسے نیچے آنے کے لیے کہا۔ وہ جب گاڑی کے کھلے دروازے سے اندر بیٹھی تو اس نے مسکرا کر سر کے اشارے سے اس کا استقبال کیا۔ وہ فون پر اپنے آفس کے کسی آدمی سے بات کر رہا تھا۔

ہینڈز فری کان سے لگائے ڈاکٹر سبط علی کے گھر کی طرف ڈرائیونگ کرتے ہوئے وہ مسلسل اسی کال میں مصروف رہا۔ امامہ کی جیسے جان پر بن آئی تھی۔ اگر وہ سارے راستے بات کرتا رہا تو… ایک سگنل پر رکنے پر اس نے سالار کا کندھا تھپتھپایا اور بے حد خفگی کے عالم میں اسے کال ختم کرنے کا اشارہ کیا۔ نتیجہ فوری طور پر آیا۔ چند منٹ مزید بات کرنے کے بعد سالار نے کال ختم کر دی۔

”سوری… ایک کلائنٹ کو کوئی پرابلم ہو رہا تھا۔” اس نے کال ختم کرنے کے بعد کہا۔

”اسلام آباد چلو گی؟” اس کے اگلے جملے نے امامہ کے ہوش اُڑا دیے۔

قسط نمبر 7۔۔۔۔۔

وہ سب کچھ جو وہ سوچ کر آئی تھی، اس کے ذہن سے غائب ہو گیا۔

”اسلام آباد؟” اس نے بے حد بے یقینی سے سالار کو دیکھا۔

”ہاں میں اس ویک اینڈ پر جا رہا ہوں۔” سالار نے بڑے نارمل انداز میں کہا۔

”لیکن میں… میں کیسے جا سکتی ہوں؟” وہ بے اختیار اٹکی۔ ”تمہارے پاپا تو تمہیں منع کر کے گئے ہیں کہ مجھے اپنے ساتھ اسلام آباد نہ لے کر آنا۔ پھر؟” سالار نے اس کی بات کاٹی۔

”ہاں… اور اب وہی کہہ رہے ہیں کہ اگر میں تمہیں ساتھ لانا چاہوں تو لے آؤں۔” اس بڑی روانی سے کہا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔

”میری فیملی کو پتا لگ سکتا ہے۔” اس نے لمبی خاموشی کے بعد بالآخر کہا۔

”آج یا کل تو پتا لگنا ہے۔” سالار نے اسی انداز میں کہا۔ ”یہ تو ممکن نہیں ہے کہ میں ساری عمر تمہیں چھپا کر رکھو۔” وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔ ”تمہاری فیملی نے تمہارے بارے میں لوگوں سے کہا ہے کہ تم شادی کے بعد بیرون ملک سیٹل ہو گئی ہو۔ اب اتنے سالوں کے بعد تمہارے حوالے سے کچھ کریں گے تو خود انہیں بھیembarrassment ہو گی۔ اس لیے مجھے نہیں لگتا کہ وہ کچھ کریں گے۔” وہ مطمئن تھا۔

”تم انہیں نہیں جانتے، انہیں پتا چل گیا تو وہ چپ نہیں بیٹھیں گے۔” وہ پریشان ہونے لگی تھی۔

”وہاں کبھی کبھار جایا کریں گے، خاموشی سے جائیں گے اور آجایا کریں گے۔ یار! اتنا socialize نہیں کریں گے وہاں۔” وہ اس کی بے فکری سے چڑی۔

”انہیں پتا چلا تو وہ مجھے لے جائیں گے… وہ مجھے مار ڈالیں گے۔” وہ روہانسی ہو رہی تھی۔

”فرض کرو امامہ! اگر انہیں اتفاقاً تمہارے بارے میں پتا چلتا ہے یا یہاں لاہور میں تمہیں کوئی دیکھ لیتا ہے، تمہیں کوئی نقصان پہنچاتے ہیں تو…؟”

”نہیں پتا چلے گا میں کبھی باہر جاؤں گی ہی نہیں۔” اس نے بے ساختہ کہا۔

”تمہارا دم نہیں گھٹے گا اس طرح…؟” اس نے چونک کر اس کا چہرہ دیکھا۔

اس کی آنکھوں میں مسیحا جیسی ہمدردی تھی۔

”مجھے عادت ہو گئی ہے سالار… اتنا ہی سانس لینے کی… مجھے فرق نہیں پڑتا۔ جب میں جاب نہیں کرتی تھی تو مہینوں گھر سے نہیں نکلتی تھی۔ میں اتنے سالوں سے لاہور میں ہوں لیکن میں نے یہاں بازاروں، پارکس اور ریسٹورنٹس کو صرف سڑک پر سفر کرتے ہوئے باہر سے دیکھا ہے یا ٹی وی اور نیوز پیپرز میں۔ میں اگر اب ان جگہوں پر جاؤں تو میری سمجھ میں ہی نہیں آئے گا کہ مجھے وہاں کرنا کیا ہے۔ جب ملتان میں تھی ہاسٹل اور کالج کے علاوہ دوسری کوئی جگہ نہیں تھی میری زندگی میں۔ اب لاہور آگئی تو یہاں بھی پہلے یونیورسٹی اور گھر… اور اب گھر… مجھے ان کے علاوہ دوسری ساری جگہیں عجیب سی لگتی ہیں۔ مہینے میں ایک بار میں سعیدہ اماں کے گھر کے پاس ایک چھوٹی سی مارکیٹ میں ان کے ساتھ جاتی تھی، وہ میری واحد آؤٹنگ ہوتی تھی۔ وہاں ایک بک شاپ تھی۔ میں پورے مہینے کے لیے بکس لے لیتی تھی وہاں سے۔ کتاب کے ساتھ وقت گزارنا آسان ہوتا ہے۔”

وہ پتا نہیں اسے کیوں بتاتی گئی۔

”ہاں، وقت گزارنا آسان ہوتا ہے، زندگی گزارنا نہیں۔”

اس نے ایک بار پھر گردن موڑ کر اُسے دیکھا، وہ ڈرائیو کر رہا تھا۔

”مجھے فرق نہیں پڑتا سالار۔”

”مجھے فرق پڑتا ہے… اور بہت فرق پڑتا ہے۔” سالار نے بے اختیار اس کی بات کاٹی۔ ”میں ایک نارمل زندگی گزارنا چاہتا ہوں… جیسی کبھی تمہاری زندگی تھی۔ تم نہیں چاہتیں یہ سب کچھ ختم ہو جائے…؟” وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔

”ابنارمل لائف ہی سہی لیکن میں سیف ہوں۔”

سالار نے بے اختیار اس کے کندھوں پر اپنا بازو پھیلایا۔

”تم اب بھی سیف رہو گی…trust me… کچھ نہیں ہو گا… میری فیملی تمہیں protect کر سکتی ہے اور اگر تمہاری فیملی کو اب یہ پتا چلتا ہے کہ تم میری بیوی ہو تو اتنا آسان نہیں ہو گا اُن کے لیے تمہیں نقصان پہنچانا۔ ججو بھی ہونا ہے ، ایک بار گھل کر ہو جائے۔ تمہیں اس طرح چھپا کر رکھوں اور انہیں کسی طرح علم ہو جائے تو وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں ایسی صورت میں، میں پولیس کے پاس جا کر بھی کچھ نہیں کر سکوں گا۔ وہ صاف انکار کر دیں گے کہ تم نو سال سے غائب ہو اور وہ تمہارے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔” وہ خاموش رہی تھی۔

”کیا سوچ رہی ہو؟” سالار نے بولتے بولتے اس کی خاموشی نوٹس کی۔

”مجھے تمہارے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہیے تھی… کسی کے ساتھ بھی نہیں کرنا چاہیے تھی… میں نے اپنے ساتھ تمہیں بھی مصیبت میں ڈال دیا۔ یہ ٹھیک نہیں ہوا۔” وہ بے حد اپ سیٹ ہو گئی۔

”ہاں، اگر تم کسی اور کے ساتھ شادی کرتیں تو یہ واقعی unfairہوتا لیکن میری کوئی بات نہیں۔ میں نے تو خیر پہلے بھی تمہاری فیملی کی بہت گالیاں اور بددعائیں لی ہیں، اب بھی سہی۔” وہ بڑی لاپروائی سے کہہ رہا تھا۔

”تو پھر سیٹ بک کروا دوں تمہاری؟” وہ واقعی ڈھیٹ تھا۔ وہ چپ بیٹھی رہی۔

”کچھ نہیں ہو اگا امامہ …Mark my word۔” سالار نے اسٹیرنگ سے ایک ہاتھ اٹھا کر اس کے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے اسے تسلی دی۔

”تم کوئی ولی نہیں ہو۔” اس نے خفگی سے کہا۔

اس کے کندھوں سے بازو ہٹاتے ہوئے وہ بے اختیار ہنسا۔

”اچھا میں نے کب کہا کہ میں ولی ہوں۔ میں تو شاید انسان بھی نہیں ہوں۔”

اس کے اس جملے پر اس نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔ وہ اب ونڈ سکرین کے پار دیکھ رہی تھا۔

”کچھ نہیں ہوگا۔” اس نے اپنے چہرے پر امامہ کی نظریں محسوس کیں۔”ویسے ہی پاپا چاہتے ہیں ، ہم وہاں آئیں۔”

امامہ نے اس بار جواب میں کچھ نہیں کہا تھا۔

٭٭٭٭

اس شام سالار کو ڈاکٹر سبط علی اور ان کی بیوی کچھ سنجیدہ لگے تھے اور اس سنجیدگی کی کوئی وجہ اس کی سمجھ میں نہیں آئی۔ امامہ بھی کھانے کے دوران بالکل خاموش رہی تھی، لیکن اس نے اس کی خاموشی کو گاڑی میں ہونے والی گفت گو کا نتیجہ سمجھا۔

وہ لاؤنج میں بیٹھے چائے پر رہی تھے۔ جب ڈاکٹر سبط علی نے اس موضوع کو چھیڑا۔

”سالار ! امامہ کو کچھ شکایتیں ہیں آپ سے۔” وہ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے ٹھٹکا۔ یہ بات اگر ڈاکٹر سبط علی نے نہ کہی ہوتی تو وہ اسے مذاق سمجھا۔ اس نے کچھ حیرانی کے عالم میں ڈاکٹر سبط علی کو دیکھا، پھر اپنے برابر میں بیٹھے امامہ کو۔ وہ چائئے کا کپ اپنے گھٹنے پر رکھے چائے پر نظریں جمائے ہوئے تھی۔ اس کے ذہن میں پہلا خیال گاڑی میں ہونے والی گفت گو کا آیا لیکن امامہ نے کس وقت ڈاکٹر صاحب کو گاڑی میں ہونے والی گفت گو کے بارے میں بتایا تھا…؟ … وہ بے حد حیران ہوا۔

”جی…!” اس نے کپ واپس پرچ میں رکھ دیا۔

”امامہ آپ کے رویے سے ناخوش ہیں۔” ڈاکٹر سبط علی نے اگلا جملہ بولا۔

سالار کو لگا، اسے سننے میں کوئی غلی ہوئی ہے۔

”جی…” اس نے بے اختیار کہا۔” میں سمجھا نہیں۔”

”آپ امامہ پر طنز کرتے ہیں…؟” وہ پلکیں جھپکے بغیر ڈاکٹر سبط علی کو دیکھتا رہا۔ بہ مشکل سانس لے کر چند لمحوں بعد اس نے امامہ کو دیکھا۔

”یہ آپ سے امامہ نے کہ؟” اس نے اسے بے یقینی سے دیکھتے ہوئے ڈاکٹر سبطِ علی کہا۔

”ہاں، آپ اس سے ٹھیک بات نہیں کرتے۔”

سالار نے گردن موڑ کر ایک بار پھر امامہ کو دیکھا۔ وہ اب بھی نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔

”یہ بھی آپ سے امامہ نے کہا؟” اس کے تو جیسے چودہ طبق روشن ہو رہے تھے۔

ڈاکٹر سبط علی نے سر ہلایا۔ سالار نے بے اختیار اپنے ہونٹ کا ایک کونا کاٹتے ہوئے چائے کا کپ سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔ اس کا زاہن بری طرح چکرا گیا تھا۔ یہ اس کی زندگی کی سب سے پریشان کن صورت حال میں سے ایک تھی۔

امامہ نے چائے کے کپ سے اٹھتی بھاپ پر نظریں جمائے بے حد شرمندگی اور پچھتاوے کے عالم میں اس کو گلا صاف کرتے ہوئے، کہتے سنا۔ ”اور…؟”

جو کچھ ہو رہا تھا، یہ امامہ کی خواہش نہیں تھی، حماقت تھی، لیکن تیر کمان سے نکل چکا تھا۔

”اور یہ کہ آپ کہیں جاتے ہوئے اسے انفارم نہیں کرتے۔ پرسوں آپ جھگڑا کرنے کے بعد اسے سعیدہ بہن کی طرف چھوڑ گئے تھے۔” اس بار سالار نے پہلے کلثوم آنٹی کو دیکھا پھر ڈاکٹر سبط علی کو… پھر امامہ کو… اگر آسمان اس کے سپر گرتا تب اس کی یہ حالت نہ ہوتی جو اس وقت ہوئی تھی۔

”جھگڑا…؟ میرا تو کوئی جھگڑا نہیں ہوا۔” اس نے بہ مشکل اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے کہنا شروع کیا تھا۔ ”اور امامہ نے خود مجھ سے کہا تھا کہ وہ سعیدہ اماں کے گھر رہنا چاہتی ہے اور میں تو پچھلے چار دنوں سے کہیں۔” وہ بات کرتے کرتے رک گیا۔

اس نے امامہ کی سسکی سنی تھی۔ اس نے بے اختیار گردن موڑ کر امامہ کو دیکھا، وہ اپنی ناک رگڑ رہی تھی۔ کلثوم آنٹی اور ڈاکٹر صاحب بھی اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ سالار بات جاری نہیں رکھ سکا۔ کلثوم آنٹی اٹھ کر اس کے پاس آکر اسے دلاسا دینے لگیں۔ وہ ہکا بکا بیٹھا رہا۔ ڈاکٹر سبط علی نے ملازم کو پانی لانے کے لیے کہا۔

سالار کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا لیکن اس وقت وہاں اپنی صفائیاں دینے اور وضاحت کرنے کا موقع نہیں تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹھا اسے دیکھتا رہااور سوچتا رہا، وہ الو کا پٹھا ہے کیوںکہ پچھلے چار دن سے اس کی چھٹی حس جو سگنلز بار بار دے رہی تھی، وہ بالکل ٹھیک تھے۔ صرف اس نے خوش فہمی اور لاپروائی کا مظاہرہ کیا تھا۔

پانچ دس منٹ کے بعد سب کچھ نارمل ہو گیا۔ ڈاکٹر صاحب تقریباً آدھے گھنٹے تک سالار کو سمجھاتے رہے۔ وہ خاموشی سے سر ہلاتے ہوئے ان کی باتیں سنتا رہا۔ اس کے برابربیٹھی امامہ کو بے حد ندامت ہو رہی تھی۔ ا کے بعدسالار کا اکیلے میں سامنا کرنا کتنا مشکل تھا۔ یہ اس سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔

آدھے گھنٹے کے بعد وہ دونوں وہاں سے رخصت ہو کر گاڑی میں بیٹھ گئے۔ گاڑی ڈاکٹر سبط علی کے گھر کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی امامہ نے اسے کہتے سنا۔

”مجھے یقین نہیں آرہا۔ میں یقین نہیں کر سکتا۔”

اسے اس سے اسی رد عمل کی توقع تھی۔ وہ ونڈ اسکرین سے نظر آتی ہوئی سڑک پر نظریں جمائے بیٹھی اس وقت بے حد نروس ہو رہی تھی۔

”میں تم پر طنز کرتا ہوں… تم سے ٹھیک سے بات نہیں کرتا… تمہیں بتائے بغیر جاتا ہوں… تمہیں سعیدہ اماں کے گھر چھوڑ گیا تھا… جھگڑا کیا۔ تم نے ان لوگوں سے جھوٹ بولا؟”

امامہ نے بے اختیار اسے دیکھا۔ وہ جھوٹ کا لفظ استعمال نہ کرتا تو اسے اتنا برا نہ لگتا۔

”میں نے کوئی جھوٹ نہیں بولا۔” اس نے بے حد خفگی سے کہا۔

”میں تم پر طنز کرتا ہوں؟” سالار کی آواز میں تیزی آگئی۔

”تم نے اس رات میری اندھیرے میں سونے کی عادت کو ”عجیب” کہا۔” وہ بے یقینی سے اس کا منہ دیکھتا رہ گیا۔

”وہ طنز تھا؟ وہ تو بس ایسے ہی ایک بات تھی۔”

”مگر مجھے اچھی نہیں لگی۔” اس نے بے ساختہ کہا۔

”تم نے بھی تو جواباً میری روشنی میں سونے کی عادت کو عجوبہ کہا تھا۔” وہ اس بار چپ رہی۔ سالار واقعی بہت زیادہ ناراض ہو رہا تھا۔

”اور میں تم سے ٹھیک سے بات نہیں کرتا…؟” وہ اگلے الزام پر آیا۔

”مجھے لگا تھا۔” اس نے اس بار افعانہ انداز میں کہا۔

”لگا تھا…؟” وہ مزید خفا ہوا۔ ”تمہیں صرف ”لگا” اور تم نے سیدھا ڈاکٹر صاحب سے جا کر کہہ دیا۔”

”میں نے ان سے کچھ نہیں کہا، سعیدہ اماں نے سب کچھ کہا تھا۔” اس نے وضاحت کی۔

وہ چند لمحے صدمے کے مارے کچھ بول ہی نہیں سکا۔

”یعنی تم ان سے بھی یہ سب کچھ کہا ہے؟” وہ چپ رہی۔

وہ ہونٹ کانٹے لگا۔ اسے اب سعیدہ اماں کی اس رات کی بے رخی کی وجہ سمجھ میں آرہی تھی۔

”اور میں کہاں جاتا ہوں جس کے بارے میں نے تمہیں نہیں بتایا…؟” سالار کو یاد آیا۔

”تم سحری کے وقت مجھے بتا کر گئے؟” سالار اس کا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔

”امامہ! میں مسجد جاتا ہوں اس وقت فرقان کے ساتھ۔ اس کے بعد جم اور پھر واپس گھر آجاتا ہوں۔ اب میں مسجد بھی تمہیں بتا کر جایا کروں؟” وہ جھنجھلایا تھا۔

”مجھے کیا پتا تم اتنی صبح کہاں جاتے ہو…؟ مجھے تو اپ سیٹ ہونا ہی تھا۔” امامہ نے کہا۔

اس کی وضاحت پر وہ مزید تپ گیا۔

”تمہارا کیا خیال ہے کہ میں رمضان میں سحری کے وقت کہاں جا سکتا ہوں۔؟ کسی نائٹ کلب…؟ یا کسی گرل فرینڈ سے ملنے…؟ کوئی احمق بھی جان سکتا ہے کہ میں کہاں جا سکتا ہوں۔” وہ احمق کے لفظ پر بری طرح تلملائی۔

”ٹھیک ہے، میں واقعی احمق ہوں… بس۔”

اور سعیدہ اماں کے گھر میں رہنے کا تم نے کہا تھا… کہا تھانا… اور کون سا جھگڑا ہوا تھا تمہارا؟”

وہ خاموش رہی۔

”اتنے زیادہ جھولٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی تمہیں؟” وہ اس بار اس کی بات پر روہانسی ہو گئی۔

”بار بار مجھے جھوٹا مت کہو۔”

”امامہ! جو جھوٹ ہے، میں اسے جھوٹ ہی کہوں گا۔ تم نے ڈاکٹر صاحب کے سامنے مجھے منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔ کیا سوچ رہے ہوں گا وہ میرے بارے میں…؟” وہ واقعی بری طرح اپ سیٹ تھا۔

”اچھا اب یہ سب ختم کرو۔” اس نے امامہ کے گالوں پر یک دم بہنے والے آنسو دیکھ لیے تھے اور وہ بری طرح جھنجلایا تھا۔ ”ہم جس ایشو پر ”بات ” کر رہے ہیں امامہ! اس میں رونے دھونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔” وہ روتی رہی۔

”یہ ٹھیک نہیں ہے امامہ!… تم نے ڈاکٹر صاحب کے گھر بھی یہی کیا تھا میرے ساتھ۔”

اس کا غصہ ٹھنڈا پڑنے لگا تھا لیکن جھنجھلاہٹ بڑھ گئی تھی۔ جو کچھ بھی تھا، وہ اس کی شادی کا چوتھا دن تھا اور وہ ایک گھنٹے میں دوسری بار یوں زارو قطار رو رہی تھی۔ اس کی جگہ کوئی بھی لڑکی یوں رو رہی ہوتی تو وہ پریشان ہوتا، یہ تو خیر امامہ تھی۔ وہ بے اختیار نرم پڑا۔ اس کے کندھے پر اپنا بازو پھیلا کر اس نے جیسے اسے چپ کر کروانے کی کوشش کی۔ امامہ نے ڈیش بورڈ پر پڑے ٹشو باکس سے ایک ٹشو پیپر نکال کر اپنی سرخ ہوتی ہوئی ناک کو رگڑا اور سالار کی صلح کی کوششوں پر پانی پھیرتے ہوئے کہا۔

”میں اس لیے تم سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ مجھے پتا تھا، تم میرے ساتھ اسی طرح کا سلوک کرو گے۔” وہ اس کے جملے پر ایک لمحے کے لیے ساکت رہ گیا پھر اس نے اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔

”کیسا سلوک… تم وضاحت کرو گی؟” اس کے لہجے میں پھر خفگی اُتر آئی ”میںنے آخر کیا کیا ہے تمہارے ساتھ۔”

وہ ایک بار پھر ہچکیوں سے رونے لگی۔ سالار نے بے بسی سے اپنی آنکھیں بند کیں۔ وہ ڈرائیونگ نہ کر رہا ہوتا تو یقینا سر بھی پکڑ لیتا۔ باقی رستے دونوں میں کئی بھی بات نہیں ہوئی۔ کچھ دیر بعد وہ بالآخر چپ ہو گئی۔ سالار نے سکون کا سانس لیا۔

اپارٹمنٹ میں آکر بھی دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ وہ بیڈ روم میں جانے کے بجائے الاؤنج کے ایک صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔ سالار بیڈ روم میں چلا گیا۔ وہ کپڑے بدل کر بیڈ روم میں آیا، وہ تب بھی اندر نہیں آئی تھی۔ ”اچھا ہے، اسے بیٹھ کر اپنے رویے کے بارے میں کچھ دیر سونا چاہیے…” اس نے اپنے بیڈ پر لیٹتے ہوئے سوچا۔ وہ سونا چاہتا تھا اور اس نے بیڈ روم کی لائٹس آف نہیں کی تھیں لیکن نیند یک دم اس کی آنکھوں سے غائب ہو گئی تھی۔ اب ٹھیک ہے بندہ سوچے لیکن اتنا بھی کیا سوچنا۔ مزید پانچ منٹ گزرنے کے باوجود اس کے نمودار نہ ہونے پر وہ بے اختیار جھنجھلایا۔ دو منٹ مزید گزرنے کے بعد وہ بیڈ روم سے نکل آیا۔

وہ لاؤنج کے صوفے کے ایک کونے میں، دونوں پاؤں اوپر رکھ، کشن گود میں لیے بیٹھی تھی۔ سالار نے سکون کا سانس لیا۔ کم از کم وہ اس وقت رو نہیں رہی تھی۔ سالار کے لاؤنج میں آنے پر اس نے سر اٹھا کر بھی اسے نہیں دیکھا تھا۔ وہ بس اسی طرح کشن کو گود میں لیے اس کے دھاگے کھینچتی رہی۔ وہ اس کے پاس صوفے پر آکر بیٹھ گیا۔

کشن کو ایک طرف رکھتے ہوئے امامہ نے بے اختیار صوفے سے اٹھنے کی کوشش کی۔ سالار نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا۔

”یہی بیٹھو۔” اس نے تحکمانہ انداز میں اس سے کہا۔

اس نے ایک لمحے کے لیے بازو چھڑانے کا سوچا، پھر ارادہ بدل دیا۔ وہ دوبارہ بیٹھ گئی لیکن اس نے اپنے بازو سے سالار کا بازو ہٹا دیا۔

”میر اکوئی قصور نہیں ہے… لیکن آئی ایم سوری۔” اس نے مصالحت کی پہلی کوشش کا آغاز کیا۔

امامہ نے خفگی سے اسے دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں۔ وہ کچھ دیر اس کے بولنے کامنتظر رہا لیکن پھر اسے اندازہ ہو گیا کہ وہ فی الحال اس کی معذرت قبول کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

”تمہیں یہ کیوںلگا کہ تم سے ٹھیک بات نہیں کر رہا…؟ امامہ! میں تم سے بار کر رہا ہوں۔” اس نے اس کے خاموش رہنے پر کہا۔

”تم مجھے اگنور کرتے رہے۔” ایک لمحے توقف کے بعد اس بالآخر کہا۔

”اگنور؟” وہ بھونچکا رہ گیا۔ ”میں تمہیں… ” ”تمہیں” اگنور کرتا رہا… میں کر ”سکتا ” ہوں؟ ” اس نے بے یقینی سے کہا۔ امامہ نے اس سے نظریں نہیں ملائیں۔

”تم سوچ بھی کیسے سکتی ہو یہ…؟ تمہیں ”اگنور” کرنے کے لیے شادی کی تھی میں نے تم سے؟ تمہیں اگنور کرنے کے لیے اتنے سالوں سے خوار ہوتا پر رہا ہوں میں۔”

”لیکن تم کرتے رہے…” وہ اپنی بات پر مضر تھی۔ ”تم زبان سے ایک بات کہتے ہو لیکن تم…” وہ بات کرتے کرتے رکی۔ اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔ ”تمہاری زندگی میں میری کوئی… کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔”

”رکو مت ، کہتی رہو… میں جاننا چاہتا ہوں کہ میں ایسا کیا کر رہا ہوں جس سے تمہیں میرے بارے میں اتنی غلط فہمیاں ہو رہی ہیں۔” اس نے اس کی آنکھوں کی نمی کو نظر انداز کرتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے کہا۔

”میں نے تمہیں صبح مسجد جاتے ہوئے نہیں بتایا… آفس جاتے ہوئے بھی نہیں بتایا… اور؟” اس نے گفت گو شروع کرنے کے لیے اسے کیو دی۔

”تم نے مجھے یہ بھی نہیں بتایا کہ تم افطار پر دیر سے آؤ گے۔ تم چاہتے تو جلدی بھی آسکتے تھے۔” وہ رکی۔

”اور…؟” سالار نے کوئی وضاحت کیے بغیر کہا۔

”میں نے تمہارے کہنے کے مطابق تمہیں میسج کیا لیکن تم نے مجھے کال نہیں کی۔ اپنے پیرنٹس کو ریسیو کرنے یا چھوڑنے کے لیے تم مجھے بھی ایئر پورٹ لے جا سکتے تھے لیکن تم نے مجھ سے نہیں کہا۔ ٹھیک ہے، میں نے کہا تھا کہ مجھے سعیدہ اماں کے گھر چھوڑ دو لیکن تم نے ایک بار بھی مجھے ساتھ چلنے کے لیے نہیں کہا۔ میری کتنی بے عزتی ہوئی ان کے سامنے۔”

وہ بہتے آنسوؤں کے ساتھ کہہ رہی تھی۔

وہ پلک جھپکے بغیر یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا۔ پانی اب اس کی آنکھوں سے ہی نہیں، ناک سے بھی بہنے لگا تھا۔ وہ پوری دل جمعی سے رو رہی تھی۔ سالار نے سینٹر ٹیبل کے ٹشو باکس سے ایک ٹشو پیپر نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔ اس نے اس کا ہاتھ جھٹک کر خود ایک ٹشو پیپر نکال لیا۔ اس نے ناک رگڑی تھی، آنکھیں نہیں۔

”اور…؟” سالار نے بڑے تحمل کے ساتھ ایک بار پھر کہا۔

وہ کہنا چاہتی تھی کہ اس نے اسے شادی کا کوئی گفٹ تک نہیں دیا۔ اس کی ایک دکھتی رگ یہ بھی تھی، لیکن اس سے تحفے کا ذکر کرنا اسے اپنی توہین لگی۔ اس نے تحفے کا ذکر نہیں کیا۔ کچھ دیر وہ اپنی ناک رگڑتی، سسکیوں کے ساتھ روتی رہی۔ سالار نے بالآخر اس سے پوچھا۔

”بس یا ابھی کچھ اور بھی جرم ہیں میرے؟”

”مجھے پتا تھا کہ تم شادی کے بعد میرے…”

سالار نے اس کی بات کاٹ دی۔

”ساتھ یہی کرو گے… مجھے پتا ہے، تمہیں میرے بارے میں سب کچھ پہلے سے ہی پتا چل جاتا ہے۔” وہ اس کے جملے پر بری طرح چڑا تھا۔ ”اس کے باوجود اب تم مجھے کچھ کہنے کا موقع دو گی…؟” وہ چپ بیٹھی اپنی ناک رگڑتی رہی۔

”اگر میں شادی کے اگلے دن آفس سے جلدی آسکتا تو آجاتا، آج آیا ہوں نا جلدی۔”

”تم اپنے پیرنٹس کے لیے تو آگئے تھے۔” امامہ نے مداخلت کی۔

”اس دن میری پرزینٹیشن نہیں تھی اور میں نے تمہیں کال کی تھی۔ ایک بار نہیں، کئی بار… تم اپنا سیل فون دیکھو یا میں دکھاؤں۔” سالار نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا۔

”میرے میسج کرنے پر تو نہیں کی تھی نا؟”

”اس وقت میں میٹنگ میں تھا، میرا سیل میرے پاس نہیں تھا۔ بورڈ روم سے نکل کر پہلی کال میں نے تمہیں ہی کی تھی، ریسیو کرنا تو ایک طرف تم نے توجہ تک نہیں دی۔ میں نے سعیدہ اماں کے گھر بھی تمہیں کالز کیں، تم نے وہاں بھی یہی کیا، بلکہ سیل ہی آف کر دیا۔ تو مجھے بھی ناراض ہونا چاہیے تھا، مجھے کہنا چاہیے تھا کہ تم مجھے اگنور کر رہی ہو، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے سوچا تک نہیں اس چیز کے بارے میں۔” وہ اب اسے سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا۔

”تمہیں اپنے ساتھ ایرپورٹ لے کر جانا تو ممکن ہی نہیں تھا۔ ایر پورٹ ایک طرف ہے… بیچ میں میرا آفس ہے… اور دوسری طرف گھر… میں پہلے یہاں آتا… تمہیں لے کر پھر ایر پورٹ جاتا… دگنا ٹائم لگتا … اور تمہارے لیے انہیں ایر پورٹ جا کر ریسیو کرنا ضروری بھی نہیں تھا۔” وہ ایک لمحہ کے لیے رکا پھر بولا۔

”اب میں شکایت کروں تم سے؟”

امامہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔

”تم نے سعیدہ اماں کے گھر پر ٹھہرنے کا فیصلہ کیا، مجھ سے پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی۔” اس کی آنکھوں میں سیلاب کا ایک نیا ریلا آیا۔

”میرا خیال تھا، تم مجھے وہاں رہنے ہی نہیں دو گے، لیکن تم تو تنگ آئے ہوئے تھے مجھ سے۔ تم نے مجھے ایک بار بھی ساتھ چلنے کو نہیں کہا۔”

سالار نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔

”مجھے کیا پتا تھا۔ میں نے سوچا کہ تمہاری خواہش ہے، مجھے پوری کرنی چاہیے۔ چلو ٹھیک ہے، میری غلطی تھی۔ مجھے کہنا چاہیے تھا تمہیں چلنے کے لیے، لیکن کم از کم تمہیں مجھے خدا حافظ کہنے کے لیے باہر تک تو آتا چاہیے تھا۔ میں پندرہ منٹ صحن میں کھڑا انتظار کرتا رہا لیکن تم نے ایک لمحہ کے لیے بھی باہر آنے کی زحمت نہیں کی۔”

”میں ناراض تھی، اس لیے نہیں آئی۔”

”ناراضی میں بھی کوئی فارمیلٹی تو ہوتی ہے نا…؟” وہ خاموشی رہی۔

”تم نے فرقان کے حوالے سے ضد کی کہ مجھے وہاں نہیں جانا۔ خواہ مخواہ کی ضد تھی۔ مجھے برا لگا تھا لیکن میں نے تمہیں اپنی بات ماننے پر مجبور نہیں کیا۔” وہ ایک لمحہ کے لیے رکا۔ ”فرقان میرا سب سے زیادہ کلوز فرینڈ ہے۔ فرقان اور بھابھی نے ہمیشہ میرا بہت خیال رکھا ہے اور یہ میرے لیے قابل قبول نہیں ہے کہ میری وائف اس فیملی کی عزت نہ کرے۔”

اس کی آنکھوں میں امڈتے سیلاب کے ایک اور ریلے کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے کہا۔ امامہ نے اس بار کوئی وضاحت نہیں دی تھی۔

”میں نے تم سے یہ گلہ بھی نہیں کیا کہ تم نے میری پیرنٹس کو ایک دفعہ بھی کال کر کے یہ نہیں پوچھا کہ وہ ٹھیک سے پہنچ گئے یا ان کی فلائٹ ٹھیک رہی۔” وہ بڑے تحمل سے کہہ رہا تھا۔ وہ جزبز ہوئی۔

”میرے پاس ان کا نمبر نہیں ہے۔”

”تم مجھ سے لے لیتیں اگر تم واقعی ان سے بات کرنے میں انٹرسٹڈ ہوتیں۔ وہ تمہارے لیے یہاں آئے تھے تو تمہاری اتنی ذمہ داری تو بنتی تھی نا کہ تم ان کی فلائٹ کے بارے میں ان سے پوچھتیں یا ان کے جانے کے بعد ان سے بات کرتیں۔”

”تو تم مجھ سے کہہ دیتے۔ کیوں نہیں کہا…؟”

”میں نے اس لیے نہیں کہا کیوںکہ یہ میرے نزدیک کوئی ایشوز نہیں ہیں، یہ معمولی باتیں ہیں۔ یہ ایسے ایشوز نہیں ہیں کہ جن پر میں تم سے ناراض ہوتا پھروں یا جھگڑا کروں۔” وہ بول نہیں سکی۔

”لیکن تم نے یہ کیا کہ میرے خلاف کیس تیار کرتی رہیں… ہر چھوٹی بڑی بات دل میں رکھتی رہیں، مجھ سے کوئی شکایت نہیں کی… لیکن سعیدہ اماں کو سب کچھ بتایا… اور ڈاکٹر صاحب کو بھی… کسی دوسرے سے بات کرنے سے پہلے تمہیں مجھ سے بات کرنی چاہیے تھی… کرنی چاہیے تھی نا…؟”

اس کے آنسو تھمنے لگے۔ وہ اسے بڑے تحمل سے سمجھا رہا تھا۔

”اگر میں تمہاری بات نہ سنتا تو اور بات تھی۔ پھر تم کہتیں کسی سے بھی، مجھے اعتراض نہ ہوتا۔” وہ خاموش رہی۔ اس کی بات کچھ غلط بھی نہیں تھی۔

”تم سو نہ رہی ہوتیں تو میں یقینا تمہیں بتا کر ہی گھر نکلتا میں کہاں جا رہا ہوں لیکن ایک سوئے ہوئے بندے کو صرف یہ بتانے کے لیے اٹھاؤں کہ میں جا رہوں، یہ تو میں کبھی نہیں کر سکتا۔”

وہ کچھ بول نہ سکی۔

”اگنور…؟ میں حیران ہوں امامہ! کہ یہ خیال تمہارے دماغ میں کیسے آگیا۔ میں چار دن سے ساتویں آسمان پر ہوں اور تم کہہ رہی ہو، میں تمہیں اگنور کر رہا ہوں۔”

”لیکن تم نے ایک بھی میری تعریف نہیں کی۔” امامہ کو ایک اور ”خطا” یاد آئی۔

سالار نے چونک کر اسے دیکھا۔

”کس چیز کی تعریف؟” اس نے حیران ہو کر پوچھا۔ ”یہ ایک بے احمقانہ سوال تھا لیکن اس سوال نے امامہ کو شرمندہ کیا تھا۔

”اب یہ بھی میں بتاؤں؟” وہ بری طرح بگڑی تھی۔

”تمہاری خوب صورتی کی؟” سالار نے کچھ اُلجھ کر اندازہ لگایا۔ وہ مزید خفا ہوئی۔

”میں کب کہہ رہی ہوںخوب صورتی کی کرو۔ کسی بھی چیز کی تعریف کر دیتے، میرے کپڑوں کی کر دیتے۔”

اس نے کہہ تو دیا لیکن وہ یہ شکایت کرنے پر پچھتائی۔ سالار کے جوابی سوالوں نے اسے بری طرح شرمندہ کیا تھا۔ سالار نے ایک نظر اسے، پھر اس کے کپڑوں کو دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا اور بے اختیار ہنسا۔

”امامہ! تم مجھے اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنے کے لیے کہہ رہی ہو۔” اس نے ہنسے ہوئے کہا۔ یہ جیسے اس کے لیے مذاق تھا۔ وہ بری طرح جھنپ گئی۔

”مت کرو، میں کب کہا ہے۔”

”نہیں، یو آر رائٹ۔ میں نے واقعی ابھی تک تمہیں کسی بھی چیز کے لیے نہیں سراہا۔ مجھے کرنا چاہیے تھا۔” وہ یک دم سنجیدہ ہو گیا۔ اس نے امامہ کی شرمندگی محسوس کر لی تھی۔

اس کے کندھے پر بازو پھیلاتے ہوئے اس نے امامہ کو اپنے قریب کیا۔ا س بار امامہ نے اس کا ہاتھ نہیں جھٹکا تھا۔ اس کے آنسو اب تھم چکے تھے۔ سالار نے دوسرے ہاتھ سے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ وہ اس کے ہاتھ کو بڑی نرمی کے ساتھ سہلاتے ہوئے بولا۔

”ایسی شکایتیں وہاں ہوتی ہیں جہاں صرف چند دن کے ساتھ ہو لیکن جہاں زندگی بھر کی بات ہو، وہاں یہ سب کچھ بہت سیکنڈری ہو جاتا ہے۔” اسے اپنے ساتھ لگائے وہ بہت نرمی سے سمجھا رہا تھا۔

”تم سے شادی میرے لیے بہت معنی رکھتی ”تھی” اور معنی رکھتی ”ہے”… لیکن آئندہ بھی کچھ معنی رکھے ”گی” اس کا انحصار تم پر ہے۔ مجھ سے جو گلہ ہے اسے مجھ سے کرو، دوسروں سے نہیں۔ میں صرف تم کو جواب دہ ہوں امامہ! کسی اور کے سامنے نہیں۔” اس نے بے نپے تلے لفظوں میں اسے بہت کچھ سمجھانے کی کوشش کی تھی۔

”ہم کبھی دوست نہیں تھے لیکن دوستوں سے زیادہ بے تکلفی اور صاف گوئی رہی ہے ہمارے تعلق میں۔ شادی کا رشتہ اسے کمزور کیوں کر رہا ہے؟”

امامہ نے نظر اٹھا کر اس کے چہرے کودیکھا۔ اسے اس کی آنکھوں میں بھی وہی سنجیدگی جنظر آئی جو اس کے لفظوں میں تھی۔ اس نے ایک بار پھر سر جھکا لیا۔ ”وہ غلط نہیں کہہ رہا تھا” اس کے دل نے اعتراف کیا۔

”تم میری زندگی میں ہر شخص اور ہر چیز سے بہت زیادہ امپورٹینس رکھتی ہو۔” سالار نے اپنے لفظوں پر زور دیتے ہوئے کہا۔ ”لیکن یہ ایک جملہ میں تمہیں ہر روز نہیں کہہ پاؤں گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرے لئے تمہاری امپورٹنس کم ہو گئی ہے۔ میری زندگی میں تمہاری امپورٹنس اب میرے ہاتھ میں نہیں، تمہارے ہاتھ میں ہے۔ یہ تمہیں طے کرنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ تم اس امپورٹنس کو بڑھاؤ گی یا کم کر دو گی۔” اس کی بات سنتے ہوئے امامہ کی نظر اس کے اس ہاتھ کی پشت پر پڑی جس سے وہ اُس کا ہاتھ سہلا رہا تھا۔ اس کے ہاتھ کی پشت بے حد صاف ستھری تھی۔ ہاتھ کی پشت اور کلائی پر بال نہ ہونے کے برابر تھے۔ ہاتھ کی انگلیاں کسی مصور کی انگلیوں کی طرح لمبی اور عام مردوں کے ہاتھوں کی نسبت پتلی تھیں۔ اس کے ہاتھوں کی پشت پر سبز اور نیلی رگیں بہت نمایاں طور پر نظر آرہی تھیں۔ اس کی کلائی پر ریسٹ واچ کا ہلکا سا نشان تھا۔ وہ یقینا بہت باقاعدگی سے رسٹ واچ پہنا تھا۔ وہ آج پہلی بار اس کے ہاتھ کو اتنے غور سے دیکھ رہی تھی۔ اسے اس کے ہاتھ بہت اچھے لگے۔ اس کا دل کچھ اور موم ہوا۔

اس کی توجہ کہاں تھی، سالار کو اندازہ نہیں ہو سکا۔ وہ اسے اسی طرح سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا۔

”محبت یا شادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ دونوں پارٹنرز ایک دوسرے کو اپنے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں بند کر کے رکھنا شروع کردیں۔ اس سے رشتے مضبوط نہیں ہوتے، دم گھٹنے لگتا ہے۔ ایک دوسرے کو اسپیس دینا، ایک دوسرے کی انفرادی حیثیت کو تسلیم کرنا، ایک دوسرے کی آواز کے حق کا احترام کرنا بہت ضروری ہے۔ ”امامہ نے گردن موڑ کر اس کا چہرہ دیکھا، وہ اب بے حد سنجیدہ تھا۔

”ہم دونوں اگر صرف ایک دوسرے کے عیب اور کوتاہیاں ڈھونڈتے رہیں گے تو بہت جلد ہمارے دل سے ایک دوسرے کے لیے عزت اور لحاظت ختم ہو جائے گا۔ کسی رشتے کو کتنی بھی محبت سے باندھا گیا ہو، اگر عزت اور لحاظ چلا جائے تو محبت بھی چلی جائے… یہ دونوں چیزیں محبت کے گر کی چار دیواری ختم ہو جائے تو گھر کو بچانا مشکل ہو جاتا ہے۔”

امامہ نے بڑی حیرانی سے اسے دیکھا۔ وہ اس کی آنکھوں میں حیرانی دیکھ کر مسکرایا۔

”اچھی فلاسفی ہے نا؟”

امامہ کی آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ بیک وقت آئی تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

سالار نے اسے اپنے کچھ اور قریب کرتے ہوئے کہا۔

”میں اللہ کا پرفیکٹ بندہ نہیں ہوں تو تمہارا پرفیکٹ شوہر کیسے بن سکتا ہوں امامہ! شاید اللہ میری کوتاہیاں نظر انداز کردے، تو تم بھی معاف کر دیا کرو۔”

وہ حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی، وہ واقعی اس سالار سکندر سے ناواقف تھی۔ سالار نے بڑی نرمی کے ساتھ اس کی آنکھوں کے سوجے ہوئے پپوٹوں کو اپنی پوروں سے چھوا۔

”کیا حال کر لیا ہے تم نے اپنی آنکھوں کا…؟تمہیں مجھ پر ترس نہیں آتا؟”

وہ بڑی ملائمت سے کہہ رہا تھا۔

امامہ نے جواب دینے کے بجائے اس کے سینے پر سر رکھ دیا۔ وہ اب بے پُرسکون تھی۔ اس کے گرد اپنا ایک بازو حمائل کرتے ہوئے اور دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے اور گردن پر آئے ہوئے بالوں کو ہٹاتے ہوئے اس نے پہلی بار نوٹس کیا کہ وہ رونے کے بعد زیادہ اچھی لگتی ہے لیکن اس سے یہ بات کہنا، اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے والی بات تھی۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ وہ اس کے نائٹ ڈریس کی شرٹ پر بنے پیٹرن پر غیر محسوس انداز میں انگلیاں پھیر رہی تھی۔

”موو کلر اچھا لگتا ہے تم پر۔” اس نے بے حد رومانٹک انداز میں اس کے کپڑوں پر ایک نظر ڈالتے ہوئے کہا۔

اس کے سینے پر حرکت کرتا اس کا ہاتھ ایک دم رکا۔ امامہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ سالارنے اس کی آنکھوں خفگی دیکھی، وہ مسکرایا۔

”تعریف کر رہا ہوں تمہاری۔”

”یہ ٹی پنک ہے۔”

”اوہ! اچھا۔” سالار نے گڑ بڑا کر اس کے کپڑوں کو دوبارہ دیکھا۔

”یہ ٹی پنک ہے؟ میں نے اصل میں موو کلر بہت عرصے سے کسی کو پہنے نہیں دیکھا۔” سالار نے وضاحت کی۔

”کل موو پہنا ہوا تھا میں نے۔” امامہ کی آنکھوں کی خفگی بڑھی۔

”لیکن میں تو اسے پرپل سمجھا تھا۔” سالار مزید گڑبڑایا۔

”وہ جو سامنے دیوار پر پینٹنگ ہے نا، اس میں ہیں پرپل فلاورز۔” امامہ کچھ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی۔

سالار اس پینٹنگ کو گھورتے ہوئے اسے یہ نہیں بتا سکا کہ وہ ان فلاورز کو بلیو کلر کا کوئی شیڈ سمجھ کر لایا تھا۔ امامہ اب اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ سالار نے کچھ بے چارگی کے انداز میں گہرا سانس لیا۔

”میرا خیال ہے، اس شادی کو کامیابی کرنے کے لیے مجھے اپنی جیب میں ایک شیڈ کارڈز رکھنا پڑے گا۔” وہ پینٹنگ کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا تھا۔

٭٭٭٭

وہ پہلی صبح تھی جب اس کی آنکھ سالار سے پہلے کھلی تھی، الارم سیٹ ٹائم سے بھی دس منٹ پہلے۔ چند منٹ وہ اسی طرح بستر میں پڑی رہی۔ اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ رات کا کون سا پہر ہے۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑا الارم کلاک اٹھا کر اس نے ٹائم دیکھا پھر ساتھ ہی الارم آف کر دیا۔ بڑی احتیاط سے وہ اٹھ کر بستر میں بیٹھی۔ سائیڈ تیبل کا لیمپ بڑی احتیاط سے آن کرتے ہوئے اس نے سلیپرز ڈھونڈے، پھر اس نے کھڑے ہوتے ہوئے سائیڈ ٹیبل کا لیمپ آف کیا۔ تب اس نے سالار کی سائیڈ کے لیمپ کو آن ہوتے دیکھا۔ وہ کس وقت بیدار ہوا تھا، امامہ کو اندازہ نہیں ہوا تھا۔

”میں سمجھی تم سو رہے ہو۔” اس نے سالار کے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا۔

”میں ابھی اٹھا ہوں، کمرے میں آہٹ کی وجہ سے۔”

وہ اسی طرح لیٹے لیٹے اب اپنا سیل فون دیکھ رہا تھا۔

”لیکن میں نے تو کوئی آواز نہیں کی۔ میں تو کوشش کر رہی تھی کہ تم ڈسٹرب نہ ہو۔” امامہ کچھ حیران ہوئی تھی۔

”میری نیند زیادہ گہری نہیں ہے امامہ! کمرے میں ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی ہو تو میں جاگ جاتا ہوں۔” اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے سیل سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔

”میں آئندہ احتیاط کروں گی۔” اس نے کچھ معذرت خوانہ انداز میں کہا۔

”ضرورت نہیں، مجھے عادت ہے اسی طرح کی نیند کی۔ مجھے اب فرق نہیں پڑتا۔” اس نے بیڈ پر پڑا ایک اور تکیہ اٹھا کر اپنے سر کے نیچے رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ وہ واش روم میں جانے سے پہلے چند لمحے اسے دکھتی رہی۔ ہر انسان ایک کتاب کی طرح ہوتا ہے۔ کھلی کلتاب جسے کوئی بھی پڑھ سکت اہے۔ سالار بھی اس کے لیے ایک کھلی کتاب تھا لیکن چائنیز زبان میں لکھی ہوئی کتاب۔

اس دن اس نے اور سالار نے سحری اکٹھے کی اور ہر روز کی طرح سالار، فرقان کے ساتھ نہیں گیا۔ وہ شاید پچھلے کچھ دنوں کی شکایتوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امامہ کا موڈ رات کو ہی بہت اچھا ہو گیا تھا اور اس میں مزید بہتری اس کی اس ”توجہ” نے کی۔

مسجد میں جانے سے پہلے آج پہلی بار اس نے اسے مطلع کیا۔

”امامہ! تم میرا انتظار مت کرنا۔ نماز پڑھ کر سو جانا، میں کافی لیٹ آؤں گا۔”

اس نے جاتے ہوئے اسے تاکید کی لیکن وہ اس کی تاکید کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے انتظار میں بیٹھی رہی۔

وہ ساڑھے آٹھ بجے اس کے آفس جانے کے بعد سوئی تھی۔ دوبارہ اس کی آنکھ گیارہ بجے ڈور بیل کی آواز پر کھلی۔ نیند میں اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے، اس نے بیڈ روم سے باہر نکل کر اپارٹمنٹ کا داخلی دروازہ کھولا۔ چالیس، پینتالیس سالہ ایک عورت نے اسے بے حد پُرتجسس نظروں سے دیکھتے ہوئے سلام کیا۔

”مجھے نوشین باجی نے بھیجا ہے۔” اس نے اپنا تعارف کروایا۔

امامہ کو ایک دم یاد آیا کہ اس نے نوشین کو صفائی کے لیے ملازمہ کو کل کے بجائے اگلے دن بھیجنے کے لیے کہا تھا۔ وہ اسے راستہ دیتی ہوئی دروازے سے ہٹ گئی۔

”اتنی خوشی ہوئی جب نوشین باجی نے مجھے بتایا کہ سالار صاحب کی بیوی آگئی ہے۔ مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ کب شادی کر لی سالار صاحب نے۔ ” امامہ کے پیچھے اندر آتے ہوئے ملازمہ کی باتوں کا آغاز ہو گیا تھا۔

”کہاں سے صفائی شروع کرنی ہے تم نے؟”

”امامہ کی فوری طور پر سممجھ میں نہیں آیا کہ اسے صفائی کے بارے میں کیا ہدایات دے۔

”باجی! آپ فکر نہ کریں۔ میں کر لوں گی، آپ چاہے آرام سے سو جاؤ۔”ملازمہ نے اپنے فوری آفر کی۔ یہ شاید اس نے اس کی نیند سے بھری ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر کہا تھا۔

”نہیں، تم لاؤنج سے صفائی شروع کرو، میں ابھی آتی ہوں۔”

آفر بری نہیں تھی، اسے واقعی نیند آرہی تھی لیکن وہ … اس طرح اسے گھر میں کام کرتا چھوڑ کر سو نہیں سکتی تھی۔

واش روم میں آخر اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، کپڑے تبدیل کر کے بال سمیٹے اور لاؤنج میں نکل آئی۔ ملازمہ ڈسٹنگ میں مصروف تھی۔ لاؤنج کی کھرکیوں کے بلائنڈز اب ہٹے ہوئے تھے٠ سورج ابھی پوری طرح نہیں نکلا تھا لیکن اب ھند نہ ہونے کے برابر تھی۔ لاؤنج کی کھڑکیوں سے باہر پودے دیکھ کر اسے انہیں پانی دینے کا خیال آیا۔

ملازمہ ایک بار پھر گفتگو کا آغاز کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اسے بالکونی کی طرف جاتے دیکھ کر چپ ہو گئی۔

جب وہ پودوں کو پانی دے کر فارغ ہوئی تو ملازمی لاؤنج صاف کرنے کے بعد اب سالار کے اس کمرے میں جا چکی تھی جسے وہ اسٹڈی روم کی طرح استعمال کرتا تھا۔

”’سالار صاحب بڑے اچھے آدمی انسان ہیں۔”

تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں اپارٹمنٹ کی صفائی کرنے کے بعد امامہ نے اس سے چائے کا پوچھا تھا۔ چائے پیتے ہوئے ملازمہ نے ایک بار پھر اس سے باتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ امامہ اس کے تبصرے پر صرف مسکرا کر خاموش ہو گئی۔

”آپ بھی ان کی طرح بولتی نہیں ہیں؟” ملازمہ نے اس کے بارے میں اپنا پہلا اندازہ لگایا۔

”اچھا، سالار بھی نہیں بولتا۔” امامہ نے جان بوجھ کر اسے موضوع گفت گوبنایا۔

”کہاں جی۔ حمید بھی یہی کہتا ہے صاحب کے بارے میں۔”

ملازمہ نے شاید سالار کے ملازم کا نام لیا تھا۔

”لیکن باجی! بڑی حیا ہے آپ کے آدمی کی آنکھ میں۔”

اس نے ملازمہ کے جملے پر جیسے بے حد حیرنا ہو کر اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ ملازمہ بڑی سنجیدگی سے بات کر رہی تھی۔

”جیسے فرقان صاحب ہیں ویسی ہی عادت سالار صاحب کی ہے۔ فرقان صاحب تو خیر سے بال بچوں والے ہیں لیکن سالار صاحب تو اکیلے رہتے تھے ادھر۔ میں تو کبھی بھی اس طرح اکیلے مردوں والے گھروں میں صفائی نہ کروں۔ بڑی دنیا دیکھی ہے جی میں نے، لیکن یہاں کام کرتے ہوئے کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا صاحب نے مجھے۔ میں کئی بار سوچتی تھی کہ بڑے ہی نصیب والی عورت ہو گی، جو اس گھر میں آئے گی۔”

ملازمہ فراٹے سے بول رہی تھی۔

ہیٹر کے سامنے صوفے پر نیم دراز زمامہ اس کی باتیں سنتی کسی سوچ میں گم رہی۔ ملازمہ کو حیرت ہوئی تھی کہ باجی اپنے شوہر کی تعریف پر خوش کیوں نہیں ہوئی۔ ”باجی” کیا خوش ہوتی، کم از کم اسے اتنی توقع تو تھی اس سے کہ وہ گھر میں کام کرنے والی کسی عورت کے ساتھ بھی انوالو نہیں ہو سکتا۔ وہ مردوں کی کوئی بری ہی بد ترین قسم ہوتی ہو گی، جو گھر میں کام کرنے والی م لازمہ پر بھی نظر رکھتے ہوں گے اور سالار کم از کم اس قسم کے مردوں میں شمار نہیں ہو سکتا تھا۔

ملازمہ اس کی مسلسل خاموشی سے کچھ بے زار ہو کر جلدی چائے پی کر فارغ ہو گئی۔ امامہ اس کے پیچھے دروازہ بند کرنے گئی تو ملازمہ نے باہر نکلنے سے پہلے مڑ کر اس سے کہا۔

”باجی! کل ذرا جلدی آجاؤں آپ کے گھر؟”

امامہ ٹھٹک کر رک گئی۔ اس کے چہرے پر یقینا کوئی ایسا تاثر تھا جس نے ملازمہ کو کچھ بوکھلا دیا تھا۔

”باجی! مجھے چھوٹے بچے کو ہسپتال لے کر جانا ہے، اس لیے کہہ رہی تھی۔” اس نے جلدی سے کہا۔

”ہاں، ٹھیک ہے۔” امامہ نے بہ مشکل جیسے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا اور دروازہ بند کر دیا۔ کل جلدی آنے کے مطالبے نے اسے ساکت نہیں کیا تھا بلکہ اسے ساکت کیا تھا اس کے تین لفظوں نے… ”آپ کے گھر” یہ ”اس کا گھر ” تھا جس کے لیے وہ اتنی سالوں سے خوار ہوتی پھر رہی تھی۔ جس کی آس میں وہ کتنی بار جلال انصر کے پیچھے گڑ گڑانے گئی تھی۔ وہ بے یقینی سے لاؤنج میں آکر ان دیواروں کو دیکھ رہی تھی جنہیں دنیا ”اس کے گھر” کے نام سے شناخت کر رہی تھی، وہ واقعی اس کا گھر تھا۔ وہ پناہ گاہیں نہیں تھیں جہاں وہ اتنے سال سرجھکا کر ممنون و احسان مند بن کر رہی تھی۔ آنسوؤں کا ایک ریلا آیا تھا اس کی آنکھون میں… بعض اوقات انسان سمجھ نہیں پاتا کہ وہ روئے یا ہنسے… روئے ، تو کتنا روئے… ہنسے، تو کتنا ہنسے… وہ بھی کچھ ایسی ہی کسی کیفیت سے گزر رہی تھی۔ وہ بچوں کی طرح ہر کمرے کا دروازہ کھول کھول کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہی تھی۔ وہ جا سکتی تھی وہاں… جو چاہے کر سکتی تھی… یہ اس کا گھر تھا۔ یہاں کوئی جگہ اس کے لیے ”علاقہ غیر” نہیں جتھی۔ اسے بس اتنی سی دنیا ہی چاہیے تھی اپنے لیے… کوئی ایسی جگہ جہاں وہ استحقاق کے ساتھ رہ سکتی ہو… سالار یک دم جیسے کہیں پیچھے چلا گیا تھا۔ گھر کے معاملے میں عورت کے لیے ہر مرد پیچھے رہ جاتا ہے۔

سالار نے اسے دوبار وقفے وقفے سے سیل پر کال کی لیکن امامہ نے ریسیو نہیں کی… سالار نے تیسری بار پھر پی ٹی سی ایل پر کال کی، اس بار امامہ نے ریسیو کی لیکن اس کی آواز سنتے ہی سالار کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ رو رہی تھی۔ اسے اس کی آواز بھر آئی ہوئی لگی۔ وہ بہت پریشان ہوا۔

”کیا ہوا؟”

”کچھ نہیں۔”

وہ دوسری طرف جیسے اپنے آنسوؤں اور آواز پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔

”کیوں رو رہی ہو؟”

سالار کی واقعی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ رات ہر جھگڑے کا اختتام بے حد خوشگوار انداز میں ہوا تھا۔ وہ صبح دروازے تک مسکرا کر اسے رخصت کرنے آئی تھی۔ پھر اب… ؟ وہ اُلجھ رہا تھا۔

دوسری طرف امامہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے اپنے رونے کا کیا جواز پیش کرے۔ اس سے یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ اس لیے رو رہی ہے کہ کسی نے اسے ”گھر والی” کہا ہے۔ سالار یہ بات نہیں سمجھ سکتا تھا… کوئی بھی مرد نہیں سمجھ سکتا۔

”مجھے امی اور ابو یاد آرہے رہیں۔” سالار نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔

یہ وجہ سمجھ میں آتی تھی… وہ یک دم پر سکون ہوا۔ ادھر وہ بالکل خاموش تھی۔ ماں باپ کا ذکر کیا تھا، جھوٹ بولا تھا لیکن اب رونے کی جیسے ایک اور وجہ مل گئی تھی۔ جو آنسو پہلے تھم رہے تھے، وہ ایک بار پھر سے برسنے لگے تھے۔ کچھ دیر وہ چپ چاپ فون پر اس کی سسکیاں اور ہچکیاںسنتا رہا۔

وہ اس غیر ملکی بینک میں انویسٹمنٹ بینکنگ کو ہیڈ کرتا تھا۔ چھوٹے سے چھوٹا انویسٹمنٹ scam پکڑ سکتا تھا، خسارے میں جاتی بڑی سے بڑی کمپنی کے لیے بیل آؤٹ پلان تیار کر سکتا تھا۔ کمپنیز کے مرجر پیکجز تیار کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ وہ پوائنٹ دن پر سنٹ کر پریسیشن کے ساتھ ورلڈ اسٹاک مارکیٹیں کے ٹرینڈز کی پیش بینی کر سکتاتھا۔ مشکل سے مشکل سرمایہ کار کے ساتھ سودا طے کرنے میں اسے ملکہ حاصل تھا لیکن شادی کے اس ایک ہفتے کے دوران ہی اسے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ امامہ کو روتے ہوئے چپ نہیں کرا سکتا، نہ وہ ان آنسوؤں کی وجہ ڈھونڈ سکتا تھا، نہ انہیں روکنے کے طریقے اسے آتے تھے۔ وہ کم از کم اس میدان میں بالکل اناڑی تھا۔

”ملازمہ نے گھر صاف کیا تھا آج؟” ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے امامہ کی توجہ رونے سے ہٹانے جکے لیے جس موضوع اور جملے کا انتخاب کیا وہ احمقانہ تھا۔ امامہ کو جیسے یقین نہیں آیا کلہ یہ باتنے پر کہ اسے اپنے ماں باپ یاد آرہے ہیں، سالار نے اس سے یہ پوچھا ہے۔ پچھلی رات کے سالار کے سارے لیکچرز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس نے ریسیور کریڈل پر پٹک دیا اور فون منقطع ہوتے ہی سالار کو اپنے الفاظ کے غلط انتخاب کا احساس ہو گیا تھا۔ اپنے سیل کی تاریک اسکرین کو دیکھتے ہوئے اس نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔

اگلے پانچ منٹ وہ سیل ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔ اسے پتا تھا اس نے اب کال کی تو وہ ریسیو نہیں کرے گی۔ پانچ منٹ کے بعد اس نے دوبارہ کال کی۔ خلاف توقع امامہ نے کال ریسیو کی۔ اس بار اس کی آواز میں خفگی تھی لیکن وہ بھرائی ہوئی نہیں تھی۔ وہ یقینا رونا بند کر چکی تھی۔

”آئی ایم سوری!؟” سالار نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔

امامہ نے جواب نہیں دیا۔ وہ اُس وقت اس کی معذرت نہیں سن رہی تھی۔ وہ صرف ایک ہی بات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تگھی، اسے سالار پر غصہ کیوں آجاتا تھا…؟ یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر… اتنے سالوں میں جس ایک احساس کو وہ مکمل طور پر بھول گئی تھی، وہ غصے کا احساس ہی تھا۔ یہ احساس اس کے لیے اجنبی ہو چکا تھا۔ اتنے سالوں سے اس نے اللہ کے علاوہ کسی سے بھی کوئی گلہ، کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ کسی سے ناراض ہونا یا کسی کو خفگی دکھانا تو بہت دور کی بات ہے، پھر اب یہ احساس اس کے اندر کیوں جاگ اٹھا تھا۔ سعیدہ اماں، ڈاکٹر سبط علی اور ان کی فیملی… اس کے کلاس فیلوز… کولیگز… ان میں سے کبھی کسی پر اسے غصہ نہیں آیا تھا۔ ہاں، کبھی کبھار شکایت ہوتی تھی لیکن وہ شکایت کبھی لفظوں کی شکل اختیار نہیں کر سکی، پھر اب کیا ہو رہا تھا اسے؟

”امامہ پلیز بولو… کچھ کہو۔” وہ چونکی۔

”نماز کا وقت نکل رہا ہے، مجھے نماز پڑھنی ہے۔” اس نے اسی الجھے ہوئے انداز میں اس سے کہا۔

”تم خفا نہیں ہو؟” سالار نے اس سے پوچھا۔

”نہیں۔” اس نے مدھم آواز میں کہا۔

وہ نماز کے بعد دیر تک اسی ایک سوال کا جواب ڈھونڈتی رہی اور اسے جواب مل گیا… نو سال میں اس نے پہلی بار اپنے لیے کسی کی زبان سے محبت کا اظہار سنا تھا۔ وہ احسان کرنے والوں کے ہجوم میں تھی، پہلی بار کسی محبت کرنے والے کے حصار میں آئی تھی۔ گلہ، شکوہ، ناز، نخرا، غصہ، خفگی یہ سب کیسے نہ ہوتا، اسے ”پتا” تھا کہ جب وہ روٹھے گی تو وہ اسے منا لے گا، خفا ہو گی تو وہ اسے وضاحتیں دے گا، مان تھا یا گمان… لیکن جو کچھ بھی تھا، غلط نہیں تھا۔ اتنے سالوں میں جو کچھ اس کے اندر جمع ہو گیا تھا، وہ کسی لاوے کی طرح نکل رہا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ نارمل ہو رہی تھی۔

قسط نمبر 8۔۔۔۔۔

شام کو سالار اسے خوش گوار موڈ میں دیکھ کر حیران ہو ا تھا۔ یہ خلاف توقع تھا، خاص طور پر دوپہر والے واقعہ کے بعد… لیکن… اس رات وہ اسے ڈنر کے لیے باہر لے گیا۔ وہ بے حد نروس تھی لیکن بے حد ایکسائیٹڈ بھی… وہ کتنے سالوں کے بعد یوں کسی ریسٹورنٹ کے اوپن ایئر حصہ میںبیٹھی باربی کیو کھا رہی تھی۔

کھانے کے بعد وہ دونوں ونڈو شاپنگ کی نیت سے مارکیٹ چلے آئے… سالار نے بڑی نرمی اور توجہ سے اسے خود کو سنبھلانے کا موقع دیا تھا۔ وہ اس سے ہلکی پھلکی باتیں کرتا رہا کھانا ختم کرنے تک وہ نارمل ہو چکی تھی۔

عید کی خریداری کی وجہ سے مارکیٹ میں اس وقت بھی بڑی گہما گہمی تھی۔ وہ بہت عرصہ کے بعد وہاں آئی تھی، مارکیٹ کی شکل ہی بدل چکی تھی۔ وہ بے حد حیرت سے ان نیو برائڈز اور دوکانوں کو دیکھتے ہوئے گزر رہی تھی جو آٹھ نو سال پہلے وہاں نہیں تھیں۔ ڈاکٹر سبط علی کی بیٹیاں یا سعیدہ اماں کے بیٹے اپنی فیملیز کے ساتھ جب بھی آؤٹنگ کے لیے باہر نکلتے، وہ اسے بھی ساتھ لے جانے کی کوشش کرتے، لیکن ان کے ساتھ باہر نہ جانے کا فیصلہ اس کا اپنا ہوتا تھا۔ وہ ان میں سے کسی کے لیے مزید کسی مصیبت کا باعتھا۔

یں بننا چاہتی تھی۔ شادی کو وہ صرف رہنے کی جگہ کی تبدیلی سمجھ رہی تھی، حالات کی تبدیلی کے بارے میں اس نے کبھی نہیں سوچا تھا… لیکن معجزات ہوتے ہیں… شازو نادر سہی لیکن ہوتے ضرور ہیں۔

”کچھ لو گی؟” سالار کی آواز پر وہ بے اختیار چونکی۔

”ہاں… کافی۔” اس نے جھجک کر کہا۔

”میں شاپنگ کی بات کر رہاتھا۔” اس نے کہا۔

”نہیں، میرے پاس سب کچھ ہے۔” امامہ نے مسکرا کر کہا۔

”وہ تو اب میرے پاس بھی ہے۔” اس کے چہرے پر بے اختیار سرخی دوڑی تھی۔

”تمہیں میری تعریف اچھی لگی…؟”

”سالار! بازآؤ، میں نے تمہیں یہاں تعریف کرنے کو کہا تھا؟” وہ بے ساختہ جھینپی۔

”تم نے جگہ نہیں بتائی تھی، صرف یہ کہا تھا کہ مجھے تمہاری تعریف کرنی چاہیے۔” وہ اسے چھیڑتے ہوئے محظوظ ہو رہا تھا۔

امامہ نے اس بار گردن موڑ کر اسے نظر انداز کیا۔ اس کے ساتھ چلتے چلتے ایک شو کیس میں ڈسپلے پر لگی ایک ساڑھی دیکھ کر وہ بے ساختہ رکی۔ کچھ دیر ستائشی نظروں سے اسے کا ہی رنگ کی ساڑھی کو دیکھتی رہی۔ـ وہاں شوکیس میں لگی یہی وہ شے تھی، جس کے سامنے وہ یوں ٹھٹک کر رک گئی تھی۔ سالار نے ایک نظر اس ساڑھی کو دیکھا پھر اس کے چہرے کو اور بڑی سہولت کے ساتھ کہا۔

مجھے لگتا ہے، یہ ساڑھی تم پر بہت اچھی لگے گی، آؤ لیتے ہیں۔” وہ گلاس ڈور کھولتے ہوئے بولا۔

”نہیں، میرے پاس بہت سے فینسی کپڑے ہیں۔” امامہ نے اس کے بازو پر ہاتھ رکھتے کر اسے روکا۔

”لیکن میں نے تو کچھ نہیں دیا تمہیں شادی پر، اس لیے کچھ دینا چاہتا ہوں۔”

وہ اس بار بول نہیں سکی۔ وہ ساڑھی اسے واقعی بہت اچھی لگی تھی۔

اس بوتیک سے انہوں نے صرف وہ ساڑھی ہی نہیں خریدی بلکہ چند اور سوٹ بھی لیے تھے۔ دوسری بوتیک سے گھر میں پہننے کے لیے کچھ ریڈی میڈ ملبوسات، کچھ سویٹر زاور جوتے۔

”مجھے پتا ہے، تمہارے پاس کپڑے ہیں لیکن تم میرے خریدے ہوئے پہنو گی تو مجھے زیادہ اچھا لے گا۔ یہ سب میں اپنی خوشی کے لیے کر رہا ہوں، تمہیں خوش کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔”

اس کے پہلے اعتراض پر سالار نے بے حد رسانیت سے کہا تھا۔

امامہ نے اس کے بعد اعتراض نہیں کیا۔ اسے کچھ جھجک تھی لیکن تھوڑی دیر میں یہ جھجک بھی ختم ہو گئی۔ پھر اس نے ساری چیزیں اپنی پسند سے لی تھیں۔

”مجھے تم پر ہر چیز اچھی لگتی ہے۔ سو تم مجھ سے مت پوچھو۔” اس نے سالار کی پسند پوچھی تو وہ مسکراتے ہوئے بولا۔

”لاؤنج کی کھڑکیوں پر curtainsلگا لیں۔” امامہ کو یاد آیا۔

”بلائنڈ سے کیا ایشوہے تمہیں؟” وہ چونکا۔

”کوئی نہیں لیکن مجھے curtains اچھے لگتے ہیں۔ خوب صورت ہے۔”

”کیوں نہیں… ” سالار نے اپنی دلی تاثر چھپاتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ وہ اس سے کہہ نہیں سکا کہ اسے پردوں سے چڑ تھی۔

رات پونے بارہ بجے ایک کیفے میں کافی اور tiramisu کھانے کے بعد وہ تقریباً ساڑھے بارہ بجے گھر واپس آئے۔ لاہور تب تک ایک بار پھر دھند میں ڈوب چکا تھا لیکن زندگی کے راستے سے دھند چھٹنے لگی تھی۔

گھر آنے کے بعد بھی وہ بے مقصد ان چیزوں کو کھول کر صوفے پر بیٹھ گئی۔ کتنے سالوں بعد وہ ملنے والی کسی چیز کو تشکر اور احسان مندی کے بوجھ کے ساتھ نہیں بلکہ استحقاق کے احساس کے ساتھ دیکھ رہی تھی۔

عورت کے لیے بہت ساری نعمتوں میں سے ایک نعمت اس کے شوہر کا اس کی ذات پر پیسہ خرچ کرنا بھی ہے اور یہ نعمت کیوں تھا، وہ اسے آج سمجھ پائی تھی۔

ڈاکٹر سبط علی اور ان کی بیوی ہر سیزن کے آغاز میں اسے کپڑے اور دوسری چیزیں خرید کر دیتے تھے۔ سعیدہ اماں بھی اس کے لیے کچھ نہ کچھ لاتی رہتی تھیں۔ ان کے بیٹے اور ڈاکٹر سبط علی کی بیٹیاں بھی اسے کچھ نہ کچھ بھیجتی رہتی تھیں لیکن ان میں سے کسی چیز کو ہاتھ میں لیتے ہوئے اس نے ایسی خوشی یا سکون محسوس نہیں کیا تھا۔ وہ خیرات نہیں تھی لیکن وہ حق بھی نہیں تھا، وہ احسان تھا اور وہ اتنے سالوں میں بھی اپنے وجود کو احسانوں کا عادی نہیں بنا سکی تھی۔ بے شک وہ اس کی زندگی کا حصہ ضرور بن گئے تھے۔

یہ کیسا احساس تھا جو ان چیزوں کو گود میں لیے اسے ہو رہا تھا۔ خوشی؟ آزادی؟ اطمینان؟ سکون…؟ یا کوئی ایسی شے تھی جس کے لیے اس کے پاس لفظ نہیں تھے۔

”کیا دیکھ رہی ہو تم؟”

سالار کپڑے تبدیل کر واش روم سے نکال تھا اور ڈریسنگ روم کی لائٹ آف کر کے کمرے میں آٹے ہوئے اس نے امامہ کو اسی طرح صوفے پر وہ ساری چیزیں پھیلائے بیٹھے دیکھا۔ وہ حیران سا ہوا۔ وہ جب سے آئی تھی، اس وقت سے ان چیزوں کو لے کر بیٹھی ہوئی تھی۔

”کچھ بھی نہیں میں بس رکھنے ہی لگی تھی۔” امامہ نے ان چیزوں کو سمیٹنا شروع کر دیا۔

”ایک وارڈ روب میں نے خالی کر دی ہے، تم اپنے کپڑے اس میں رکھ لو۔ اگر کچھ اور جگہ کی ضرورت ہو تو گیسٹ روم کی ایک وارڈ روب بھی خالی ہے… تم اسے استعمال کر سکتی ہو۔”

وہ اپنے کمرے سے کچھ ڈھونڈتا ہوا اس سے کہہ رہا تھا۔

”مجھے سعیدہ اماں کے گھر سے اپنا سامان لانا ہے۔” امامہ نے ساری چیزوں کو دوبارہ ڈبوں اور بیگز میں ڈالتے ہوئے کہا۔

”کیسا سامان؟” وہ ابھی تک دراز میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔

”میرے جہیز کا سامان۔ ” امامہ نے بڑی رسانیت سے کہا۔

”مثلاً؟” وہ دراز سے نکالے گئے کچھ پیپرز دیکھتے ہوئے چونکا۔

”برتن ہیں، الیکٹرونکس کی چیزیں ہیں۔ فرنیچر بھی ہے لیکن وہ شو روم پر ہے اور بھی کچھ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں۔”

وہ ان پیپرز کو دراز میں رکھ کر اس کی بات سنتا رہا۔

”تمہارے ذاتی استعمال کی کوئی چیز ہے وہاں…؟” اس نے پوچھا۔

”وہ سب میری ذاتی چیزیں ہیں۔” اس نے بے ساختہ کہا۔

”وہ جہیز کا سامان ہے۔” سالار نے اسے جتانے والے انداز میں کہا۔

”اب تم کہو گے، تمہیں جہیز نہیں چاہیے۔” وہ کچھ جزبز ہو کر بولی۔

”مجھے کسی بھی قسم کا سامان نہیں چاہیے۔” سالار نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ ”تمہیں لگتا ہے اس اپارٹمنٹ میں پہلے ہی کسی چیز کی کمی ہے… ؟ … تم چاہتی ہو، یہاں ہر چیز دو، دو کی تعداد میں ہو۔ رکھیں گے کہاں؟” وہ پوچھ رہا تھا۔ امامہ سوچ میں پڑ گئی۔

”اتنے سالوں سے چیزیں میں خریدتی رہی ہوں اپنے لیے، لیکن زیادہ سامان ابو کے پیسوں سے آیا ہے۔ وہ ناراض ہوں گے۔” وہ اب بھی تیار نہیں تھی۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنی تینوں بیٹیوں کو جہیز دیا؟”وہ اب پوچھ رہا تھا۔ ”نہیں دیا نا؟”

”تمہیں کیسے پتا؟” وہ چند لمحے بول نہیں سکی۔

”انہوں نے ہمیں خود بتایا تھا۔” اس نے کہا۔

”ان کی تینوں بیٹیوں کی شادیاں فیملی میں ہوئی ہیں اس لیے۔” امامہ نے کہا۔

”ٹرسٹ می… میں بھی جہیز لے کر نہ آنے پر تم سے برا سلوک نہیں کروں گا۔ یہ ڈاکٹر صاحب کا تحفہ ہوتا تو میں ضرور رکھتا لیکن یہ انہوںنے تمہاری سیکیورٹی کے لیے دیا تھا، کیوںکہ تمہاری شادی کسی ایسی فیملی میں ہو رہی تھی جن کے بارے میں وہ مکمل طور پر نہیں جانتے تھے لیکن میرے بارے میں تو وہ بھی جانتے ہیں اور تم بھی۔” سالار نے اس سے کہا۔

”میرے برتن، بیڈ شیٹس اور کپڑے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی کتنی چیزیں ہیں جو میں اتن سالوں سے جمع کر رہی ہوں۔ اب کیسے دے دوں یہ سب کچھ؟” وہ ناخوش تھی۔

”اوکے، جو چیز تم نے اپنی پے سے لی ہے، وہ لے آؤ، باقی چھوڑ دو سب کچھ۔ وہ کسی خیراتی ادارے کو دے دیں گے۔” سالار نے ایک اور حل نکالا۔وہ اس بار کچھ سوچنے لگی۔

”میں صبح آفس جاتے ہوئے تمہیں سعیدہ اماں کی طرف چھوڑ دوں گا اور آفس سے آج ذرا جلدی آجاؤں گا۔ تمہاری پیکنگ بھی کروا دوں گا۔”

وہ ہاتھ میں کچھ پیپرز لیے ہوئے اس کی طرف آیا۔ صوفے پر اس کے پاس پڑی چیزوں کو ایک طرف کرتے ہوئے وہ اس کے پاس بیٹھ گیا۔

”یہ جس جگہ پر کراس کا نشان ہے، اس پر اپنے سائن کر دو۔”

اس نے کچھ پیپرز اس کی طرف بڑھاتے ہوئے ایک پین اسے تھمایا۔

”یہ کیا ہے؟” اس نے کچھ حیران ہو کر ان پیپرز کو دیکھا۔

”میں اپنے بینک میں تمہارا اکاؤنٹ کھلوا رہا ہوں۔”

”لیکن میرا اکاؤنٹ تو پہلے ہے کھلا ہوا ہے۔”

”چلو، ایک اکاؤنٹ میرے بینک میں بھی سہی۔ برے نہیں ہیں ہم، اچھی سروس دیتے ہیں۔” اس نے مذاق کیا۔ امامہ نے پیپرز پر سائن کرنا شروع کر دیا۔

”پھر وہ اکاؤنٹ بند کر دوں؟” امامہ نے سائن کرنے کے بعد کہا۔

”نہیں، اسے رہنے دو۔” سالار نے پیپرز اس سے لیتے ہوئے کہا۔

”تمہیں اکاؤنٹ کھولنے کے لیے کتنی رقم کا چیک دوں؟”

امامہ کا خیال تھا کہ وہ غیر ملکی بینک ہے۔ یقینا اکاؤنٹ کھولنے کے لیے ملکی بینک کی نسبت کچھ زیادہ رقم کی ضرورت ہو گی۔

”تمہارا حق مہر پے کرنا ہے مجھے، اسی رقم سے کھول دوں گا۔”

سالار نے پیپرز ایک لفافے میں رکھتے ہوئے اس سے کہا۔

”اس پر ایک فکر لکھو۔”

امامہ نے حیرانی سے اس پر رائٹنگ پیڈ کو دیکھا جو اس نے اس کی طرف بڑھایا تھا۔ ”کیسی فگر؟” وہ الجھی۔

”کوئی بھی فگر، اپنی مرضی کے کچھ digits…” سالار نے کہا۔

”کیوں؟” وہ مزید الجھی۔

سالار نے اس کے ہاتھ میں پین تھمایا۔ اس نے دوبارہ پین پکڑ تو لیا لیکن ذہن مکمل طو رپر خالی تھا۔

”کتنے digits کا فگر۔” امامہ نے چند لمحے بعد اس کی مدد چاہی۔

”وہ یک دم سوچ میں پڑ گیا” پھر اس نے کہا۔

”اگر تم اپنی مرضی سے کوئی فگر لکھو گی تو کتنےdigits لکھو گی…؟”

”Seven digits…” امامہ سوچ میں پڑ گئی۔

”Alright… لکھو پھر۔” سالار کے چہرے پر بے اختیار مسکراہٹ آئی۔

امامہ چند لمحے اس صاف کاغذ کو دیکھتی رہی پھر اس نے لکھنا شروع کیا۔ 3752960۔ اس نے رائٹنگ پیڈ سالار کی طرف بڑھا دیا۔ کاغذ پر نظر ڈالتے ہی وہ چند لمحوں کے لیے جیسے سکتہ میں آیا پھر کاغذ کو پیڈ سے الگ کرتے ہوئے بے اختیار ہنسا۔

”کیا ہوا؟”وہ اس کے رد عمل سے کچھ اور الجھی۔

”کچھ نہیں… کیا ہونا تھا؟” کاغذ کو تہہ کرتے ہوئے اس نے امامہ کے چہرے کو مسکراتے ہوئے بے حد گہری لیکن عجیب نظروں سے دیکھا۔

”اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو مجھے؟” وہ اس کی نظروں سے الجھی۔

”تمہارا شوہر ہوں، دیکھ سکتا ہوں تمہیں۔”

امامہ کو احساس نہیں ہوا، وہ بڑی صفائی سے بات بدل رہا تھا۔ اس سے بات کرتے ہوئے وہ غیر محسوس انداز میں کاغذ پر اس لفافے میں ڈال چکا تھا۔

”تم نے مجھے ساڑھی پہن کر نہیں دکھائی؟”

”رات کے اس وقت میں تمہیں ساڑھی پہن کر دکھاؤں؟” وہ بے اختیار ہنسی۔

وہ اس کے پاس سے اٹھتے اٹھتے رک گیا۔ وہ پہلی بار اس طرح کھلکھلا کر ہنسی تھی یا پھر شاید وہ اتنے قریب سے پہلی بار اسے ہنستے دیکھ رہا تھا۔ ایک بیگ کے اندر ڈبے رکھتے ہوئے امامہ نے اپنے چہرے پر اس کی نظریں محسوس کیں۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا، وہ واقعی اسے دیکھ رہا تھا۔

”اب کیا ہے؟”

”میں ایک بات سوچ رہا تھا۔” وہ سنجیدہ تھا۔

”کیا؟”

”کہ تم صرف روتے ہوئے ہی نہیں ہنستے ہوئے بھی اچھی لگتی ہو۔”

اس کی آنکھوں میں پہلے حیرت آئی، پھر چمک اور پھر خوشی۔ سالار نے ہر تاثر کو پہچانا تھا یوں جیسے کسی نے اسے فلیش کارڈز کھائے ہوں… پھر اس نے اسے نظریں چراتے ہوئے دیکھا… پھر اس کے چہرے کا رنگ بدلتے دیکھا… پہلے اس کا کان کی لوئیں سرخ ہوئیں پھر اس کے گال، ناک… اور شاید اس کی گردن بھی… اس نے زندگی میں کبھی کسی عورت یا مرد کو اتنے واضح طور پر رنگ بدلتے نہیں دیکھا تھا جس طرح اسے… نو سال پہلے بھی دو تین بار اس نے اسے غصے میں اسی طرح سرخ ہوتے دیکھا تھا۔ اس کے لیے عجیب سہی لیکن یہ منظر دل چسپ تھا… اور اب وہ اسے محضوض ہوتے ہوئے بھی اسی انداز میں سرخ ہوتے دیکھ رہا تھا، یہ منظر اس سے زیادہ دل چسپ تھا۔ ”یہ کسی بھی مرد کو پاگل کر سکتی ہے۔” اس کے چہرے پر نظریں جمائے اس نے اعتراف کیا، اس نے اپنی زندگی میں آنے والی کسی عورت کو اتنے ”بے ضرر” جملے پر اتنا شرماتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اور اس کو شکایت تھی کہ وہ اس کی تعریف نہیں کرتا۔ سالار کا دل چاہا، وہ اسے کچھ اور چھیڑے۔ وہ بہ ظاہر بے حد سنجیدگی سے اسے نظر انداز کیے ہوئے چیزیں بیگ میں ڈال رہی تھی لیکن اس کے ہاتھوں میں ہلکی سی لرزش تھی۔ وہ اس کی نظروں سے یقینا کنفیوز ہو رہی تھی۔

کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ انہیں گھر میں لانے کے بعد آپ کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ انہیں کہاں رکھیں، کیوںکہ آپ انہیں جہاں بھی رکھتے ہیں، اس چیز کے سامنے وہ جگہ بے حد بے مایہ سی لگتی ہے۔ کچھ چیزیں جیسی ہوتی ہیں، جنہیں گھر میں لانے کے بعد انہیں جہاں بھی رکھیں، وہی جگہ سب سے انمول اور قیمتی ہو جاتی ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا، امامہ اس کے لیے ان چیزوں میں سے کون سی چیز تھی۔ اس کے چہرے کو دیکھتا وہ کچھ بے اختیار ہو کر اس کی طرف جھکا اور اس نے بڑی نرمی کے ساتھ اس کے دائیں گال کو چھوا، وہ کچھ حیا سے سمٹی۔ اس نے اسی نرمی کے ساتھ اس کا دایاں کندھا چوما اور پھر امامہ نے اسے ایک گہرا سانس لے کر اٹھتے ہوئے دیکھا۔ وہ وہیں بیٹھی رہی، سالار نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ ان پیپرز کو اب اپنی بیڈ سائیڈ ٹیبل کی دراز میں رکھ رہا تھا۔ پلٹ کر دیکھتا تو شاید امامہ کی نظریں اسے حیران کر دیتیں۔ اس نے پہلی بار اس کے کندھے کو چوما تھا اور اس لمس میں محبت نہیں تھی… ”احترام” تھا… اور کیوں تھا، یہ وہ سمجھ نہیں سکی۔

٭٭٭٭

وہ اگلے دن تقریباً دس بجے سعیدہ اماں کے گھر آئے۔ امامہ کا مسکراتا، مطمئن چہرہ دیکھ کر فوری ردعمل یہ ہوا کہ انہوں نے نہ صرف سالار کے سلام کا جواب دیا بلکہ اس کے سر پر پیار دیتے ہوئے اس کا ماتھا بھی چوما۔

”یہ سب لے کر جانا ہے۔” وہ اسے اپنے کمرے میں لائی تھی وہاں کتابوں کی دو الماریاں تھیں اور ان میں تقریباً تین چار سو کتابیں تھیں۔

”یہ بکس؟” سالار نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا۔

”نہیں، یہ ایزل، کینوس اور پیٹنگ کا سامان بھی۔” امامہ نے کمرے میں ایک دیوار کے ساتھ پڑے پینٹنگ کے سامان اور کچھ ادھوری پینٹنگز کی طرف اشارہ کیا۔

”یہ سب کچھ زیادہ نہیں ہے، بکس ہی تقریباً دو کارٹن میں آئیں گی۔”

سالار نے ان کتابوں کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا۔

”نہیں، یہ اتنی ہی بکس نہیں ہیں اور بھی ہیں۔” امامہ نے کہا۔

اس نے اپنا دوپٹا اتار کر بیڈ پر رکھ دیا اور پھر گھٹنوں کے بل کارپٹ پر بیٹھتے ہوئے بیڈ کے نیچے سے ایک کلر ٹن کھینچنا شروع کیا۔

”ٹھہرو! میں نکالتا ہوں۔ ”سالار نے اسے روکا اور خود جھک کر اس کارٹن کو کھینچنے لگا۔

”بیڈ کے نیچے جتنے بھی ڈبے ہیں، وہ سارے نکال لو۔ ان سب میں بکس ہیں۔” امامہ نے اسے ہدایت دی۔

سالار نے جھک کر بیڈ کے نیچے دیکھا۔ وہاں مختلف سائز کے کم از کم سات آٹھ ڈبے موجود تھے۔ وہ ایک کے بعد ایک ڈبا نکالتا گیا۔

”بس…؟” اس نے کھڑے ہوتے ہوئے اور ہاتھ جھاڑتے ہوئے امامہ سے پوچھا۔

وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھی۔ وہ کمرے میں موجود کپڑوں کی الماری کے اوپر ایک اسٹول پر چڑھی کچھ ڈبے اتارنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سالار نے ایک بار پھر اسے ہٹا کر خود وہ ڈبے نیچے اتارے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ کتابوں کی آخری کھیپ ہے کیوںکہ کمرے میں اسے ڈبا رکھنے کی کوئی اور جگہ نظر نہیں آئی، یہ اس کی غلط فہمی تھی۔ وہ اب الماری کو کھولے اس کے اندر موجود جایک خانے سے کتابیں نکال کر بیڈ پر رکھ رہی تھی۔ وہ کم از کم سو کتابیں تھیں جو اس نے الماری سے نکالی تھی، وہ کھڑا دیکھتا رہا۔ الماری کے بعد بیڈ سائیڈ ٹیبلز کی درازوں کی باری تھی، ان میں بھی کتابیں تھیں۔ بیڈ سائیڈ ٹیبلز کے بعد ڈریسنگ ٹیبل کی درازوں اور خانوں کی باری تھی۔ کمرے میں موجود کپڑے کی جس باسکٹ کو وہ لانڈری باسکٹ سمجھا تھا، وہ بھی کتابیں اسٹور کرنے کے لیے استعمال ہو رہی تھی۔

وہ کمرے کے وسط میں کھڑا، اسے کمرے کی مختلف جگہوں سے کتابیں برآمد کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ بیڈ پر موجود کتابوں کا ڈھیر اب شیلف پر لگی کتابوں سے بھی زیادہ ہو چکا تھا لیکن وہ اب بھی بڑی شدومد کے ساتھ کمرے کی مختلف جگہوں پر رکھی ہوئی کتابیں نکال رہی تھی۔ اس نے ان کھڑکیوں کے پردے ہٹائے جو صحن میں کھلتی تھیں۔ اس کے بعد سالار نے اسے باری باری ساری کھڑکیاں کھول کر ان میں سے بھی کتابیں نکالتے ہوئے دیکھا۔ جو پلاسٹک کے شاپر ز مین بند تھیں۔ شاید یہ احتیاط کتابوں کو مٹی اور نمی سے بچانے کے لیے کی گئی تھی۔

”بس اتنی ہی کتابیں ہیں۔” اس نے بالآخر سالار کو مطلع کیا۔

سالار نے کمرے میں چاروں طرف بکھرے ڈبوں اور ڈبل بیڈ پر پڑی کتابوں کے ڈھیر پر ایک نظر ڈالتے ہوئے بڑے تحمل سے پوچھا۔

”کوئی اور سامان بھی ہے…؟”

”ہاں! میرے کچھ کینوس اور پینٹنگز بھی ہیں، میں لے کرآتی ہوں۔”

وہ اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر کمرے سے نکل گئی۔

سالار نے ڈبل بیڈ پر پڑی کتابوں کے ڈھیر سے ایک کتاب اٹھائی١ وہ ایک ناول تھا۔ گھٹیا رومانس لکھنے والے ایک بہت ہی مشہور امریکن رائٹر کا ناول… اس نے ٹائٹل پر نظر ڈالی اور بے اختیار اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی۔ اگر وہ ناول کا نام امامہ کے سامنے لیتا تو وہ سرخ ہو جاتی۔ اس نے ناول کھولا۔ کتاب کے اندر پہلے ہی خالی صفحے پر امامہ نے اپنا نام لکھا تھا۔ جس تاریخ کو وہ کتاب خریدی گئی، وہ تاریخ… جس جگہ سے خریدی گئی وہ جگہ… جس تاریخ کو کتاب پڑھنا شروع کیا اور جس تاریخ کو کتاب ختم کی۔ وہ حیران ہوا، اس طرح کے ناول کو وہ فضول سمجھتا تھا۔ وہ شاید یہ کبھی پسند نہیں کرتا کہ اس رائٹر کے کسی ناول کو کوئی اس کے ہاتھ میں د یکھا مگر اس نے اس ناول پر اتنی سنجیدگی سے اپنا نام اور ڈیٹس لکھی ہوئی تھیں جیسے وہ بے حد اہم کتاب ہو۔ اس نے ناول کے چنداور صفحے پلٹے اور پھر کچھ بے یقینی کے عالم میں پلٹتا ہی چلا گیا۔ ناول کے اندر جگہ جگہ رنگین مارکرز کے ساتھ مختلف لائنز ہائی لائٹ کی گئی تھیں۔ بعض لائنز کے سامنے اسٹار اور بعض کے سامنے ڈبل اسٹار بنائے گئے تھے۔

وہ بے اختیار ایک گہرا سا سانس لے کر رہ گیا۔

ان لائنز میں بے ہودہ رومانس، بے حد platonic،سوپی باتیں، ذو معنی ڈائیلاگز تھے۔ ان پر اسٹار بنے ہوئے تھے اور وہ نشان زدہ تھے۔

سالار نے وہ ناول رکھتے ہوئے دوسرا ناول اٹھایا… پھر تیسرا… پھر چوتھا… پانچواں… چھٹا… ساتواں… وہ سب کے سب رومانٹک تھے۔ ایک ہی طرح کے رومانٹک ناولز اور وہ سب بھی اسی طرح ہائی لائیٹڈ تھے۔ وہ زندگی میں پہلی بار رومانٹک اور وہ بھی ملز اینڈ بونز اور باربرا کارٹ لینڈ کی ٹائپ کے رومانس کے اتنے ”سنجیدہ قاری” سے مل رہا تھا اور کتابوں کے اس ڈھیر کو دیکھتے ہوئے اس پر یہ انکشاف بھی ہوا کہ وہ ”کتابیں” نہیں پڑھتی تھی بلکہ صرف یہی ناولز پڑھتی تھی۔ کمرے میں موجود ان ڈیڑھ دو ہزار کتابوں میں اسے صرف چند پینٹنگز ، ککری اور شاعری کی کتابیں نظر آئی تھیں، باقی سب انگلش ناولز تھے۔

”اور یہ لے کر جانی ہیں۔” ایک ناول دیکھتے ہوئے وہ امامہ کی آواز پر بے اختیار چونکا۔

وہ کمرے میں دو تین چکروں کے دوران کچھ مکمل اور کچھ ادھوری پینٹنگز کا ایک چھوٹا سا ڈھیر بھی بناچکتی تھی۔ سالار اس دوران ان کتابوں کے جائزے میں مصروف رہا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ناول واپس کتابوں کے اس ڈھیر پر رکھ دیا جو بیڈ پر پڑا تھا۔ کارپٹ پر پڑی ان پینٹنگز پر نظر ڈالتے ہوئے سالار کو احساس ہوا کہ سعیدہ اماں کے گھر میں جا بجا لگی ہوئی پینٹنگز بھی اس کے ہاتھ کی بنی ہوئی ہیں اور یقینا ان پینٹنگز کے کسی دیوار پر لٹکانہ ہونے کا سبب مزید خالی جگہ کا دستیاب نہ ہونا تھا۔

”بیٹا! یہ سارا کاٹھ کباڑ کیوں اکٹھا کر لیا، یہ لے کر جاؤ گی ساتھ؟”

سعیدہ اماں کمرے میں آتے ہی کمرے کی حالت دیکھ کر چونکیں۔

”اماں! یہ ضروری چیزیں ہیں میری۔”

امامہ، سالار کے سامنے اس سامان کو کاٹھ کباڑ قرار دیے جانے پر کچھ جزبز ہوئی۔

”کیا ضروری ہے ان میں، یہ کتابیں تو ردی میں دے دیتیں۔ اتنا ڈھیر لگا لیا ہے اور تصویریں وہیں رہنے دیں، جہاں پڑی تھیں۔ چھوٹا سا گھر ہے تم لوگوں کا، وہاں کہاں پور ا آئے گا یہ سب کچھ۔” سعیدہ اماں کتابوں کے اس ڈھیر کو دیکھ کر متوحش ہو رہی تھیں۔ یقینا انہوں نے بھی امامہ کی ساری کتابوں کو پہلی بار اکٹھا دیکھا تھا اور یہ ان کے لئے کوئی خوش گوار نظارہ نہیں تھا۔

”نہیں، آجائے گا پورا، یہ سب کچھ۔ تین بیڈ رومز ہیں، ان میں سے ایک کو استعمال کریں گے۔ یہ سامان رکھنے کے لیے، لیکن دوسری چیزوں کو یہیں رکھنا پڑے گا۔ کمبل، کوئلٹس، رگز اور کشنز وغیرہ کو۔” وہ ایک سیکنڈ میں تیار ہو گئی تھی۔

”لیکن بیٹا! یہ سارا سامان تو کام کا ہے۔ گھر سجانا اس سے… یہ کتابوں کے ڈھیر اور تصویروں کا کیا کرو گی تم؟ ” سعیدہ اماں اب بھی معترض تھیں۔

”کوئی بات نہیں، ان کی کتابیں ضروری ہیں۔ ابھی کچھ اور کارٹن یا شاپرز ہیں جنہیں پیک کرنا ہے۔” سالار نے اپنے سوئیٹر کی آستینوںکو موڑتے ہوئے آخری جملہ امامہ سے کہا۔

تین بجے کے قریب وہ سارا سامان کے گھر پر گیسٹ روم میں بکھرا ہوا تھا۔ فرقان نے اس دن بھی انہیں افطاری کے لیے اپنی طرف مدعو کیا ہوا تھا لیکن سالار نے معذرت کر لی۔ فی الحال اس سامان کو ٹھکانے لگانا زیادہ اہم تھا۔

ایک اسٹور میں سالار نے کچھ عرصے پہلے ایلومینیم اور شیشے کے ریکس والی کچھ الماریاں دیکھی تھیں۔ یہ اتفاق ہی تھا کہ وہاں لگایا ہوا چکر بے کار نہیں گیا۔ چھ فٹ اونچی اور تین فٹ چوڑی ایک ہی طرح کی تین الماریوں نے گیسٹ روم کی ایک پوری دیوار کو کور کر کے یک دم اسے اسٹڈی روم کی شکل دے دی تھی لیکن امامہ کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ ان تین الماریوں میں اس کی تقریباً ساری کتابیں سما گئی تھیں۔ ان کتابوں کو اتنے سالوں میں پہلی بار کوئی ڈھنگ کی جگہ نصیب ہوئی تھی۔ اس کے ایزیل اور ریکس، لانڈری کی دیوار پر بنی ریکس پر سمیٹے گئے تھے۔

وہ جہیز کے سامان میں برتنوں اور بیڈ شیٹس کے علاوہ اور کچھ نہیں لائی تھی، تب اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس کی قسمت میں اس سامان میں سے صرف ان ہی دو چیزوں کا استعمال لکھا تھا۔

سالار کا کچن ایریا اب پہلی بار ایک آباد جگہ کا نظارہ پیش کر رہا تھا۔ برتنوں کے لیے بنے ریکس کے شیشوں سے نظر آتی نئی کراکری اور کاؤنٹر کی سلیب پر کچن کے استعمال کی چھوٹی موٹی نئی چیزوں نے کچن کی شکل کو بالکل بدل کر رکھ دیا تھا۔

وہ لوگ رات کے دس بجے جب فارغ ہوئے تو اپارٹمنٹ میں آنے والا نیا سامان سمیٹا جا چکا تھا۔ اس کے لیے فرقان کے گھر سے کھانا آیا تھا لیکن اس رات امامہ نے اسے بڑے اہتمام کے ساتھ نئی کراکری سرو کیا تھا۔

”اچھا لگ رہا ہے نا ایسے؟” امامہ نے چمکتی آنکھوں کے ساھ اس سے پوچھا۔ سالار نے اپنے سامنے موجود نئی برانڈ ڈنر پلیٹ اور اس کے اطراف میں لگی چمکتی ہوئی کٹلری کو دیکھا اور پھر کانٹا اٹھا کر اسے بغور دیکھتے ہوئے بے حد سنجیدگی سے کہا۔

”ہاں، ایسا لگ رہا ہے جیسے ہم کسی ریسٹورنٹ کی اوپننگ والے دن سب سے پہلے اور اکلوتے کسٹمر ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے امامہ! کہ یہ کراکری اور کٹلری اتنی نئی ہے کہ اس میں کھانا کھانے کو دل نہیں چاہ رہا … میں پرانے برتنوں میں نہیں کھا سکتا …؟”

امامہ کا موڈ بری طرح آف ہوا۔ کم از کم یہ وہ جملہ نہیں تھا جو وہ اس موقع پر اس سے سننا چاہتی تھی۔

”لیکن یہ بہت خوب صورت ہیں۔” سالار نے فوراً اپنی غلطی کی تصحیح کی تھی۔ اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ فی الحال وہ مذاق کو سراہنے کے موڈ میں نہیں تھی۔ امامہ کے تاثرات میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اپنی پلیٹ میں چاول نکالتے ہوئے سالار نے کہا۔ ”کھانے کے بعد کہیں کافی پینے چلیں گے۔” اس بار اس کے چہرے پر کچھ نرمی آئی۔

”کچن کا سامان لینا ہے۔” اس نے فوراً کہا۔

وہ چاول کا چمچ منہ میں ڈالتے رک گیا۔ ”ابھی بھی کوئی سامان لینا باقی ہے؟” وہ حیران ہوا۔

”گرو سری چاہیے۔”

”کیسی گرو سری…؟ کچن میں سب کچھ تو ہے۔”

”آٹا، چاول، دالیں، مسالے کیا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔” امامہ نے جواباً پوچھا۔

”ان کو میں نے کیا کرنا ہے؟ میں نے کبھی کھانا نہیں پکایا۔” سالار نے کندھے اچکا کر لاپروائی سے کہا۔

”لیکن میں تو پکاؤں گی نا… ہمیشہ تو دوسروں کے گھر سے نہیں کھا سکتے ہم۔” امامہ نے سنجیددگی سے کہا۔

”جارز اور کنٹینرز بھی چاہیں۔” امامہ کو یاد آیا۔

”فی الحال آج میرا اس طرح کی خریداری کرنے کا موڈ نہیں ہے… مجھے تھکن محسوس ہو رہی ہے۔” سالار کراہا۔

”اچھا، ٹھیک ہے، کل خرید لیں گے۔” امامہ نے کہا۔

اس رات وہ کافی کے لیے قریبی مارکیٹ تک ہی گئے تھے۔ گاڑی فورٹریس کے گرد گھماتے ہوئے انہوں نے وہی گاڑی میں بیٹھے ہوئے کافی پی۔

”شکر ہے، کتابوں کو تو جگہ مل گئی۔”

سالار کافی پیتے ہو ئے چونکا۔ وہ کھڑکی سے باہر دور شاپس کو دیکھتے ہوئے بڑبڑائی تھی۔ اس کے لاشعور میں اب بھی کہیں وہ کتابیں ہی اٹکی ہوئی تھیں۔

”وہ کتابیں نہیں ہے۔” سالار نے سنجیدگی سے کہا۔

کافی کا گھونٹ بھرتے اس نے چونک کر سالار کو دیکھا۔

”پچانوے فیصد ناولز ہیں… وہ بھی چیپ رومانس… پانچ دس میں سمجھ سکتا ہوں… چلو اتنے سالوں میں سو دو سو بھی ہو سکتے ہیں… لیکن ڈیڑھ دو ہزار اس طرح کے ناولز…؟ تمہارا کتناstamina ہے اس طرح کی ربش پڑھنے کے لیے اور تم نے باقاعدہ مارک کر کے پڑھا ہے ان ناولز کو۔ میرا خیال ہے، پاکستان میں چیپ رومانس کی سب سے بڑی کلیکشن اس وقت میرے گھر میں ہے۔”

وہ کاموش رہی۔ کافی پیتے کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی۔

سالار کچھ دیر اس کی طرف سے کسی ردِ عمل کا انتظار کرتا رہا، پھر اس کی لمبی خاموشی پر اسے خدشہ ہوا کہ کہیں وہ بر انہ مان گئی ہو۔ اپان بایاں بازو اس کے کندھوں پر پھیلاتے ہوئے اس نے جیسے خاموش معذرت پیش کی۔

”ٹھیک ہے، چیپ رومانس ہے، لیکن اچھا لگتا ہے مجھے یہ سب کچھ۔” وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کچھ دیر بولی۔

”وہاں لوگ ہمیشہ مل جاتے ہیں… کوئی کسی سے بچھڑتا نہیں ہے… میرے لیے ونڈر لینڈ ہے یہ۔” وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے جیسے کہیں اور پہنچی ہوئی تھی۔

وہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتا اور اسے سنتا رہا۔

”جب اپنی زندگی میں کچھ بھی اچھا نہ ہو رہا ہو تو کسی ایسی دنیا میں جانا اچھا لگتا ہے، جہاں سب کچھ پرفیکٹ ہو۔ وہاں وہ کچھ ہو رہا ہو، جو آپ چاہتے ہیں… وہ مل رہا ہو، جو آپ سوچتے ہیں… جھوٹ ہے یہ سب کچھ لیکن کوئی بات نہیں، اس سے میری زندگی کی کڑواہٹ تھوری کم ہوتی تھی… جب میں جاب نہیں کرتی تھی تب زیادہ پڑھتی تھی ناولز۔ کبھی کبھار، سارا دن اور ساری رات… جب میں یہ ناولز پڑھتی تھی تو مجھے کوئی بھی یاد نہیں آتا تھا۔ امی ابو، بہن بھائی، بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے بھانجیاں… کوئی نہیں… ورنہ بہت مشکل تھا سارا دن یا رات کو سونے سے پہلے اپنی فیملی کے علاوہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچنا، اپنی زندگی کے علاوہ کسی اور کے بارے میں پریشان ہونا، میں خوف ناک خواب دیکھتی تھی اور پھر میں نے ان ناولز کے ذریعے خوابوں کی ایک دنیا بسا لی۔ میں ناول کھولتی تھی اور یک دم زندگی بدل جاتی تھی۔ میری فیملی ہوتی تھی اس میں… میں ہوتی تھی… جلال ہوتا تھا۔”

سالار کافی کا گھونٹ نہیں لے سکا۔ اس کے لبوں پر اس وقت اس ”شخص” کا نام سن کر کتنی اذیت ہوئی تھی اسے… نہیں، اذیت بہت ہی چھوٹا سا لفظ ہے۔ ایسی تکلیف انسان کو شاید مرتے وقت ہوتی ہو گی۔ ہاں، اگر یہ ناولز اس کی ”کامل دنیا” اور اس کا ونڈرلینڈ تھے تو اس میں جلال انصر ہی ہوتا ہو گا، سالار سکندر نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ اس کے ساتھ مذہباً اور قانوناً ایک رشتے میں بندھی تھی، دل کے رشتے میں کہاں بندھی تھی۔ دل کے رشتے میں تو شاید ابھی تک… اور وہ تو ماضی تھا جہاں جلال انصر کے سوا کوئی دوسرا نہیں تھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے وہ رنجیدگی سے سوچ رہا تھا اور امامہ کو بولتے ہوئے شاید احساس بھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے جلال کا نام لیا اور کسی پیرائے میں لیا تھا، احساس ہوتا تو وہ ضرور اٹکتی یا کم از کم ایک بار سالار کے چہرہ ضرور دیکھ لیتی۔ وہ ابھی بھی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔ ابھی بھی کہیں ”اور” تھی۔ ابھی بھی ”کسی” کا صبر آزما رہی تھی۔

”اچھا لگتا تھا مجھے اس دنیا میں رہنا۔ وہاں اُمید تھی… روشنی تھی… انتظار تھا لیکن لاحاصل نہیں، تکلفی تھی مگر ابدی نہیں، آنسو تھے مگر کوئی پونچھ دیتا تھا اور واہد کتابیں تھیں جن میں امامہ ہاشم ہوتی تھی، آمنہ نہیں۔ ہر بار ان کتابوں پر اپنا نام لکھتے ہوئے میں جیسے خود کو یاد دلاتی تھی کہ میں کون ہوں۔ دوبارہ کتاب کھلونے پر جیسے کتاب مجھے بتاتی تھی کہ میں کون ہوں۔ وہ مجھے میرے پرانے نام سے بلاتی تھی۔ اس نام سے، جس سے اتنے سالوں میں مجھے کوئی اور نہیں بلاتا تھا۔ تاریکی میں بعض دفعہ اتنی روشنی بھی بہت ہوتی ہے جس سے انسان بے شک اپنے آپ کو نہ دیکھ پائے لیکن اپنا وجود محسوس کرنے کے تو قابل ہو جائے ۔”

اس کی آواز اب بھیگنے لگی تھی۔ وہ خاموش ہو گئی۔ دونوں کے ہاتھ میں پکڑے کپوں میں کافی ٹھنڈی ہو گئی تھی اور وہ اسے اب پینا بھی نہیں چاہتے تھے۔ وہ اب ڈیش بورڈ پر پڑے ٹشو باکس سے ٹشو پیپر نکال کر اپنی آنکھیں خشک کر رہی تھی۔ سالار نے کچھ کہے بغیر اس کے ہاتھ سے کافی کا کپ لے لیا۔ ایک ڈمپسٹر میں دونوں کپ پھینکنے کے بعد وہ دوبارہ گاڑی میں آکر بیٹھا اور گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے اس نے امامہ سے پوچھا۔

”اور کافی چاہیے تمہیں؟”

”نہیں۔” واپسی کا راستہ غیر معمولی خاموشی میں طے ہوا تھا۔

٭٭٭٭

”مجھے آفس کا کچھ کام ہے تم سو جاؤ۔” وہ کپڑے تبدیل کر کے سونے کے بجائے کمرے سے نکل گیا۔

”میں انتظار کروں گی۔” امامہ نے اس سے کہا۔

”نہیں، مجھے ذرا دیر ہو جائے گی۔” اس نے امامہ کے ہاتھ میں پکڑے ناول کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا جو وہ رات کو پڑھنے کے لیے لے کر آئی تھی۔

اسے واقعی آفس کے کچھ کام نمٹانے تھے، مگر اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھے ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ آخری کام جو وہ آج کرنا چاہتا تھا، وہ یہ تھا۔ کچھ دیر وہ لیپ ٹاپ آن کیے اپنی ٹیبل پر بیٹھا رہا، پھر یک دم اٹھ کر گیسٹ روم میں آگیا۔ لائٹ آن کرتے ہی کتابوں سے بھری ہوئی سامنے دیوار کے ساتھ لگی الماریاں اس کی نظروں کے سامنے آگئیں۔ اس نے کتابوں کو وہاں کچھ گھنٹے پہلے ہی رکھا تھا، بڑی احتیاط اور نفاست کے ساتھ۔ مصنف کے نام کے اعتبار سے ان کی مختلف ریکس پر گروپنگ کی تھی… تب تک وہ اس کے لیے صرف ”امامہ کی کتابیں” تھیں لیکن اب وہ ان تمام کتابوں کو اٹھا کر بحیرہ عرب میں ڈبو دینا چاہتا تھا یا کم از کم راوی میں تو پھینک ہی سکتا تھا۔ وہ اب کتابیں نہیں ردّی تھی۔

امامہ کی وہ تصوراتی پرفیکٹ زندگی جو وہ جلال انصر کے ساتھ گزارتی رہی تھی۔ وہ ڈیڑھ دو ہزار رومانس ان کرداروں کے رومناس نہیں تھے جو ان ناولز میں تھے۔ وہ صرف دو کرداروں کا رومانس تھا۔ امامہ اور جلال کا… اعلیٰ ظرف بننے کے لیے کھلے دل یا برداشت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ دماغ کا کام نہ کرنا زیادہ ضروری ہوتا ہے۔ وہ بھی اس کا شوہر تھا۔ وہ ان کتابوں کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتا تھا اور وہ ایسا کر سکتا تھا۔ وہ اس کی بیوی تھی… روتی دھوتی، ناراض ہوتی لیکن اتنی بااختیار نہیں تھی کہ اس کی مرضی کے بغیر ان کتابوں کو وہاں رکھ سکتی۔ وہ عورت تھی۔ ضد کر سکتی تھی، منوا نہیں سکتی تھی۔ وہ مرد تھا اسے اپنی مرضی کے لیے ضد جیسے کسی حربے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہ اس کا گھر تھا، یہ اس کی دنیا تھی۔ وہ شرائط کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا نہ ہی ایسے جی سکتا ہے۔ وہ مراعات کے ساتھ دنیا میں آتا ہے اور اسی کے ساتھ دنیا میں رہتا ہے۔

تو آسان حل یہ تھا جو اسے معاشرہ اور اس کا ذہن بتا رہا تھا۔ مشکل حل وہ تھا جو اس کا دل اس سے کہہ رہا تھا اور دل کہہ رہا تھا۔ ”چھوڑو، جانے دو یار! یہ زہر کا گھونٹ ہے لیکن پی جاؤ۔” اور دل نہ بھی کہتا تب بھی وہ اس چیز کو اپنے گھر سے نکال کر نہیں پھینک سکتا تھا، جو امامہ کی ملکیت تھی۔ جو کبھی اس کے دکھوں کے لیے مرہم بنی تھی۔ ان کتابوں کے کرداروں میں وہ جس کسی کو بھی سوچتی رہی تھی لیکن ان کتابوں پر لکھا ہوا نام اس کا اپنا تھا اور یہ وہ نام تھا جو اس کی روح کا حصہ تھا۔ صبر کی کئی قسمیں ہوتی ہیں اور کوئی بھی قسم آسان نہیں ہوتی، وہاں کھڑے اس نے سوچا اور لائٹ آف کر کے کمرے سے باہر نکل آیا۔

وہ رمضان میں کبھی سگریٹ نہیں پیتا تھا لیکن اسٹڈی روم میں واپس آکر اس نے سگریٹ سلگایا تھا۔ اس وقت خود کو نارمل کرنے کے لیے یہی واحد حل اس کی سمجھ میں آیا ۔ ایک سگریٹ پینے کی نیت سے بیٹھے ہوئے اسے اندازہ نہیں ہوا کہ وہ کتنے سگریٹ پی چکا ہے۔

”سالار…!” امامہ کی آواز پر وہ راکنگ چیئر پر بیٹھے بیٹھے چونکا۔ غیر محسوس انداز میں بائیں ہاتھ میں پکڑا سگریٹ اس نے ایش ٹرے میںمسلا۔ وہ دروازے میں ہی کھڑکی تھی اور یقینا اس کے ہاتھ میں سگریٹ دیکھ چکی تھی۔ نہ بھی دیکھتی تب بھی کمرے میں پھیلی سگریٹ کی بو اسے بتا دیتی۔

”تم اسموکنگ کرتے ہو؟” وہ جیسے کچھ پریشان اور شاکڈ انداز میں آگے بڑھی۔

”نہیں” بس کبھی کبھار۔ جب اپ سیٹ ہوتا ہوں تو ایک آدھ سگریٹ پی لیتا ہوں۔”

کہتے ہوئے سالار کی نظر ایش ٹرے پر پڑی۔ وہ سگریٹ سے ٹکڑوں سے بھری ہوئی تھی۔ ”آج کچھ زیادہ ہی پی گیا۔”

وہ بڑبڑایا پھر اس نے سر اٹھا کر اسے دیکھا اور اپنا لہجہ ہموار رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

”تم سوئیں نہیں ابھی تک ؟”

”تم میری وجہ سے اپ سیٹ ہو؟” اس نے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس سے پوچھا۔

تو اس نے محسوس کر لیا؟ سالار کا اس کا چہرہ دیکھا اور سوچا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف اور اضطراب تھا۔ وہ نائٹی میں ملبوس اونی شال اپنے گرد لپیٹے ہوئے تھی۔ سالار جواب دینے کے بجائے راکنگ چیئر کی پشت سے ٹیک لگائے اسے دیکھتا رہا۔ اس نے کرسی کو ہلانا بند کر دیا تھا۔ اس کی خاموشی نے جیسے اس کے اضطراب میں اور اضافہ کیا۔

”تمہاری فیملی نے کچھ کہا ہے… ؟… یا میری فیملی نے کچھ کیا ہے؟”

وہ کیا سوچ رہی تھی؟ سالار نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا… کاش ”یہ” وجہ ہوتی ”وہ” نہ ہوتی، جو تھی۔

”کیا کہے گی میری فیملی…؟ یا کیا کرے گی تمہاری فیملی…؟” اس نے مدھم آواز میں اس سے پوچھا۔ وہ اسی طرح الجھی ہوئی یوں چپ کھڑی رہی جیسے اسے خود بھی اس سوال کا جواب معلوم نہیں تھا لیکن وہ خاموش اسے دیکھتی رہی، یوں جیسے اسے یقین ہو کہ وہ سچ نہیں بول رہا۔ وہ حیران تھا کہ وہ کیسے کیسے خدشات ذہن میں لیے بیٹھی ہے۔

وہ راکنگ چیئر پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ اسے اس وقت امامہ پر جیسے ترس آیا تھا۔

”یہاں آؤ!” اس نے سیدھے ہوئے ہوئے اس کا بایاں ہاتھ پکڑا۔ وہ جھجکی، ٹھٹکی پھر اس کی آغوش میں آگئی۔ سالار نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اس کی شال کے اندر کرتے ہوئے، اس کی شال کو اس کے گرد اور اچھی طرح سے لپیٹتے ہوئے، کسی ننھے بچے کی طرح اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے تھپکا اور اس کا سر چوما۔

”کوئی کچھ نہیں کہہ رہا… اور کوئی کچھ نہیں کر رہا… ہر کوئی اپنی زندگی میں مصروف ہے اور اگر کچھ ہو گا تو میں دیکھ لوں گا سب کچھ۔ تم اب ان چیزوں کے بارے میں پریشان ہوتا چھوڑ دو۔”

وہ اسے گود میں لیے، اب دوبارہ راکنگ چیئر پر جھول رہا تھا۔

پھر تم اپ سیٹ کیوں ہو؟”

”میں…؟… میرے اپنے بہت سے مسئلے ہیں۔” وہ بڑبڑایا۔

امامہ نے گردن اوپر کرتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی۔ اتنے دنوں میں وہ پہلی بار اسے اتنا سنجیدہ لگا تھا۔

”سالار! تم…”

”میں پریشان نہیں ہوں اور اگر ہوں بھی تو تم اس کی وجہ نہیں ہو۔ اب دوبارہ مجھ سے یہ سوال مت کرنا۔”

اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے اس نے کچھ سخت لہجے میں جھڑکنے والے انداز میں اس کی بات کاٹ کر سوال سے پہلے جواب دیا۔ وہ جیسے اس کا ذہن پڑھ رہا تھا۔ وہ چند لمحے کچھ بول نہیں سکی۔ اس کا لہجہ بہت سخت تھا اور سالار کو بھی اس کا احساس ہو گیا تھا۔

”تم کیا کہہ رہی تھیں مجھ سے کہ کچن کے لیے کچھ چیزوں کی ضرورت ہے…؟” اس نے اس بار بے حد نرمی کے ساتھ موضوع بدلا۔

امامہ نے ایک بار پھر اسے ان چیزوں کے نام بتائے۔

”کل چلیں گے رات کو گرو سری کے لیے۔”

امامہ نے اس بار کچھ نہیں کہا۔ اس کے سینے پر سر رکھے، وہ دیوار پر اس سوفٹ بورڈ پر لکھے بہت سے نوٹس، ڈیڈ لائنز اور کچھ عجیب سے انڈیکسز والے چارٹس دیکھتی رہی،پھر اس نے سالار سے پوچھا۔

”تم بینک میں کیا کرتے ہو؟”

وہ ایک لمحہ کے لیے چونکا، پھر اس نے اس کی نظرون کا تعاقب کرتے ہوئے بورڈ پر نظر ڈالی۔

”میں بے کار کام کرتا ہوں۔” وہ بڑبڑایا۔

”مجھے بینکرز بھی اچھے نہیں لگے۔” امامہ کو اندازہ نہیں ہوا کہ اس نے کتنے غلط وقت پر یہ تبصرہ کیا ہے۔

”جانتا ہوں، تمہیں ڈاکٹرز اچھے لگتے ہیں۔” سالار کے لہجے میں خنکی آئی تھی۔

”ہاں، مجھے ڈاکٹرز اچھے لگتے ہیں۔” امامہ نے سادہ لہجے میں بورڈ کو دیکھے ہوئے کچھ بھی محسوس کیے بغیر ، اس کے سینے پر سر رکھے اس کی تائید کی۔ یہ کہتے ہوئے اسے جلال کا خیال نہیں آیا تھا لیکن سالار کو آیا تھا۔

”تم نے مجھے بتایا نہیں کہ تم بینک میں کیا کرتے ہو؟” امامہ نے دوبارہ پوچھا۔

”میں public relationing میں ہوں۔” اس نے یہ جھوٹ کیوں بولا، وہ خود بھی سمجھ نہیں پایا تھا۔ امامہ نے بے اختیار اطمینان بھرا سانس لیا۔

”یہ بھر بھی بہتر ہے۔ اچھا ہے تم ڈائریکٹ بینکنگ میں نہیں ہو۔ تم نے کیا پڑھا تھا سالار؟”

”ماس کمیونیکیشنز۔” وہ ایک کے بعد ایک جھوٹ بول رہا تھا۔

”مجھے یہ سجیکٹ بہت پسند ہے۔ تمہیں کچھ اور بننا چاہیے تھا۔”

”یعنی ڈاکٹر؟” سالار سلگا لیکن امامہ کھلکھلا کر ہنسی۔

”ماس کمیونیکیشنز پڑھ کر تو ڈاکٹر نہیں بن سکتے۔” سالار نے جواب نہیں دیا۔ اگر وہ اس کا چہرہ دیکھ لیتی تو اتنی بے تکلفی کے ساتھ یہ سارے تبصرے نہ کر رہی ہوتی۔

”میں ڈاکٹروں سے نفرت کرتا ہوں۔” سالار نے سرد لہجے میںکہا وہ بے اختیار سالار سے لگ ہوئی۔

”کیوں؟” اس نے حیرت سے سالار کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا۔

اس کا چہرہ بے تاثر تھا، کم از کم امامہ اسے پڑھ نہیں سکی۔

”ایسے ہی۔” سالار نے کندھے اچکاتے ہوئے بڑی سرد مہری سے کہا۔

”ایسے ہی کیسے…؟ کوئی وجہ تو ضرور ہو گی۔” وہ جز بز ہوئی۔

”تمہیں کیوں ناپسند ہیں بینکرز؟” سالار نے ترکی بہ ترکی جواب کہا

”بددیانت ہوتے ہیں ۔” امامہ نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔

”بینکرز؟” سالار نے بے یقینی سے کہا۔

”ہاں۔” اس بار وہ سنجیدہ تھی۔

وہ سالار کا بازو اپنے گرد سے ہٹاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ سالار نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی۔ وہ اب قریب جا کر بورڈ کو دیکھ رہی تھی۔ اس پر لگائے ہوئے نوٹس اور ڈیڈ لائنز پڑھ رہی تھی۔

”بینکرز لوگوں کا پیسہ، اثاثہ محفوظ رکھتے ہیں۔”

اس نے اپنے عقب میں سالار کو بڑے جتانے والے انداز میں کہتے سنا۔

”اور پیسہ لوگوں کا ایمان خراب کر دیتا ہے۔” اس نے مڑے بغیر جواب دیا۔

”اس کے باوجود لوگ ہمارے پاس آتے ہیں۔” سالار نے اسی انداز میں کہا۔ا س بار امامہ پلٹی۔

”لیکن وہ آپ پر بھروسا نہیں کرتے۔”

وہ مسکرا رہی تھی مگر سالار نہیں۔ اس نے خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھا، پھر اثبات میں سرہلایا۔

”ایک بددیانت بینکر صرف آپ کا پیسہ لے سکتا ہے لیکن ایک بددیانت ڈاکٹر آپ کی جان لے سکلتا ہے تو پھر زیادہ خطرناک کون ہوا؟”

اس بار امامہ بول نہیں سکی۔ اس نے چند منٹ تک جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن اسے جواب نہیں ملا، پھر اس نے یک دم سالار سے کہا۔

”اگر میں ڈاکٹر ہوتی تو پھربھی تمہیں ڈاکٹرز سے نفرت ہوتی…؟”

وہ اب اسے جذباتی دباؤ میں لے رہی تھی۔ یہ غلط تھا لیکن اب وہ اور کیا کرتی؟

”میں ممکنات پر کوئی نتیجہ نہیں نکالتا، زمینی حقائق پر نکالتا ہوں۔ جب ”اگر”exist نہیں کرتا تو میں اس پر رائے بھی نہیں دے سکتا۔” اس نے کندھے اچکا کر صاف جواب دیا۔

امامہ کا رنگ کچھ پھیکا پڑ گیا۔ جواب غیر متوقع تھا، کم از کم سالار کی زبان سے۔

”زمینی حقائق یہ ہیں کہ تم میری بیوی ہو اور تم ڈاکٹر نہیں ہو۔ میں بینکر ہوں اور میں ڈاکٹرز سے نفرت کرتا ہوں۔”

اس کے لہجے کی ٹھنڈک پہلی بار امامہ تک پہنچی تھی، لہجے کی ٹھنڈک یا پھر آنکھوں کی سرد مہری۔ وہ بول نہیں سکی اور نہ ہی ہل

ہل سکی۔ ایک ہفتے میں اس نے اس طرح تو کبھی اس سے بات نہیں کی تھی۔

”رات بہ ہو گئی ہے، سونا چاہیے ہمیں۔”

وال کلاک پر نظر ڈالتے ہوئے وہ اسے دیکھے بغیر کرسی سے اٹھ کر چلا گیا۔

وہ دیوار کے ساتھ لگی جھولتی ہوئی کرسی کو دیکھتی رہی، وہ اس کے بدلتے موڈکی وجہ سے سمجھ نہیں سکی تھی۔ وہ کوئی ایسی بات تو نہیں کر رہے جس پر وہ اس طرح کے الفاظ کا استعمال کرتا۔ وہ وہاں کھڑی اپنی اور اس کے درمیان ہونے والی گفت گو کو شروع سے یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ شاید اسے بینکرز کے بارے میں میرے کمنٹس اچھے نہیں لگے۔ وہ جیسے تجزیہ کر رہی تھی۔

جب وہ دو بارہ کمرے میں آئی تو کمرے کی لائٹ آن تھی لیکن وہ سو چکا تھا۔ وہ اپنے بیڈ پر آکر بیٹھ گئی۔ سارا دن کام کرتی رہی تھی لیکن بری طرح تھک جانے کے باوجود اس وقت اس کی نیند یک دم غائب ہو گئی تھی۔ سالار کے بارے میں سارے اندیشے، جو اس کے ساتھ گزارے ہوئے ایک ہفتے نے سلا دیے تھے، یک دم پھر سے جاگ اٹھے تھے۔ وہ اس کی طرف کروٹ لیے ہوئے سو رہا تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔ وہ اس سے چند فٹ کے فاصلے پر تھا، کم از نیند کی حالت میں پر سکون لگ رہا تھا۔

”آخر مرد اتنی جلدی کیوں بدل جاتے ہیں؟ اور اتنے ناقابل اعتبار کیوں ہوتے ہیں؟” اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے اس نے سوچا اس کی رنجیدگی میں اضافہ ضرور ہوا تھا۔ زندگی اتنی محفوظ نہیں ہوئی تھی جتنی وہ کچھ گھنٹے پہلے تک سمجھ رہی تھی۔

”آج لائٹ آن کر کے سوؤ گی کیا؟” سالار کروٹ لیتے ہوئے بڑبڑایا۔

وہ یقینا گہری نیند میں نہیں تھا۔ امامہ نے ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کر دیں لیکن وہ سونے کے لیے نہیں لیٹی تھی۔ اندھیرے میں سالار نے دوبارہ اس کی طرف کروٹ لی۔

”تم سو کیوں نہیں رہیں؟”

”ابھی سو جاؤں گی۔”

سالار نے ہاتھ بڑھا کر اپنا بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ آن کر دیا۔ امامہ نے کچھ کہے بغیر کمبل خود کھینچا اور سیدھے لیٹتے ہوئے اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ سالار چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ پھر اس نے لیمپ دوبارہ آف کر دیا۔ امامہ نے دوبارہ انکھیں کھول لیں۔

”تمہیں سحری کے وقت بھی اٹھنا ہے امامہ!”

اسے حیرت ہوئی، اس نے اندھیرے میں اسے آنکھیں کھولتے ہوئے کیسے دیکھ لیا تھا۔

گردن موڑ کر اس نے سالار کی طرف دیکھنے کی کوشش کی، اسے کچھ نظر نہ آیا۔

”تمہیں پتا ہے سالار، دنیا کا سب سے بے ہودہ کام کون سا ہے؟” اسنے سالار کی طرف کروٹ لے کر کہا۔

”کیا…؟”

”شادی۔” اس نے بے ساختہ کہا۔

چند لمحے خاموشی کے بعد اس نے سالار کو کہتے سنا۔

“I agree”

امامہ کو بے اختیار دکھ ہوا۔ کم از کم سالار کو اس بات سے اترنا چاہیے تھا۔

جاری

قسط نمبر 9۔۔۔

اس نے سالار کا بازو اپنے گرد حمائل ہوتے ہوئے محسوس کیا۔ وہ اب اس کی پیشانی چومتے ہوئے کہہ رہا تھا۔

”گڈ نائٹ۔” یہ اسے سلانے کی ایک اور کوشش تھی۔

وہ چند لمحے خاموش رہی پھر اس نے کچھ بے چین ہو کر کہا۔

”سالار!”

سالار نے بے اختیار گہرا سانس لیا اور آنکھیں کھول دیں۔

”تمہیں کیا ہوا ہے…؟”

”کچھ نہیں۔” جھوٹ ”ضروری” تھا، لیکن سچ بے حد ”مضر” تھا۔

”تم میرے ساتھ اتنے روڈ ہوئے۔” اس نے بالآخر شکایت کی۔

”آفس کے کسی پرابلم کی وجہ سے میں کچھ اپ سیٹ تھا شاید اس لیے روڈ ہو گیا۔” اس نے معذرت جی، وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا تھا۔

”کیسا پرابلم؟”

”ہوتے رہتے ہیں امامہ… you just don’t worry اگر آئندہ کبھی بھی میرا ایسا موڈ ہو تو تم پریشان مت ہونا، نہ ہی مجھ سے زیادہ سوال کرنا۔ میں خود ہی ٹھیک ہو جاؤں گا۔”

امامہ کی سمجھ میں اس کی توجیہہ نہیں آئی تھی لیکن وہ پرسکون ہو گئی تھی۔

”میں اس لیے پریشان ہو رہی تھی، کیوںکہ مجھے لگا کہ شاید تمہیں میری کوئی بات بری لگی ہے۔ میں نے بینکرز کو برا کہا تھا نا اس لیے۔”

”تمہیں تو سات خون معاف کر سکتا ہوں میں، یہ تو کوئی بات ہی ندی۔۔”

اس نے ایک بار پھر گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔

”تم ٹھیک کہتے ہو، ڈاکٹرز میں بھی بہت سی برائیاں ہوتی ہیں لیکن مجھے بس اچھے لگتے ہیں وہ… بس محبت ہے مجھے ڈاکٹرز سے… میں بھی ان کی ساری خامیاں اگنور کر سکتی ہوں۔” سالار کی آنکھوں میں نیند یک دم غائب ہو گئی۔ وہ کسی اور حوالے سے وضاحت دے رہی تھی، اس نے اسے کسی اور پیرائے میں لیا۔

”تمہیں واقعی ڈاکٹرز سے نفرت ہے؟” وہ اب یقینی کے ساتھ پوچھ رہی تھی۔

”جو چیز تمہیں پسند ہو، میں اس سے نفرت کر سکتا ہوں…؟ مذاق کر رہا تھا میں۔” امامہ کے ہونٹوں پر مطمئن مسکراہٹ آئی۔

اس نے بھی سالار کے گرد اپنا بازو حمائل کرتے ہوئے کہا۔

”اب مجھے نیند آرہی ہے، تم بھی سو جاؤ۔”

اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ وہ اس کے بالوں انگلیاںپھیرتا رہا۔ محبوب کی دو خصوصیات یونیورسل ہوتی ہیں۔ وہ بے نیاز ہوتا ہے… اور … اور اپنی بے نیازی سے بے خبر بھی… اور یہ دونوں خصوصیات اس کے محبوب میں بھی تھیں۔ جلال النصر سے اسے ایک بار پھر شدید قسم کا حسد محسوس ہوا… لیکن رشک اسے اپنے آپ پر آیا کہ وہ اس کے ”پاس” تھی۔ اور اس کی تھی۔

٭٭٭٭

”صاحب نے نیوز پیپرز کا کہا تھا کہ آپ سے پوچھ لوں اور یہ میگزین ہیں، ان میں سے جو پسند ہیں، بتا دیں، میں لے آیا کروں گا۔”

نیوز ہاکر نے اسے ایک کاغذ تھماتے ہوئے کہا۔ جس پر اخبارات اور میگزینز کی ایک لسٹ تھی۔ وہ نیند میں بیل بجنے کی آواز پر اٹھ آئی تھی۔ کچھ دیر تک تو سمجھ ہی نہیں پائی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ سالار کے گھر اس نے صرف اتوار کو اخبار دیکھا تھا، وہ بھی سالار نے ہاکر سے خود لیا تھا۔ وہ خود آفس میں ہی اخبار دیکھتا تھا۔ اب وہ یقینا اس کی وجہ سے خبار لگوا رہا تھا ۔ ایک نظر اس لسٹ پر ڈال کر اس نے ہاکر کو ایک اخبار اور ایک میگزین کا بتایا۔ وہ اخبار اسے تھما کر چلا گیا۔ وہ جمائیاں لیتے ہوئے اخبار اندر لائی اور رکھ دیا۔ دس بجنے والے تھے، کھڑکی سے باہر دھند چھٹ رہی تھی لیکن ابھی بھی کچھ تھی۔

جتنی دیر میں ملازمہ آئی، وہ اخبار دیکھ چکی تھی۔ ملازمہ آج اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ مالی بھی تھا۔ وہ فرقان جکے پودے دیکھنے آیا تھا۔ وہ سالار کے پودے اتوار کے دن دیکھنے آتا تھا یا پھر نوشین خود اس کے ساتھ وہاں آتی تھی۔ سالار کے اپارٹمنٹ کی ایک چابی ان کے پاس بھی تھی۔ آج نوشین نے یہاں امامہ کی موجودگی کی وجہ سے اسے بھیج دیا تھا۔

وہ اس کے ٹیرس پر جانے کے کچھ دیر کے بعد خود ہی باہر نکل آئی۔ مالی کے پاس کھڑے خاموشی سے اسے دیکھے رہنے کے دوران اسے احساس ہوا کہ اسے کسی قسم کی ہدایات کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ ماہرانہ انداز میں اپنا کام کر رہا تھا، وہ واپس اندر آگئی۔ ملامہ نے بڑے پر جوش انداز میں کچن میں رکھے ہوئے برتنوں کو نوٹس کرنے کے بعد تعریف کی۔ امامہ بے اختیار خوش ہوئی۔

”باجی! اب یہ گھر، گھر لگ رہا ہے۔” اس نے امامہ سے کہا۔ وہ سالار کی اسٹڈی کو ویکیوم کر رہی تھی۔ امامہ مسکراتی ہوئی سالار کی اسٹڈی ٹیبل پر پڑی ڈسٹ صاف کرنے لگی۔

باجی! میں کرتی ہوں، آپ رہنے دو۔” ملازمہ نے اسے روکا۔

”نہیں، تم باقی سب کر لینا میں ابھی فارغ ہوں، اس لیے کر رہی ہوں۔” وہ اس سے یہ نہیں کہہ سکی کہ وہ نہیں چہاتی کہ سالار کا کوئی کاغذاِدھر اُدھر ہو جائے لیکن یہ سوچتے ہوئے وہ یہ بھول گئی تھی کہ اس گھر میں اس اسٹڈی ٹیبل کو اتنے عرصے سے وہ ملازمہ ہی صاف کر رہی ہے۔

میل ٹرے دعوتی کارڈز کے بند اور کھلے لفافوں سے تقریباً بھری ہوئی تھی۔ امامہ نے ایک لفافہ کھول کر دیکھا۔ وہ کسی افطار پارٹی کا انویٹیشن تھا۔ ایک کے بعد ایک، وہ سارے لفافے کھول کر دیکھتی گئی۔ سب کارڈ کسی نہ کسی افطار پارٹی یا تقریب سے متعلق تھے اور بعض کارڈز میں تو وہ دو یا تین جگہوں پر بھی انوائٹڈ تھا۔ وہ یقینا بے حد سوشل زندگی گزار رہا تھا۔ یہ اس کا اندازہ تھا، یقینا وہ اس کے گھر آجانے کی وجہ سے پچھلے ایک ہفتے سے ان پارٹیز میںنہیں جا رہا تھا۔ یہ اس کا ایک اور تجزیہ تھا۔ پندرہ بیس کارڈز دیکھنے کے بعد اس کا دل اچاٹ ہو گیا۔ اس نے کارڈز اٹھا کر واپس رکھ دیے۔ کچھ اور کارڈز دیکھتی یا نیچے میل کے کسی لفافے کے ایڈرس پر نظر ڈال لیتی تو شاید اسے سالار کا شعبہ نظر آجاتا کہ وہ انویسٹمنٹ میں تھا، پی آری میں نہیں۔ کم از کم وہ یہ جھوٹ تو ضرور پکڑ سکتی تھی۔

”باجی! رات کو کوئی مہمان آئے تھے؟” وہ ملازمہ کی آواز پر چونکی۔وہ ایش ٹرے ہاتھ میں لیے کچھ حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔

”نہیں۔” امامہ نے سوال سمجھ بغیر کہا۔

”تو یہ سگریٹ کس نے پیے ہیں؟ سالار صاحب تو سگریٹ نہیں پیتے۔” ملازمہ بے حد حیران تھی۔

امامہ کچھ دیر بول نہیں سکی۔ ملازمہ جیسے سالار کے بیان کی تصدیق کر رہی تھی۔ یعنی وہ واقعی عادی نہیں تھا جو ایک آدھ سگریٹ وہ بھی کبھی کبھار پیتا ہو گا، اسے ملازمہ کسی مہمان کاپیا ہوا سگریٹ سمجھ لیتی ہو گی۔

”اوہ! ہاں… اس کے کچھ دوست آئے تھے، مجھے یاد ہی نہیں تھا۔” امامہ نے چند لمحوں کے بعد کہا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی، ڈور بیل بجی۔

”میں دیکھتی ہوں۔” امامہ اس سے کہہ کر باہر نکل آئی۔

”لانڈری collectکرنے آئے ہیں۔”

دروازے پر ایک لڑکا سالار کے کچھ ڈرائی کلینڈ اور دھلے ہوئے کپڑے کے ہینگز لیے ہوا کھڑا تھا۔ اس کی طرف ایک بل کے ساتھ بڑھاتے ہوئے اس نے کہا۔

”کپڑے چیک کر لیں۔”

بل کے ساتھ لانڈری کے لیے بھیجے گئے کپڑوں کی لسٹ بھی تھی۔ امامہ نے ہینگرز لاؤنج میں لانے کے بعد باری باری لسٹ اور کپڑوں کو ملانا شروع کیا، کپڑے پورے تھے۔

ملازمہ تب تک باہر نکل آئی تھی۔ امامہ بل کے پیسے لینے اندر چلی گئی۔ جب وہ واپس آئی تو اس نے ملازمہ کو دروازے پر لانڈری بوائے کو ایک لانڈری بیگ تھماتے ہوئے دیکھا۔ جس کے اوپر ایک لسٹ چسپاں تھی۔ یقینا وہ ان کپڑوں کی لسٹ تھی جو لانڈری کے لیے دیے جا رہے تھے۔ لانڈری بوائے ایک رائٹنگ پیڈ پر کچھ اندارج کر رہا تھا۔

”باجی! آپ نے بھی دینے ہیں کپڑے؟” ملازمہ نے اسے آتے دیکھ کر کہا۔

”نہیں، میں یہ بل دینے آئی ہوں۔” امامہ نے بل کی رقم اس لڑکے کی طرف بڑھائی۔ اس نے جواباً ایک رسید اس کی طرف بڑھا دی۔

”بل تو مہینے کے شروع میں اکٹھا ہی جاتا ہے۔” ملازمہ نے اسے روکا۔

وہ دروازہ بند کرتے ہوئے اندر آگئی۔ امامہ نے رسید پر نظر ڈالی۔ وہ سالار کے کپڑوں کی لسٹ تھی جو وہ لے کر گیا تھا۔

”تم نے لانڈری کے کپڑے کہاں سے لیے ہیں؟” امامہ نے اس لسٹ کو پڑھتے ہوئے ملازمہ کو روکا۔

”سالارصاحب کپڑے بیگ میں ڈال کر اوپر لسٹ رکھ جاتے ہیں۔ لانڈری میں ہی رکھتے ہیں بیگ…” ملازمہ یہ کہہ کر دوبارہ اندر چلی گئی۔

امامہ نے بل پر نظر ڈالی۔ لانڈری تو وہ خود بھی کر سکتی تھی۔ ہر ہفتے اتنے پیسے اس پر خرچ کرنا فضول خرچی تھی، اس نے سوچا۔

ملازمہ ابھی وہیں تھی جب ایک آدمی وہ پردے لے کر آیا تھا جو اس نے بننے کے لیے دیے تھے۔

”باجی! آپ نے کوئی پردے بننے کے لیے دیے ہیں؟”

ملازمہ نے انٹر کام کی بیل بجنے پر ریسیور اٹھا کر ان سے پوچھا۔

امامہ کچھ حیران ہوئی۔ ”ہاں…کیوں؟”

”وہ نیچے گیٹ پر ایک آدمی لے کر آیا ہے، گارڈ انٹر کام پر پوچھ رہا ہے۔ ہاں! بھیج دو، باجی نے پردے بنوائے ہیں۔” ملازمہ نے اس کو بتا کر ریسیور سے کہا۔ ریسیور رکھ کر وہ دوبارہ لاؤنج صاف کرنے میںلگ گئی تھی۔ کچن کاؤنٹر پر گلاس سیٹ کو کپڑے سے صاف کرتے ہوئے، امامہ کو عجیب طرح کا احساس کمتری ہوا۔ اس نے اتنے دنوں وہاں چلتے پھرتے کئی بار انٹر کام کو دیکھا تھا لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس انٹر کام کی وہاں کیا افادیت ہے، جب کہ دروازہ اتنا قریب تھا۔ ملازمہ اس گھر کی ہر چیز کو اس سے زیادہ ذہانت ، پھرت اور سہولت کے ساتھ استعمال کر رہی تھی۔

٭٭٭٭

”سالار! لاؤنج اب اچھا لگ رہا ہے نا؟”

سالار نے لاؤنج کی کھرکیوں پر لگے نیء پردوں پر ایک نظر ڈالی۔ وہ ابھی چند لمحے پہلے گھر آیا تھا۔ امامہ نے بے حد خوشی کے عالم میں آتے ہی اسے اطلا ع دی۔ وہ نہ بھی دیتی تب بھی لاؤنج میںپہلا قدم رکھتے ہی وہ اس ”واضح” تبدیلی کو نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔

”بہت۔” اس نے اپنی مایوسی کو چھپاتے ہوئے کہا۔ امامہ نے فخریہ انداز میں پردوں کو دیکھا۔

وہ آج بھی افطاری راستے میں ہی کر آیا تھا۔ امامہ نے افطاری فرقان کے گھر پر کی تھی اور اب وہ دونوں ایک ساتھ ڈنر کر رہے تھے۔

”تو جناب کا آج کا دن کیسا گزرا؟”

کھانا شروع کرتے ہوئے سالار نے اس سے پوچھا۔ وہ اسے پورے دن کی ایکٹیویٹیز بتانے لگی۔ آج ان دونوں کے درمیان ہونے والی یہ پہلی تفصیلی گفت گو تھی۔ سالار نے اسے دن میں دو بار، ایک یا ڈیڑھ منٹ کے لیے کال کی تھی مگر بات صرف حال احوال تک ہی رہی تھی۔

”یعنی آج بہت کام کرنا پڑا۔” سالار نے اس کے دن کی تفصیل سن کر کہا۔

”کیا کام…؟ میں نے کیا کیا…؟ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا۔” امامہ نے اس کی بات پر کچھ حیران ہو کر اسے دیکھا۔

”جتنا بھی کیا ہے، بہت ہے۔”

”میں تمہاری لانڈری خود کردیا کروں گی اگلے ہفتے سے۔ ” امامہ نے سالار کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ ”اور پریس بھی کر دیا کروں گی۔”

”میں تمہیں کپڑے دھونے کے لیے نہیں لے کر آیا۔” سالار نے اس کی بات کاٹی۔

”مجھے پتا ہے لیکن میں فارغ ہوتی ہوں سارا دن اور پھر مجھے اپنے کپڑے بھی تو دھونے ہوتے ہیں، تو تمہارے بھی دھو سکتی ہوں۔”

”تم اپنے کپڑے بھی کیوں دھوؤ گی۔ لانڈری وین ہر ہفتے آتی ہے۔ تم اپنے بھی دے دیا کرو۔” سالار نے کھانا کھاتے کھاتے رک کر کہا۔

”پیسے ضائع ہوں گے۔” اس نے بے اختیار کہا۔

”کوئی بات نہیں۔” سالار نے اسی انداز میں کندھے اچکا کر کہا۔

امامہ نے اس کا چہر دیکھا۔

”اور میں سارا دن کیا کروں؟”

”وہی جو دوسری عورتیں کرتی ہیں۔ سویا کرو، ٹی وی دیکھو، فون پر دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگاؤ۔” اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”میرے کوئی دوست نہیں ہیں۔” وہ یک دم سنجیدہ ہو گی۔

سالار نے کچھ حیران ہو کر اس کا چہرہ دیکھا۔ ”کوئی تو ہو تا…؟”

”نہیں، کوئی بھی نہیں ہے۔”

”کیوں؟”

وہ کھانا کھاتے کھاتے کچھ سوچنے لگی تھی، پھر اس نے کہا۔

”کالج اور یونی ورسٹی میں تو میں اتنی خوف زدہ رہتی تھی کہ کسی کو دوست بنانے کا خیال ہی نہیں آیا۔ دوستی ہوتی تو پھر سوال ہوتے… میرے بارے میں… فیملی کے بارے میں… پھر اگر کوئی گھر آتا اور ابو کی فیملی کو کوئی پہلے ہی سے جانتا ہوتا تو… یا سعیدہ اماں کو ہی … دوستی اس وقت بڑی مہنگی چیز تھی میرے لیے… میں افورڈ نہیں کر سکتی تھی… پھر آفس جاب میں کولیگز کے ساتھ تھوڑی بہت گپ شپ ہوتی تھی لیکن مجھے اکیلے رہنے کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ میں لوگوں کے ساتھ کبھی بھی comfortable نہیں رہتی تھی۔ میں ان کے ساتھ گھوم پھر نہیں سکتی تھی… ان کے گھر نہیں جا سکتی تھی… اپنے گھر نہیں بلا سکتی تھی… کیسے دوستی ہوتی پھر… اسی لیے مجھے کتابیں پڑھنا اچھا لگتا تھا… پینٹ کرنا اچھا لگتا تھا۔”

”لوگوں سے میل جول ہونا چاہیے، دوست ہونی چاہیں۔ پہلے کی بات اور تھی لیکن اب تمہیں تھوڑا سوشلائز کرنا چاہیے۔ اب تمہارا گھر ہے، تم کولیگز کو انوائٹ کر دیا کم از کم جان سے فون پر ہی بات کر لیا کرو۔” وہ اسے بڑی سنجیدگی سے سمجھا رہا تھا۔

”تم خود سوشل ہو، اس لیے کہہ رہے ہو۔” امامہ نے جواباً جکہا۔

”ہاں، میری جاب کی ضرورت ہے سوشل ہونا۔ ماہ رمضان کیبعد کو فنکشنز ہیں… ڈنر بھی ہیں کچھ … تمہیں ملواؤں گا کچھ دوستوں سے بھی… اچھا لگے گا تمہیں۔” وہ اس سے کہہ رہا تھا۔

”میں نے تمہارے ڈیسک پر دیکھے ہیں، افطار، ڈنرز کے کارڈز۔ تم میری وجہ سے نہیں جا رہے؟” امامہ نے کہا۔

”نہیں، میں افطار پارٹیز یا ڈنرز میں نہیں جاتا۔” سالار نے سرسری انداز میں کہا۔

”کیوں؟” وہ حیران ہوئی۔

”کیوںکہ میں سمجھتا ہوں یہ پارٹیز ماہ رمضان کی اسپرٹ کا مذاق اڑاتی ہیں۔ میں ماہ رمضان میں کسی کے گھر افطار پر نہیں جاتا۔”

”لیکن فرقان کے گھر تو جاتے ہو۔” امامہ نے بے ساختہ کہا، وہ مسکرا دیا۔

وہ اس وقت بھی فرقان کے گھر سے آیا ہوا کھانا کھا رہے تھے۔

”میں فرقان کے گھر ماہ رمضان سے پہلے بھی کھانا کھاتا رہا ہوں اور اگر وہ مجھے افطار یا ڈنر کے لیے بلاتا ہے تو کھانے میں کوئی اہتمام نہیں کرتا۔ ہم وہی کھاتے ہیں جو اس کے گھر میں عام دنوں میں پکتا ہے لیکن عام دنوں میں اس کے گھر میں نیں پکتا۔” سالار نے ٹیبل پر پڑی تین چار چیزوں کی طرف اشارہ کیا۔

”پھر…؟” وہ مزید حیران ہوئی۔

”یہ سارا اہتمام فرقان اور بھابھی تمہارے لیے کر رہے ہیں کیوںکہ ہماری نئی نئی شادی ہوئی ہے تو تمہارے لیے سحری اور افطاری میں بھی اہتمام ہو رہا ہے، ورنہ تو ہم سادہ کھانا کھاتے ہیں۔ ماہ رمضان میں ہم لوگ اپنے کچن کے لیے گرو سری عام مہینوں کی نسبت آدھا خرچ کرتے ہیں اور آدھے پیسوں سے ہم کسی اور فیملی کو پورے مہینے کا راشن منگوا دیتے ہیں۔ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے تمہارا۔” سالار نے سے متوجہ کیا، وہ خود کھانا ختم کر کے اب میٹھا کھا رہا تھا۔

یہ ڈاکٹر سبط علی کے گھر کی روایت تھی۔ ماہ رمضان میں ان کے گھر آنے والا راشن آدھا ہو جاتا تھا۔ گھر کے دو ملازموں کے ماہ رمضان کا راشن اس باقی راشن کی قیمت سے آتا تھا۔

امامہ!” سالار نے پھر اسے کھانے کی طرف متوجہ کیا۔

وہ کھانا کھانے لگی۔ سالار میٹھا بھی ختم کر چکا تھا اور اب منتظر تھا کہ وہ کھانا ختم کر لے۔ وہ خود ساتھ ساتھ سیل پر مسلسل میسجز کرنے میں مصروف تھا۔ وہ کسی حد تک بدل گیا تھا اور اس کے اندر آنے والی تبدیلی کس حد تک ڈاکٹر صاحب کی مرہون منت تھی اور کس حد تک اس کی اپنی سوچ کی، اندازہ لگانا مشکل تھا… وہ کھانا کھاتے ہوئے ہمیشہ اس کے کھانا شروع کرنے کا انتظار کرتا تھا۔ کھانا کھاتے ہوئے کچھ نہ کچھ اس کی پلیٹ میں ضرور رکھتا تھا اور اس کے کھانا ختم کرنے کے بعد ہی کھانے کی ٹیبل سے اٹھتا۔ وہ یہ باتیں نوٹس نہیں کرنا چاہتی تھی، لیکن وہ یہ نوٹس کیے بغیر بھی رہ نہیں سکتی تھی۔ وہ عجیب تھا۔ ”عجیب؟” اس کے علاوہ کوئی دوسرا لفظ امامہ کے ذہن میں نہیں آیا۔

ڈنر کے بعد وہ رات کو کچن کا سودا سلف خریدنے کے لیے گئے تھے۔ امامہ نے اگر سالار کی یہ گفت گو نہ سنی ہوتی تو یقینا وہ کچن کے لیے ایک لمبی چھوڑی لسٹ بنائے بیٹھی تھی، لیکن س نے خریداری کرتے ہوئے بہت احتیاط سے کام لیا۔ خریدی جانے والی زیادہ تر اشیاء کنٹینرز اور جارز ہی تھے۔ کھانے پکانے کا سامان اس نے بہت کم خریدا تھا۔

آج انہوںنے ایک اور جگہ سے کافی پی تھی۔

”تمہارا وہ پرابلم حل ہو گیا؟” امامہ کو گاڑی میں اچانک یاد آیا۔

”کون سا پرابلم؟” سالار نے چونک کر اسے دیکھا۔

”وہ جس کی وجہ سے تم کل رات پریشان تھے۔” امامہ نے اسے یاد دلایا۔

وہ بے اختیار بڑبڑایا۔ ”کاش ہو جاتا۔”

”یعنی نہیں ہوا۔” امامہ متفکر ہوئی۔

”ہو جائے گا۔” سالار نے عجیب سی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا چہرہ دیکھا۔

”پرسوں میں کراچی جا رہا ہوں۔” سالار نے بات بدلی۔

”کتنے دن کے لیے؟” وہ چونکی۔

”صبح جاؤں گا اور رات کو آجاؤں گا۔ میں مہینے میں دو تین بار جاتا ہوں کراچی… تم چلو گی ساتھ…؟” وہ ہنسا۔ امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔

”ایک دن کے لیے؟”

”ہاں…”

”تم آفس کے کام سے جا رہے ہو، میں کیا کروں گی وہاں؟”

”تم انتیا کے ساتھ شاپنگ کے لیے چلی جانا، وہ تمہیں گھما پھرائے گی کراچی۔ کبھی گئی ہو پہلے وہاں؟” سالار پوچھ رہا تھا۔

”نہیں۔” وہ کچھ ایکسائیٹڈ ہونے لگی تھی۔ سمندر اسے پسند تھا اور زندگی میں پہلی بار اسے سمندر دیکھنے کا موقع مل رہا تھا۔

”انیتا سے ٹائی اپ کرتا ہوں پروگرام… میں آفس میں تم میری بہن کے ساتھ بازاروں میں… ہم تو اسی طرح کا ہنی من منا سکتے ہیں فی الحال۔” وہ اسے پھر چھیڑ رہا تھا۔

وہ ہنس پری… وہ اس سے کہہ نہیں سکی کہ جس زندہ کو وہ گزار کر آئی تھی، اس کے مقابلے میں یہ آزادی اسے جنت جیسی محسوس ہو رہی ہے۔

٭٭٭٭

”یہ کیا ہے؟”

وہ خریدا ہوا سودا سلف، جارز اور کنٹینرز میں ڈالنے میں مصروف تھی جب سالار اپنے اسٹڈی روم سے ایک لفافہ لے کر کچن ایریا میں آیا۔

”اس میں تمہاری چیک بک ہے۔” سالار نے اسے بتایا اور اور لفافہ کاؤنٹر پر رکھ کر چلا گیا۔

امامہ نے لفافہ کھول کر اندر موجود چیک بک نکالی۔ اس کے ساتھ ایک پے سلپ بھی نکل آئی۔ وہ تیس لاکھ کی تھی۔ امامہ کو لگا کہ اسے کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔ اس نے سلپ کو دوبارہ دیکھا۔ وہ واقعی تیس لاکھ ہی کی تھی۔ اس نے اس کے اکاؤنٹ میں تیس لاکھ کیوں جمع کروائے؟ یقینا اس سے کوئی غلطی ہو گئی تھی۔

وہ لفافہ پکڑے اسٹڈی روم میں آگئی۔ سالار اپنے کمپیوٹر پر کوئی کام کر رہا تھا۔

”سالار! تمہیں پتا ہے، تم نے کتنا بڑا blunderکیا ہے؟” امامہ نے اندر آتے ہوئے کہا۔

”کیسا blunder؟” وہ چونکا۔

امامہ نے اس کے قریب آکر پے سلپ اس کے سامنے کی۔

”اسے دیکھو ذرا… یہ کیا ہے؟”

”پے سلپ ہے۔” سالار نے ایک نطر اس پر ڈالتے ہوئے دوبارہ ڈیسک ٹاپ پر نظر دوڑانا شروع کر دی۔

”کتنی رقم جمع کروائی ہے تم نے میرے اکاؤنٹ میں؟”

”تیس لاکھ۔” وہ حیران ہوئی۔

”ابھی کچھ رہتی ہے، سات لاکھ اور کچھ… چند ماہ میں وہ بھی دے دوں گا۔”

وہ کچھ ٹائپ کرتے ہوئے سرسری انداز میں کہہ رہا تھا۔

”لیکن کیوں دو گے مجھے…؟کس لیے؟” وہ حیران تھی۔

”تمہارا حق مہر ہے۔” سالار نے اسی انداز میں کہا۔

”میرا حق مہر دو لاکھ روپے ہے۔” امامہ کو لگا کہ شاید وہ بھول گیا ہے۔

”وہ آمنہ کا تھا، میں تمہیں زیادہ حق مہر دینا چاہتا ہوں۔” سالار نے کندھے اچکا کر کہا۔

”لیکن یہ تو بہت ہی زیادہ ہے سالار۔” وہ یک دم سنجیدہ ہوئی۔” تم سے کس نے کہا، مجھے اتنی رقم دو…؟”

”تم نے خود مجھے لکھ کر دی تھی یہ رقم۔”

سالار نے اس بار مسکراتے ہوئے مانیٹر سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا۔

”میں نے کب…” وہ کہتے کہتے رک گئی۔ ”وہ فگر تم اس لیے لکھوا رہے تھے…؟” اسے یاد آگیا۔

”ہاں۔” اس کی لاپروائی اب بھی برقرار تھی۔

”تم پاگل ہو۔” امامہ کو بے اختیار ہنسی آئی۔

”شاید۔” سالار نے بے ساختہ کہا۔

”اچھا، میں ایک ارب لکھ دیتی تو کیا کرتے؟” وہ اب طنز کر رہی تھی۔

”تو ایک ارب بھی دے دیتا۔” ” کیا فیاضی تھی۔

”کہاں سے دیتے…؟ فراڈ کرتے؟” وہ بے ساختہ ناراض ہوئی۔

”کیوں کرتا…؟…کما کر دیتا۔” سالار نے اس کی بات کا برا مانا۔

”ساری عمر کماتے ہی رہتے پھر؟”

”اچھا ہوتا، ساری عمر تمہارا قرض دار رہتا۔ واقعی اچھا ہوتا، تو ایک ارب چاہیے کیا…؟”

وہ تیکھی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ رہا تھا۔ امامہ کو کئی سال پہلے والے سالار کی جھلک نظر آئی۔

”کیوں دے رہے ہو؟” اس نے سنجیدگی سے کچھ دیر اسے دیکھ کر کہا۔

”بیوی ہو تم، اس لیے۔”

”اتنے پیسے کہاں سے آئے تمہارے پاس؟”

”امامہ! میری سیونگز ہیں یہ۔” سالار نے بے حد تحمل سے کہا۔

”سیونگز ہیں تو مجھے کیوں دے رہے ہو؟” وہ کچھ خفا ہوئی۔

”میرا دل چاہتا ہے، میں تمہیں دوں۔ اگر یہ پوری دنیا میری ہوتی تو میں یہ ساری دنیا تمہیں دے دیتا۔ میں کما رہا ہوں اور روپیہ آجائے گا میرے پاس۔ مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا…” کیا شاہانہ انداز تھا۔

”لیکن اتنی زیادہ رقم۔” سالار نے اس کی بات کاٹی۔

”میں اتنی زیادہ رقم نہیں دینا چاہتا تھا لیکن تمہاری مرضی کا حق مہر دینا چاہتا تھا، اس لیے تم سے ایک فگر لکھنے کو کہا۔ تمہیں پتا ہے جو فگر تم نے لکھی تھی، اس دن میرے اکاؤنٹ میں ایگزیکٹ اتنی ہی اماؤنٹ تھی۔” وہ اب رقم دہراتے ہوء ہنس رہا تھا۔

”اب اس کو تم کیا کہو گی اتفاق…؟ مجھے اتفاق نہیں لگا، مجھے لگا وہ رقم میرے پاس تمہاری امانت تھی… یا حق تھا… اس لیے تمہیں دے رہا ہوں۔ تیس لاکھ دیا ہے کچھ رقم کا ادھار کر لیا ہے تم سے… ورنہ اگلے دو تین ماہ اِدھر اُدھر سے مان رہا ہوتا۔ اس لیے تم آرام سے رکھو یہ پیسے، مجھے اگر کبھی ضرورت ہوئی تو تم سے مانگ لوں گا۔ اب میں تھوڑا سا کام کر لوں؟”

امامہ نے کچھ نہیں کہا تھا، وہ دروازہ بند کر کے باہر نکل آئی۔ ڈائننگ ٹیبل کی کرسی پر بیٹھ کر وہ ایک بار پھر اس پے سلپ کو دیکھنے لگی۔ وہ اس شخض کو کبھی نہیں سمجھ سکتی تھی۔ کبھی نہیں… وہ لا ابالی نہیں تھا… کم از کم اتنے دن میں اسے یہ احساس نہیں ہوا تھا… لیکن وہ سمجھ دار بھی نہیں تھا… کم از کم وہ پے سلپ اسے یہی بتا رہی تھی… وہ اگر اسے خوش کرنا چاہتا تھا… تو وہ نہیں ہوئی تھی… احسان مند دیکھنا چاہتا تھا توہاں، اس کے کندھے جھکنے لگے تھے… ایسی چاہ اس نے زندگی میں کسی اور شخص سے چاہی تھی… ایسی نوازشات کی طلب اسے کہیں اور سے تھی … اس کے وجود کو گیلی لکڑی وہ پیسہ نہیں بنا رہا تھا، بلکہ وہ فیاضی بنا رہی تھی جو وہ دکھا رہا تھا۔ وہ اس سے برابری چاہ رہی تھی… برابر نہیں ہو پا رہی تھی… اس شخص کا قد لمبا نہیں ہو رہا تھا، بلکہ اس کا اپنا ہی وجود سکڑنے لگا تھا۔

٭٭٭٭

”امامہ! ہم کل صبح کے بجائے، آج شام کو جا رہے ہیں۔ رات کراچی میں رکیں گے اور پھر کل رات کو ہی واپس آجائیں گے۔ سات بجے کی فلائٹ ہے۔ میں شام ساڑھے پانچ بجے تمہیں پک کروں گا، تم پیکنگ کر لو۔”

اس نے بارہ بجے کے قریب فون کر کے آفس سے کراچی کا نیا پروگرام بتایا تھا۔ وہ یک دم نروس ہونے لی۔ اتنی جلدی پیکنگ، ٹھیک ہے وہ ایک رات کے لیے جا رہے تھے۔ پھر بھی… وہ اب اسے اپنے ان کپڑوں کے بارے میں بتا رہا تھا جو وہ ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا۔ وہ پیکنگ کرتے ہوئے بے حد بولائی ہوئی تھی۔

وہ ساڑھے پانچ بجے وہاں موجود تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اس نے گاڑی میں روزہ افطار کر لیا ہو گا، لیکن پھر بھی وہ ایک باکس میں اس کے لیے کھانے کی چیزیں اور جوس لے کر آئی تھی۔ ایئرپورٹ تک کی ڈرائیو میں دونوں باتیں کرتے ہوئے ساتھ وہ چیزیں بھی کھاتے رہے۔

وہ ساڑھے چھے بجے ایئر پورٹ پر پہنچے، بورڈنگ شروع ہو چکی تھی۔ وہ فرسٹ کلاس سے سفر کر رہے تھے۔ اسی لیے ٹریفک کی وجہ سے کچھ لیٹ ہونے کے باوجود سالار مطمئن تھا۔

ایگزیکٹو لاؤنج سے جہاز میں سوار ہوتے ہوئے سالار کی فرسٹ کلاس کے کچھ اور پسنجرز سے سلام دعا ہوئی۔ چند ایک سے اس نے امامہ کا بھی تعارف کروایا۔ وہ سب کارپوریٹ سیکٹر سے تعلق رکھتے تھے یا پھر سالار کے کسٹمرز تھے۔

جہاز کے ٹیک آف کے چند منٹوں کے بعد کسی دوسری کمپنی کا کوئی ایگزیکٹو، سالار سے کوئی معاملہ ڈسکس کرنے کے لیے اس کے پاس آیا۔ چندلمحے اس سے باتیں کرنے کے بعد سالار اس سے معذرت کر کے اس ایگزیکٹو کے ساتھ اس کی سیٹ پر چلا گیا۔ وہ کچھ دیر اس کے انتظار میں بیٹھی رہی، پھر کچھ بور ہو کر اس نے ایک میگزین اٹھا لیا۔

سالار کی واپسی، لیڈنگ کے اعلان کے پانچ منٹ بعد ہوئی۔ وہ ”سوری” کہتا ہوا اس کے پاس بیٹھ کر سیٹ بیلٹ باندھنے لگا۔

”تم بور تو نہیں ہوئیں؟”

نہیں… مجھے تو بہت مزہ آرہا تھا۔” اس نے بے حد خفگی سے جواب دیا۔

اس نے میگزین سے نظریں نہیں ہٹائیں۔ سالار نے بڑے آرام سے اس کے ہاتھ سے میگزین لے کر پاس سے گزرتی ایئر ہوسٹس کو تھما دیا۔ وہ شکریہ اد کرتی ہوئی چلی گئی۔

”یہ بدتمیزی ہے۔” امامہ نے اس کے جانے کے بعد کچھ دبی ہوئی آواز میں احتجاج کیا۔

”ہاں… ہے تو سہی لیکن تم مجھے دیکھ نہیں رہی تھیں۔” اس نے اطمینان اور ڈھٹائی کے ساتھ کہا۔ امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا وہ اس سے خفا ہو یا ہنسے۔

”جتنی باتیں تم ان لوگوں سے کر رہے تھے، تم نے مجھ سے کبھی نہیں کیں۔”

وہ اس کے شکوے پر ہنسا۔” بینک کے کسٹمرز ہیں۔ یہ ان باتوں کے پیسے دیتے ہیں۔”

اس نے کچھ ملامت بھری نظروں سے سالار کو دیکھا۔ ”تم کتنے materialistic ہو۔”

”ہاں ، وہ تو ہوں۔” اس نے آرام سے جواب دیا۔

”میں بھی دے سکتی ہوں تمہیں پیسے۔” وہ اس کے جملے پر چونکا۔

”ارے، میں تو بھول ہی گیا تھا، فی الحال تو تم مجھ سے زیادہ امیر ہو۔ میرے بینک کی کسٹمر بھی ہو اور میں تمہارا قرض دار بھی ہوں، تو تم سے باتیں کرنا تو فرض ہے میرا۔” وہ مسکراتے ہوئے بولا۔

”بینکرز… ” وہ کچھ کہنے لگی تھی۔ سالار نے بے اختیار اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں پر رکھتے ہوئے اسے روکا اور کہا۔

”میں اپنا ٹرپ خراب نہیں کرنا چاہتا امامہ…! تم سے واپسی پر سنوں گا کہ بینکرز کیسے ہوتے ہیں۔” اس نے یک دم سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا۔

امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ اس میں سنجیدہ ہونے والی کیا بات تھی، اس نے سوچا۔ ایئر پورٹ پر ہوٹل کی گاڑی نے انہیں پک کیا تھا۔

”میں نے سوچا تھا کہ ہم انتیا کے گھر پر ٹھہریں گے۔” امامہ نے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا۔

”میں کبھی انتیا کے گھر نہیں ٹھہرا، میں ہوٹل میںرہتا ہوں۔” سالار نے اسے بتایا۔ ”کراچی اکثر آتا جاتا ہوں میں۔” وہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا۔ ”بعض دفعہ تو یہاں آکر انتیا سے بات تک نہیں ہو پاتی۔”

امامہ نے اس کا چہرہ دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں۔ وہ مسلسل سیل پر کچھ میسجز کرنے میں مصروف تھا۔ وہ ساتھ ساتھ اسے سڑک کے دونوں اطراف آنے والے علاقوں کے بارے میں بھی بتا رہا تھا۔

”پھر مجھے تمہارے ساتھ نہیں آنا چاہیے تھا۔ میری وجہ سے…”

سالار نے نے اس کے اچانک اس طرح کہنے پر اسے ٹوکا۔

”تمہیں ساتھ لے کر آنا مجھے اچھا لگ رہا ہے اور تمہیں انیتا کی فیملی سے ملوانے کے لیے یہاں لے کر تو آنا ہی تھا مجھے۔” امامہ نے اس کا چہرہ غور سے پڑھنے کی کوشش کی۔

”سچ کہہ رہا ہوں۔” اس نے امامہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔ ”تمہیں میرے ساتھ آنا اچھا نہیں لگا؟” سالار نے یک دم اس سے پوچھا، وہ مسکرا دی۔

”آپ اپنی وائف کے ساتھ پہلی بار یہاں ٹھہر رہے ہیں۔”

ہوٹل میں چیک ان کرتے ہوئے ریسپشن پر موجود لڑکے نے مسکراتے ہوئے سالار سے کہا۔

اس فائیو اسٹار ہوٹل کے چند کمرے مستقل طور پر سالار کے بینک نے بک کیے ہوئے تھے اور ان کمروں میں باقاعدگی سے ٹھہرنے والوں میں سے ایک وہ بھی تھا، لیکن آج وہ پہلی بار اس کی بیوی کو دیکھ رہے تھے۔

سالار نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور سائن کرنے لگا۔ وہ لڑکا اب امامہ سے کچھ خوش گوار جملوں کا تبادلہ کر رہا تھا۔ جیسے کوئی آہستہ آہستہ اس کے گرد موجود ساری سلاخیں گرا رہا ہو۔ وہ باہر کی اس دنیا سے مسحور ہو رہی تھی، جس سے وہ سالار کی وجہ سے متعارف ہوئی تھی۔

بیچ لگژری پر انیتا اور اس کی فیملی نے اس کے لیے ڈنر ارینج کر رکھا تھا۔ وہ لوگ آدھے گھنٹے میں تیار ہونے کے بعد تقریباً ساڑھے گیارہ بجے وہاں پہنچے۔ انیتا اور اس کے شوہر کے علاوہ اس کے سسرال کے بھی کچھ لوگ وہاں موجود تھے۔ یہ سالار اور اس کے بیوی کے لیے ایک فیملی ڈنر تھا۔ اس کا استقبال بڑی گرم جوشی سے کیا گیا۔ اس کی گھبراہٹ ابتدائی چند منٹوں کے بعد ختم ہونا شروع ہو گئی۔ وہ کافی لبرل فیملی تھی اور ان دونوںکی شادی کے حوالے سے ہونے والی رسمی گفت گو کے بعد، گفت گو کے موضوعات بدل گئے تھے۔ امامہ چیف گیسٹ تھی لیکن وہاں کسی نے اسے ٹیلی سکوپ کے نیچے نہیں رکھا تھا اور اس چیز نا امامہ کے اعتماد میں اضافہ کیا۔ کھانا ابھی رو نہیں ہوا تھا۔ وہ ڈرنکس لیتے ہوئے گپ شپ کر رہے تھے۔ امامہ گفت گو میں ایک مسکراتے ہوئے خاموش سامع کا رول ادا کر رہی تھی۔ اس کی زیادہ توجہ پیچ لگژری ویو کے گرد نظر آنے والے سمندر اور شہر کی روشنیوں پر تھی۔ وہ لوگ اوپن ایر میں تھے۔ کراچی میں لاہور جیسی سردی نہیں تھی لیکن یہاں اسے سردی محسوس ہو رہی تھی۔ سالار نے آنے سے پہلے اسے گرم شال لینے کا نہ کہا ہوتا تو یقینا اس وقت اس کے دانت بج رہے ہوتے۔ وہاں موجود تمام خواتین سویٹرز کے بجائے، اسی طرح کی شالیں اپنے کندھوں پر ڈالے ہوئے تھیں۔

”سالار! میں وہاں آگے جا کر نیچے سمندر دیکھنا چاہتی ہوں۔” اس نے ساتھ بیٹھے ہوئے سالار کی طرف جھکتے ہوئے مدھم آواز میں سرگوشی کی۔

”تو جاؤ۔” سالار نے اطمینان سے کہا۔

”میں کیسے جاؤن…؟ اس طرح اکیلے… تم ساتھ آؤ میرے۔” اس نے اس کے مشورے پر جزبز ہوتے ہوئے کہا۔

”نہیں، تم خود جاؤ… دیکھو… اور بھی لوگ کھڑے ہیں، تم بھی جا کر دیکھ آؤ۔” سالار نے اس سے کہا۔ وہ اب اس کی گود میں پڑا بیگ اٹھا کر نیچے زمین پر رکھتے ہوئے بلند آواز میں اس سے کہہ رہا تھا۔

امامہ نے کچھ جھجکتے ہوئے اس لمبی ٹیبل کے گرد موجود افراد پر نظر ڈالی، وہ سب گفت گو میں مصروف تھے۔ ان میں سے کوئی بھی ان کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ وہ کچھ ہمت پاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس کے بائیں طرف بیٹھی انیتا اس کی طرف متوجہ ہوئی۔

”وہاں سے جا کر دیکھو، وہاں سے زیادہ اچھا ویو ہے۔” انیتا نے اشارے سے اسے گائیڈ کیا۔ امامہ نے سر ہلایا۔

وہاں اس وقت اس کے علاوہ اور بھی کچھ فیملیز موجود تھیں اور سالار ٹھیک کہہ رہا تھا۔ کوئی نہ کوئی وقتاً فوقتاً اٹھ کر اسی طرح اس عرشہ نما جگہ کے کنارے کھڑے ہو کر سمندر کو دیکھنے لگتا۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے نروس تھی لیکن پھر وہ نارمل ہونا شروع ہو گئی۔

سالار وہیں بیٹھا کولڈ ڈرنک پیتے اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ امامہ نے دوبارہ پلٹ کر کچھ نروس ہو کر اسے دیکھا تھا۔ وہ دونوں بار مسکرا دیا۔ یہ نو سال پہلے کی وہ پر اعتماد لڑکی نہیں تھی جو آدھی رات کو اپنے گھر کی دیوار کود کر اس کے کمرے میں آگئی تھی۔ اس سے شادی کی تھی، پھر گھر سے چلی گئی تھی۔

وہ وسیم کی اس بہن کے بارے میں وسیم سے بہت کچھ سن چکا تھا لیکن پچھلے دس دنوں سے وہ جس لڑکی کو دیکھ رہا تھا، یہ وہ لڑکی نہیں تھی۔ وقت نے جتنی توڑ پھوڑ اس کی زندگی میں پیدا کی تھی اس سے زیادہ توڑ پھوڑ اس نے عرشے کی طرف جاتی ہوئی اس لڑکی کی زندگی میں پیدا کی تھی۔ اس کی انداز اطوار ہی تبدیل ہو گئے تھے۔ نو سال اگر کسی شخص کو اس کے گھر والوں سے الگ کر دیا جائے خوف اور دباؤ کے ساتھ چند جگہوں تک محدود کر کے پانی دنیا سے کاٹ دیا جائے تو وہ کس حد تک کنفیوز ڈ، ڈبل مائنڈ ، غیر محفوظ اور ڈیپنڈنٹ ہو سکتا ہے۔ وہ اس کا عملی مظاہرہ امامہ کی اس حالت میں دیکھ رہا تھا اور یہ چیز اسے تکلیف پہنچا رہی تھی۔ وہ کم از کم اسے اس حالت میں نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

”سالار… سالار…” وہ انیتا کی آواز پر بے اختیار چونکا۔

اس نے پوری قوت سے اس کے کندھے پر ہاتھ مارا تھا۔

”یا تو اسے وہاں بھیجتے نہ، اب بھیج ہی دیا ہے تو دو چار منٹوں کے لیے کسی اور چیز کو بھی دیکھ لو۔” وہ اب اسے ڈانٹ رہی تھی۔ وہ مسکرا کر سیدھا ہو گیا۔ اس کا بہنوئی غفران اس سے کچھ پوچھ رہا تھا۔

ہوا امامہ کے بالوں کو بکھیر رہی تھی۔ وہ انہیں بار بار کانون کے پیچھے کر کے سنبھالنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن انہیں کھلا چھوڑ کر آنے پر پچھتا بھی رہی تھی۔ اس تیز ہوا میں وہ شیفون کے دوپٹے کو سر پر ٹکانے کی کوشش چھوڑ چکی تھی، ہاں وہ پشمینہ شآل اس کی مہین شیفون کی قمیص کو اڑنے سے تو روک نہیں پا رہی تھی لیکن اس کے جسم کو اچھی طرح ڈھانپے رکھنے میں مؤثر تھی۔ وہ کئی سالوں میں آج پہلی بار کسی پبلک پلیس پر سر ڈھانپے بغیر کھڑی تھی۔ اسے بے حد عجیب لگ رہا تھا۔اگر وہ سالار کے ساتھ نہ ہوتی تو کبھی بھی ایسی حالت میں کسی کھلی جگہ پر کھڑے ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔ دس دن پہلے تک تو وہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے اپنا چہرہ بھی چھپاتی تھی۔ وہ واحد گیٹ اپ تھا جس میں وہ خود کو بے حد محفوظ سمجھتی تھی۔ سالار سے شادی کے بعد اس نے چہرہ چھپانا چھوڑ دیا تھااور اب اس کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھتی تھی۔

تاریک سمندر میں نظر آتی روشنیوں کے عکس کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک بار پھر گردن کے گرد لپٹے دوپٹے کو سر پر لینے کی کوشش کی۔ یہاں اس کی کوشش کو نوٹس کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ یہ کام اس ہوا میں شال، دوپٹے اور کھلے بالوں کے ساتھ آسان نہیں تھا۔

”میں بال سمیٹ دوں تمہارے؟” وہ جیسے کرنٹ کھا کر پلٹی پھر جیسے اطمینان کا سانس لیا۔

”تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا۔” اس نے سالار کو اپنے عقب میں دیکھ کر بے اختیار کہا۔ وہ کس وقت آتا تھا، اسے پتا ہی نہیں چلا تھا۔

”تم میرا دوپٹا پکڑو گے؟” اس نے سالار کی اونٹ میں آتے ہوئے اپنا دوپٹا اسے پکڑا دیا۔ وہ اب وہاں کھڑی دوسروں کو نظر نہیں آرہی تھی۔

”تمہیں مجھ کو بتانا چاہیے تھا کہ یہاں اتنی تیز ہوا ہو گی، میں بال تو کھلے چھوڑ کر نہ آتی۔” وہ اپنے بالوں کو ڈھیلے جوڑے کی شکل میں لپیٹتے ہوئے اس سے شکایتی انداز میں کہہ رہی تھی۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ بہ اب اپنی شال اتار کر اسے دیتے ہوئے، دوپٹا اس سے لے رہی تھی۔

”یہ کون سا کلر ہے؟” دو دوپٹے کو اپنے سر اور گردن کے گرد کپٹے ہوئے اس کے سوال پر ٹھٹکی۔

”کرمزن…کیوں؟”

سالار نے شال اس کے کندھوں کے گرد لپیٹتے ہوئے کہا۔ ”میں تمہیں بتانا چاہتا تھا، تم اس کلر میں بہت اچھی لگتی ہو۔” اس نے اس کے بائیں گال کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے بہت آہستہ سے چھوا تھا۔

امامہ کی آنکھوں میں حیرت امڈ آئی۔ اگلے لمحے سالار کو یہ طے کرنا مشکل ہو گیا کہ اس کا لباس زیادہ قرمزی تھا یا اس کا چہرہ، وہ بے اختیار گہرا سانس لے کر رہ گیا۔

”اب تم اتنی سی بات پر بھی یوں بلش ہوا کرو گی تو معاملہ جان لیوا ہو جائے گا۔ مار دو گی تم بڑی جلدی مجھے۔” وہ کھلکھلا کر ہنسی۔

وہ تقریباً اڑھائی بجے واپس اپنے ہوٹل میں آئے تھے۔ امامہ کو اتنی نیند آرہی تھی کہ اس نے جیولری اتاری دی چہرہ بھی دھو لیا لیکن کپڑے تبدیل کیے بغیر سو گئی تھی۔

٭٭٭٭

سالار صبح کب آفس کے لیے نکلا، امامہ کو پتا ہی نہیں چلا۔ وہ تقریباً دس بجے اٹھی۔ جب تک وہ اپنا سامان پیک کر کے تیار ہوئی، تب تک انیتا اسے لینے کے لیے آ چکی تھی۔

وہ لوگ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے ہوٹل سے چیک آؤٹ کر کے نکلے اس کے بعد وہ انیتا کے ساتھ کراچی کے مختلف مالز میں گھومتی پھرتی رہی۔ انتیا نے اسے سالار کے دیے ہوئے کریڈٹ کارڈ کو استعمال کرنے ہی نہیں دیا۔ اس دن وہی اس کو شاپنگ کرواتی رہی۔

شاپنگ کے بعد انیتا اسے اپنے گر لے گئی، اس نے وہاں افطار کیا۔ ساڑھے سات بجے وہ گھر سے ایر پورٹ کے لیے نکلی اور اسی وقت سالار سے اس کی فون پر بات ہوئی۔ وہ بھی ایر پورٹ کی طرف جا رہا تھا۔

وہ سالار کی نسبت جلدی ایر پورٹ پہنچی۔ بورڈنگ ابھی شروع نہیں ہوئی تھی۔ ایگزیکٹو لاؤنج میں پہنچتے ہی ایک بار پھر وہ کسی نہ کسی سے ہیلو ہائے کرنے لگا۔ یہ وہ فلائٹ تھی جس سے وہ عام طور پر کراچی سے واپس آیا کرتا تھا اور اس کی طرح باقی لوگ بھی ریگولر ٹریولر تھے لیکن وہ اس وقت اتنی خوش تھی کہ اس نے سالار کی توجہ کسی اور طرف ہونے پر بھی اعتراض نہیں کیا۔

وہ خوش تھی، یہ اس کے چہرے پر لکھا تھا اور سالار کو اس کی یہ خوشی حیران کر رہی تھی۔

”یہ تمہارا کریڈٹ کار ڈ اور پیسے۔”

اس نے لاؤنج میں بیٹھنے کے کچھ دیر بعد ہی اپنے بیگ سے دونوں چیزیں نکال کر سالار کو تھما دیں۔

”انیتا نے مجھے بل پے کرنے نہیں دیے۔ اسی نے سارے بلز دیے ہیں۔ تم اسے پے کر دینا۔” امامہ نے اسے بتایا۔

”کیوں…؟ کوئی بات نہیں اگر اس نے پے کیے ہیں… اسے ہی کرنے چاہیے تھے۔”

سالار نے کریڈٹ کارڈ اپنے والٹ میں رکھتے ہوئے کہا۔ ہاتھ میں پکڑے ہوئے پیسے اس نے واپس امامہ کے بیگ میں ڈال دیے تھے۔

”لیکن ہم نے تو اسے یا اس کی فیملی کو کچھ بھی…”

سالار نے اس کی بات کاٹی۔ ”تم نیکسٹ ٹائم آؤ گی تو لے آنا کچھ اس کے لیے۔ دو چار ہفتے تک وہ ویسے بھی اپنے نئے گھر میں شفٹ ہو رہی ہے۔ تو تمہیں اچھا لگا کراچی آکر…؟” سالار نے موضوع بدلا۔

امامہ کا چہرہ ایک بار پھر چمکنے لگا… وہ اسے ان جگہوں کے بارے میں بتا رہی تھی جہاں وہ انیتا کے ساتھ گئی تھی۔ سالار مسکراتے ہوئے اسے سنتا رہا۔ وہ بچوں جیسے جوش و خروش کے ساتھ اپنی شاپنگ کی تفصیل بتا رہی تھی۔

”میں نے ابو، آنٹی اور سعیدہ اماں کے لیے بھی کچھ گفٹس لیے ہیں۔” وہ بتا رہی تھی۔

”اچھا!” سالار نے دل چسپی لی لیکن گفٹس کی نوعیت نہیں پوچھی۔

”فرقان بھائی کی فیملی اور تمہارے پیرنٹس کے لیے بھی۔”

”امامہ! صرف میرے پیرنٹس نہیں ہیں وہ، تمہارا بھی کوئی رشتہ ہے ان سے۔” سالار نے اعتراض کیا۔

وہ اب بھی اس کے ماں باپ کا ذکر اسی طرح کرتی تھی۔ اس وقت یک دم امامہ کو احساس ہوا کہ اس نے سالار کے لیی کچھ بھی نہیں خریدا۔ یہ بھول تھی یا لاپروائی، لیکن اسے شاپنگ کے دوران سالار کا خیال تک نہیں آیا۔ اسے بے حد ندامت ہوئی۔

”کیا ہوا؟” سالار نے اسے خاموش دیکھ کر پوچھا۔

وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر اس نے کچھ شرمندگی سے کہا۔

”سالار! مجھے تمہارے لیے کچھ خریدنا یاد نہیں رہا۔”

”کوئی بات نہیں، تم نے اپنے لیے شاپنگ کی ہے تو سمجھو، تم نے میرے لیے ہی خریدا ہے۔” سالار نے اسی مسکراہٹ کے ساتھ اس کا کندھا تھپک کر جیسے تسلی دی۔

جاری







قسط نمبر 10

پھر بھی مجھے تمہارے لیے کچھ لینا چاہیے تھا۔” امامہ مطمئن نہیں ہوئی۔ ”لیکن مجھے تمہارا خیال ہی نہیں آیا۔”

اس کا محبوب ظالم تھا، وہ جانتا تھا۔ ”کوئی بات نہیں، جب خیال نہیں آیا تو کیسا تحفہ…؟ تحفہ تو ان کو دیا جاتا ہے جن کا خیال آتا ہو۔” سالار کے لہجے میں گلہ نہیں تھا لیکن امامہ کو گلہ لگا۔ وہ نادم سی ہو کر خاموش بیٹھ گئی۔

”اور کیا کیا لیا؟” اس کی ندامت محسو س کرتے ہوئے سالار نے دوبارہ اس سے بات شروع کی۔

”مجھے انتیا اچھا لگی ہے۔” امامہ نے اس کا سوال نظر انداز کیا۔

”چلو اچھا ہے، کوئی تو اچھا لگا تمہیں۔ میں نہ سہی، میری بہن ہی سہی۔”

امامہ نے حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا سالار کی آنکھوں میں مسکراہٹ تھی، وہ سنجیدہ نہیں تھا۔ وہ مطمئن ہو گئی۔

”اور پتا ہے میں نے کیا کیا لیا ہے؟” وہ پھر بولنے لگی۔

سالار بے اختیار مسکرایا۔ اگر اسے، اس سے اپنے لیے کسی اظہار کی توقع تھی، تو غلط تھی۔

٭٭٭٭

اگلے دو دن امامہ بہت اچھے موڈ میں رہی، اسے ہر بات پر کراچی یاد آجاتا۔ اس کی یہ خوشی سالار کو حیران کرتی رہی۔ اس کا خیال تھا اسے وہ شہر پسند آیا ہے لیکن اسے یہ اندازہ نہیں ہوا کہ بات شہر کی نہیں تھی، وہ اگر امامہ کو نواب شاہ بھی لے جاتا تو بھی وہ اسی ٹرانس میں واپس آتی۔ وہ کھلی فضا میں سانس لینے کے قابل ہو رہی تھی اور ایک لمبے عرصے کے بعد گھٹی ہوئی سانسوں کے ساتھ جینے کے بعد کچھ دیر تک تو انسان ایسے ہی گہرے سانس لیتا ہے، جیسے وہ لے رہی تھی۔

اگلے دن وہ لوگ ڈاکٹر صاحب کے پاس گئے۔ وہ سالار کے ساتھ خوش تھی، یہ بات اس کے چہرے پر لکھی ہوئی تھی البتہ سعیدہ اماں نے پھر بھی کچھ احتیاطی تدابیر کے تحت سالار کو سامنے والوں کے لڑکے کی آمنہ کے لیے دیوانہ وار محبت کا ایک اور قصہ سنانا ضروری سمجھا، جسے سالار نے بے حد تحمل سے سنا۔ اس بار امامہ نے دوران گفت گو سعیدہ کو ٹوکنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ ناکام رہی، سعیدہ اماں کا خیال تھا، سالار کو ایک اچھا، تابع دار شوہر بنانے کے لیے اس طرح کے لیکچرز ضروری ہیں۔ خاص طور پر اس صورت میں جب وہ ماضی میں کسی عورت کے ساتھ وابستہ رہ چکا ہو، امامہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وہ سعیدہ اماں کو اپنے اور سالار کے تعلق کے بزارے میں کیسے بتائے، اسے خدشہ تھا کہ اس انکشاف کے بعد سعیدہ اماں خود اسی سے ہی ناراض نہ ہو جائیں۔ اسے فی الحال اس صورت حال سے نکلنے کا کوئی طریقہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔

٭٭٭٭

اسلام آباد جانا ضروری ہے؟”

وہ جمعہ کی رات ایک بار پھر سوچ میں پڑ گئی۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ وہاں جانا نہیں چاہتی تھی، وہ جانا چاہتی تھی لیکن ساتھ ہی وہ ایک عجیب سے خوف کا شکاربھی تھی۔

”بہت زیادہ ضروری ہے۔” سالار بیڈ رپر بیٹھا اپنے لیپ ٹاپ پر ای میل چیک کرنے میں مصروف تھا۔

”تمہیں کیا کام ہے وہاں…؟” امامہ نے ہاتھ میں پکڑا ناول بند کرتے ہوئے کہا۔ وہ کہنی کے بل ٹیک لگائے اس کی طرف کروٹ لیتے ہوئے، اسے دیکھنے لگی۔

”مجھے گاؤں جانا ہے۔” وہ اسکرین پر نظریںجمائے اپنا کام کرتے ہوئے بولا۔

”کون سے گاؤں…؟” وہ چونکی۔

”اسلام آباد سے دو گھنٹے کی ڈرائیور پر ہے۔” اس نے نام بتاتے ہوئے کہا۔ ”میں وہاں ایک اسکول اور چند دوسرے پروجیکٹس چلا رہا ہوں۔ اسکول کی بلڈنگ میں کچھ ایکس ٹینشن ہو رہی ہے، اسی کو دیکھنے جانا ہے مجھے۔ جانا تو لاسٹ ویک تھا لیکن جا نہیں سکا۔”

وہ الجھی نظروں سے اسے دیکھتی رہی۔ اس کی طویل خاموشی اور خود پر جمی نظروں کو محسوس کرتے ہوئے سالار نے اسے دیکھا۔ امامہ سے نظریں ملنے پر اس نے کہا۔

”تم ساتھ چلنا اور دیکھ لینا۔” وہ دوبارہ اسکرین پر دیکھنے لگا۔

”تم اکیلے چلے جاؤ۔” امامہ نے کہا۔

”میں تو تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا۔” اس نے اصرار کیا۔

”ویسے بھی پاپا نے کہا ہے آنے کے لیے… ہاں، اگر تم گاؤں نہیں جانا چاہتیں تو مت جاؤ لیکن اسلام آباد تو چلنا ہے تمہیں۔” سالار نے جیسے قطعی انداز میں کہا۔

امامہ نے دوبارہ تکیے پر سر رکھتے ہوئے کچھ خفگی کے عالم میں ناول کھول دیا۔

”کیا اسٹوری ہے اس ناول کی؟”

سالار کو اس کے بگڑتے ہوئے موڈکا اندازہ ہو رہا تھا۔ امامہ نے جواب نہیں دیا۔

”ہیرو، ہیروئن کے کپڑوں کی زیادہ تعریف کرتا ہے اس میں یا خوب صورتی کی؟” وہ اب اسے چھیڑ رہا تھا۔

امامہ نے اسے نظر انداز کیا۔ یہ اتفاق تھا کہ جو صفحہ وہ پڑھ رہی تھی اس میں ہیرو، ہیروئن کی خوب صورتی ہی کی تعریف کر رہا تھا۔ امامہ کو ہنسی آگئی تھی۔ ناول سے اپنا چہرہ چھپاتے ہوئے اس نے دوسری طرف کروٹ لے لی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ اس کے تاثرات دیکھے۔ سالار نے اسے ہنستے ہوئے نہیں دیکھا، وہ اپنے کام میں مصروف تھا۔

٭٭٭٭

”خواتین و حضرات توجہ فرمایئے، ہم اسلام آباد انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر لینڈ کر چکے ہیں۔ اس وقت یہاں شام کے سات بج رہے ہیں اور یہاں کا درجہ حرارت…”

جہاز کے کیبن عملہ میں سے کوئی انگلش کے بعد اب اردو میں رسمی الوداعی کلمات دہرا رہا تھا۔ جہاز ٹیکسی کرتے ہوئے ٹرمینل کے سامنے جا رہا تھا۔ بزنس کلاس کی ایک سیٹ پر بیٹھے سالار نے اپنا سیل فون آن کرتے ہوئے اپنی سیفٹی بیلٹ کھولی۔ امامہ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے گم صم تھی۔

”کہاں گم ہو؟” اس نے امامہ کا کندھا تھپکا۔

اس نے چونک کر اسے دیکھا اور پھر اپنی سیفٹی بیلٹ کھولنے لگی۔ سالار اب لیگج کمپارٹمنٹ سے اپنے بیگز نکال رہا تھا۔ ایک فلائٹ اسٹیورڈ نے اس کی مدد کی۔ دونوں کے درمیان چند خوش گوار جملوں کا تبادلہ ہوا۔

وہ اس فلائٹ پر آنے والے ریگولر پیسنجرز میں سے ایک تھا اور فلائٹ کا عملہ اسے پہچانتا تھا۔

جہاز کی سیڑھیوں کی طرف جانے سے پہلے سالار نے مڑ کر اس سے کہا۔

”تمہیں کوئی کوٹ وغیرہ لے کر آنا چاہیے تھا، سویٹر میں سردی لگے گی تمہیں۔”

”یہ تمہارا ہی نہیں، میرا بھی شہر ہے۔ میں پیدا ہوئی ہوں یہاں، بیس سال گزارے ہیں میں نے یہاں۔ مجھے پتا ہے، کتنی سردی ہوتی ہے، یہ سویٹر کافی ہے۔ ” امامہ نے بڑے جتانے والے انداز میں اس سے کہا۔ وہ استہزائیہ انداز میںمسکرایا۔

جہاز کی سیڑھیوں سے باہر آتے ہی سرد ہوا کے پہلے جھونکے نے ہی اسے احساس دلا دیا کہ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔ اسے اپنے دانت بجتے ہوئے محسو ہوئے۔ سالار نے کچھ کہے بغیر اپنے بازو پر پڑی جیکٹ اس کی طرف بڑھائی۔ اس نے بری فرماں برداری سے کچھ نادم ہو کر جیک پہن لی۔ اسلام آباد بدل گیا تھا۔ اس نے خجل ہو کر سوچا۔ ارائیول لاؤنج کی ایگزٹ کی طرف بڑھتے ہوئے سالار چند لمحوں کے لیے ٹھٹکا۔

”ایک بات میں تمہیں بتانا بھول گیا امامہ…” اس نے بڑی معصومیت سے کہا۔

”کیا بات ہے؟” وہ مسکرائی۔

”پاپا کو یہ پتا نہیں ہے کہ ہم آج اسلام آباد آرہے ہیں۔” امامہ کے چہرے کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔

سالار نے اسے رکتے دیکھا تو وہ بھی رک گیا۔ وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ سالار نے اپنے جکندھے پر اس کے بیگ کی بیلٹ ٹھیک کی۔ شاید ٹائمنگ غلط ہو گئی، ٹیکسی میں بتانا زیادہ بہتر تھا اور اب اگر اس نے یہاں سے جانے سے انکار کر دیا تو… وہ دل ہی دل میں فکر مند ہوا۔

وہ پلکیں جھپکے بغیر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہی تھی۔ وہ بھی اسی طرح دیکھتا رہا۔ یہ ڈھٹائی تھی لیکن اب وہ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ اس نے بالآخر امامہ کی آنکھوں کی بے یقینی کو غصے میں بدلتے دیکھا، پھر اس کا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا۔ وہ مسلسل دو ہفتوں سے اسے سکن ندر عثمان کے اسلام آباد بلانے کا کہہ رہا تھا۔ یہ سکندر عثمان کا بلاوا نہ ہوتا تو وہ صرف سالار کے کہنے پر تو کبھی وہاں نہ جاتی اور اب وہ کہہ رہا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا تھا۔ سکندر عثمان کے نہ بلانے کے باوجود وہاں جانے کا کیا مطلب تھا، اس کا اندازہ وہ کر سکتی تھی اور اس وقت وہ بری طرح پریشان ہوئی تھی۔ ایک لمحے کے لیے تو اس کا دل چاہا تھا کہ وہ لاؤنج سے باہر نکلنے سے ہی انکار کر دے۔ اسے سالار پر شدید غصہ آرہا تھا۔

”سوری!” سالار نے اطمینان سے کہا۔

وہ چند لمحے مزید اسے دیکھتی رہی پھر اس نے ارد گرد یکھا، پھر سالارنے اسے جیک اتارتے ہوئے دیکھا۔ وہ وہاں کھڑی بے بسی کے عالم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ سالار کو اندازہ تھا کہ وہ یہی کر سکتی ہے۔ اس نے جیکٹ اتار کر تقریباً پھینکنے والے انداز میں سالار کو دی۔

”تھینک یو۔” سالار نے جیکٹ سنبھالتے ہوئے کہا۔

اس نے شکر ادا کیا کہ جیکٹ اس نے اس کے منہ پر نہیں دے ماری۔ وہ اب بے حد غصے میں ایگزٹ ڈور کی طرف جا رہی تھی۔ سالار کو حیرت ہوئی اس نے اس سے اپنا بیگ کیوں نہیں لیا تھا۔ اصولی طور پر یہ اس کا دوسرا ردعمل ہونا چاہیے تھا۔

”میرا بیگ دو۔” ایگزٹ ڈور سے نکلنے سے پہلے ہی امامہ نے پلٹ کر تقریباً غراتے ہوئے، اس سے کہا تھا۔ سالار نے آرام سے بیگ اسے پکڑا دیا۔

ٹیکسی میں بیٹھنے تک دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ وہ پورا راستہ کھڑکی سے باہر دیکھتی رہی، سالار نے بھی اسے مخاطب کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس وقت غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے اسے مخاطب نہ کرنا مناسب تھا۔ وہ اب گھر پر سکندر عثمان اور طیبہ کے ردعمل کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اگلی بجلی ان پر گرنے والی تھی۔

٭٭٭٭

گاڑی ان کے گھر کی بائی روڈ کا موڑ مڑ رہی تھی۔ امامہ کو اپنا پور اجسم سرد ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ یہ سردی نہیں تھی، یہ خوف بھی نہیں تھا، یہ کچھ اور تھا۔ وہ نو سال کے بعد اپنے گھر کو، اس سڑک کو اور اس موڑ کو دیکھ رہی تھی۔ اس کے ہونٹ کپکپانے لگے تھے، آنکھیں بھیگنے لگی تھیں۔ سالار سے ساری ناراضی، سارا غصہ جیسے دھواں بن کر ہوا میں تحلیل ہو رہا تھا۔ خوشی تھی، کیا تھا جو وہ گاڑی کو اپنے گھر کی طرف بڑھتے دیکھ کر محسوس کر رہی تھی۔ اس کے گھر کا گیٹ سالار کے گھر کے گیٹ سے کچھ فاصلے پر تھا اور وہ صرف یہ اندازہ کر پائی تھی کہ گیٹ بند تھا، گھر کی بیرونی لائٹس آن تھیں۔

گاڑی کے ہارن پر گارڈ نے باہر دیکھا پھر اس نے گارڈ روم سے باہر نکل کر گیٹ کھول دیا۔ سالار تب تک اس کے ساتھ گاڑی سے نکل کر ڈگی سے بیگز نکال رہا تھا۔ امامہ نے اس بار اپنا بیگ خود تھامنے پر اصرار نہیں کیا تھا۔

گارڈ نے سامان لینے کی کوشش نہیں کی۔ سالار اپنے سامان خود اٹھانے کا عادی تھا لیکن اس نے سالار کے ساتھ آنے والی اس لڑکی کو بڑی حیرت اور دل چسپی سے دیکھا تھا، جو گیٹ سے گھر کے اندر آنے تک ان ہمسایوں کے گھر کو دیوانہ وار دیکھتی آرہی تھی جن کے ساتھ سکندر عثمان کا میل ملاپ بند تھا۔

دھند کے باوجود امامہ نے گھر کی بالائی منزل کے کچھ بیڈ رومز کی کھڑکیوں سے آتی روشنی کو دیکھ لیا تھا۔ اس کے اپنے بیڈ روم میں بھی روشنی تھی۔ اب وہاں کوئی اور رہتا ہو گا… وسیم… یا سعد… یا اس کا کوئی بھتیجا یا بھتیجی… اس نے آنکھوں میں امڈتے سیلاب کو صاف کرتے ہوئے ان کھڑکیوں میں جیسے کسی سائے، کسی ہیولے کو ڈھونڈنے کی سعی کی۔

”اندر چلیں…؟” اس نے اپنے بازو پر اس کے ہاتھ کی نرم گرفت محسوس کی۔ امامہ نے آنکھیں رگڑتے ہوئے سر ہلایا اور قدم آگے بڑھا دیے۔ وہ جانتا تھا کہ وہ وہ رو رہی ہے لیکن اس نے اسے رونے سے روکا نہیں تھا١، اس نے بس اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میںلے لیا تھا۔

سکندر عثمان اس وقت لاؤنج میں فون پر کسی دوست کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے طیبہ کا انتظار کر رہے تھے جو اپنے بیڈروم میں کوئی چیز لینے کے لیے گئی تھیں۔ اگر سکندر کو آفس سے آنے میں دیر نہ ہو گئی ہوتی تو، وہ دونوں اس وقت کسی افطار ڈنر میںجا چکے ہوتے۔

لاؤنج میں سالار اور امامہ کا سامنا سب سے پہلے انہیں سے ہوا تھا۔ کسی بھوت کو دیکھ کر سکندر عثمان کا وہ حال نہ ہوتا، جو اس وقت ان دونوں کو دیکھ کر ان کا ہوا تھا۔ وہ فون پر بات کرنا بھول گئے تھے۔

”جبار! میں بعد میں فون کرتا ہوں تمہیں۔” انہوں نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے دوست سے کہا اور سیل بند کر دیا۔ غصہ بے حد معمولی لفظ تھا جو انہوں نے اس وقت سالار کے لیے محسوس کیا۔ وہ لاہور میں اس الو کے پٹھے کو نہ صرف اسلام آباد امامہ کے ساتھ نہ آنے کی تاکید کر کے آئے تھے، بلکہ پچھلے کئی دن سے مسلسل فون پر ہر بار بات کرنے کے دوران یہ بات دہرانا نہیں بھولے اور وہ ہر بار فرماں برداری سے ”اوکے” کہتا رہا۔ نہ یہ فرماں برداری ان سے ہضم ہوئی تھی، نہ اتنا سیدھا اوکے۔ ان کی چھٹی حس اس کے بارے میں سگنل دے رہی تھی۔ وہ پچھلے کئی سالوں میںبہت بدل گیا تھا، بے حد فرماں بردار ہو گیا تھا۔ اس کے سامنے سر جھکائے بیٹھا رہتا تھا، بہت کم ان کی کسی بات سے اختلاف کرتا یا اعتراض کرتا لیکن وہ ”سالار سکندر” تھا ان کی وہ ”چوتھی اولاد” جس کے بارے میں وہ سوتے میں بھی محتاط رہتے تھے۔

صرف سالار ہی نہیں، بلکہ امامہ نے بھی سکندر عثمان کے چہرے کے بدلتے ہوئے تاثرات کو دور ہی سے بھانپ لیا تھا۔

”ڈونٹ وری… پاپا مجھے کچھ ذلیل کریں گے لیکن تمہیں کچھ نہیں کہیں گے۔” دور سے اپنی طرف آتے، سکندر کی طرف جاتے ہوئے، و ہ خود سے چند قدم پیچھے چلتی امامہ کی طرف دیکھے بغیر بے حد مدھم آواز میں بڑبڑایا تھا۔

امامہ نے سر اٹھا کر اپنے ”شوہر” کا ”اطمینان” دیکھا، پھر تقریباً دس میٹر کے فاصلے پر آتے اپنے ”سسر” کا ”انداز۔” فوری طور پر اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے اس وقت کیا کرنا چاہیے۔ وہ یہ سوچ کر زیادہ خوف زیادہ ہوئی تھی کہ سکندر عثمان، سالار کی انسلٹ کرنے والے تھے۔

”السلام علیکم پاپا!” اپنے ہاتھ میں پکڑے بیگز رکھتے ہوئے اس نے پاس آتے ہوئے سکندر عثمان سے ہمیشہ کی طرح یوں گلے ملنے کی کوشش کی تھی جیسے وہ ان کی دعوت اور ہدایت پر وہاں آیا ہے۔

سکندر عثمان نے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے اس کا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے کہا۔

”تمہیں منع کیا تھا نا؟”

”جی۔” سالار نے بے حد تابع داری سے اس سوال کا جواب دیا۔

سکندر عثمان کا دل چاہا کہ وہ اس کا گلا دبا دیں۔

”کیسے آئے ہو؟” چند لمحوں کے بعد انہوں نے اس سے اگلا سوال کیا۔

”ٹیکسی پر۔” جواب کھٹاک سے آیا تھا۔

”ٹیکسی اندر لائے تھے؟”

”نہیں گیٹ پر ہی اترے ہیں۔” وہ نظریں جھکائے بے حد سعادت مندی سے کہہ رہا تھا۔

”تو سسرال والوں کو بھی سلام کر آتے۔” وہ اس بار چپ رہا۔ جانتا تھا، نہ یہ سوال ہے نہ مشورہ۔

”بیٹا! آپ کیسی ہیں؟” اسے قہر آلود نظروں سے گھورتے ہوئے وہ اب امامہ کی طرف بڑھ آئے تھے۔ ان کا لہجہ اب بدل گیا تھا۔ وہ بری طرح گھبرائی ہوئی باپ بیٹے کے درمیان ہونے والی گفت گو سن رہی تھی اور سکندر کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر اس کا رنگ فق ہو گیا تھا۔ وہ سکندر کے سوال کا فوری طور پر جواب نہیں دے سکی۔

”سفر ٹھیک رہا؟” انہوں نے اسے اپنے ساتھے لگاتے ہوئے بے حد شفقت سے پوچھا تھا۔ ”اور طبیعت ٹھیک ہے، چہرہ کیوں اتنا سرخ ہو رہا ہے؟”

سکندر نے بھی اس کی آنکھوں کی نمی اور پریشانی کو محسوس کیا تھا۔

”جی… وہ جی… ” وہ اٹکی۔

”سردی کی وجہ سے… السلام علیکم! ممی… کیسی ہیں آپ؟” سالار نے بیگ دوبارہ کھینچتے ہوئے پہلا جملہ سکندر سے کہا اور دوسرا دور سے آتی ہوئی طیبہ کو دیکھ کر جو اسے دیکھ کر جیسے کراہی تھیں۔

”سالار! کیا ضرورت تھی یہاں آنے کی، کچھ تو احساس کیا کرو۔” وہ اب ان سے گلے مل رہا تھا۔

طیبہ! امامہ کو چائے کے ساتھ کوئی میڈیسن دیں اور اب اس ڈنر کو رہنے ہی دیں۔” سکندر اسے ساتھ لاتے ہوئے اب طیبہ سے کہہ رہے تھے۔ طیبہ اب سالار کو ایک طرف کرتے ہوئے اس کی طرف بڑھ آئیں۔

”کیا ہوا امامہ کو؟”

”کچھ نہیں … میں… ٹھیک ہوں” اس نے مدافعانہ انداز میں طیبہ سے ملتے ہوئے کہا۔

”آپ لوگ ڈنر پر جائیں،ہماری پروانہ کریں۔ ہم لوگ کھا لیں گے جو بھی گھر میں ہے۔” سالار نے سکندر سے کہا۔ اسے اندازہ تھا کہ وہ اس وقت کہیں انوائٹڈ ہیں، یقینا گھر میں اس وقت ڈنر کی کوئی تیاری نہیں کی گئی ہو گی۔

سکندر نے اس کی بات سننے کی زحمت نہیں کی۔ انہوں نے پہلے انٹرکام پر گارڈز کو سیکیورٹی کے حوالے سے کچھ ہدایات کیں، اس کے بعد ڈرائیور کو کسی قریبی ریسٹورنٹ سے کھانے کی کچھ ڈشز لکھوائیں اور خانساماں کو چائے کے لیے بلوایا۔

”پلیز پاپا! آپ ہماری وجہ اپنا پروگرام کینسل نہ کریں، آپ جائیں۔” سالار نے سکندر عثمان سے کہا۔

”تاکہ تم پیچھے سے ہمارے لیے کوئی اور مصیبت کھڑی کر دو۔”

وہ سکندر کے جملے پر ہنس پڑا۔ اس کی ہنسی نے سکندر کو کچھ اور برہم کیا۔ امامہ اگر اس کے پاس نہ بیٹھی ہوتی تو سکندر عثمان اس وقت اس کی طبیعت اچھی طرح صاف کر دیتے۔

”جب میں نے تم دونوں سے کہا تھا کہ فی الحال یہاں مت آنا تو پھر… امامہ! کم از کم تمہیں اسے سمجھنا چاہیے تھا۔”

سکندر نے اس بار امامہ سے کہا تھا جو پہلے ہی بے حد شرمندگی اور حواس باختگی کا شکار ہو رہی تھی۔

”پاپا! امامہ تو مجھے منع کر رہی تھی، میں زبردستی لایا ہوں اسے۔” امامہ کی کسی وضاحت سے پہلے ہی سالار نے کہا۔

سکندر نے بے حد خشمگیں نظروں سے اسے دیکھا۔ ان کی اولاد میں سے کسی نے آج ان کے منہ پر بیٹھ کر اتنے فخریہ انداز میں ان کی بات نہ ماننے کا اعلان نہیں کیا تھا۔

سالار نے مزید کچھ کہنے کے بہ جائے انہوں نے ملازم سے سامان ان کے کمرے میں رکھنے کے لیا کہا۔ اس سارے معاملے پر سالار سے سنجیدگی سے بات کرنا ضروری تھا، لیکن اکیلے میں۔

سالار کے کمرے میں آتے ہی امامہ مقناطیس کی طرح کھڑکی کی طرف گئی تھی اور پھر جیسے سحر زدہ سی کھڑکی کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی۔ وہاں سے اس کا گھر کا بایاں حصہ نظر آرہا تھا۔ اس کے گھر کا اوپر والا حصہ… اس کے کمرے کی کھڑکیاں… وسیم کے کمرے کی کھڑکیاں… دونوں کمروں میں روشنی تھی لیکن دونوں کھڑکیوں کے پردے گرے ہوئے تھے۔ کوئی ان پردوں کو ہٹا کر اس وقت اس کی طرح آکر کھڑکی کے سامنے کھڑا ہو جاتا تو اسے آرام سے دیکھ لیتا۔ پتا نہیں پہچانتا بھی یا نہیں… وہ اتنی تو نہیں بدلی تھی کہ کوئی اسے پہچان ہی نہ پاتا… اس کے اپنے خونی رشتے تو …پانی سیلاب کے ریلے کی طرح سب بند توڑ کر اس کے آنکھوں سے بہنے لگا تھا۔ یہ کب سوچا تھا اس نے کہ کبھی اپنی زندگی میں وہ دوبارہ اس گھر کو دیکھ سکے گی۔ کیا ضروری تھا کہ یہ سب کچھ اس کی زندگی میں، اس کے ساتھ ہوتا۔

وہ بے حد خاموشی کے ساتھ اس کے برابر میں آکر کھڑا ہو گیا تھا۔ اس نے کھڑکی آنے والے اس گھر کو دیکھا اور پھر امامہ کی آنکھوں سے بہنے والے پانی کو۔ اسی خاموشی کے ساتھ اس نے امامہ کے کندھے پر اپنا بازو پھیلاتے ہوئے جیسے اسے دلاسا دینے کے لیے اس کے سر کو چوما۔

”وہ میرا کمرا ہے۔” بہتے آنسوؤں کے ساتھ امامہ نے اسے بتایا۔

”جہاں سے تم مجھے دیکھا کرتی تھیں؟” وہ بہتر آنسوؤں کے بیچ ہنس پڑی۔

”میں تمہیں نہیں دیکھتی تھی سالار!” اس نے احتجاج کیا تھا۔

سالار نے اس کے کمرے کی کھڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا۔

”اور مجھے پتا تک نہیں تھا کہ یہ تمہارا کمرا ہے۔ میں سمجھتا تھا، یہ وسیم کا کمرا ہے۔ میں تو کپڑے بھی یہیں بدلا کرتا تھا۔” سالار کو کچھ تشویش ہوئی۔

”مجھے کیا پتا ، تم کیا کرتے تھے… میرے کمرے کی کھڑکیاں تو بند ہوتی تھیں۔”

کیوں؟” سالار نے کچھ حیرانی سے پوچھا۔

”تم شارٹس میں پھرتے تھے بیڈ روم میں اس لیے… اور تمہارے خیال میں کھڑکیاں کھلی رکھ سکتی تھی… تمہیں کوئی شرم ہی نہیں تھی… تم کیسے اس طرح اپنے بیڈ روم میں پھر لیتے تھے…”

وہ اب آنکھیں صاف کرتے ہوئے اس پر خفا ہو رہی تھی۔ اسے اندازہ نہیں ہوا کہ اس نے کتنے آرام سے اس کی توجہ اس طرف سے ہٹائی تھی۔

”تم کس طرح کے انسان تھے؟”

سالار نے اس بار کچھ نہیں کہا۔ وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتا تھا۔

”تمہیں کھانے کا کہنے آیا تھا۔ تم چینج کر لو تو چلتے ہیں۔” اس نے یک دم بات بدلتے ہوئے امامہ سے کہا۔ اس نے سالار کے تاثرات نہیں دیکھے۔ وہ ایک بار پھر کھڑکی سے نظر آنے والا گھر دیکھ رہی تھی۔

٭٭٭٭

وہ تقریباً دو بجے کمرے میں آیا اور اس کا خیال تھا کہ امامہ سو چکی ہو گی، مگر وہ ابھی بھی کھڑکی کے سامنے بیٹھی ہوئی باہر دیکھ رہی تھی۔ اس کے گھر کی لائٹس اب آف تھیں۔ دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے گردن موڑ کر سالار کو دیکھا تھا۔

”سو جانا چاہیے تھا تمہیں امامہ!” اس سے نظریں ملنے پر سالار نے کہا۔

وہ کھڑکیوں کے آگے کرسی رکھے دونوں پاؤں اوپر کیے گھٹنوں کے گرد بازو لپیٹے بیٹھی تھی۔

”سو جاؤں گی۔”

”وہاں سب سو چکے ہیں، دیکھو لائٹس آف ہیں سب بیڈ رومز کی۔”

وہ دوبارہ گردن موڑ کر باہر دیکھنے لگی۔

سالار چند لمحے اسے دیکھتا رہا پھر واش روم میں چلا گیا۔ دس منٹ بعد کپڑے تبدیل کر کے وہ سونے کے لیے بیڈ پر لیٹ گیا۔

”امامہ! اب بس کرو، اس طرح دیکھنے سے کیا ہو گا؟” بیڈ پر لیٹے لیٹے اس نے امامہ سے کہا۔

”میں نے کب کہا کہ کچھ ہو گا، تم سو جاؤ۔”

”تم وہاں بیٹھی رہو گی تو مجھے بھی نیند نہیں آئے گی۔”

”لیکن میں یہیں بیٹھوں گی۔” اس نے ضدی انداز میں کہا۔

سالار کو اس کی ضد نے کچھ حیران کیا۔ چند لمحے اسے دیکھنے کے بعد اس نے پھر کہا۔

”امامہ! تم اگر بیڈ پر آکر لیٹو گی تو یہاں سے بھی تمہارا گھر نظر آتا ہے۔” سالار نے ایک بار پھر کوشش کی تھی۔

”یہاں سے زیادہ قریب ہے۔”

وہ اس بار بول نہیں سکا۔ اس کے لہجے میں موجود کسی چیز نے اس کے دل پر اثر کیا تھا۔ چند گز کا فاصلہ اس کے لیے بے معنی تھا۔ وہ اس کا گھر نہیں تھا۔ چند گز کی نزدیکی اس کے لیے بہت تھی۔ وہ نو سال بعد اس گھر کو دیکھ رہی تھی۔

ہمارے گھر کے اوپر والے فلور میں ایک کمرا ہے، اس کمرے کی کھڑکیوں سے تمہارے گھر کا لان اور پورچ تک نظر آتا ہے۔” وہ لیٹے لیٹے چھت کو دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔

امامہ یک دم کسی سے اٹھ کر اس کے پاس آگئی۔

”کون سا کمرا…؟” مجھے دکھاؤ۔” اس کے بیڈ کے قریب کھڑے ہو کر اس نے بے چینی سے پوچھا۔

”دکھا سکتا ہوں اگر تم سو جاؤ، پھر صبح میں تمہیں وہاں لے جاؤں گا۔” سالار نے آنکھیں کھول کر کہا۔

”میں خود بھی جا سکتی ہوں۔” وہ بے حد خفگی سے سیدھی ہو گئی۔

”اوپر والا فلور لاکڈ ہے۔” امامہ جاتے جاتے رک گئی۔ وہ یک دم مایوس ہوئی تھی۔

”سالار! مجھے لے کا جاؤ اوپر…” وہ پھر اس کا کندھا ہلانے لگی۔

”اس وقت تو نہیں لے کا جاؤں گا۔” اس نے دو ٹوک انداز میں کہا۔

”تمہیں ذرا سی بھی محبت نہیں ہے مجھ سے؟” وہ اسے جذباتی دباؤ میں لے رہی تھی۔

”ہے، اس لیے تو نہیں لے کر جا رہا، صبح وہاں جانا۔ تمہاری فیملی کے لوگ گھر سے نکلیں گے۔ تم انہیں دیکھ سکتی ہو۔ اس وقت کیا نظر آئے گا تمہیں؟” سالار نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔

”ویسے بھی مجھے تمہیں پتا ہے کہ کمرے کی چابیاں کس کے پاس ہیں، صبح ملازم سے پوچھ لوں گا۔” سالار نے جھوٹ بولا۔

اوپر کا فلور مقفل نہیں تھا لیکن امامہ کو روکنے کا اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ کچھ مایوس ہو کر دوبارہ کھڑکی کی طرف جانے لگی۔ سالار نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔

”اور فلور میں تب ان لاک کرواؤں گا، اگر تم ابھی سو جاؤ۔”

وہ چند لمحے اس کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اس نے جیسے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔

”میں بیڈ کی اس طرف سوؤں گی۔”

سالار نے ایک لفظ کہے بغیر اپنی جگہ چدھوڑ دی۔ اس نے کمبل ہٹا کر اس کے لیے جگہ بنا دی تھی۔

”اور میں لائٹس بھی آن رکھوں گی۔” وہ اس کی خالی کی ہوئی جگہ پر بیٹھتے ہوئے بولی۔

وہ اب کراؤن سے ٹیک لگائے دونوں گھٹنے سکیڑے بیڈ پر بیٹھی کھڑکی کو دیکھنے لگی تھی۔

”مجھے روشنی میں نیند نہیں آئے گی۔” سالار نے کمبل سے اس کے پاؤں اور ٹانگیں ڈھانپتے ہوئے کہا۔

”تمہیں تو روشنی میں ہی نیند آتی تھی۔” وہ کچھ جزبز ہو کر بولی۔

”اب اندھیرے میں آتی ہے۔” اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

”تو پھر مجھے روشنی میں ہی نیند آتی ہے۔” سالار نے اپنی مسکراہٹ روکی۔

”تمہیں ایک اچھی بیوی کی طرح اپنے شوہر کی نیند کا زیادہ خیال رکھنا چاہیے۔” مصنوعی غصے کے ساتھ سالار نے کچھ آگے جھکتے ہوئے سائیڈ ٹیبلل لیمپ اور دوسری لائٹس آف کرنی شروع کر دیں۔

امامہ خفگی سے بیٹھی رہی، لیکن اس نے سالار کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ کمرا اب نیم تاریک تھا لیکن بیرونی روشنیوں کی وجہ سے امامہ کا گھر زیادہ نمایاں ہو گیا تھا۔

”اس طرح دیکھنے سے کیا ہو گا؟” سالار اب کچھ جھلا گیا تھا۔

”ہو سکتا ہے کوئی پردے ہٹا کر کھڑکی میں کھڑا ہو۔”

وہ خواہش نہیں تھی، آس تھی اور وہ اس آس کو توڑ نہیں سکتا تھا۔

”صبح گاؤں جانا ہے ہمیں…” وہ اب اس کی توجہ اس کھڑکی سے ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا۔

”مجھے نہیں جانا، مجھے یہیں رہنا ہے۔”امامہ نے دو ٹوک انکار کیا۔ سالار کو اس کی توقع تھی۔

”تمہیں گاؤں لے جانے کے لیے لے کر آیا تھا۔” سالار نے کچھ خفگی سے کہا۔

”تم جاؤ مجھے کسی گاؤں میں دل چسپی نہیں ہے۔” اس نے صاف گوئی سے کہا۔

سالار یک دم کمبل ہٹاتے ہوئے بیڈ سے اٹھا اور اس نے پردے برابر کر دیے۔ باہر آنے والی روشنی بند ہوتے ہی کمرا یک دم تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔ امامہ نے بے حد خفگی کے عالم میں لیٹتے ہوئے کمبل اپنے اوپر کھینچ لیا۔

دوبارہ اس کی آنکھ سالار کے جاگنے سے کھلی۔ سحری ختم ہونے میں ابھی کچھ وقت تھا۔ اس نے اٹھ کر سب سے پہلے کھڑکی کر پردے ہٹائے تھے۔ سالار نے اسے کچھ ہمدردی سے دیکھا۔وہ انٹر کام اٹھا کر خانساماں کو کھانا کمرے میں لانے کا کہہ رہا تھا۔ امامہ کے کمرے میں لائٹ آن تھی لیکن کھڑکیوں کے آگے اب بھی پردے گرے ہوئے تھے۔

اسے جیسے کچھ مایوسی ہوئی۔ جب تک وہ کپڑے تبدیل کر کے اور منہ ہاتھ دھو کر آئی، تب تک خانساماں کھانے کی ٹرالی کمرے میں چھوڑ گیا تھا۔ انہوں نے بڑی خاموشی کے ساتھ کھانا کھایا اور کھانا ختم کرتے ہی امامہ نے کہا۔ ”اب چابیاں لے لو، اوپر چلیں۔”

”مجھے نماز پڑھ کر آنے دو۔”

”نہیں، مجھے اپنا گھر دیکھنا ہے۔”

اس بار سالارنے جیسے امامہ کی ضد کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ اسے لے کر وہ اوپر کے فلور آگیا۔ کمرا کھلا دیکھ کر امامہ نے اسے بے خفگی سے دیکھا لیکن کچھ کہا نہیں۔ وہ اس وقت اتنی خوش تھی کہ سالار کی کسی بات پر ناراض نہیں ہو رہی تھی۔

اس کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑے ہوتے ہی وہ جیسے سانس لینا بھول گئی تھی۔ وہاں سے اس کے گھر کا پورا لان اور پورچ نظر آرہا تھا۔ لان بالکل بدل گیا تھا۔ وہ ویسا نہیں رہا تھا جیسا کبھی ہوتا تھا، جب وہ وہاں تھی۔ تب وہاں دو کرسیاں بھی نہیں تھیں، جو پہلے ہوتی تھیں۔ لان میں لگی بیلیں اب پہلے سے بھی زیادہ بڑی اور پھیل چکی تھیں۔ آنسوؤں کا ایک نیا ریلا اس کی آنکھوں میں آیا تھا۔ سالار نے اس دفعہ اسے کچھ نہیں کہا۔ کہنا بے کار تھا۔ اسے فی الحال رونا تھا، وہ جانتا تھا۔

وہ مسجد میں نماز اور کچھ دیر قرآن پاک کی تلاوت کرنے کے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد واپس آیا تھا اور حسب توقع تب بھی امامہ کمرے میں نہیں آئی تھی۔

وہ گاؤں جانے کے لیے تیار ہونے کے بعد اسے خدا حافظ کہنے اوپر ایا تھا۔ اسے ساتھ لے جانے کا ارادہ وہ پہلے ہی ترک کر چکا تھا۔

اڑھائی گھنٹے کے بعد بھی وہ کھڑکی کے سامنے اسی طرح کھڑی تھی۔ سالار کے اندر آنے پر بھی اس نے پلٹ کر نہیں دیکھا تھا۔ سالار نے اسے مخاطب کرنے کے بجائے کمرے میں دور پڑے صوفے کو کچھ جدوجہد کے ساتھ کھڑکی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا تھا۔

”یہاں بیٹھ جاؤ تم، کب تک اس طرح کھڑی رہو گی۔”

صوفہ دھکیل کر اس کے قریب لانے کے بعد سالار نے اس کو مخاطب کیا اور تب ہی اس نے امامہ کا چہرہ دیکھا۔اس کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ اس کی آنکھیں اور ناک سرخ تھی۔ سالار نے گردن موڑ کر کھڑکی سے باہر دیکھا۔ وہاں ایک گاڑی میں کچھ بچے سوار ہو رہے تھے اور ایک عورت کو خداحافظ کہہ رہی تھی۔

”رضوان کے بچے ہیں؟” سالار نے گاڑی کو اسٹارٹ ہوتے دیکھ کر امامہ سے کہا۔

امامہ نے کچھ نہیں کہا۔ وہ پلکیں جھپکائے بغیر کانپتے ہونٹوں کے ساتھ بس انہیں دیکھ رہی تھی ۔ سالار نے اس سے کچھ نہیں پوچھا۔ نو سال لمبا عرصہ تھا۔ پتا نہیں مزید ان میں سے کس کو وہ پہچان سکی تھی اور کس کو نہیں اور ان میں سے کس کو وہ پہلی بار دیکھ رہی تھی۔ وہ عورت اب اندر چلی گئی تھی۔

اس کے کندھوں پر ہلکا دباؤ ڈالتے ہوئے سالار نے اس سے کہا” بیٹھ جاؤ!”

امامہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں اور ناک رگڑنے کی کوشش کی۔ صرف چند لمحوں کے لیے اس کا چہرہ خشک ہوا تھا، برسات پھر ہونے لگی تھی۔ سار پنجوں کے بل اس کے سامنے چند لمحوں کے لیے بیٹھا۔ اس نے امامہ کے دونوں ہاتھ تسلی دینے والے انداز میں اپنے ہاتھوں میں لیے۔ اس کے دونوں ہاتھ بے حد سرد تھے۔ وہ اس کے ہاتھ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ کمرے کی سردی کو اس نے پہلی بار محسوس کیا تھا۔ ہیٹر آن کرنے کے بعد اس نے کمرے کی الماری میں کوئی کمبل ڈھونڈنے کی کوشش کی اور ایک کمبل اسے نظر آہی گیا تھا۔

”میں گاؤں کے لیے نکل رہا ہوں، شام تک واپس آؤں گا۔ دس گیارہ بجے کے قریب پاپا ور ممی اٹھ جائیں گے، تب تم نیچے آجانا۔” اس کی ٹانگوں پر کمبل ڈالتے ہوئے۔ اس نے امامہ سے کہا۔

وہ اب بھی اسی طرح دوپٹے سے آنکھیں اور ناک رگڑ رہی تھی لیکن اس کی نظریں اب بھی کھڑکی سے باہر تھیں۔ سالار اور یہ کمرا جیسے اس کے لیے اہم نہیں رہا تھا۔ وہ اس سے کیا کہہ رہا تھا،اس نے نہیں سنا تھا اور سالار یہ جانتا تھا۔ وہ اسے خدا حافظ کہتے ہوئے چلا گیا۔

وہ اگلے چار گھنٹے اس طرح صوفے پر جمی بیٹھی رہی۔ اس دن اس نے نو سال کے بعد باری باری اپنے تینوں بھائیوں کو بھی گھر سے جاتے دیکھا تھا۔ وہ وہاں بیٹھی انہیں دیکھتی ہچکیوں سے روتی رہی تھی۔ وہان بیٹھے ہوئے اسے لگ رہا تھا کہ اس نے یہاں آکر غلطی کی ہے۔ اسے نہیں آنا چاہیے تھا۔ اتنے سال سے صبر کے جو بند وہ باندھتی چلی آرہی تھی، اب وہ بند باندھنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ پہلے اسلام آباد آنا نہیں چاہتی تھی اور اب یہاں سے جانا نہیں چاہتی تھی۔ ایسا بھی تو ہو سکتا تھا کہ وہ اسی طرح چوری چھپے اس گھر میں رہتی، اس طرح روز اپنے گھر والوں کو دیکھتی رہتی۔ اس کے لیے تو یہ بھی بہت تھا، وہ احمقانہ سوچ تھی، لیکن وہ سوچ رہی تھی۔ وہ ہر بات سوچ رہی تھی جس سے وہ یہاں اپنے ماں باپ کے گھر کے پاس رہ سکتی ہو۔

سالار نے گاؤں پہنچنے کے چند گھنٹے کے بعد سکندر کو فون کیا۔

”میں بھی حیران تھا جب ملازم نے مجھے بتایا کہ وہ اوپر گیسٹ روم میں ہے۔ میں سوچ رہا تھا پتا نہیں وہ وہاں کیا کر رہی ہے۔”

سالار نے انہیں امامہ کو وہاں سے بلوانے کے لیے کہا تھا اور سکندر نے اسے جواباً کہا۔

”کیا ضرورت تھی اسے خوامخواہ وہاں لے جانے کی، گھر تو اس کا تمہارے کمرے سے بھی نظر آتا ہے۔”

”لیکن گھر والے اسے گیسٹ روم سے ہی نظر آسکتے تھے۔” سالار نے دوم
قسط نمبر 21۔۔۔۔۔۔۔۔

جلال کو پیڈسٹل پر رکھنے کی ایک وجہ اسکا حافظ قرآن ہونا بھی تھا۔۔اور آج وہ جسکی بیوی تھی حافظ قرآن وہ بھی تھا۔اللہ اسکے سامنے ہوتا تو وہ اسکے آگے گر کر روتی بہت کچھ مانگا تھا پر یہ تو صرف چاہا تھا۔وہ اتنا کچھ دے رہا ہے اسکا دل چاہا وہ ایک بار پھر بھاگ کے حرم میں چلی جائے جہاں سے وہ ابھی آئ تھی۔

رو کیوں رہی ہو؟؟

وہ اسکے آنسوؤں کی وجہ جان نہ پایا۔۔وہ روتے روتے ہنسی۔۔

بہت خوش ہوں اس لیئے۔تمہاری احسانمند ہوں اس لیئے۔۔نعمتوں کا شکر ادا نہیں کر ہا رہی اس لیئے۔۔وہ روتی ہنستی اور کہتی جارہی تھی۔

بے وقوف ہو اس لیئے۔۔۔سالار نے جیسے خلاصہ کیا۔۔

ہاں وہ بھی ہوں۔۔۔اس نے پہلی بار سالار کی زبان سے اپنے لیئے بے وقوف کا لفظ سن کر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا۔

ایک لمحہ کے لیئے امامہ نے آنکھیں بند کی پھر آنکھیں کھول کر حرم کے صحن میں خانہ کعبہ کے بلکل سامنےبرابر میں بیٹھے سالار کو دیکھا جو بہت خوش الحانی سے قرآن پاک کی تلاوت کر رہا تھا۔۔

فبای آلاء ربکما تکذبٰن ۔۔

اور تم اپنے پروردگار کی کون کونسی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔۔

تم جو کچھ کر رہی ہو امامہ تم اس پر بہت پچھتاؤ گی، تمہارے ہاتھ کچھ نہ آئے گا۔ ۔

نو سال پہلے یہ ہاشم مبین نے اسکو تھپڑ مارتے ہوئے کہا تھا۔

ساری دنیا کی ذلت رسوائ بدنامی اور بھوک تمہارا مقدر بن جائے گی۔۔انہوں نے اسکے چہرے پر ایک اور تھپڑ مارا تھا۔۔

تمہاری جیسی لڑکیوں کو اللہ ذلیل و خوار کرتا ہے کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑتا۔۔۔امامہ کی آنکھیں نم ہوگئ۔۔۔ایک وقت آئے گا تم ھماری طرف لوٹو گی، منت سماجت کروگی، گڑگڑاؤ گی تب ھم تمہیں دھتکار دیں گے تب تم چیخ چیخ کر اپنے منہ سے اپنے گناہ کی معافی مانگو گی کہو گی کہ میں غلط تھی۔۔۔امامہ اشکبار آنکھوں سے مسکرائ۔۔

میری خواہش ہے بابا۔۔۔وہ زیر لب مسکرائ۔۔کہ زندگی میں ایک بار آپکے سامنے آؤں اور آپکو بتادوں کہ دیکھ لیجئے۔میرے چہرے پر کوئ ذلت و رسوائ نہیں ہے۔میرے اللہ نے میری حفاظت کی مجھے دنیا کے سامنے تماشہ نہیں بنایا میں اگر آج یہاں بیٹھی ہوں تو صرف اس لیئے کیونکہ میں سیدھے رستے پہ ہوں اور یہاں بیٹھے میں ایک بار پھر اقرار کرتی ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے آخری رسول ہیں۔۔اسکے بعد نہ کوئ پیغمبر آیا ہے اور نہ آئے گا۔۔وہی پیر کامل ہیں۔میں دعا کرتی ہوں کہ وہ مجھے میری آنے والی زندگی میں بھی اپنے ساتھ شرک کروائے نہ ہی مجھے اپنے آخری پیغمبر کے برابر کسی کو لاکھڑا کرنے کی جرات ہو

بے شک میں اسکے کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتی۔

سالار نے سورہ رحمٰن کی تلاوت ختم کرلی تھی چند لمحوں کے لیئے وہ رکا پھر سجدے میں چلا گیا۔سجدے سے اٹھنے کے بعد وہ کھڑا ہوتے ہوتے رک گیا۔۔امامہ آنکھیں بند کیئے دونوں ہاتھ پھیلائے دعا مانگ رہی تھی۔وہ اسکی دعا ختم ہونے کے انتظار میں وہی بیٹھ گیا۔امامہ نے دعا ختم کی۔سالار نے ایک بار پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھ نہ پایا۔۔امامہ نے بہت نرمی سے اسکا دایاں ہاتھ پکڑ لیا۔وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔۔

یہ جو لوگ کہتے ہیں نا کہ جس سے محبت ہوئ وہ نہیں ملا۔ایسا پتا ہے کیوں ہوتا ہے۔۔۔محبت میں صدق نہ ہو تو محبت نہیں ملتی۔نو سال پہلے جب میں نے جلال سے محبت کی تو پورے صدق کیساتھ کی۔۔دعائیں وظیفے منتیں۔۔کیا تھا جو میں نے نہیں کیا لیکن وہ مجھے نہیں ملا. پتا ہے کیوں؟؟ کیونکہ اس وقت تم بھی مجھ سے محبت کرنے لگے تھے اور تمہاری محبت میں میری محبت سے زیادہ صدق تھا۔سالار نے اپنے ہاتھ کو دیکھا اسکی ٹھوڑی سے ٹپکنے والے آنسو اب اسکے ہاتھ پر گر رہے تھے سالار نے دوبارہ امامہ کے چہرے کو دیکھا۔۔۔

مجھے اب لگتا ہے اللہ نے مجھے بڑے پیار سے بنایا ہے وہ مجھے ایسے کسی شخص کو سونپنے پر تیار نہیں تھاجو میری قدر نہ کرتا۔۔اور جلال کبھی میری قدر نہیں کرتا۔اللہ نے مجھے سالار سکندر کو سونپا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تم وہ شخص ہو جسکی محبت میں صدق ہے۔تمہارے علاوہ اور کون تھا جو مجھے یہاں لیکر آتا۔ تم نے ٹھیک کہا تھا تم مجھ سے پاک محبت کرتے ہو. ۔

وہ بے حس و حرکت سا اسے دیکھ رہا تھا اس نے اس اعتراف اس اظہار کے لیئے کونسی جگہ چنی تھی۔وہ اسکے ہاتھ کو نرمی اور احترام سے چومتے ہوئے باری باری اپنی آنکھوں سے لگارہی تھی۔

مجھے تم سے کتنی محبت ہوگی میں یہ نہیں جانتی۔۔دل پر میرا اختیار نہیں ہے مگرمیں جتنی بھی زندگی تمہارے ساتھ گزاروں گی تمہاری وفادار اور فرمانبردار رہوں گی۔۔زندگی کے ہر مشکل مرحلے ہر آزمائش میں تمہارے ساتھ رہوں گی۔میں اچھے دنوں میں تمہاری زندگی میں آئ ہوں میں برے دنوں میں بھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔

اس نے جتنی نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑا تھا اسی نرمی سے چھوڑ دیا۔۔سالار کچھ کہے بغیر اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔وہ خانہ کعبہ کے دروازے کو دیکھ رہا تھا بلاشبہ اسے زمین پر اتاری جانے والی صالح اور بہترین عورتوں میں سے ایک دی گئ تھی وہ عورت جسکے لیئے سالار نے ہر وقت اور ہر جگہ دعا کی تھی۔

کیا سالار سکندر کے لیئے نعمتوں کی کوئ حد رہ گئ تھی؟؟ اور جب وہ عورت اسکے ساتھ تھی تو اسے احساس ہورہا تھا کہ وہ کیسی بھاری ذمہ داری لیے بیٹھا تھا اسے اس عورت کا کفیل بنادیا گیا تھا جو نیکی اور پارسائ میں اس سے کئ زیادہ تھی۔

سالار تم سے ایک چیز مانگوں۔۔؟؟امامہ نے جیسے اسکے سوچ کے تسلسل کو روکا تھا۔سالار نے رک کر اسکا چہرہ دیکھا وہ جانتا تھا وہ اس سے کیا مانگنے والی ہے۔۔

تم ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری خطبہ پڑھو ۔۔سالار کو اندازہ نہیں تھا۔وہ اس سے یہ مطالبہ کرنے والی تھی۔۔

آخری خطبہ؟؟ وہ بڑبڑایا۔

ہاں وہی خطبہ جو انہوں نے جبل رحمت کے دامن میں دیا تھا۔اس پہاڑ پر جہاں چالیس سال بعد آدم و حوا بچھڑ کر ملے اور بخشے گئے تھے ۔۔۔امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔۔

ایک جھماکے کے ساتھ سالار کو پتا چل گیا تھا وہ اس سے آخری خطبہ کیوں پڑھوانا چاہتی ہے

اس نے آخری خطبے کے بارے میں سالار سے ایک دن پہلے بھی پوچھا تھا۔۔تب وہ جبل رحمت پر کھڑے تھے۔۔

تمہیں آخری خطبہ کیوں یاد آگیا؟؟ سالار نے کچھ حیران ہوکر اسے دیکھا۔

یہیں پر آخری حج کے اجتماع سے خطاب کیا تھا نا انہوں نے؟؟ وہ جبل رحمت کی چوٹی کےدامن کو دیکھ رہی تھی۔۔

ہاں۔۔۔۔سالار نے اسکی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے نیچھے جھانکا۔۔

تمہیں انکا خطبہ یاد ہے؟؟ امامہ نے پوچھا۔۔

سارا تو نہیں ۔۔۔۔سالار یاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اٹکا۔بس چند احکامات یاد ہونگے۔اس نے بات مکمل کرلی تھی۔

جیسے؟؟ ۔۔امامہ نے دل گردہ نکال دینی والی بے رحمی کیساتھ انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔۔وہ اسے بڑی نازک جگہ پر کھڑا کر کے زندگی کا مشکل ترین سوال پوچھ رہی تھی۔

مجھے ٹھیک طرح سے وہ احکامات یاد نہیں میں ایک بار آخری خطبہ کو دوبارہ پڑھوں گا۔پھر تم پوچھ لینا جو پوچھنا چاہتی ہو۔۔سالار نے بچنے کی ایک ناکام کوشش کی۔

مجھے پورا یاد ہے اور آج یہاں کھڑی ہوں تو اور بھی یاد آرہا ہے۔میں سوچ رہی ہوں کہ انہوں نے وہ آخری خطبہ یہاں کیوں دیا تھا جہاں آدم و حوا ملے تھے۔۔شاید اس لیئے کیونکہ دنیا کا آغاز انہی دو انسانوں سے ہوا اور دین مکمل ہونے کا اعلان بھی اسی میدان میں ہوا۔۔۔

اور اسی میدان میں ایک دن دنیا کا خاتمہ بھی ہوگا۔۔۔سالار لقمہ دیئے بغیر نہ رہ سکا۔۔

امامہ ہنس پڑی۔۔۔

تم ہنسی کیوں۔۔سالار الجھا۔

تم تو کہہ رہے تھے تم کو وہ چند احکامات بھی یاد نہیں اب یہ کیسے یاد آگیا کہ انہوں نے دین مکمل ہونے کا اعلان یہاں کیا تھا۔۔

سالار لاجواب ہوا تھا۔۔امامہ اسی پرسوچ انداز میں کہنے لگی.

مجھے لگتا ہے وہ خطبہ دنیا کے ہر انسان کے لیئے تھا ہم سب کے لیئے ۔۔اگر وہ سارے احکامات جو اس آخری خطبہ میں تھے ھم سب نے اپنائے ہوتے یا اپنا لیں تو دنیا بے سکونی کا شکار نہ ہوتی۔ جہاں آج ھم کھڑے ہیں اگر وہ نبی کریم کی اپنی امت کے لیئے آخری وصیت تھی تو ہم بہت بد قسمت ہیں کہ انکی سنت تو ایک طرف ان کی وصیت تک ہمیں یاد نہیں۔۔عمل کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔وہ کچھ جذباتی انداز میں بولتی گئ۔وہ عورت نو سال پہلے بھی اسکے پیروں تلے سے زمین نکال سکتی تھی اور آج بھی نکال رہی تھی۔۔۔

تمہیں سود کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات پتا ہے نا اس خطبے کے؟؟ وہ تلوار سالار کی گردن پہ آگری تھی جس سے وہ بچنے کی آج تک کوشش کرتا آیا تھا۔۔وہ کس جگہ پر کھڑی اس سے کیا پوچھ رہی تھی۔ایسی ندامت تو کبھی خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوکر اللہ کے سامنے بھی نہیں ہوئ تھی اسے جتنی اسے اس جگہ کھڑے ہوکر ہوئ۔سالار کو اس وقت ایسا لگا جیسے جبل رحمت پہ پڑے ہر پتھر نے اس پر لعنت بھیجی تھی۔پسینہ ماتھے پر نہیں پیروں کے تلووں تک آیا تھا اسے لگا جیسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کھڑا ہے پھر وہ وہاں پر ٹہر نہ سکا اور امامہ کا انتظار کیئے بغیر جبل رحمت سے اترتا چلا گیا۔وہ رحمت کا حقدار نہیں تھا تو وہاں کیسے کھڑا ہوتا۔۔اسے نیچھے آ کر محسوس ہوا ۔۔اور آج امامہ نے وہ سوال حرم میں کردیا تھا۔سالار نے اس بار اس سے یہ نہیں پوچھا کہ وہ اس سے کیا مانگے گی۔۔اس نے انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر حرم کے صحن سے نکلنے سے پہلے امامہ سے کہا تھا۔۔

میں جب بھی سود چھوڑوں گا تمہارے لیئے نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔۔۔بلکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیئے چھوڑوں گا۔۔۔امامہ نے بڑی ٹھنڈی آواز میں کہا۔۔تو پھر انہی کے لیئے چھوڑ دو۔۔

سالار ہل نہ سکا۔۔یہ عورت اسکی زندگی میں پتا نہیں کس لیئے آئ یا لائ گئ تھی۔۔اسکو اکنامکس اور حساب کے ہر سوال کا جواب آتا تھا سوائے اس ایک جواب کے۔۔

تم تو حافظ قرآن ہو سالار پھر بھی اتنی بڑی خلاف ورزی کر رہے ہو قرآن پاک اور اللہ کے احکامات کی۔۔امامہ نے کہا۔

تم جانتی ہو میں انویسٹمنٹ بنکنگ کروارہا ہوں لوگوں کو اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امامہ نے اسکی بات کاٹ دی۔۔تم کو یقین ہے کہ اس میں سود کا ایک ذرہ بھی شامل نہیں؟؟؟

سالار کچھ دیر بول نہ سکا۔۔پھر اس نے کہا۔

تم بنکنگ کے بارے میں میرا مؤقف جانتی ہو۔۔چلو میں چھوڑ بھی دیتا ہوں یہ بلکل ہر مسلم چھوڑ دے بنکوں کو۔۔۔اسکے بعد کیا ہوگا۔۔حرام حلال میں تبدیل ہوجائے گا؟ اس نے بڑی سنجیدگی کیساتھ کہا۔۔

ابھی تو ہم حرام کام ہی سہی مگر اس سسٹم کے اندر رہ کر اس سسٹم کو سمجھ رہے ہیں ایک وقت آئے گا جب ہم ایک متوازی اسلامک اکنامک سسٹم لے آئیں گے ۔۔۔

ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا۔۔امامہ نے اسکی بات کاٹ دی.

تم ایسے کیوں کہہ رہی ہو؟؟

سود جن لوگوں کے خون میں رزق بن کے دوڑنے لگے۔وہ سود کو مٹانے کا کبھی نہیں سوچیں گے۔

سالار کو لگا امامہ نے اسکو طمانچہ مارا ہے۔بات کڑوی تھی پر سچی تھی۔۔۔

میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ اگر تم چیزوں کو بدل نہیں سکتے تو اپنی قابلیت ایک غلط کام کو عروج پہ پہنچانے کے لیئے استعمال مت کرو۔

سالار سکندر کو ایک بار پھر حسد ہوا تھا۔کیا زندگی میں ایسا کوئ وقت آنا تھا جب وہ امامہ ہاشم کے سامنے دیو بنتا۔۔۔۔کبھی بونا نہ بنتا۔۔۔فرشتہ دکھتا شیطان نہیں دکھتا۔؟؟؟

میں آخری خطبہ پڑھوں گا۔۔۔کہنا وہ کچھ اور چاہتا تھا اور کہہ کچھ اور دیا۔۔

مجھ سے سنو گے؟؟ امامہ نے اسکا ہاتھ تھام کر بڑے اشتیاق سے کہا ۔۔

تمہیں زبانی یاد ہے؟؟ سالار نے پوچھا۔

اتنی بار پڑھا ہے زبانی دہرا سکتی ہوں۔۔

سناؤ۔۔۔سالار نے اسکے ساتھ چلتے ہوئے کہا۔

****----****----***----**-*

سب تعریفیں اللہ کے لیئے ہیں اور ہم اسی کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد و مغفرت طلب کرتے ہیں۔اور اسی کے سامنے توبہ کرتے ہیں اور اسی کے سامنے اپنے نفس کی خرابیوں اور برے اعمال سے پناہ چاہتے ہیں۔۔جسے اللہ ہدایت دے اسے کوئ گمراہ نہیں کرسکتا اور جسے اللہ گمراہ کردے اسے کوئ ہدایت نہیں دے سکتا۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئ معبود نہیں اور اسکا کوئ شریک نہیں اور میں اعلان کرتا ہوں کہ محمد اللہ کا بندہ اور رسول ہے۔

اے لوگوں میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور تمہیں اسکی اطاعت کا حکم دیتا ہوں۔اور اپنے خطبے کا آغاز نیک بات سے کرتا ہوں۔۔لوگوں سنو۔۔میں تمہیں وضاحت سے بتاتا ہوں کیونکہ شاید اسکے بعد کبھی تم سے اس جگہ نہ مل سکوں۔

اچھی طرح سن لو۔اللہ تعالی نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور میں آج سے تمام سود کلعدم قرار دیتا ہوں اور سب سے پہلے وہ سود معاف کرتا ہوں جو لوگوں نے میرے چچا عباس بن عبدالمطلب کو ادا کرنا ہے۔ البتہ تم کو اپنی اصل رقم لینے کا حق ہے۔جس میں نہ اوروں کا نقصان ہے نہ تمہارا۔۔

*****----****----*****--**-

پینتیس سالہ غلام فرید ذات کے لحاظ سے کمہار تھا اور پیشے کے لحاظ سے سکول کا چوکیدار تھا۔گاؤں میں رہتا تھا لیکن شہر میں بسنے کے خواب دیکھتا تھا۔اسے راتوں رات امیر بننے کا بھی بڑا شوق تھا ۔۔

وہ سات بہنوں کا اکلوتا اور سب سے بڑا بھائ تھا۔جسکی شادی کا خواب اسکے پیدا ہوتے ہی ماں نے سجا لیا تھا۔دھوم دھام کی شادی نے اگلے کئ سال غلام فرید کو وہ قرض چکانے میں مصروف رکھا۔جب وہ قرض ختم ہوا تو پھر اسکی بہنوں کی شادیوں کے لیئے قرض لینا پڑا اور اس بار خاندان والوں کے انکار پر اس نے سود پر قرضہ لیا۔سات بہنیں تھی اگلے سال کسی نہ کسی کی شادی آجاتی تھی۔۔پچھلا قرضہ وہی کا وہی کھڑا رہتا۔مزید قرضہ سر چڑھ جاتا اور پھر ایک کے بعد ایک بچے کی پیدائش۔۔۔غلام فرید کو کبھی کبھی لگتا تھا کہ اسکا نام غلام قرض ہونا چاہیئے۔۔شادی کے تیرہ سالوں میں قرضہ تو اس نے ادا کردیا لیکن سود کی رقم اسکے سر پر اسکے بالوں سے بھی زیادہ ہوگئ تھی۔اسکی بیوی بھی سکول میں صفائ کا کام کرتی تھی۔دو بڑے بچے بھی گاؤں کی دو دکانوں پہ کام کرتے تھے کئ سالوں سے سود کی وہ سل پھر بھی اسکے سینے سے ہٹی ہی نہیں۔بوجھ تھا کہ بڑھتا ہی گیا۔کئ بار وہ سوچتا تھا کہ ایک رات چپکے سے بیوی بچوں سمیت گاؤں سے بھاگ جائے۔۔غلام فرید کے خوابوں کی گاڑی ساری رات چھکا چھک چلتی رہتی۔گاؤں سے بھاگ جانا آسان تھا لیکن ان لوگوں سے چھپنا آسان نہیں تھا جس سےاس نے قرضہ لیا ہوا تھا وہ لوگ اسکی چمڑی ادھیڑنے کےپر قادر تھے اور اسے کتوں کے آگے پھنکوا دیتے۔

راہ فرار غلام فرید کے پاس نہیں تھی اوراگر کوئ تھی تو صرف ایک۔۔۔کہ وہ امیر ہوجاتا۔۔اور پتا نہیں کیوں اسے لگتا تھا کہ وہ امیر ہوسکتا ہے۔۔۔۔

*******----*****----****-*

اے لوگوں میں نے تم میں ایسی چیزیں چھوڑی ہے کہ تم اسے مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔یعنی اللہ کی کتاب اور نبی کی سنے۔اور تم غلو سے بچو کیونکہ تم سے پہلے لوگ اسی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔۔۔

***---*******----*****-*

چنی غلام فرید کی آخری اولاد تھی اگر اسکی بیوی نسیمہ زندہ رہتی۔اور وہ سب کچھ نہ ہوتا جو ہوگیا۔ڈیڑھ سالہ چنی کو اسکی پیدائش سے پہلے کئ بار مارنے کی کوشش کی گئ۔نسیمہ کو جب اپنے نویں بار حاملہ ہونے کا علم ہوا تو اس نے گاؤں کی دائ سے ملنے والی ہر اس چیز کا استعمال کیا جس سے اسقاط حمل ہوجاتا۔۔چنی کو تو کچھ نہیں ہوا لیکن خود نسیمہ ان مضر صحت ادویات کے استعمال سےکئ قسم کی بیماریوں کا شکار ہوگئ۔

چنی کو مارنے کی ایک کوشش تب بھی کی گئ جب ساتویں مہینے طبیعت خراب ہونے پر نسیمہ کو شہر جانا پڑا اور وہاں الٹرا ساؤنڈ میں اسے اپنے ہونے والے بچے کی جنس کا پتہ چلا۔نویں اولاد لڑکی ہونے کا مطلب تھا کہ اسکی بیٹیوں کی تعداد چھ ہوجائے گی۔۔۔۔نسیمہ کو جیسے غش آگیا تھا۔۔سات بہنیں بیاہتے بیاہتے غلام فرید اور اسکا یہ حال ہوگیا تھا اب چھ بیٹیاں بیاہتے انہیں کس دوزخ سے گزرنا تھا۔۔اس خیال نے آخری دو تین مہینے میں اسے ہر اس بد احتیاطی پر اکسایا جس سے بچی کی جان چلی جاتی ۔۔۔نسیمہ کی اپنی خوش قسمتی تھی کہ وہ خود جان سے ہاتھ نہین دھو بیٹھی اس سے۔۔۔۔۔۔۔۔

چنی صحتمند پیدا ہوئ۔ اسکا پیدا ہونا جیسے اسکی اپنی ذمہ داری بن گئ تھی۔ماں کو ہفتے بعد ہی ڈیوٹی پر جانا تھا۔۔یہ کوئی شہر نہیں تھا کہ کہ میٹرنیٹی لیو جیسی سہولت سے اسے نوازا جاتا۔۔اور وہ بھی نویں بچے کی پیدائش پر۔باہ کے پاس تو پہلے ہی اپنے بچوں کے لیئے وقت نہیں تھا۔اسکے سر کا بوجھ مزید بڑھ گیا تھا۔

دو کمروں کا وہ گھر جو غلام فرید کا واحد خاندانی ترکہ تھا چنی کی پیدائش کے چند ہفتوں بعد سود میں گروی رکھا گیا تھا۔اسکول والوں نے اس وقت میں غلام فرید کی مدد کی اور اسے ایک کوارٹر دے دیا جسمیں صرف ایک کمرہ تھا لیکن یی بھی غنیمت تھا. چنی کی پیدائش اپنے ماں باپ کو خوب یاد رہی کہ اسکی پیدائش نے انہیں بے گھر کیا۔۔لیکن چنی کی خوش قسمتی یہ تھی کہ روایتی انداز میں اس ہر منحوس کا لیبل نہیں لگا۔۔

نحیف و نزار سانولی رنگت والی چنی سارا دن گرمی میں بان کی ایک چارپائ پر پڑی رہتی روتی کھلبلاتی پھر خود ہی اپنا انگوٹھا چوستی اور سو جاتی ۔۔کسی بہن کو خیال آجاتا تو چنی کو اسکے سستے سے پلاسٹک کے اس فیڈر میں دودھ مل جاتا جسمیں اسکے ہر بہن بھائ نے دودھ پیا تھا جو اتنے سالوں میں اتنا گدلا میلا اور گھس گیا تھا کہ اسمیں ڈالا جانے والا دودھ بھی میلا لگنے لگتا تھا. وہ بلاشبہ جراثیم کی آماجگاہ تھی۔لیکن وہ غریب کی اولاد تھی اور غریب کی اولاد بھوک سے مرجاتی ہے۔۔۔گندگی سے نہیں۔۔۔

پورے دن میں ایک بار ملنے والا دودھ کا فیڈر وہ واحد غذا تھی جس پر چنی سارا دن گزارا کرتی تھی۔نسیمہ شام کو تھکی ہاری آتی تھی جو بھی روکھی سوکھی ملتی کھا کر کمرے میں لیٹ کر اپنے کسی بچے سے اپنی ٹانگیں دبوا لیتی تھی اور وہی سوجاتی تھی اسے پتہ بھی نہیں تھا کہ اسکے کمرے میں ایک نوزائیدہ اولاد ہے۔ہاں کبھی کبھار وہ اس وقت چنی کو دیکھنے بیٹھ جاتی تھی جب بڑی بچیوں کو اچانک وہم ہوتا تھا کہ چنی مر گئ ہے کیونکہ وہ کبھی سانس نہیں لے پاتی اور کبھی اسکا جسم اتنا ٹھنڈا ہوجاتا کہ نسیمہ کو لگتا انکا بوجھ واقعی کم ہوگیا ہے۔۔۔لیکن چنی اپنے ماں باپ کےسارے ارمانوں پر پانی پھیرتے ہوئے پھر سانس لینا شروع کردیتی تھی۔

بھوک واحد مسلہ نہیں تھا چنی کو۔۔۔سارا سارا دن وہ پیشاب اور پاخانہ میں لتھڑی پڑی رہتی تھی۔چنی کے جسم پر کھجلی ہوئ اور پھر ایسے بڑھ گئ جیسے اسکی جلد عادی ہوکر خود ہی ٹھیک ہوتی گئ۔

کئ ہفتوں تک کسی کو خیال نہیں آیا کہ چنی کی پیدائش رجسٹر کروانی ہے۔۔اسکا کوئ نام ہونا چاہیئے۔چنی نام اسے اسکی ماں نے اسکی جسامت دیکھ کر دیا تھا پھر گاؤں میں حفاظتی ٹیکوں کی مہم والے آئے تو غلام فرید کو چنی کا نام اور پیدائش رجسٹر کروانی پڑی غلام فرید نے اسکے لیئے بھی تین سو روپے کسی سے ادھار لیئے تھے۔اور وہ ادھار بھی گاؤں کی مسجد کے امام سے۔اور ان تین سو روپوں نے اسکی زندگی میں کیا کردار ادا کرنا تھا۔اسکا اندازہ نہ غلام فرید کو تھا نہ ہی اس بچی کو جسکا نام کنیز رکھ دیا گیا تھا۔گاؤں میں کسی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ کنیز ولد غلام فرید عرف چنی کو اس نام کی کوئ ضرورت نہیں کیونکہ اسکو اللہ نے کسی اور کام کے لیئے چنا تھا۔۔

++++******++++****+

دیکھو میں نے حق پہنچا دیا ہے بس اگر کسی کے پاس امانت رکھوئ گئ ہے تو وہ اسکا پابند ہے کہ اس امانت رکھوانے والے کو اسکی امانت پہنچاے اور بیشک تم سب کو اللہ کی طرف لوٹنا اور حساب دینا ہے۔۔۔

++++----++++----++++

امام صاحب سے تین سو کا وہ قرض ہی تھا جس نے پہلی بار غلام فرید کو یہ احساس دلایا کہ امیر بننا کوئ اتنا مشکل کام نہیں۔مولوی نے اسکو قرض دینے کیساتھ یہ ذمہ داری بھی سونپی تھی کہ وہ سکول کے مالکان سے مسجد کے لیئے چندہ لیکر انہیں دے۔مولوی ان لوگوں میں سے تھا جو آخرت میں بھی جنت چاہتا تھا اور دنیا میں بھی جنت جیسا عیش و آرام۔

غلام فرید نے اسکو یقین دلایا کہ سکول کے مالکان اسکی بہت مانتے ہیں۔مولوی سے جھوٹ تو بول دیا اس نے مگر اب مولوی کے بار بار اصرار کرنے پر اس نے سکول کے مالکان سے مسجد کے چندے کی بات کر ہی لی۔۔اسکول کے مالک نے مولوی کو بلایا اور اس سے تفصیلات مانگی کہ کس لیئے رقم چاہیئے۔۔اس نے چھوٹے موٹے اخراجات کی ایک لمبی تفصیل پیش کردی۔سکول کے مالک نے تفصیلات جاننے کے بعد نہ صرف اس وقت کچھ وم مہیا کی بلکہ ہر مہینے ایک معقول رقم دینے کا وعدہ بھی کرلیا۔۔مولوی کی خوشی کا کوئ ٹھکانہ نہ رہا۔اسکی نظروں میں غلام فرید کی عزت ایک دم بڑھ گئ اور گاؤں میں پہلی دفعہ غلام فرید کو کسی نے عزت دی تھی۔۔وہ بھی مسجد کے امام نے۔۔۔جس نے نہ صرف جمعے کے خطبے میں لاؤڈ سپیکر پر سکول مالکان اور انتظامیہ کی دردمندی کے قصیدے پڑے بلکہ غلام فرید کی کوششوں کو بھی سراہا۔۔

سکول کے مالک نے یہ رقم غلام فرید کے ہی ہاتھوں مولوی کو پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔اسکو سونپی جانے والی ذمہ داری نے اسکی اہمیت مولوی کی نظر میں دوگنی کردی۔اگر مولوی کو یہ رقم مسجد کے انتظام و انصرام کے لیئے چاہیئے ہوتی تو وہ اسکی بلکل عزت نہ کرتا۔۔۔مگر مولوی کو یہ رقم اپنے لیئے چاہیئے تھی۔گاؤں کے دوسرے زمیندار اور صاحب حیثیت لوگوں سے وصول پائے جانے والے چندوں کی طرح جنکے بارے میں مولوی سے کوئ سوال و جواب نہیں کرتا تھا۔۔۔البتہ ان سب لوگوں کو جمعہ کی نمازکے خطبے کے دوران لاؤڈ سپیکر پر اس چندے کا اعلان چاہیئے ہوتا تھا او مولوی اس اعلان کو قصیدوں کے تڑکے کیساتھ پیش کرنے کے ماہر تھے۔۔

یہ پہلی بار ہوا تھا کہ پیسوں کے حوالے سے جواب دہی کا سسٹم بنانے کی کوشش کی تھی جو مولوی کو قابل قبول نہیں تھی لیکن چندے کی ماہانہ رقم کا ٹھکرانے کا حوصلہ بھی نہیں تھا اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سکول کا مالک وہاں دوسرے مہینے آیا تھا اور مولوی نے غلام فرید کے ساتھ ملکر مسجد میں ہونے والی تمام مروتیں اسے دکھائ تھی۔وہ مطمئن ہوکر لوٹا۔مگر یہ صرف اس مہینے ہوا اگلے مہینے غلام فرید کے ہاتھ سے وصول کرنے والے رقم کا مولوی نے کیا کیا تھا۔۔اسکا غلام فرید کو اندازہ بھی نہیں ہوا۔وہ مسجد میں دو چار بار گیا تھا اسکا استقبال خوب اچھی طرح کیا گیا۔۔مولوی نے اپنے گھر سے کھانا چائے پانی بھی دیا۔لیکن چندے کے استعمال کے بارے میں بس آئیں بائیں شائیں کرتا رہا۔۔غلام فرید کو چندے کے درست استعمال سے کوئ دلچسپی نہیں تھی مگر اپنے ہاتھ سے ہر مہینے بیس ہزار کی رقم جس مشکل سے مولوی کو دے رہا تھا یہ صرف وہ ہی جانتا تھا۔مگر اسے خوف تھا تو صرف اللہ کا ۔کیونکہ وہ مسجد کا پیسہ تھا۔۔اسکے دل سے چندے کے حوالے سے اللہ کا خوف ختم کرنے میں مولوی نے بنیادی کردار ادا کیا۔۔۔اگر مولوی مسجد کے پیسوں کو لوٹ کا مال سمجھ کر کھا رہا تھا تو غلام فرید کو بھی حق تھا۔۔اسکے سر پہ بھی تو قرضہ تھا وہ چار مہینے خود میں یہ ہمت پیدا کرتا رہا کہ وہ مولوی سے اس سلسلے میں بات کرسکے۔اسے ان پیسوں میں حصہ چاہیئے تھا۔۔آدھا آدھا یا کم از کم پانچ ہزار تو بنتا ہی تھا۔سکول کے مالک کو اطمینان ہوگیا تھا کہ مولوی نے مسجد کی حالت کو بہتر کرلیا ہوگا اسکے ماہانہ بھیجے گئے پیسوں سے قرآن پاک کی تعلیم کے لیئے آنے والے بچوں اور مسجد کے بنیادی قسم کے اخراجات پورے ہوتے رہینگے۔۔غلام فرید نگران تھا کہ وہ یہ دیکھے لہ مسجد میں آنے والے بچوں کو قرآن پاک قاعدے سپارے مسجد ہی مہیا کرے۔غلام فرید کو اندازہ ہوگیا تھا کہ مسجد میں آنے والے کسی بچے کو مسجد سے کچھ نہیں مل رہا اور اگر کچھ مل رہا تو بلکل بھی مفت نہیں مل رہا۔یہ اسکی بے چینی کا آغاز تھا۔۔اور اس وقت اسکی بے چینی اپنے انتہا پر پہنچ گئ جب چوتھے مہینے مولوی نے نیا موٹر سائیکل خرید لیا۔وی اسکی نئ موٹر سائیکل کو دیکھ کر اس قدر حسد اور خفگی کا شکار ہوا کہ وہ پیسوں کا ذکر کیئے بغیر صرف مٹھائ کھا کر آگیا تھا۔مولوی نے ماہانہ چندے کا پوچھا کیونکہ وہ مہینے کی پہلی تاریخ تھی۔غلام فرید نے اس دن مسجد میں بیٹھ کر پہلا جھوٹ بولا تھا کہ سکول کا مالک ملک سے باہر چلا گیا ہے اور ابھی واپس نہیں آیا۔۔مولوی کو ایک دم فکر لاحق ہوئ کہ اگر سکول کا مالک فوری طور پہ واپس نہ آیا تو پھر اس مہینے کے پیسے کون دے گا۔۔ غلام فرید نے اسکو سکول کے مالک کا فون نمبر دے دیا تھا جو غلط تھا۔۔۔۔۔

وہ بیس ہزار کی رقم جیب میں لیئے اس دن ایک عجیب سی کیفیت کیساتھ مسجد سے نکلا تھا یوں جیسے اسکی لاٹری نکلی تھی۔اسے پتا تھا مولوی ہر سال مختلف چیزوں سے اکٹھی ہونے والی رقم کو اپنی رقم کے طور پر گاؤں کے انہی سودخوروں کو بزنس میں سرمایہ کاری کے لیئے دیتے تھے جو سود خور غلام فرید جیسے ضرورتمندوں کو وہ رقم دیکر انہیں ساری عمر کے لیئے چوپایہ بنا دیتے ہیں۔

مولوی نے ایک ڈیڑھ ہفتہ مزید رقم کا انتظار کیا اور پھر کچھ بے صبری میں وہ نمبر گھما دیا تھا۔نمبر آف تھا۔ دو دن وقفے وقفے سے کئ بار فون کرنے پر بھی جب فون بند ملاتو مولوی غلام۔فرید کی بجائے سکول پہنچ گئے۔

اور وہاں جاکر انہیں یہ خبر ملی کہ سکول کا مالک کچھ دن پہلے سکول سے ہوکر جاچکے تھے۔۔مولوی کا پارہ اب ہائ ہوگیا تھا۔اس نے غلام فرید کو اسکے کوارٹر پر جالیااور جب غلام فرید نے انہیں ایک بار پھر وہی کہہ کر ٹرخانے کی کوشش کی تو مولوی نے اسکے جھوٹ کا پول کھول دیا کہ وہ سکول سے ہوکر آیا ہے اور سب جانتا ہے۔۔۔غلام فرید نے کہا کہ ہوسکتا ہے وہ آیا ہو اور اس دن میری چھٹی ہو اور مالک کی ملاقات مجھ سے نہیں ہوئ۔

مولوی اس پر کچھ زیادہ بھڑکے۔۔غلام فرید کو اندازہ ہوگیا کہ وہ اب مولوی سے مزید جھوٹ نہیں بول سکتا اسے اب دو ٹوک صاف صاف بات کرنی پڑی۔۔اس نے مولوی کو بتایا کہ اسے ہر مہینے اس رقم میں اپنا حصہ چاہیئے۔۔کچھ لمحوں کے لیئے مولوی کو یقین نہ آیا کہ گاؤں کا ایک کمی کمین مسجد کے امام سے کیا مطالبہ کر رہا ہے۔جب انہیں یقین آیا تو اسکے منہ سے غصہ میں جھاگ نکلنے لگا تھا۔تم اللہ کے گھر کے لیئے ملنے والے ہدیے سے اپنا حصہ مانگ رہے ہو دوزخی انسان۔۔

انہوں نے غلام فرید کو ڈرانے کی کوشش کی تھی لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ دوزخ جیسی زندگی گزار کر وہ موت کے بعد دوزخ سے کیا ڈرتا۔۔

اللہ کے گھر کے پیسے اگر اللہ کے گھر پہ لگتے تو کبھی نہ مانگتا مولوی صاحب۔۔۔اس نے بھی تن کر کہہ دیا اس سے۔۔مولوی نے اسکو دھمکایا کہ وہ سکول کے مالک سے بات کرینگے۔اور اسے سارا کچا چٹھا سنادینگے۔۔

جواباً غلام فرید نے اسے دھمکایا کہ وہ بھی سکول کے مالک کو یہ بتادے گا کہ مولوی چندے والی رقم کو خود استعمال کر رہے ہیں اور انہوں نے مسجد کے پیسوں کو ایک سود خور کو دے رکھا ہے اور وہ اسکا سود کھا رہے ہیں۔۔بلکہ وہ پورے گاؤں میں انکو بدنام کر دے گا۔مولوی کے تن بدن میں آگ لگ گئ تھی اسکا بس چلتا تو غلام فرید کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتوں کو ڈال دیتا۔۔۔وہ اسے جی بھر کے برا بھلا کہتا رہا۔اس دن مولوی نے غلام فرید کو دنیا بھر کی ہر وہ گالی دی جو اس نے کبھی بھی کسی سے سنی تھی لیکن غلام فرید ڈھٹائ سے اپنے پیلے دانتوں کیساتھ منہ کھول کر انکے سامنے ہنستا رہا۔۔

ٹھیک ہے مولوی صاحب مجھے تو کیڑے پڑے گے سانپ اور بچھو قبر میں میری لاش نوچیں گے اور مجھے مرتےوقت کلمہ بھی نصیب نہیں ہوگا۔میرے ساتھ جو بھی مرنے کے بعد ہوگا لیکن آپکے بیس ہزار تو آپکی زندگی میں بند ہوجائیں گے۔۔۔اسی مہینے سے۔۔۔میں مالک کو کہہ دیتا ہوں کہ میں نے اس لیئے آپکو پیسے نہیں دییے کیونکہ آپ تو مسجد میں پیسہ لگا ہی نہیں رہے ہیں تو سوچیں زیادہ نقصان جنتی کا ہوا یا دوزخی کا۔۔۔

سب گالم گلوچ اور لعنت ملامت کی بعد مولوی نے گھر آکر اپنی بیوی سے مشورہ کیا اور پھر اگلے دن بڑے ٹھنڈے دل و دماغ کیساتھ مولوی نے غلام فرید کیساتھ پندرہ ہزار وصول کرنے پر اتفاق کرلیا۔اور اس سے بھی بڑی اعلی ظرفی کا مظاہرہ اس نے تب کیا جب غلام فرید نے کہا کہ اس مہینے کے بیس ہزار وہ پہلے ہی خرچ کرچکا ہے۔۔یہ پچھلے چار مہینے کے پیسوں سے اسکا کمیشن تھا۔مولوی کا دل چاہا کہ اس غلام فرید نامی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کو اپنے ہاتھوں سے گاؤں کے بیچ کھیتوں میں اس طرح پھانسی پر لٹکا دے جسطرح لوگ کھیتوں میں پرندوں کو ڈرانے کے لیئے بیچا لگاتے ہیں۔مگر اسے یاد آیا کہ سال کے آخر میں اس نے اپنی بیٹی کی شادی بھی کرنی تھی اور وہ زمین بھی خریدنی تھی جسکا بیعانہ وہ کچھ دن پہلے دیکر آئے تھے۔۔۔۔

غلام فرید کو یقین نہیں آیا تھا کہ بیٹھے بٹھائے اس کو ہر ماہ تنخواہ سے کچھ ہی تھوڑی رقم ملنے لگی تھی۔اور وہ رقم اگر وہ سود والوں کو دے دیتا تو بہت جلد اسکا سود ختم ہونے والا تھا۔۔مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ مولوی سے دشمنی پال کر اس نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرلی تھی۔۔۔۔۔سود لینے سے بھی بڑی غلطی۔۔۔

******----------***********

اے لوگوں عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ۔تم نے اللہ کو گواہ بناکر اسکو خود پر حلال کیا۔اور انہیں اپنی امان میں لیا۔تمہیں اپنی عورتوں پر حقوق حاصل ہیں بلکل ویسے ہی جیسے تمہاری عورتوں کو تم پر حقوق حاصل ہیں۔۔۔ان پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ کسی ایسے شخص کیساتھ دوستی نہ کرے جسے تم پسند نہیں کرتے اور تمہاری حرمت کی نگہبانی کرے۔اور اگر وہ تمہاری فرمانبردار رہتی ہیں تو پھر یہ انکا حق ہے کہ تم انکے ساتھ اچھا سلوک کرو اور انکے نان نفقہ کی ذمہ داری اٹھاؤ۔۔۔۔

*******----------*********

احسن سعد نے تین سال کی عمر میں اپنی ماں کو اپنے باپ کے ہاتھوں پہلی بار پٹتے دیکھا تھا اس نے کوئ بے حیائ کاکام کیا تھاوہ کام کیا تھا وہ تین سال کی عمر میں جان نہ سکا۔لیکن اپنے باپ کی زبان سے بار بار ادا ہونے والا وہ لفظ اسکے ذہن پر نقش ہوگیا تھا۔

اسے یہ بھی یاد تھا کہ اسکے باپ نے اسکی ماں کے چہرے پہ دو تین تھپڑ بھی مارے تھے اسکا بازو بھی مروڑا تھا اور پھر اسے دھکا دیکر زمین پر گرا لیا تھا۔۔اسے وہ چاروں غلیظ گالیاں بھی یاد تھی۔جو اسکے باپ نے اسکی ماں کو دی تھی۔۔

وہ خوف کے مارے کمرے میں موجود صوفے کے پیچھے چھپ گیا تھا۔۔کیونکہ اسکو پہلا خیال یہ آیا تھا کہ اسکا باپ اب اسکو پٹے گا۔

اس کے باپ نے اسے چھپتے دیکھا تھا ۔مار کٹائ کے اس سین کے بعد فوراً اسکے باپ نے اسے صوفے کے پیچھے سے بڑے پیار سے نکالا تھا۔پھر اسے گود میں اٹھا کر گھر سے باہر لے گیا۔اگلے دو گھنٹے وہ باپ کیساتھ من پسند جگہوں کی سیر کرتا اور من پسند چیزیں کھاتا رہا لیکن اسکا ذہن وہی اٹکا ہوا تھا۔۔

تم تو میرے پیارے بیٹے ہو سب سے زیادہ پیارے ہو مجھے۔۔اس کا باپ ان دو گھنٹوں میں مسلسل بہلاتا رہا اسکو۔۔وہ باپ کے گلے بھی لگ جاتا اور باپ کے کہنے پر اسکو چومتا بھی لیکن وہ اس دن بہت خوفزدہ ہوا تھا۔۔

واپسی پر اس نے اپنی ماں کو معمول کے کاموں میں مصروف پایا تھا۔وہ کھانا پکا رہی تھی۔جیسے روز پکاتی تھی۔۔اسکے باپ کو چائے بنا کر دی تھی جیسے روز دیتی تھی۔مگر فرق صرف یہ تھا کہ آج انکے چہرے پہ انگلیوں کے چند نشان تھے اور انکی آنکھیں سرخ اور سوجھی ہوئ تھی۔اس دن اسکا دل ماں کے پاس سونے کو نہیں چاہا تھا۔وہ اپنی پانچ سالہ بہن کے بستر میں سونے لے لیئے گیا تھا اور بہت دیر تک سو نہ سکا۔

اگلے چند روز وہ پریشان رہا اور خاموش بھی ۔۔اسکی ماں نے اسکی خاموشی نوٹس کی یا نہیں لیکن اسکے باپ نے کی تھی۔وہ اسکا اکلوتا بیٹا تھا اسے اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھااب وہ باپ سے ہلکا سا کھنچا تھاتو اس کے لیئے اسے نظرانداز کرنا نا ممکن تھا اگلے کئ دن اسکا باپ اس پر معمول سے زیادہ توجہ دیتا رہا اسکے سارے نخرے اٹھاتا اور ہر فرمائش پوری کرتا رہا۔وہ آہستہ آہستہ نارمل ہوتا گیا اور وہ پہلی اور آخری بار ہوا تھاجب اسکے باپ نے اسکی ماں کو مارنے کے بعد اسکے اتنے نخرے اٹھائے تھے۔بعد کے سالوں میں اسکی ماں کئ بار اسکے سامنے پٹی تھی اس نے ان غلیظ گالیوں کو معمول کے الفاظ میں تبدیل ہوتے دیکھا جب بھی انکے باپ کو غصہ آتا تھا تو وہ ان الفاظ کا بے دریغ استعمال کرتا تھا۔۔اب وہ خاموش تماشائی کی طرح وہ منظر دیکھتا تھا۔اور ایسے ہر منظر کے بعد اسکا باپ اسکو شام کی سیر کے لیئے لیکر جاتا تھا اور اسے بتایا کرتا تھا کہ اللہ بے حیائ کو کتنا ناپسند کرتا ہے اور عورت سب سے زیادہ بے حیائ کے کاموں میں ملوث ہے۔اور بے حیائ کرنے والوں کو سزا دینی چاہیئے۔

پانچ سال کی عمر میں قرآن پاک کی بہت ساری آیات اسکو اسے باپ نے یاد کروائ تھی اور بے حیائ کے کاموں کی وہ فہرست بھی جس کے کرنے پر عورت کو سزا دینا واجب ہوجاتا تھا۔اور بے حیائ کے ان کاموں میں شوہر کی نافرمانی، پردے کی پابندی نہ کرنا۔کسی نامحرم سے ملنا یا بات کرنا، گھر سے اجازت کے بغیر جانا، کسی قسم کا فیشن کا سنگھار کرنا، شوہر سے اونچی آواز میں بات کرنا، کھانا دیر سے یا بدمزہ بنانا، ٹی وی دیکھنا، میوزک سننا، نماز روزے کی پابندی نہ کرنا اسکے دادا دادی کی خدمت نہ کرنا اور اس طرح کے کئ کام کام تھے جو اسے مکمل ازبر تھے۔

وہ جن قاری سے قرآن سیکھتا تھا ان سے ماں باپ کے ادب کے بارے میں احکامات بھی سنتا تھا۔خاص طور پر ماں کے حوالے سے۔۔۔

مگر وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ بے حیائ کے کام کرنے والی عورت کی وہ کیسے عزت کرسکتا تھا۔آسان تشریح اسکے باپ نے اسکو کی کہ وہ بڑا ہوکر مرد بننے والا ہے ایک ایسا مرد جو کسی بھی عورت کو بے حیائ کے کاموں پر سزا دینے کا اور گالیاں دینے کا پورا حق رکھتا ہے۔اسکا آئیڈیل اسکا باپ تھا۔ باریش داڑھی کیساتھ اسلامی شعائر پر سختی سے کاربند پانچ وقت نماز پڑھنے والا ایک بے حد خوش اخلاق نرم خو انسان اورسعادت مند بیٹا ۔۔۔۔جو زندگی کا ایک بڑا حصہ مغرب میں گزارنے کے بعد بھی ایک مثالی اور عملی مسلمان تھا وہ بھی بڑا ہوکر ویسا ہی بننا چاہتا تھا۔۔



قسط نمبر 22۔۔۔

اے لوگوں تمہارے خون تمہارے مال ایک دوسرے کے لیئے اس طرح محترم ہیں جیسے آج کا یہ دن(عرفہ کا دن) یہ مہینہ اور یہ شہر۔۔

خبردار زمانہ جاہلیت کی ہر رسم اور طریقہ آج میری قدموں کے نیچھے ہے اور جاہلیت کے خون معاف کردیئے گئے ہیں اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں سے معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ حارث کا خون ہے۔دیکھو میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا کہ پھر ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگ جاؤ۔۔

*********---------********

غلام فرید کی زندگی میں صرف چند اچھے مہینے آئے تھے۔ایسے مہینے جسمیں پہلی بار اس نے راتوں کو سکون سے سونا سیکھا تھا۔

غلام فرید بہت معصوم تھا یا شاید بہت بے وقوف ۔وہ سمجھ رہا تھا کہ اس نے زندگی میں پہلی بار کوئ بڑی کامیابی حاصل کرلی ہے۔جیسے امیر بننے کی طرف پہلا قدم اٹھایا ہے۔مولویکے ساتھ اس نے جو کچھ کیا تھا اسکے بعد کئ دن تک مولوی کی نیندیں اڑی رہی۔ بیس ہزار کی رقم بیٹھے بٹھائےپندرہ ہزار رہ گئ تھی۔اسکا صدمہ تو تھا ہی لیکن ساتھ اس بات کا اندیشہ بھی اسے ہوگیا کہ مسجد کی رقم کو سود خوری کے کاروبار میں لگانے کی خبر اگر کسی طرح گاؤں میں پھیل گئ تو اور کچھ ہو نا ہو لیکن مستقبل میں اسکے چندے بند ہوجائینگے. ۔۔۔

بدنامی کی تو خیر اسے فکر نہیں تھی وہ اگر بدنام ہو بھی جاتا تو بھی کوئ اسے مسجد کی امامےمت سے نہیں ہٹا سکتا تھا کیونکہ یہ اسکو باپ داد کی جاگیر کی طرح ورثے میں ملی تھی۔اور گاؤں والوں کو تو صحیح طرح وضو کرنا بھی نہیں آتا تھا۔وہ امام مسجد کو دینی لحاظ سے کیا جانتے۔اور اگر ہٹا بھی دیتے تو اسکی جگہ لاتے کس کو؟؟

بیوی مولوی کو سودی کاروبار میں لگائ رقم واپس لینے نہیں دے رہی تھی ۔وہ پہلا خیال تھا جو غلام فرید کی دھمکی کے بعد مولوی کو آیا تھا۔وہ جتنی جلدی ہوسکے اپنی رقم واپس لے۔تاکہ وہ غلام فرید کو جھوٹا ثابت کرسکیں۔ ۔

بیوی کا کہنا تھا اور کونسی ایسی جگہ ہے جہاں پیسہ لگانے پر پچیس فیصد منافع مل جائے۔بنک والے تو آٹھ یا نو بھی رو دھو کر دیتے ہیں۔۔بیٹیوں کے جہیز کہاں سے بنے گے ۔انکی شادی کے اخراجات کیسے پورے ہونگے ۔۔مسجد کی امامت تو تین وقت کی روٹی ہی پوری کرسکتی ہے۔مولوی کو بیوی کی باتیں سمجھ تو آرہی تھی لیکن ساتھ انکو یہ دھڑکا بھی لاحق تھا کہ کہیں کسی دن غلام فرید باقی پندرہ ہزار دینے سے انکاری نہ ہوجائے۔اور انکا حدشہ ٹھیک نکلا۔

دو ماہ بعد غلام فرید نے اہنے گھر کے کچھ ناگزیر اخراجات کی بناء پر مولوی کو رقم دینے سےمعذرت کرلی۔اور ان سے اگلے ماہ کی مہلت مانگی۔یہ وہ لمحہ تھا جب مولوی نے گالم گلوچ لعنت و ملامت نہیں کی تھی انہیں۔مولوی نے اسکو جہنم سے ڈرانے کی بجائے خود اسکی زندگی جہنم بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔انہوں نے اپنی بیوی کو بتائے بغیر گاؤں کے اس شخص سے رقم کا مطالبہ یہ کہہ کر کیا تھا کہ مسجد کی تزئین و آرائش کی لیئے فوری طور پہ ایک بڑی رقم چاہیئے اس لیئے وہ چاہتے تھے کہ اپنی رقم میں سے کچھ مسجد میں چندہ کرے جو جواب مولوی کو ملا تھا وہ اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔اس آدمی نے رقم واپس کرنے سے صاف انکار کردیا۔اسکا کہنا تھا کہ فی الحال رقم کاروبار میں لگی ہوئ ہے اور وہ اگلے دو تین سال تک اسکا منافع تو دے سکتا ہے لیکن اصل رقم واپس نہیں کرسکتا۔۔مولوی کو وہاں کھڑے کھڑے دن میں تارے نظر آنے لگے۔ اس نے پانچ لاکھ کی رقم اس آدمی کو دی ہوئ تھی۔

اس دن غلام فرید سے مولوی کی نفرت کچھ اور بڑھ گئ۔گھر جاکر انہوں نے بیوی کو یہ قصہ سنایا۔وہ بھی دل تھام کر رہ گئ مگر اس نے مولوی کو یہ کہہ کر تسلی دی ۔

چلیں مولوی صاحب دو تین سال بعد ہی سہی دے گا تو دے گا نا۔۔۔اور شکر ہے اس نے منافع دینے سے انکار نہیں کیا میں تو پہلے ہی آپکو روک رہی تھی. لیکن پتا نہیں آپکو کیا سوجھی کہ لگی لگائ روزی پہ لات مارنے چلے۔۔اسے مولوی سے یہ کہتے ہوئے یہ پتا نہیں تھا کہ یہ لگی لگائ روزی خود ہی انہیں لات مار دینے والی تھی۔۔

اگلے مہینے پھر مولوی کو غلام فرید سے پیسے نہیں ملے۔۔۔اور اس مہینے ساہوکار نے اس کو منافع کی رقم بھی نہیں دی تھی۔ایک ماہ پہلے مولوی کے رقم کے مطالبے نے جیسے اسے چوکنا کردیا تھا۔کہ وہ پارٹی ٹوٹنے والی ہے تو وہ کیوں منہ بھر بھر کے اسکو منافع کھلاتا۔۔۔اب اسکی باری تھی دیا گیا سارا منافع واپس وصول کرنے کی۔لیکن اس نے مولوی سے یہ باتیں نہیں کی۔بلکہ اس سے چھ مہینے کی مہلت مانگی اور یہ کہا تھا کہ چھ ماہ کا منافع وہ اکٹھا دے گا پھر اس پر شدید مالی بحران آیا تھا اس نے مولوی سے نا صرف دعا کی درخواست کی بلکہ کوئ قرآنی وظیفہ بھی مانگا تھا۔

مولوی کو ٹھنڈے پسینے آگئے تھے اس کی باتیں سن کر۔اور کچھ بعید نہیں کہ ہارٹ ہی فیل ہوجاتا ۔وہ لکھ پتی سے ککھ پتی بن گئے تھے وہ بھی دن دہاڑے۔۔

مولوی صاحب چپ چاپ وہاں سے تو اٹھ کر آگئے لیکن اس نے اپنے مالی نقصان کا سارا غصہ غلام فرید پہ اتارا تھا۔

انہوں نے سکول سے اسکے مالک کا نمبر لیا تھا اور پھر اسے فون کر کے غلام فرید پر جی بھر کر الزامات لگائے ۔مالک کا رد عمل فوری تھا۔وہ پہلی فرصت میں گاؤں آیا تھا اور مولوی سے ملاقات کے بعد غلام فرید کی صفائیاں اور وضاحتیں سننے کے باوجود اسے نوکری سے فارغ کردیا

غلام فرید کے سر پہ جیسے پہاڑ آگرا تھا۔صرف اسے نہیں اسکی بیوی کو بھی نکال دیا گیا تھا اور ان سے کوارٹر بھی حالی کروالیا گیا تھا۔۔

گیارہ لوگوں کا وہ خاندان چھت سے بے چھت ہوگیا تھا۔وسائل اتنے نہیں تھے کہ وہ گاؤں میں کوئ مکان کرائے پر لے لیتے ۔مولوی کے طفیل غلام فرید پورے گاؤں میں بیوی سمیت بدنام ہوگیا تھا۔وہ ایک چور تھا جس نے اللہ کے پیسوں کو بھی نہیں چھوڑا تھا۔گاؤں والوں نے مولوی کے دہرئے گئے قصے سن سن کر غلام فرید کا سوشل بائکاٹ کردیا۔غلام فرید نے بھی مولوی کے کارنامے گاؤں والوں کو بتانے کی کوشش کی لیکن ایک کمین اور چور کی بات پہ کون یقین کرتا ۔۔مولوی بری الذمہ اور معصوم قرار پایا.

پتا نہیں وہ کونسا لمحہ تھا جب غلام فرید اپنا ذہنی توازن کھونا شروع ہوا۔بھوک اور تنگدستی نے اسکا دماغ خراب کردیا۔گاؤں والوں کی باتوں اور طعنوں نے۔۔۔لڑکپن میں

داخل ہوتی بیٹیوں پر پڑتی گاؤں کے لڑکوں کی گندی نظروں اور اپنی بے بسی نے۔یا پھر ان سود خوروں کی دھمکیوں نے جو اسے سود کی قسطیں ادا نہ کرنے پر بار بار اس احاطے کے ٹوٹے دروازے کےباہر کھڑے ہوکر مار پیٹ کرتے جہاں جانوروں کے ایک باڑے کے برابر غلام فرید نے بھی لکڑی کی چھت ڈال کر وقتی طور پہ اپنے خاندان کو چھت فراہم کی تھی ۔۔

پتا نہیں کیا ہوا تھا غلام فرید کو ۔چنی ایک سال کی تھی جب غلام فرید نے ایک رات اپنے خاندان کے نو کے نو افراد کو ذبح کردیا ۔چنی واحد بچ گئ تھی۔وہ غلام فرید کو مری ہوئ لگی۔نو انسانوں کو مارنے کے بعد غلام فرید نے اپنی جان نہیں لی تھی۔وہ زندہ تھا ہی کب ۔۔خاندان کو مار دینا ہی وہ حل تھا جیسے جو ایک ان پڑھ شخص نے غربت اور قرض سے نجات کے لیئے نکالا تھا جب کوئ حل ہی باقی نہ رہا تھا۔۔

ایک سال کی چنی کو کچھ یاد نہیں تھا۔۔نہ قاتل نہ مقتول ۔۔

*********---------**********

اے لوگوں نا تو میرے بعد کوئ پیغمبر یا نبی آئے گا نہ تمہارے بعد کوئ نئ امت، میں تمہارے پاس اللہ کی کتاب اور اپنی سنت چھوڑے جارہا ہوں اگر تم ان پر عمل کروگے تو کبھی گمراہ نہ ہونگے

*******--------**********

وہ رات ہاشم مبین کی زندگی کی مشکل ترین راتوں میں سے ایک تھی۔انہوں نے ایک بھیانک خواب دیکھا تھا کچھ دیر پہلے۔مگر خواب انسان جاگتی آنکھوں سے کیسے دیکھ سکتا ہے اور خواب میں بھی انسان کی اپنی اولاد اپنے والدین کے ساتھ ایسی بے رحمی کا سلوک کیسے کر سکتی ہے۔کہ انسان ایک لمحے کے لیئے اسکے اپنی سگی اولاد ہونے پر شبہ کرے۔۔۔

وہ اسٹڈی میں بیٹھے اپنی جائداد اور بنک بیلنس اور دوسرے اثاثہ جات کی فائلز اہنے سامنے میز پر ڈھیر لیئے صرف یہ سوچ رہا تھا کہ یہ سب انکے ساتھ کیوں ہورہا تھا۔

اولاد باپ کے مرنے کے بعد ترکہ پر لڑے تو سمجھ میں آتا ہے مگر اولاد ماں باپ کی زندگی میں ہی انکے سامنے اسطرح جائداد کے حصوں اوت پائ پائ پر لڑے جیسے ماں باپ مر گئے ہو تو ماں باپ کو کونسی صلیب پر چڑھنا پڑتا ہے۔۔۔ہاشم مبین آجکل اسی صلیب پر چڑھے ہوئےتھے۔ہاشم مبین نے ساری زندگی ایک بادشاہ کی طرح گزاری تھی وہ سب پر حاوی رہے تھے اور انکی کسی بھی اولاد کی یہ مجال نہیں تھی کہ وہ اسکے سامنے سر اٹھائے۔ اور اب اسی ہاشم مبین پر وہی اولاد انگلیاں بھی اٹھا رہی تھی اور گستاخانہ باتیں بھی کر رہی تھی۔اس نے ساری زندگی اپنی اولاد کو بہترین لائف سٹائل دینے کے لیئے کئ سمجھوتے کیئے۔۔جس میں وہ صحیح اور غلط کی تمیز بھی بھول گئے۔۔کب کب اس نے ضمیر کا سودا کیا تھا وہ بھی اسے یاد آرہا تھا اور کب کب انسانیت کا اور کب اپنےمذہب کا۔

وہ بے چین ہوکر اٹھ کر کمرے میں پھرنے لگے مال و زر کا وہ ڈھیر جو اس نے اپنا مذہب بیچ اور بدل کر اکٹھا کیا تھا وہ شاید اسی قابل تھا کہ اسکی اولاد اسے لوٹ لیتی۔

اور پھر زندگی کے اس لمحے پر اسے ایک غلطی اور اس ایک غلطی کیساتھ امامہ یاد آئ۔

انہوں نے اسے ذہن سے جھٹکا۔۔پھر جھٹکا۔۔پھر جھٹکا۔۔اور پھر وہ رک گئے۔فائدہ کیا تھا اس کوشش کا. پہلے کبھی اس میں کامیاب ہوئے تھے جو آج ہوتے؟؟

کتنے سال ہوئے تھے اسے دیکھے ہوئے۔۔اس سے ملے ہوئے۔۔۔آخری بار انہوں نے اسے ہوٹل میں دیکھا تھا سالار کیساتھ۔۔اور آخری بار انہوں نے اسکی آواز کب سنی اس سے کب بات کی تھی انہیں یہ بھی یاد تھا ۔۔۔۔

یہ کیسے بھول جاتا۔۔وسیم کی موت پر۔۔

کتنے سال گزر گئے تھے ل۔انہوں نے ایک گہرا سانس لیا ۔آنکھوں میں آنے والی نمی صاف کی ۔۔پتا نہیں یہ نمی وسیم کے لیئے آئ تھی یا امامہ کے لیئے۔۔۔

آنے والے ہفتے میں سب کچھ بکنا اور بٹنا تھا۔۔یہ گھر یہ فیکٹری زمین پلاٹس اکاؤنٹس گا ڑیاں۔۔سب اثاثے۔۔۔اگر کچھ بٹنے کے قابل نہ تھا تو وہ ہاشم مبین اور اسکی بیوی تھی۔جنہیں کوئ بھی ساتھ رکھنے پر تیار نہیں تھا ۔۔۔۔

یہ وہی رات تھی جب انہوں نے ای بار امامہ سے ملنے کا سوچا تھا یہ وہی رات تھی جب انہوں نے سوچا کہ شاید انکی باقی اولاد کی طرح امامہ کو بھی جائداد میں حصہ دینا چاہیئے۔۔اور وہ یی جانتے تھے کہ وہ اس سوچ پر کبھی عمل نہیں کرسکتے ۔وہ امامہ کو اپنی جائداد کا وارث نہیں بناسکتے تھے کیونکہ اس کے لیئے اسے بہت سارے اعترافات کرنے پڑتے۔عمر کے اس حصے میں اس نے پہلی دفعہ یہ سوچا کہ وہ کچھ اعتراف کرلیں تاکہ ضمیر کا بوجھ تھوڑا کم ہو۔۔گناہ کا بوجھ گھٹانا تو اب ناممکن رہا.

*********-----***********

اور شیطان سے خبردار رہو وہ اس بات سے مایوس ہوچکا ہے کہ زمین پر اسکی پرستش کی جائے لیکن وہ اس بات پر راضی ہے کہ تمہارے درمیان فتنہ و فساد پیدا کرتا رہے اس لیئے تم اس سے اپنے دین و ایمان کی حفاظت کرو۔۔

**********-------*********

مویشیوں کے اس احاطے میں اپنے خاندان کی لاشوں کے پاس چند گھنٹے بیٹھے رہنے ک بعد غلام فرید اس رات پہلی بار جاکر جانوروں کے باڑے میں سویا تھا۔

اس کے خاندان کی لاشیں صبح سویرے دودھ لینے والے کچھ لوگوں نے دیکھی تھی اور اسکے بعد گاؤں میں کہرام مچ گیا۔غلام فرید اس کہرام کے دوران بھی جانوروں کے باڑے میں ہی چھری پاس رکھے بیٹھا اسے گھورتا رہا ۔

پورا گاؤں اس احاطے میں آگیا تھا تو لوگوں نے غلام فرید کو بھی دیکھ لیا۔اور اس خون آلود چھری کو بھی۔وہ پہلا موقع تھا جب گاؤں میں سے کوئ اسکو گالی نہ دے سکا۔ہمیشہ کی طرح وہ اس سے دہشت زدہ ہوگئے تھے۔اس کو دور دور سے دیکھ کر ایسے سرگوشیاں کر رہے تھے جیسے وہ چڑیا گھر میں رکھا ہوا پنجرے میں بند کوئ جنگلی جانور ہو۔اس دن گاؤں مین سے کسے نے نا تو اسے ماں بہن بیوی بیٹی کی فحش گالی دی تھی نا ہی کوئ طعنہ دیا تھا اور نہ ہی لعنت و ملامت ۔۔نہ ڈرایا دھمکایا گیا۔۔اور نہ اسے یاد کرایا گیا کہ اس نے اگر اس تاریخ تک سود کی قسط ادا نہ کی تو اسکے ٹکڑے کرنے کے بعد اسکی بیوی اور بیٹیوں کیساتھ کیا کیا جائے گا۔

زندگی میں پہلی بار اس دن غلام فرید نے جیسے چند لمحوں کے لیئے جانور بننے کے بعد انسان جیسا درجہ حاصل کرلیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

پولیس آنے سے قبل مولوی صاحب بھی موقع واردات پر پہنچے وہ رستے میں سن چکے تھے کہ غلام فرید نے کیا کیا تھا۔۔لیکن اسکے باوجود نو لاشوں اور اسکے درمیان بلکتی ایک بچی نے ان پر لرزہ طاری کردیا اسے لگا جیسے غلام فرید کو اللہ نے اسکے کیئے کی سزا دی ہے۔۔اس برائ پر جو اس نے مولوی کیساتھ کی تھی۔اور یہ بات وہ اگلے کئ مہینے جمعے کے خطبے میں دہراتے رہے۔اپنی مومنیت رجسٹر کروانے کا اس سے اچھا اور کونسا موقع ہوسکتا تھا۔۔

پولیس کے پہنچنے پر مولوی صاحب نے ہی انکا استقبال کیا تھا اور وہ شیطان دکھایا تھا جو پھانسی کا حقدار تھا۔اس شیطان نے کسی بھی مزاحمت کے بغیر خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔

ہاں میں نے ہی مارا ہے سب کو اور صرف اس لیئے کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ بھی ویسی زندگی جیئے جیسے غلام فرید جی رہا تھا۔میں کچھ بھی کرلیتا کسی جائز طریقے سے اپنا قرض نہیں اتار سکتا تھا۔غلام فرید نے پولیس کے سامنے اپنے اعترافی بیان میں کہا۔۔

*****-*****-------********

جان جاؤ کہ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائ ہے اور تمام مسلمان ایک امت ہے۔کسی کے لیئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائ سے کچھ لے سوائے اسکے جسے اسکا بھائ رضامندی سے دے اور اپنے نفس پر اور دوسرے پر زیادتی نہ کرو۔

********---------*********

بھوک سے روتی بلکتی اور خون میں لتھڑی ہوئ چنی کو سب سے پہلے جس نے دیکھا اس نے اسے بھی زخمی سمجھا تھا لیکن جب اسکی مدد کرنے اور اسے طبی امداد دینے کے لیئے اٹھایا گیا تو. یہ پتا چل گیا کہ وہ صحیح سلامت تھی۔گا ؤں والوں کے لیئے یہ ایک معجزہ تھا۔غلام فرید کا کوئ بھائ نہیں تھا اور بہنوں میں سے صرف ایک اس بات پر تیار ہوئ کہ وہ چنی کو انکے پاس رکھے گی۔نسیمہ کے خاندان میں کوئ بھی اس پر تیار نہیں ہوا تھا کہ وہ ایک قاتل کی بیٹی کو اپنے گھر میں پالے۔

لیکن فوری طور پر چنی کی دیکھ بھال صلہ رحمی کے جذبے کے تحت انکے ایک پرانے ہمسائے نے کرنا شروع کردی۔ چنی کو پیدائش کے بعد زندگی میں پہلی بار پیٹ بھر کر خوراک اور اچھے کپڑے اور بستر نصیب ہوا تھا اس دن۔۔جس دن اسکا خاندان قتل ہوا ۔وہ چنی جسکو کبھی ماں باپ نے غور سے نہیں دیکھا تھا اسے دیکھنے پورا گاؤں امڈ آیا۔سوائے اسکے دودھیالی اور ننھیالی خاندانوں کے۔جنہیں یہ حدشہ تھا کہ کہی یہ ذمہ داری انکے گلے نہ پڑ جائے۔۔۔غربت اتنی بڑی لعنت ہوتی ہے کہ انسان کے اندر سے خونی رشتوں اور انسانیت کے بنیادی صفات مٹادیتی ہے ۔۔

صرف غلام فرید کی ایک بہن ایسی تھی جسکے چار بچے تھے اور ان میں سے بھی تین بیٹے تو دونوں خاندانوں کا دباؤ اسی پر پڑا تھا۔۔۔صدمے اور غم سے بے حالی کی کیفیت میں وہ اپنے اکلوتے بھائ کی آخری نشانی کو اپنے پاس رکھنے پر تیار تو ہوگئ تھی۔لیکن اسکے شوہر اور سسرال والوں نے اسکا وہ صدمہ اس حادثے کے دوسرے دن ہی اپنے تیوروں اور ناراضگی سے ختم کردیا۔اس سے پہلے کہ وہ باقیوں کی طرح چنی کی ذمہ داری سے ہاتھ اٹھاتی اس علاقے میں انتظامی عہدیداران اور سیاست دانوں اور سماجی شخصیات کی آمد شروع ہوگئ۔اور جو بھی آرہا تھا وہ چنی کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے ساتھ کچھ نہ کچھ مالی امداد بھی کرتے جاتے تھے۔

مالی امداد کے لیئے دییے جانے والے چیکوں اور کیش رقومات کے سلسلے نے ایک دم چنی کے رشتہ داروں کے اندر صلہ رحمی جگا دی۔ چنی بوجھ نہیں بلکہ بوجھ ہٹانے والی تھی۔اسکا اندازہ سب کو ہوگیا۔اور یہاں سے چنی کی کفالت کے لیئے جھگڑوں کا آغاز ہوگیا۔۔

دونوں سائڈ سے پورے کے پورے خاندان والے اس ہمسایہ کے گھر دھرنا دیکر بیٹھ گئے ۔۔۔اور نوبت لڑائ تک پہنچی تو اس ہمسایہ نے پولیس کو بلوا لیا۔۔۔پولیس نے چنی کو اس ہمسایہ کی کفالت میں رینے دیا اور فریقین سے کہا کہ وہ چنی کی کسٹڈی کے لیئے عدالت سے رجوع کرے تب تک بچی اسی گھر میں رہیگی۔۔

چنی کو اپنے پاس رکھنے والے ہمسایہ نے اس کے لیئے ملنے والی نقد رقومات کو چنی پر خرچ کرنے کے بہانے کھل کر خرچ کرنا شروع کردیا۔جیسے وہ ایک بہتی گنگا تھی جس میں ہر کوئ ہاتھ دھو رہا تھا۔

کیش رقوم کا وہ سلسلہ بہت جلد ختم ہوگیا۔لوگوں کی ہمدردیاں اسکی یاداشتوں کےساتھ کم ہوتی گئ۔۔اور پھر ایک وقت آیا جب چنی ہمسایوں کے لیئے ایک بوجھ بن گئ تھی۔۔سرکاری امداد کا وہ چیک جسکو استعمال کرنے پر فی الحال پابندی تھی اور وہ صرف اسکو مل سکتا تھا جسے چنی کی کسٹڈی ملتی اور وہ اسکے رشتہ داروں میں ہی کسی کو ملنا تھی۔سو اس سے پہلے کہ عدالت کیس کا فیصلہ کرتی ہمسائے چنی کے سب سے بڑے ماموں کو کچھ رقم کے عوض چنی تھما گئے تھے اور ساتھ انہوں نے عدالت میں بیان بھی دیا کہ چنی اسی ماموں کے گھر سب سے زیادہ اچھی پرورش پاسکتی ہے ۔۔

تین مہینے بعد تمام رشتہ داروں کی آہ و بکا کے باوجود چنی کا وہ ماموں چنی کی کسٹڈی اور دس لاکھ روپے کی رقم کا چیک عدالت سے حاصل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا

سونے کی چڑیاں اب ماموں کے سر پر بیٹھ گئ تھی اس سے پہلے ایک ریڑھا چلا کر پھل سبزیاں ادھر سے اُدھر ڈھوتا تھا دس لاکھ سے اس نے فوراً زمین کا ایک ٹکڑا خرید کر کاشتکاری کا آغاز کردیا ۔چنی کی اسطرح ناز برداری یہاں نہیں کی گئ جیسی وقتی طور پہ سہی لیکن اس کے ہمسایہ نے کی تھی۔

ماموں کے بچوں نے زندگی میں پہلی بار اپنے باپ کے پاس اتنا پیسہ دیکھا تھا جس سے وہ انہیں سب کچھ لیکر دے سکتا تھا۔اللہ نے معجزاتی طور پر انکی زندگی بدل دی تھی لیکن اس معجزے کا سہرا کوئ بھی چنی کے سر باندھنے کو تیار نہیں تھا۔چنی کی صحیح خوش قسمتی کا آغاز اس دن ہوا تھا جب چنی کے خاندان کیساتھ ہونے والے حادثے کے تقریباً چھ مہینے کے بعد سکول کا مالک چنی کو دیکھنے آیا تھا۔جہاں غلام فرید کام کرتا تھا اور ایک سزا کے طور پر نکالے جانے نے چنی سے اسکا خاندان چھین لیا تھا۔

*********-------*********

تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے بنے تھے ۔کسی عرب کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئ فضیلت نہیں مگر تقوٰی کے۔اور اپنے غلاموں کا خیال رکھو جو تم کھاؤ اس میں سے انکو کھلاؤ اور جو تم پہنو اسی میں سے انکو پہناؤ اور اگر وہ ایسی خطا کرے جو تم معاف نہ کرنا چاہو تو انہیں فروخت کردو لیکن کوئ سزا مت دو۔۔

************&&*******

بیرونی گیٹ ھمیشہ کی طرح گھر میں کام کرنے والی میڈ نے کھولا تھا۔سالار نے ابھی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولا ہی تھا جب ہر روز کی طرح لان میں کھیلتے اسکے دونوں بچے بھاگتے ہوئے اس کے پاس آگئے تھے۔ چار سالہ جبریل پہلے پہنچا تھا ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اس نے اپنے بیٹے کا چہرہ چوما تھا وہ پسینے میں شرابور تھا۔

السلام علیکم۔۔گاڑی میں پڑے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر اس نے جبریل کا ماتھا اور چہرہ صاف کیا ۔۔دو سالہ عنایہ ہانپتی کانپتی شور مچاتی گرتی پڑتی اسکے پاس آگئ تھی۔۔اس نے ھمیشہ کیطرح اسے گود میں لیا تھا بہے زور سے اسےبھینچنے کیبعد اس نے باری باری بیٹی کے دونوں گال چومے ۔جبریل تب تک گاڑی کا دروازہ بند کرچکا تھا۔

اس نے عنایہ کو نیچے اتار دیا۔وہ دونوں باپ سے ملنے کی بعد دوبارہ لان میں بھاگ گئے تھے۔وہ کچھ دیر کھڑا اپنے بچوں کو دیکھتا رہا پھر گاڑی کے پچھلے حصے سے اپنا بریف کیس اور جیکٹ نکالتے ہوئے وہ گھر کے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔۔

امامہ تب تک اسکے استقبال کے لیئے دروازے تک آچکی تھی۔دونوں کی نظریں ملی تھی۔وہ اسکے پاس آتی ہوئ مسکرائ۔۔

تم جلدی آگئے آج۔؟؟

اس نے ھمیشہ کی طرح اسے گلے لگاتے ہوئے کہا ۔۔ہاں آج زیادہ کام نہیں تھا۔

تو ڈھونڈ لیتے۔۔وہ اسکے ہاتھ سے جیکٹ لیکر ہنسی۔۔وہ جواب دینے کی بجائے مسکرایا۔

وہ اس کے لیئے پانی لے آئی۔

تمہاری طبیعت ٹھیک ہے/؟وہ اسکے ہاتھ میں پکڑی ٹرے سے گلاس اٹھا رہا تھا۔جب امامہ نے اچانک پوچھا تھا۔اس نے چونک کر اسکی شکل دیکھی۔

ہاں۔۔بلکل۔۔کیوں؟؟

نہیں مجھے تھکے ہوئے لگے ہو اس لیئے پوچھ رہی ہوں۔۔سالار نے جواب دینے کی بجائے گلاس منہ سے لگایا وہ ٹرے لیکر چلی گئ۔۔

کپڑے تبدیل کر کے وہ سٹنگ ایریا میں آگیا تھا۔ کانگو کا موسم اسے کبھی پسند نہیں رہا تھا اسکی وجہ وہ بارش تھی جو کسی بھی وقت شروع ہو سکتی تھی اور اب بھی شاید کچھ دیر میں پھر شروع ہونے والی تھی۔

چائے۔۔۔۔وہ امامہ کی آواز پر باہر لان میں دیکھتے ہوئے بے اختیار پلٹا ۔وہ ایک ٹرے میں چائے کے دو مگ اور ایک پلیٹ میں چند بسکٹ لیئے کھڑی تھی۔۔۔

تھینکس۔۔۔وہ مگ اور ایک بسکٹ اٹھاتے ہوئے مسکرایا ۔۔۔

باہر چلتے ہیں بچوں کےپاس۔۔وہ باہر جاتے ہوئے بولی۔

میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں کسی کال کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔

وہ سر ہلاتے ہوئے باہر چلی گئ۔۔چند منٹوں بعد اس نے امامہ کو لان میں نمودار ہوتے دیکھا تھا۔لان کے ایک کونے میں پڑی کرسی پر بیٹھتے وہ کھڑکی میں سالار کو دیکھ کر مسکرائ تھی۔ وہ بھی جواباً مسکرادیا تھا۔۔۔

امامہ اب مکمل طور پر بچوں کی طرف متوجہ تھی۔۔چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے دائیں کندھے پر پڑی شال سے اپنے جسم کا وہ حصہ چھپائے جہاں ایک نئ زندگی پرورش پارہی تھی ۔انکے ہاں تیسرے بچے کی آمد متوقع تھی۔

سا لار کے ہاتھ میں پکڑی چائے ٹھنڈی ہوچکی تھی۔ایک گہری سانس لیکر اس نے مگ پاس پڑے ٹیبل پر رکھ لیا۔

امامہ کا اندازہ ٹھیک تھا وہ ٹھیک نہیں تھا۔وہ کھڑکی سے باہر نظر آنے والی ایک خوش حال فیملی دیکھ رہا تھا ایک فرفیکٹ لائف اور اسکے بچوں کے بچپن کے قیمتی لمحے،، اپنے اندر ایک اور ننھا وجود لیئے اسکی بیوی کا مطمئن اور مسرور چہرہ۔۔

چند پیپرز کو پھاڑ کر پھینک دینے سے زندگی ایسی ہی خوبصورت رہ سکتی تھی۔۔

وہ ایک لمحے کے لیئے بری طرح کمزور پڑا تھا۔اولاد اور بیوی واقعی انسان کی آزمائش ہوتے ہیں.

اسکا فون بجنے لگا تھا۔۔ایک گہرا سانس لیکر اس نے فون کرنے والے کی آئ وی دیکھی۔کال ریسیو کرتے ہوئے اسے اندازہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت وہ دوسری طرف کس سے بات کرنے والا تھا اسے اپنی فیملی کی زندگی اور استعفیٰ میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا تھا۔۔۔

*********------*******--*

خوب سن لو۔۔اپنے پروردگار کی عبادت کرو۔پانچ وقت کی نماز قائم کرو۔رمضان کے روزے رکھو۔اپنے مال کی زکواۃ خوشی سے ادا کرو ۔۔اپنے حاکم کی اطاعت کرو ۔۔چاہے وہ ایک ناک کٹا حبشی ہی کیوں نا ہو۔۔اور اس طرح اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ۔۔۔

افریقہ کا دوسرا سب سے بڑا ملک کانگو پچھلی کئ دہائیوں سے دنیا میں صرف پانچ چیزوں کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا۔

خانہ جنگی۔۔۔۔جس میں اب تک پینتالیس لاکھ لوگ جان گنوا چکے تھے۔۔۔۔غربت کے لحاظ سے یو این کے اکنامک اینڈکٹر میں کانگو یو این کے 188ممالک کی فہرست میں 187ویں نمبر پہ تھا۔۔معدنی وسائل کے ذخائر کے لحاظ سے کانگو دنیا کا امیر ترین ملک تھا۔۔گھنے جنگلات سے بھرا ہوا اور پگمیز یعنی پستہ قامت سیاہ فام لوگ کانگو کے ان جنگلات میں صدیوں سے پائ جانے والی انسانوں کی ایک ایسی نسل جو مہذب زمانے کے واحد غلام جنہیں غلام بنانا قانوناً جائز تھا۔۔ورلڈ بنک نے یو این کی خوراک کے عالمی ادارے کیساتھ ملکر کانگو میں ان جنگلات کی تباہی کے ایک عظیم الشان پراجیکٹ کا آغاز کیا۔۔

سالار سکندر جس وقت اس پراجیکٹ کے ہیڈ کے طور پر کانگو پہنچا تو اس منصوبے کو تین سال گزر چکے تھے۔۔اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ ورلڈ بنک اسے کسطرح استعمال کرنے والا تھا لیکن اسے یہ اندازہ بہت جلد ہوگیا تھا ایباکا سے ملاقات کے بعد۔۔۔

********---------********

پیٹرس ایباکا سے سالار کی پہلی ملاقات بڑے ڈرامائ انداز میں ہوئ تھی۔اسے کانگو میں آئے تقریباً ایک سال ہونے والا تھا جب لاموکو نامی جگہ کو اپنی ٹیم کیساتھ وزٹ کرتے ہوئے پیٹرس ایباکا تقریباً دو درجن کے قریب پگمیز کیساتھ اچانک وہاں آگیا تھا گارڈز نے ایباکا اور اسکے گروپ کو یکدم نمودار ہوتے دیکھ کر حواس باختگی کے عالم میں بے دریغ فائرنگ شروع کردی۔

سالار نے دو پگمیز کو زخمی ہوکر گرتے دیکھا اور باقیوں کو درختوں کی اوٹ میں چھپتے اور پھر بلند آواز میں ایباکا کو کسی درخت کی اوٹ سے انگریزی زبان میں یہ پکارتے سنا تھا کہ وہ حملہ کرنے نہیں آئے بات کرنے آئے ہیں ۔سالار اس وقت اپنی گاڑی کی اوٹ میں تھا سب سے پہلے اس نے ایباکا کی پکار سنی۔۔چند لمحوں کے لیئے وہ حیران رہ گیا تھا کسی پگمیز کا انگریزی بولنا۔۔یقیناً حیران کن تھا لیکن اس سے زیادہ حیران کن اسکا امریکی لب و لہجہ تھا جس میں ایباکا چلا چلا کر کہہ رہا تھا کہ اسے ان سے بات کرنی ہے وہصرف ملنا چاہتا ہے اسکے پاس کوئ ہتھیار نہیں۔۔

سالار نے گارڈز سے کہا کہ وہ اس پکارنے والے آدمی سے بات کرنا چاہتا ہے فائرنگ بند کردیں۔۔کیونکہ دوسری طرف سے نہ تو فائرنگ ہورہی اور نہ ہی کسی ہتھیار کا استعمال۔۔۔۔۔

اسکے گارڈز کچھ دیر تک اس سے بحث کرتے رہے اور اس بحث کو ختم کرنے کا واحد حل سالار نے نکالا تھا۔۔جو اس کی زندگی کی سب سے بڑی بے وقوفی ثابت ہوسکتی تھی۔اگر دوسرا گروپ واقعی مسلح ہوتا وہ یکدم زمین سے اٹھ کر گاڑی کی اوٹ سے باہر نکل آیا تھا اسکے گارڈز پگمیز کی اچانک آمد پر اتنے حواس باختہ نہیں ہوئے تھے جتنے اسکے بلکل اس طرح سامنے آجانے سے ہوئے تھے۔ سالار انکی حواس باختگی سمجھ سکتا تھا یہ پاکستان نہیں تھا بلکہ خانہ جنگی کا شکار کانگو تھا ۔۔جہاں کسی کی جان لینا مچھر کے برابر تھا۔۔۔

فائرنگ اب بند ہوگئ تھی اسکی تقلید میں اسکے گارڈز بھی باہر نکل آئے تھے۔فائرنگ کے تھمتے ہی ایباکا بھی نکل آیا تھا۔سالار نے چلا کر گارڈز کو گولی چلانے سے منع کیا۔پھر وہ اس ساڑھے چار فٹ قد کے بے حد سیاہچپٹی ناک والے اور موٹی سیاہ آنکھوں والے آدمی کی طرف متوجہ ہوا۔۔جو اپنے ساتھیوں کے برعکس جینز اور شرٹ میں تھا۔ان ننگے پاؤں والے پگمیز کے درمیان جاگرز پہنے وہ عجیب سا لگ رہا تھا۔۔

پیٹرس ایباکا ۔۔۔اس پستہ قامت شخص نے آگے بڑھتے ہوئے سالار سے اپنا تعارف کرواتے ہوئے سالار سے ہاتھ ملانے کے لیئے ہاتھ بڑھایاجسے تھامنے سے پہلے سالار نے بڑے نپے تلے انداز میں اسکا سر سے پاؤں تک جائزہ لیا ۔۔وہ ابھی تک یہی سمجھ رہا تھا کہ وی بھی ان مفلوک الحال لوگوں میں ہوگا جو ملکیوں کی گاڑیاں سامنے آنے پر امداد کے لیئے انکے سامنے آجاتے ہیں ۔۔سالار بھی ایباکا سے کسی ایسی ہی ڈیمانڈ کا انتظار کررہا تھا۔لیکن جواباً ایباکا کی زبان سے اپنا نام سن کر حیران رہ گیا۔۔اس نے ایباکا سے اپنا تعارف نہیں کرایا تھا تو پھر وہ اسے کیسے جانتا تھا۔وہ ایباکا سے یہ سوال کیئے بنا نہ رہ سکا۔اس نے بتایا کہ وہ اسکے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے لوموکا مین ہونے والے وزٹ کے بارے میں بھی، اسے بنک کے آفس میں کام کرنےوالے کسی مقامی آدمی نے بتایا تھا جس نے ایباکا کی سرتوڑ کوششوں کے باوجود سالار سے ملاقات کے لیئے اپوائنمنٹ کے حصول میں مدد سے انکار کردیا تھا۔وی سالار کے آفس نمبرز پر روزانہ ڈھیروں کالز کرتا تھا۔ویب سائٹ پر موجود اسکی ای میل پر اس نے سینکڑوں ای میلز کی تھی۔جنکا جواب ہر بار صرف موصولی ہی کا آیا تھا۔فون کالز ریسیو کرنے والے سالار کے عملے کے افراد اسکی ملاقات کا مقصد جان کر اسے بڑے نارمل انداز میں ٹال دیتے تھے۔اسکی گفتگو سنتے ہوئے سالار اسکے بیان و زبان سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔یہ ناقابل یقین بات تھی لیکن اسکے بعد سالار نے جو کچھ سنا تھا اس نے اسکے چودہ طبق روشن کردیئے تھے ۔۔پیٹرس ایباکا ہاورڈ بزنس اسکول کا گریجویٹ اور وال سٹریٹ میں جے پی مارگن گروپ کیساتھ پانچ سال کام کرنے کی بعد کانگو آیا تھا۔۔

اپنے والٹ سے نکالے ہوئے کچھ ویزٹنگ کارڈز اس نے سالار کی طرف بڑھادیئے۔۔اس نے بے حد بے یقینی سے اسے پکڑا تھا ۔کانگو کے جنگلات میں تیروں اور نیزوں سے شکار کر کے بھوک مٹانے والا جنگلی ہاورڈ سکول تک کیسے پہنچ گیا اور پھر وہ جے پی مارگن گروپ کے ساتھ منسلک رہنا ۔۔تو پھر وہ یہاں کیا کررہا تھا۔۔

اس سوال کا جواب ایباکا نے سالار سکندر کو اسکے آفس میں دوسرے دن اپنی دوسری ملاقات میں کاغذات کے ایک انبار کیساتھ دیا تھا جو وہ اس ملاقات میں سالار سکندر کو دینے آیا تھا۔۔

ایباکا کا دس سال کی عمر میں لوموکا میں ایک بچے کے طور پر ایک مشنری سے متعارف ہوا تھا جو اسے اپنے ساتھ کانگو کے جنگلات میں وہاں کےلوگوں کیساتھ رابطہ اور کمیونیکیشن کے لیئےساتھ لیئے پھرتا رہا اور پھر اسےاس حد تک اس بچے سے لگاؤ ہوگیا کہ بیماری کی وجہ سے کانگو چھوڑنے پر وہ ایباکا کو بھی اپنے ساتھ امریکہ لے گیا تھا جہاں اس نے اسے پیٹریس کا نام دیا ۔

ایک نیا مذہب بھی،،، لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ اس نے ایباکا کو تعلیم دلوائی۔۔ایباکا بے حد ذہین تھا اور رپورنڈ جانسن نے اسکی ذہانت کو جانچ لیا۔وہ ایباکا کو اسکے بعد ہر سال کانگو لاتا رہا جہاں ایباکا کا خاندان اسی طرح جی رہا تھا۔دس سالہ ایباکا نے اگلے پچیس سال امریکہ میں گزارے مگر اسکے بعد وہ امریکہ چھوڑ آیا تھا

وہ اپنے لوگوں کےپاس رہنا چاہتا تھا۔کیونکہ انہیں اس کی ضرورت تھی اور انہیں اسکی ضرورت اس لیئے تھی کیونکہ ورلڈ بنک سے ہونے والے تعاون سے بہت سے منصوبوں میں سے ایک منصوبہ جنگل کے اس حصے میں شروع ہوگیا تھا۔۔جہاں ایباکا کا قبیلہ آباد تھا۔اسکا خاندان اور اس سے بڑھ کر وہ دس ہزار لوگ جو جنگل کے اس حصے سے بے دخل کیئے جارہے تھے۔جسمیں وہ صدیوں سے رہ رہے تھے۔جنگل کٹنے جارہا تھا وہ ساری زمین صاف ہوتی پھر وہاں اس معدنیات کی تلاش شروع ہوتی جو اس منصوبے کا دوسرا حصہ تھا۔اور ایباکا کا مسلہ اسکا اپنا خاندان نہیں تھا۔اسکا مسلہ وہ پورا جنگلات کا حصہ تھا جو اب جگہ جگہ زونز بنا کر کاٹا جارہا تھا۔

ہم پانچ لاکھ لوگ ہیں لیکن یہ جنگل تو کانگو کے ساڑھے تین کروڑ لوگوں کو روزگار دے رہا ہے ۔ورلڈ بنک ٹمبر انڈسٹری کو معاونت دے رہا ہے کیونکہ اس سے ہماری غربت ختم ہوگی جب جنگل ہی غائب ہوکر یورپ اور امریکہ کی فیکٹریز اور شورومز میں مہنگے داموں بکنے والی لکڑی کی اشیاء میں تبدیل ہوجائیں گی تو کانگو کے لوگ کیا کرینگے۔تم لوگ ہم سے وہ بھی چھیننا چاہتے ہو جو اللہ نے ہمیں دیا ہے۔اگر ہم ویسٹ میں ان سے سب کچھ چھیننے پہنچ جائےتو تمہیں کیسا لگے گا۔؟؟ایباکا نے اپنا کیس بہت تہذیب سے پیش کیا تھا۔

سالار کے پاس اسکے سوالوں کے رٹے رٹائے جوابات تھے اس پراجیکٹ کی طرح کانگو میں ہونے والی اور بہت سی پراجیکٹس کی تفصیلات اسکی انگلیوں پر تھی وہ وہاں ورلڈ بنک کا کنٹری ہیڈ تھا۔مگر ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ پیٹرس ایباکا کے انکشافات اور سوالات اسے پریشان کرنے لگے تھے بہت کچھ ایسا تھا جو اسکی ناک کے نیچے ہورہا تھا لیکن اسکو پتا نہیں تھالیکن وہ اس سب کا حصہ دار تھا۔کیونکہ وہ سب کچھ اسی کے دستخطوں سے منظور ہورہا تھا۔

ایباکا لے فائلوں کے انبار وہ کئ ہفتوں تک پڑھتا رہا۔کئ ہفتے وہ اپنے آپ سے جنگ کرتا رہا۔۔ورلڈ بنک کی ایما پر وہاں ایسی کمپنیوں کو لکڑی استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئ تھی جنکا ٹریک ریکارڈ افریقہ کے دوسرے بہت سے ممالک میں اسی حوالے سے قابل اعتراض رہا تھا۔لکڑی کٹ رہی تھی جنگل صاف ہورہا تھا آبادی بے دخل ہورہی تھی اور جن شرائط پر ان کمپنیز کو لائسنس دیا گیا تھاوہ ان شرائط کو بھی پورا نہیں کر رہی تھی انہیں لکڑی کے عوض اس علاقے کے لوگوں کی معاشی حالت سدھارنے کا فریضہ دیا گیا تھا۔اور وہ کمپنیاں کروڑوں ڈالرز کی لکڑی لے جانے کے عوض چند عارضی نوعیت کے سکول اور ڈسپنسریز لوگوں کو فراہم کر رہی تھی ۔خوراک خشک دودھ نمک اور مسالا جات کی شکل میں دی جارہی تھی۔۔اور یہ سب ورلڈ بنک آفیشلز کے نگرانی کے باوجود ہورہا تھا کیونکہ پگمیز کو اس ملک میں اچھوت کا درجہ حاصل تھا۔وہ ان کمپنیز کے خلاف عدالت نہیں جاسکتے تھے۔اگلے دو ماہ سالار کو ایباکا کیساتھ انفرادی حیثیت میں ان جگہوں کو خود جاکر دیکھنے میں لگے جنکے بارے میں ایباکا نے اسے دستاویزات دی تھی۔۔اور پھر اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ دستاویزات اور ان میں پائ جانے والی معلومات بلکل ٹھیک تھی۔ضمیر کا فیصلہ بہت آسان تھا۔جو کچھ ہورہا تھا غلط ہورہا تھا۔وہ اسکا حصہ نہیں بننا چاہتا تھا۔لیکن مشکل یہ تھی کہ اب وہ کیا کرے۔ایک استعفی دیکر اس ساری صورت حال کو اسی طرح چھوڑ کر نکل جاتا یا وہ وہاں پر ہونے والی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کرتا۔جو کچھ ورلڈ بنک وہاں کر رہا تھا۔وہ انسانیت کی دھجیاں اڑانے کے برابر تھا۔

قسط نمبر 23......

افریقہ میں ایباکا سے ملنے کے بعد زندگی میں پہلی بار سالار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خطبے کے ان الفاظ کو سمجھا تھا کہ کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئ سبقت نہیں۔۔وہ ھمیشہ ان الفاظ کو صرف ذات برادری اور اونچ نیچ کے حوالے سے دیکھتا رہا تھا۔وہ اس سیاہ فام آبادی کا استحصال دیکھ رہا تھا جو دنیا کے ایک بڑے خطے پر بستی تھی۔اور پھر اس گوری آبادی کی ذہنی پسماندگی کی ہوس کو دیکھ رہا تھا جسکا وہ بھی حصہ تھا۔اسے خوف محسوس ہوا۔کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری الفاظ آنے والے زمانوں کے حوالے سے اسی سیاہ فام آبادی کے حوالے سے پیش گوئی کی گئ تھی۔یا کوئ تنبیہ جسے صرف سفید فام لوگ ہی نہیں مسلمان بھی نظر انداز کییے ہوئے تھے۔صدیوں پہلے غلامی کا جو طوق سیاہ فاموں سے ہٹایا گیا تھا اکیسوی صدی کے مہذب زمانے میں افریقہ میں استعماریت نے وہ طوق ایک بار پھر اسکے گلوں میں ڈال دیا تھا۔۔

انہیں سیاہ فام لوگوں میں ایک ایباکا بھی تھا جو امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں اپنی زندگی کے پچیس سال گزارنے کے بعد بھی وہاں سے اس سیاہ دور میں لوٹ آیا تھا صرف اپنے لوگوں کی بقاء کے لیئے۔ بقاء کے لفظ کا مفہوم سالار نے ایباکا سے سیکھا تھا اور اسکے لیئے کیا کیا قربان کیا جاسکتا ہے وہ ابھی اس سے سیکھ رہا تھا۔وہ اگر سالار سکندر کو متاثر کر رہا تھا تو وہ کسی کو بھی متاثر کر سکتا تھا۔۔

وہ دنیا کے دو ذہین ترین انسانوں کا آمنا سامنا تھا یہ کیسے ممکن تھا ایک متاثر ہوتا اور دوسرا نہیں ہوتا۔۔

سالار سکندر۔۔میں زندگی میں تم سے زیادہ قابل اور ذہین انسان سے نہیں ملا۔سالار مسکرا کر رہ گیا۔۔

میں خود انٹرنیشنل آرگنائزیشنز میں کام کر چکا ہوں اور ان میں کام کرنے والے مختلف افراد سے مل چکا ہوں لیکن تم ان سب میں سے مختلف ہو اور مجھے یقین ہے تم میری مدد کروگے۔۔

تعریف کا شکریہ۔۔۔لیکن اگر تم اس خوشامد کا سہارا لیکر میری مدد چاہتے ہو اور تمہارا خیال ہے کہ میں تمہارے منہ سے یہ سب سننے کے بعد آنکھیں بند کر کے تمہاری خاطر اس صلیب پر چڑھ جاؤں گا تو میرے بارے میں تمہارا اندازہ غلط ہے۔میں جو کچھ بھی کروں گا سوچ سمجھ کے کروں گا۔۔

ایباکا کی اس فیاضانہ تعریف کو خوشامد قرار دینے کے باوجود سالار جانتا تھا ایباکا کو اسکی شکل میں ایک مسیحا مل گیا ہے۔مسیحا بھی وہ جو ورلڈ بنک میں کام کرنے کے باوجود اپنا ضمیر زبرستی بے ہوش تو کرسکتا تھا سلا نہیں سکتا تھا۔۔

تمہارا سینس آف ہیومر بہت اچھا ہے۔۔ایباکا نے مسکراتے ہوئے کہا۔یہ چیز مجھ میں نہیں پائ جاتی۔

سالار نے ترکی بہ ترکی کہا۔۔۔اور جس صورت حال میں تم مجھے ڈال بیٹھے ہو اس کے بعد تو کئ سالوں بھی اسکے پیدا ہونے کے کوئ امکانات نہیں۔۔۔

میں بہت سارے مسلمانوں کیساتھ پڑھتا رہا ہوں کام کرتا رہا ہوں ملتا رہا ہوں مگر تم ان سے مختلف ہو۔۔وہ عجیب تبصرہ تھا۔

میں کسطرح مختلف ہوں۔۔سالار پوچھے بغیر نہ رہ سکا۔

تم ایک اچھے مسلمان ہونے کیساتھ ایک اچھے انسان بھی ہو۔جن سے میرا واسطہ پڑا تھا وہ یا تو اچھے مسلمان تھے یا اچھے انسان۔۔۔

سالار کچھ دیر بول نہ سکا۔۔بولنے کے قابل ہی کہاں چھوڑا تھا اسے افریقہ کے اس بے دین انسان نے۔

اچھا مسلمان تمہاری نظر میں کیا ہے؟؟ سالار نے بہت دیر خاموش رہنے کی بعد پوچھا۔

تمہیں میری بات بری تو نہیں لگی۔۔۔ایباکا ایک دم محتاط ہوگیا۔

نہیں مجھے تمہاری بات انٹرسٹنگ لگی۔مگر تمہاری زبان سے ادا ہونے والا یہ پہلا جملہ تھا جس میں تمہاری کم علمی جھلکی۔۔

اس بار ایباکا الجھا۔۔وہ مذہب ڈسکس کرنے نہیں بیٹھے تھے وہاں لیکن مذہب ڈسکس ہورہا تھا۔

اچھا مسلمان؟؟ جو باعمل ہو ساری عبادات کرتا ہے پورک نہیں کھاتا شراب نہیں پیتا نائٹ کلب نہیں جاتا میرے نزدیک وہ ایک اچھا مسلمان ہے جیسے ایک اچھا عیسائی یا ایک اچھا یہودی۔۔۔

ایباکا کو اندازہ نہیں تھا وہ اپنی کم علمی میں جو باتیں کر رہا تھا وہ سالار کو شرمسار کرنے کے لیئے کافی تھیں۔۔ایباکا اسے اچھا مسلمان بھی مان رہا تھا اور اچھا انسان بھی لیکن کیا وی اس معیار پہ پورا اترتا تھا۔۔۔۔

ریونڈ جانسن کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ سالار نے بے ساختہ کہا۔

ویل۔۔۔ایباکا کہہ کر مسکرایا تھا انکے مجھ پر بہت احسانات ہیں لیکن وہ کبھی میرے آئڈیل نہ بن سکے۔۔۔

کیوں؟؟ وہ سوال و جواب سالار کو عجیب لطف دے رہے تھے۔

انکے احسانوں کی ایک قیمت تھی وہ مجھے کرسچن بنانا چاہتے تھے جب میں نے وہ مذہب اپنا لیا تو انہوں نے وہ سارے احسانات ایک کرسچن بچے پر کیئے۔ایک انسان کے طور پہ ایک انسان سمجھ کر تو اس نے میرے لیئے کچھ نہیں کی۔ مذہب کسی کے دل و دماغ میں زبردستی نہیں ڈالا جاسکتا ۔

میں نے تھوڑا بہت سب مذاہب کا مطالعہ کیا لیکن پتہ نہیں کیوں جو انسان ان مذاہب کا پیروکار ہوجاتا ہے وہ اپنی اچھائیاں کھو بیٹھتا ہے ۔تمہیں لگ رہا ہوگا میں فلاسفر ہوں۔

ایباکا کو بات کرتے کرتے احساس ہوا تھا۔سالار بہت دیر سے خاموش تھا۔

نہیں اتنا فلاسفر تو میں بھی ہوں۔۔سالار نے مسکرا کر کہا۔۔تم امریکہ سے یہاں واپس کیسے آگئے۔سالار نے اس سے وہ سوال کیا جو اسے اکثر الجھاتا تھا۔

ایک چیز جو میں نے ریونڈ جانسن سے سیکھی تھی وہ اپنے لوگوں کے لیئے ایثار تھا اپنی ذات سے آگے کسی دوسرے کے لئے سوچنا۔امریکہ بہت اچھا تھا وہاں میرا مستقبل تھا۔لیکن صرف میرا مستقبل تھا۔میری قوم کے لیئے کچھ نہیں تھا۔میں کانگو میں کچھ اور بننے کا خواب لیکر آیا ہوں۔ایباکا کہہ رہا تھا۔

اور وہ کیا؟؟ سالار کو پھر تجسس ہوا۔

کانگو کا صدر بننے کا۔۔۔۔۔۔۔سالار کے چہرے پر مسکراہٹ آئ۔

تم ہنسے نہیں؟؟ ایباکا نے جواباً کہا تھا۔۔

تم نے ایسی کوئ بات نہیں کی جس پہ میں ہنس پڑوں۔ہارورڈ سکول سے پڑھنے کے بعد تمہیں اتنے ہی بڑے خواب دیکھنے چاہیئے۔۔ایباکا اسکی بات پر مسکرا دیا تھا۔۔

وہ مہینے سالار کے لیئے بے حد پریشانی کے تھے۔۔کیا کرنا چاہیئے اور کیا کر سکتا تھا کے درمیان فاصلہ تھا۔ ۔۔وہ ایباکا کی مدد نہ بھی کرتا تب بھی وہ جتنی جنفشانی سے اپنی حقوق کی جنگ لڑ رہا تھا سالار کو یقین تھا جلد یا بدیر ورلڈ بنک کے چہرے پر کالک ملنے والا ایک بڑا سکینڈل سامنے آنے والا ہے ۔حفاظتی اقدامات کا وقت اب گزر چکا تھا پیٹرس ایباکا صرف کنگالا یا سواحلی بولنے والی ایک پگمی نہ تھا جسے کانگو کے جنگلات تک محدود کیا جاسکتا ہے۔وہ امریکہ میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ گزارنے والا شخص تھا جسکے کانٹیکٹس تھے اگرچہ وہ اس وقت اس کے کام نہیں آرہے تھے لیکن اس سے وہ کمزور نہیں پڑا تھا بلکہ زیادہ طاقتور بن کر ابھرا تھا۔وہ نہ صرف پگمیز بلکہ بانٹو قبیلے کی آواز بھی بن چکا تھا جنکا انحصار جنگلات پہ تھا۔۔

اگلا کوئ قدم اٹھانے سے پہلے ہی ایباکا کیساتھ اسکا میل جول ان لوگوں کی نظروں میں آگیا تھا جنکے مفادات ورلڈ بنک کے ذریعے پورے ہورہے تھے۔سالار پہ نظر رکھی جانے لگی تھی اس سے پہلے کے اس کے خلاف کوئ کاروائ ہوتی انگلینڈ کے ایک اخبار نے ایباکا کی فراہم کی گئ معلومات کی تحقیق کرنے کے بعد کانگو کے پگمیز اور ورلڈ بنک کے کانگو بارانی جنگلات میں ہونے والے پراجیکٹس کے بارے میں ایک کور سٹوری کی تھی۔جس میں ورلڈ بنک کے کردار کے حولے سے بہت سارے اعتراضات اٹھائے گئے تھے۔

واشنگٹن میں ورلڈ بنک کے ہیڈ کوارٹر میں جیسے ہلچل مچ گئ۔ورلڈ میڈیا میں اس معاملے کی رپورٹنگ اور کوریج کو دبانے کی کوشش کی گئ مگراس سے پہلے ہی یورپ اور ایشیاء کے بہت سارے ممالک کے ممتاز اخبارات اس آرٹیکل کو ری پرنٹ کرچکے تھے اور ورلڈ بنک میں وہ ہلچل اس وقت عروج پر پہنچی جب سالار سکندر کی طرف سے ہیڈ آفس کو کانگو میں چلنے والے ان ہراجیکٹس کے حوالے سے ایک تفصیلی ای میل کی گئ۔۔اور یہی وہ وقت تھا جب سالار کو نامعلوم ذرائع سے دھمکیاں ملنے کا آغاز ہوا۔ وہ پراجیکٹس جو ان چلانے والی کمپنیوں کو اربوں ڈالرز کی آمدنی دے رہے تھے بنک کے اپنے کنٹری ہیڈ کی مخالفت کا باعث بنتے تو وہ کمپنیز اور انکے پیچھے کھڑی بین الاقوامی خاموش طاقتیں خاموش تماشائی تو نہ بنے رہتے۔کوئ عام صورت حال ہوتی تو اس وقت تک سالار سے استعفی لیکر اسے بڑے ہتک آمیز طریقے سے ملازمت سے فارغ کیا جاچکا ہوتا۔مگر اس وقت اسکا استعفی انٹرنیشنل میڈیا کے تجس کو ابھار دیتا۔

ای میل کا جواب سالار کو ایک تنبیہ کی شکل میں دیا گیا تھا جوسادہ الفاظ میں خاموش ہوجانے کی تاکید کی تھی۔

بنک نے نہ صرف اس ای میل میں ہونے والے اسکے تجزیہ کو ناپسند کیا تھا بلکہ پیٹرس ایباکا کی فراہم کردہ معلومات پر گارڈین میں شائع ہونے والی کور سٹوری کا ملبہ بھی اسکے سر پر ڈالتے ہوئے اسے ایباکا اور اس کور سٹوری میں استعمال ہونے والی معلومات کا ذریعہ قرار دیا گیا ۔۔۔۔

یہ الزام سالار سکندر کے فروفیشنل کام پر ایک دھبہ تھا۔پیٹرس ایباکا سے ہمدردی رکھنے متاثر ہونے اور میل جول رکھنے کے باوجود سالار نے اسے بنک کے کسی انفارمیشن یا دستاویزات کی بات بھی نہیں کی تھی۔ایباکا نے ساری معلومات کہاں سے لی تھی وہ ایباکا کے علاوہ اور کوئ نہیں جانتا تھا۔ اس تنبیہ کے جواب میں سالار نے بنک کو اپنے استعفی کی پیشکش کی تھی۔اسے اب یہ محسوس ہوا کہ اسے مانیٹر کیا جاتا تھا۔اسکی فون کالز ٹیپ ہورہی تھی۔اور اسکی اس میلز ہیل ہورہی تھی۔دنوں میں اسکی آفس کا ماحول تبدیل ہوگیا تھا ۔۔اس نے بنک کی ناراضی اور ہدایات کے باوجود ایباکا سے نہ تو اپنا میل جول ختم کیا نہ ہی رابطہ۔۔۔

استعفی کی پیشکش کیساتھ اس نے بنک کو کانگو میں میں چلنے والے جنگلات پراجیکٹ کے خلاف اپنی تفصیلی رپورٹ بھی بھیجی تھی جو سالار کی اپنی معلومات تھی۔اور توقع کے مطابق انہیں واشنگٹن طلب کرلیا گیا تھا۔

امامہ کو اس ساری صورت حال کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔وہ امید سے تھی اور سالار اسے اس ٹینشن کا حصہ دار نہیں بنانا چاہتا تھا جس سے وہ گزر رہا تھا۔۔۔وہ صرف ایباکا اورااسکے جدوجہد کے بارے میں جانتی تھی۔

امامہ کو صحیح معنوں میں تشویش تب ہوئ جب اس نے میڈیا میں سالار سکندر کا نام بھی نمودار ہوتے دیکھا جسکے بارے میں میڈیا کہہ رہا تھا کہ وہ اس پراجیکٹ کے حوالے سے ہیڈ آفس کو اختلافی رپورٹ دے چکا تھا۔

اور انہی حالات میں اچانک واشنگٹن سے اسکا بلاوا آگیا تھا اور یہ وہ وزٹ تھا جس پر امامہ نے آخر اس سے پوچھ ہی لیا۔

سب کچھ ٹھیک ہے سالار؟؟ وہ اس رات سالار کی پیکنگ کر رہی تھی۔جب اس نے اچانک پوچھا۔۔وہ وپنا بریف کیس تیار کر رہا تھا۔

ہاں یار۔۔۔تم کیوں پوچھ رہی ہو؟؟ سالار نے جواباً اس سے پوچھا۔

تم واشنگٹن کیوں جارہے ہو؟؟ وہ اہنے خدشوں کو کسی مناسب سوال کی شکل میں نہ ڈھال سکی۔

میٹنگ ہے۔۔اور میں تو اکثر آتا جاتا رہتا ہوں اس بار تم اسطرح سوال کیوں کر رہی ہو۔اس نے اپنا بریف کیس بند کر کے امامہ سے کہا۔

پہلے کبھی تم اتنے پریشان نہیں لگے۔

نہیں۔۔۔ایسی کوئ بڑی پریشانی نہیں ہے۔بس شاید یہ ہوگا کہ مجھے اپنی جاب چھوڑنی پڑے گی۔امامہ کے کندھے ہر ہاتھ رکھ کر اس نے ممکنہ حد تک اپنا لہجہ نارمل رکھنے کی کوشش کی۔اس بار بھونچکا ہونے کی باری امامہ کی تھی۔

جاب چھوڑنی پڑے گی؟؟ تم تو اپنی جاب سے بہت خوش تھے۔۔وہ حیران نہ ہوتی تو کیا ہوتی۔

تھا۔۔۔۔لیکن اب نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔سالار نے مختصراً کہا ۔۔کچھ مسلے ہیں تمہیں آکر بتاؤں گا تم اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا ۔۔کہاں ہیں دونوں؟؟

سالار نے بات بڑی سہولت سے بدل دی تھی۔ایک لمحہ اسے خیال آیا کہ ان حالات میں اسے اہنے بچوں اور امامہ کو کنشاسا میں اکیلا چھوڑ کر نہیں جانا چاہیئے۔لیکن حل کیا تھا اسکے پاس۔امامہ کی پریگنینسی کے آخری مراحل چل رہے تھے ۔وہ ہوائ جہاز کا سفر نہیں کر سکتی تھی۔۔

تم اپنا اور بچوں کا خیال رکھنا۔میں صرف تین دن کے لیئے جارہا ہوں جلدی واپس آؤں گا۔وہ اب بچوں کے کمرے میں سوئے ہوئے جبریل اور عنایہ کو پیار کر رہا تھا۔اسکی فلائٹ چند گھنٹوں بعد تھی۔

ملازمہ کو اپنے پاس گھر پہ رکھنا میری غیر موجودگی میں۔۔اس نے امامہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہا۔

تم ہماری فکر مت کرو تین دن کی ہی تو بات ہے تم صرف اپنی میٹنگ کو دیکھو آئی ہوف وہ ٹھیک رہے. امامہ کو اس وقت تشویش اس میٹنگ کی تھی۔

اسے آدھے گھنٹے میں نکلنا تھا اسکا سامان پیک تھا۔وہ دونوں چائے کا ایک آخری کپ پینے کے لیئے لاؤنج میں ساتھ بیٹھے تھے۔اور اس وقت چائے کا پہلا گھونٹ پینے سے پہلے سالار نے اس سے کہا۔

میں تم سے محبت کرتا ہوں اور ھمیشہ کرتا رہوں گا۔۔۔

امامہ اپنی چائے اٹھاتے ہوئے ٹھٹکی پھر ہنسی ۔۔۔

آج بہت عرصہ بعد تم کہی جانے سے پہلے ایسی کوئ بات کہی ہے ۔۔خیریت ہے۔؟؟

وہ اب اسکا ہاتھ تھپک رہی تھی۔سالار نے مسکرا کر چائے کا کپ اٹھا لیا۔

ہاں خیریت ہے لیکن تمہیں اکیلا چھوڑ کر جارہا ہوں اس لیئے فکرمند ہوں۔۔۔۔۔

اکیلی تو نہیں ہوں میں۔۔۔۔جبریل اور عنایہ میرے ساتھ ہے تم پریشان مت ہونا۔۔۔۔۔

سالار چائے کا گھونٹ بھرتا رہا امامہ بھی چائے پینے لگی۔لیکن اسے یہ محسوس ہوا جیسے وہ اس سے کچھ کہنا چاہتا تھا۔۔۔

تم مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہو؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔۔وہ چائے پیتے ہوئے چونکا پھر مسکرایا۔۔

وہ ھمیشہ اسے بوجھ لیتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں لیکن ابھی نہیں کروں گا واپس آکر کروں گا۔۔۔اس نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا۔

مجھے تمہاری یی عادت سخت ناپسند ہے۔۔۔۔۔۔ہر دفعہ کہی جاتے ہوئے مجھے الجھا جاتے ہو میں سوچتی رہوں گی کہ پتا نہیں کیا اعتراف کرنا ہے۔۔

امامہ نے ھمیشہ کی طرح برا مانا تھا اور اسکا گلہ غلط نہیں تھا ۔وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا تھا ۔اور جان بوجھ کر کرتا تھا۔۔

اچھا دوبارہ کبھی نہیں کروں گا ۔۔وہ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔اس کے جانے کا وقت ہورہا تھا۔۔بازو پھیلائے وہ ہمیشہ کی طرح جانے سے پہلے امامہ سے آخری بار مل رہا تھا۔۔ہمیشہ کی طرح گرمجوش معانقہ۔

آئ ویل مس یو۔۔جلدی آنا۔۔وہ ہمیشہ کی طرح جذباتی ہوئ تھی اور وہی کلمات دہرائے تھے۔۔جو وہ ہمیشہ دہراتی تھی۔

پورچ میں کھڑے ایک آخری بار اسکو خدا حافظ کہنے کے لیئے اس نے الوداعیہ انداز میں سالار کی گاڑی کے چلتے ہی ہاتھ ملایا تھا۔۔گاڑی تیز رفتاری سے طویل پورچ کو عبور کرتے ہوئے کھلے ہوئے گیٹ سے باہر نکل گئ۔امامہ کو لگا تھا وقت اور زندگی دونوں تھم گئے تھے۔۔وہ جب کہی چلا جاتا وہ اسی کیفیت سے دوچار ہوتی ۔۔۔۔

*********----------*******

وہ اس وقت نیویارک میں تھی۔اسکے ہاں پہلا بچہ ہونے والا تھا۔وہ سات وی آسمان پر تھی کیونکہ جنت اسکے پیروں کے نیچے آنے والی تھی نعمتیں ہی تھی کہ گنی نہیں جارہی تھی تیسرا مہینہ تھا اسکی پریگنینسی کا جب سالار نے ایک رات اسے نیند سے جگا دیا تھا۔وہ سمجھ نہیں پائ تھی کہ سالار نے اسے نیند سے جگا کر کیا بتانے کی کوشش کی تھی۔اور یہی کیفیت سالار کی بھی تھی اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔کہ وہ اسے کن الفاظ میں اتنے بڑے نقصان کی اطلاع دے۔اس سے پہلے سکندر اور وہ یہی ڈسکس کر رہے تھے۔کہ امامہ کو اطلاع دینی چاہیئے یا اس حالت میں اس سے یہ خبر چھپانی چاہیئے۔۔

سکندر کا خیال تھا کہ امامہ کو ابھی نہیں بتانا چاہئیے لیکن سالار کا فیصلہ تھا کہ وہ اس سے اتنی بڑی خبر چھپا کر ساری عمر کے لیئے اسے کسی رنج میں مبتلا نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔وہ وسیم سے ویسے بھی رابطے میں تھی۔اسے ویسے بھی ایک آدھ دن میں اطلاع مل جاتی۔وہ دونوں قادیانوں کی ایک عبادت گاہ پر ہونے والی فائرنگ میں درجنوں دوسرے لوگوں کی طرح مارے گئے تھےاور امامہ چند گھنٹوں پہلے یہ نیوز دیکھ چکی تھی وہ اس جانی نقصان پر رنجیدہ بھی ہوئ تھی۔ایک انسان کے طور پر۔مگر اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان لوگوں میں اسکے دو اتنے قریبی لوگ بھی شامل ہوسکتے ہیں۔۔اسے شبہ ہوتا بھی کیسے۔۔وہ اسلام آباد کی عبادت گا ہ نہیں تھی کسی اور شہر کی تھی سعد اور وسیم وہاں کیسے جاسکتے ہیں۔اور وسیم تو اپنی عبادت گاہ بھی بہت کم جاتا تھا۔۔۔بے یقینی اس لیئے بھی تھی کیونکہ ایک ہفتہ بعد وہ اور سعد نیویارک آنے والے تھے وہ دس سال بعد سعد سے مل رہی تھی ۔۔۔بے یقینی اس لیئے بھی تھی کیونکہ وسیم نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اہنے عقائد سے تائب ہوجائے گا۔اور وہ سعد کو بھی سمجھائے گا جو اس سے زیادہ کٹر تھا اپنے عقائد میں ۔ ۔۔ایک دن پہلے تو اس نے وسیم سے بات کی تھی۔۔۔

اور سالار۔۔۔وہ کیا کہہ رہا تھا ۔۔۔کیا وہ پاگل ہوگیا تھا۔یا وہ کوئ ڈراؤنا خواب دیکھ رہی تھی۔

وہ صبر نہیں تھا۔۔وہ شاک بھی نہیں تھا۔۔وہ بے یقینی تھی۔۔سالار کو اندازہ تھا مگر وہ یہ نہیں سمجھ رہا تھا کہ اسے اس انکشاف کے بعد اس سے کیسے نکالے۔۔۔

وہ کئ گھنٹے گم صم آنسو بہائے بغیر سالار کے کسی سوال اور بات کا جواب دیئے بغیر ایک بت کی طرح وہی بستر پہ بیٹھی رہی یوں جیسے انسان نہیں برف کی سل بن گئ تھی۔۔اسکی حالت کو دیکھ کر سالار کو شدید پچھتاوا ہوا ۔کہ اس نے سکندر کی بات نہ مان کر غلطی کردی ہے۔۔سالار اپنے ڈاکٹر کزن کو بلا لایا تھا گھر پر ہی اسے دیکھنے۔۔۔

اسکے بعد کیا ہوا تھا امامہ کو ٹھیک سے یاد نہیں۔۔سالار کو لمحہ لمحہ یاد تھا۔وہ کئ ہفتے اس نے اسے پاگل پن کی سرحد پر جاتے اور وہاں سے پلٹتے دیکھا۔وہ چپ ہوتی تو کئ کئ دن چپ رہتی روتی تو گھنٹوں روتی سوتی تو پورا دن اور رات آنکھیں نہیں کھولتی اور جاگتی تو دو دو دن بستر پر چند لمحوں کے لیئے بھی لیٹے بغیر لاؤنج سے بیڈروم اور بیڈروم سے لاؤنج کے چکر کاٹتے کاٹتے اپنے پاؤں سجالیتی۔۔۔یہ صرف ایک معجزہ تھا کہ اسکی ذہنی حالت اور کیفیت میں بھی جبریل کو کچھ نہیں ہوا تھا وہ جیسے یہ فراموش ہی کر بیٹھی تھی کہ اسکے اندر ایک اور زندگی پرورش پارہی تھی۔۔۔

اور وہشت جب کچھ کم ہوئ تو اس نے سالار سے پاکستان جانے کا کہا۔اسے اپنے گھر جانا تھا ۔۔سالار نے اس سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ وہ کس گھر کو اپنا گھر کہہ رہی ہے ۔۔اس نے خاموشی سے دو سیٹیں بک کروالی تھی۔۔۔۔

مجھے اسلام آباد جانا ہے۔اس نے سالار کے پوچھنے پر کہا تو اس نے بحث نہیں کی تھی۔اگر اسکے گھر والوں سے ملاقات اسکو نارمل کردیتی تو وہ اس ملاقات کے لیئے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا

ہاشم مبین انکے ہمسائے تھے۔انکے گھر آنے والی قیامت سے سالار کا خاندان بے خبر نہیں تھا۔۔مذہب کا فرق تھا۔۔خاندانی اختلافات تھے دشمنی تھی لیکن اسکے باوجود انکی یہ خواہش کبھی نہ تھی کہ ہاشم مبین کیساتھ ایسا ہوتا۔۔بڑھاپے میں دو بیٹوں کی موت کیسا صدمہ تھا سکندر اندازہ کرسکتے تھے۔۔وہ خود باپ تھے۔انہوں نے ہاشم مبین کے گھر جا کر ان سے تعزیت کی تھی ۔۔اس صدمے میں بھی بہت سرد مہری سے ہاشم مبین نے اسکی تعزیت قبول کی تھی

سکندر کو امید نہیں تھی کہ وہ امامہ سے ملیں گے اس نے سالار سے اپنی خدشات کا اظہار ضرور کیا تھا لیکن امامہ کو جس حالت میں انہوں نے دیکھا تھا وہ سالار کو ایک کوشش کرنے سے روک نہ سکے تھے۔۔انہیں امامہ کو دیکھ کر دلی رنج ہوا۔۔ہاشم مبین نے نہ صرف فون پر سکندر سے بات کرنے سے انکار کیا تھا بلکہ سالار کو گھر پر گیٹ سے اندر جانے نہیں دیا۔سکندر اور وہ دونوں مایوسی کے عالم میں واپس آگئے۔امامہ کی سمجھ میں اسکی مایوسی اور بے بسی نہ آسکی تھی۔

سالار اسکے سامنے بے بس تھا لیکن پہلی بار اس نے امامہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔۔

تمہیں اگر اپنے گھر جانا ہے تو پہلے اپنے باپ سے بات کرلو وہ اجازت دے تو پھر میں تمہارے ساتھ چلوں گا۔لیکن میں تمہیں بغیر اجازت کے وہاں گیٹ پر گارڈز کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے لیئے نہیں بھیج سکتا۔۔

اسکے رونے اور گڑگڑانے کے باوجود سالار نہیں پگھلا تھا۔امامہ نے اپنے باپ سے فون پر بات کر کے اجازت لے لی تھی۔مگر اس فون کال نے سب کچھ بدل دیا۔جو چیز سالار اسے نہیں سمجھا سکا تھا وہ ہاشم مبین نے اسکو سمجھا دی تھی۔

یی جو کچھ ہوا ہے تمہاری وجہ سے ہوا ہے تم جن لوگوں کیساتھ بیٹھی ہو انہی لوگوں نے جان لی ہے میرے دونوں بیٹوں کی۔اور تم اب میرے گھر آنا چاہتی ہو۔قاتلوں کیساتھ میرے گھر آنا چاہتی ہو۔وہ ہذیانی انداز میں چلاتے اور گالیاں دیتے رہے۔۔

تم لوگ۔۔۔اور ہم لوگ۔۔فرق کتنا بڑا تھا امامہ کو یاد آگیا تھا۔ہاشم مبین کی مزید کوئ بات سننے اس نے فون بند کردیا۔اسکے بعد وہ بلک بلک کر روئ تھی۔اس گھر میں صرف وسیم اسکا تھااور وسیم جاچکا تھا۔

وہ سالار کیساتھ واپس نیو یارک آگئ تھی۔۔وہ سمجھ رہا تھا وہ نارمل ہوگئ تھی آہستہ آہستہ ٹھیک ہوجائے گی۔لیکن ایسا نہ ہوا وہاں کی تنہائ نے امامہ کے اعصاب کو مفلوج کرنا شروع کیا۔سالار پی ایچ ڈی کر رہا تھا اور ساتھ ہی ایک آرگنائزیشن میں پارٹ ٹائم کام کرتا تھا۔وہ صبح پانچ بجے گھر سے نکلتا تھااور رات کو آٹھ نو بجے اسکی واپسی ہوتی تھی اور وہ واپسی پہ اتنا تھکا ہوا ہوتا تھا کہ ایک دو گھنٹہ ٹی وی دیکھ کر کھانا کھا کر سو جاتا ۔۔امامہ بارہ چودہ گھنٹے ایک بیڈروم کے آٹھویں منزل کے اس اپارٹمنٹ میں بلکل تنہا ہوتی تھی۔۔۔وسیم اسکے ذہن سے نہیں نکلتا تھا وہ روز اپنے فون میں موجود اسکے اور اپنے میسجز کو جو سینکڑوں کی تعداد میں ہوتے پڑھنا شروع کردیتی اور پھر گھنٹوں اسی میں گزار دیتی ۔۔تسلی دلاسا اور دل جوئ کے لیئے سالار جو کر سکتا تھا کرچکا تھا۔

وہ صبح سویرے گھر سے اسکے بارے میں سوچتے ہوئے نکلتا اور رات کو جب گھر واپس آتا تو بھی اسی کے بارے میں سوچ رہا ہوتا۔امامہ کی ذہنی کیفیت نے جیسے اسکے اعصاب شل کرنا شروع کردیئے۔جبریل کی پیدائش میں ابھی بہت وقت تھا۔اور وہ اسے اس جہنم سے نکالنا چاہتا تھا۔جس میں وہ ہر وقت نظر آتی تھی۔

سائکاٹرسٹ اسکی پریگنینسی کی وجہ سے اسکو تیز دوائیاں نہیں دے رہے تھے۔

اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے سے پہلے ہی ایک رات امامہ نے کہا تھا۔۔۔۔۔

مجھے پاکستان جانا ہے۔

کیوں؟؟ سالار کو اپنا سوال خود بے تکا لگا۔

پھر اس نے جو کہا تھا اس نے سالار کا دماغ بھک سے اڑا دیا۔

کل میں نے وسیم کو دیکھا ۔۔وہاں کچن کاؤنٹر کے پاس وہ پانی پی رہا تھا۔۔۔بات کرتے ہوئے اسکی آواز بھرائ

مجھے لگتا ہے میں کچھ عرصہ اور یہاں رہوں گی تو پاگل یوجاؤں گی۔یا شاید ہونا شروع ہوچکی ہوں اور میں ایسا نہیں چاہتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے، ہم واپس چلے جاتے ہیں مجھے صرف چند ہفتے دے دو سب کچھ وائنڈ اپ کرنے کے لیئے۔۔سالار نے لمحوں میں فیصلہ کیا تھا۔اسکا چہرہ دیکھتے ہوئے امامہ نے نفی میں سر ہلایا۔

تم پی ایچ ڈی کر رہے ہو۔ تم کیسے جاسکتے ہو میرے ساتھ۔۔

میں پی ایچ ڈی چھوڑ دوں گا۔۔ڈاکٹریٹ کی ڈگری ضروری نہیں تم اور تمہاری زندگی ضروری ہے۔۔۔۔۔سالار نے جواباً کہا۔۔۔۔

کچھ کہنے کی کوشش میں امامہ کی آواز بھرائ وہ کہہ نہ پائ اس نے دوبارہ بولنے کی کوشش کی اور اس بار وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔

نہیں تم ساتھ نہیں آؤ گے۔۔یہ کیوں ضروری ہے کہ ساری زندگی تم قربانیاں ہی دیتے رہو میرے لیئے۔۔۔اب پی ایچ ڈی چھوڑ دو۔۔۔اپنا کیرئیر چھوڑو۔۔تمہاری زندگی ہے۔ قیمتی ہے تمہارا وقت تم کیوں اپنی زندگی کے اتنے قیمتی سال میرے لیئے ضائع کرو۔۔۔

سالار نے کچھ کہنے کی کوشش کی کوئ اور موقع ہوتا تو اسکا یہ اعتراف اسکو خوشی دیتا لیکن اب اسے تکلیف دے رہی تھی۔۔وہ روتے ہوئے اسی طرح کہہ رہی تھی۔ ۔۔۔آئی ایم ناٹ سیوٹیبل فار یو۔۔۔۔جتنا سوچتی ہوں مجھے یہی احساس ہوتا ہے تمہارا ایک برائٹ فیوچر ہے لیکن میرا وجود تمہاری ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہے۔مجھے احساس جرم ہوتا ہے ۔

وہ چپ چاپ اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا وہ رو رہی تھی اور بول رہی تھی۔میں تم سے بہت شرمندہ ہوں لیکن میں بے بس ہوں میں کوشش کے باوجود بھی اپنے آپ کو نارمل نہیں رکھ پاتی۔۔۔۔اور اب۔۔۔وسیم کو دیکھنے کے بعد تو میں اور بھی.۔۔۔۔۔۔اور بھی۔۔۔۔۔۔وہ بولتے بولتے رک گئ۔۔صرف اسکے آنسو اور ہچکیاں نہیں تھمی تھی۔۔۔

سالار تم بہت اچھے انسان ہو بہت اچھے ہو تم بہت قابل ہو۔۔۔۔۔تم مجھ سے بہتر عورت ڈیزرو کرتے ہو میں نہیں ۔۔ تمہیں ایسی عورت ملنی چاہیئے جو تمہارے جیسی ہو۔۔تمہیں زندگی میں آگے بڑھنے میں سپورٹ کرے میری طرح تمہارے پاؤں کی بیڑی نہ بنے۔۔

اور یہ سب کچھ تم آج کہہ رہی ہو جب ھم اپنا پہلا بچہ ایکسپکٹ کر رہے ہیں؟؟

مجھے لگتا ہے یہ بچہ بھی مر جائے گا۔ اس نے عجیب بات کہی تھی۔۔۔سالار نے اسکا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی اس نے ہاتھ چھڑا لیا۔۔۔

تم کیوں اس طرح سوچ رہی ہو ۔۔اسے کچھ نہیں ہوگا. سالار پتا نہیں کس کو تسلی دینا چاہتا تھا۔ لیکن اس وقت امامہ سے زیادہ اسکی حالت قابل رحم ہو رہی تھی۔۔

تم بس مجھے پاکستان بھیج دو۔۔ امامہ نے اسکی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔۔۔اس نے ایک بار پھر وہی مطالبہ دہرایا تھا۔

میں تمہیں اسلام آباد نہیں بھیجوں گا۔۔سالار نے دو ٹوک انداز میں کہا۔

مجھے وہاں جانا بھی نہیں۔۔۔میں سعیدہ اماں کے پاس رہ لوں گی۔وہ اسکی بات پر حیران ہوا تھا۔سعیدہ اماں نہیں تم ڈاکٹر صاحب کے پاس چلی جاؤ اگر وہاں رہنے پر تیار ہو تو میں تمہیں بھیج دیتا ہوں۔۔سالار نے کچھ سوچ کر کہا۔

ٹھیک ہے مجھے انہی کے پاس بھیج دو۔۔۔وہ تیار ہوگئ تھی۔۔۔

اگر تم وہاں جاکر خوش رہ سکتی ہو تو ٹھیک ہے ۔۔واپس کب آؤ گی؟؟

وہ خاموش رہی۔۔۔

واپس آجانا۔۔۔اسکی لمبی خاموشی کو سالار نے مختصر زبان دی تھی۔۔مشورہ نہیں تھا۔منت تھی۔خواہش نہیں تھی بے بسی تھی۔۔۔امامہ نے اسکی بات خاموشی سے سن کر خاموشی سے ہی اسکا جواب دیا۔

وہ ایک ہفتہ بعد پاکستان واپس چلی آئ تھی اور جیسے کسی قید سے چھوٹ آئ تھی۔وہ واپس نہ آنے کے لیئے جارہی تھی سالار کو اسکا احساس اسکی ہر ہر حرکت سے ہو رہا تھا۔لیکن وہ پھر بھی اسے جانے دینا چاہتا تھا۔اگر دوری سے وہ صحتیاب ہوسکتی تھی تو دور ہوجائے لیکن وہ ٹھیک ہوجائے۔۔۔چار مہینے اور گزرتے تو اسکی اولاد دنیا میں آجاتی۔اور وی اسکی بقا بھی چاہتا تھا اور ہمت بھی اپنی جانتا تھا جو آہستہ آہستہ ختم ہو رہی تھی۔وہ ڈپریشن امامہ کے وجود سے جیسے اسکے وجود میں داخل ہونے لگا تھا۔۔۔

جس شام اسکی فلائٹ تھی وہ ایک بار پھر دل گرفتہ ہورہا تھا اسے لگا اب وہ گھر ٹوٹنے والا تھا جسے اس نے بہت مشکل سے بنایا تھا۔۔امامہ بھی خاموش تھی لیکن پتا نہیں کیوں سالار کو وہ پرسکون لگی۔۔پر سکون مطمئن۔۔خوش۔۔وہ اسکے چہرے کی کتاب پر اس دن یہ نہیں پڑھنا چاہتا تھا۔۔

مت جاؤ۔۔۔۔۔وہ ٹیکسی کے آنے پر اسکا بیگ اٹھا کر لاؤنج میں لے آیا تھا۔۔وہ اپنا ہینڈ کیری کھینچتے ہوئے اسکے پیچھے آئ تھی۔۔اور وہ بھی دوسرے سامان کی طرح سالار کو تھمانے کی کوشش کی جب سالار نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔اس نے خلاف توقع ہاتھ نہیں کھینچا تھا بس ہاتھ اسکے ہاتھ میں رہنے دیا تھا۔۔بہت دیر سالار اسکا ہاتھ یوں ہی پکڑے رہا تھا پھر اس نے بہت دل گرفتگی سے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا تھا۔وہ لمس امامہ کیساتھ آیا تھا۔اس قید سے آزاد ہونے کے بعد بھی اسے بے قرار کرتا تھا۔وہ کئ سال بعد ایک دفعہ پھر ڈاکٹر سبط علی کے گھر پناہ لینے آئ تھی۔اور اس بار بھی پناہ مل گئ۔ڈاکٹر صاحب اور اسکی بیوی اسکی ذہنی حالت سے واقف تھے۔کچھ دنوں کے لیئے امامہ نے یوں محسوس کیا تھا جیسے وہ کسی قید تنہائی سے نکل آئ تھی۔مگر یہ کیفیت بھی وقتی تھی۔سکون یہاں بھی نہیں تھا۔۔۔سالار اسے روز فون کرتا تھا کبھی وہ ریسیو کرلیتی اور کبھی نہیں۔۔۔کبھی وہ اس سے لمبی بات کرتی کبھی مختصر۔۔

پتہ نہیں کتنے دن تھے جو اس نے اسی طرح گزارے ۔

نہر کے کنارے اونچے لمبے درخت ہوا سے ہلتے تو انکے پتوں سے سورج کی کرنیں چھن چھن کر نہر کے پانی پر پڑتی لحظہ بھر کے لیئے اسے روشن کرتی غائب ہوتی۔۔۔

بس ایک لمحہ تھا جب اس نے سوچا کہ اسے اس پانی میں اترنا چاہئیے۔۔اس سے پہلے کہ وہ قدم اٹھاتی کسی عورت کی آواز پر ٹھٹک گئ تھی۔۔۔

یہ ذرا گھٹا تو بندھوا دے میرے ساتھ بٹیا۔۔

وہ ایک ستر اسی سالہ بوڑھی عورت تھی۔جو ایندھن کے لیئے وہاں درختوں کی خشک لکڑیاں چننے کے بعد اسے ایک چادر نما کپڑے میں باندھ رہی تھی۔۔اس نے کچھ کہے بنا نہر کے کنارے سے ہٹتے ہوئے اسکی طرف قدم بڑھا دیے۔۔گھٹا اتنا بڑا تھا کہ اسے یقین نہیں تھا کہ وہ اسکو اپنے سر پر اٹھا لے گی لیکن اس نے امامہ کی مدد سے وہ گھٹا بڑی آرام سے سر پر اٹھا لیا۔۔

ذرا میری بکری کی رسی مجھے پکڑانا۔۔امامہ کو تامل ہوا لیکن پھر اس نے جاکر تھوڑی بہت جد و جہد کے بعد اس بکری کی رسی پکڑ ہی لی تھی۔

آپ چلیں میں ساتھ چلتی ہوں۔۔کہاں جانا ہے آپکو۔۔

بس یہ یہاں آگے ہی جانا ہے سڑک کے دوسری طرف۔بوڑھی عورت نے سڑک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے بتایا ۔۔

امامہ بکری کی رسی کھینچتی ہوئ چپ چاہ اسکے پیچھے چل پڑی۔

سڑک پار کرتے ہی امامہ کو دس بیس کے قریب وہ جھگیاں نظر آگئ جنہیں اماں اپنا گھر کہتی تھی۔وہ کچھ تامل کے بعد ایسی ہی ایک جھگی میں اماں کے پیچھے چلتی ہوئ داخل ہوئ۔

اس نے احاطے کے ایک کونے میں سر پر لادا ہوا گھٹرا اتار پھینکا تھا ۔۔ایک چولہے پر مٹی کی ایک ہنڈیا چڑھی ہوئ تھی۔وہاں ایک آسودہ سی حرارت تھی جیسے وہ کسی گرم آغوش میں آگئ تھی۔

اری تو کھڑی کیوں ہے اب تک۔۔بیٹھ کر دم تو لے۔میری خاطر کتنا چلنا پڑ گیا تجھے۔میں نے کہا بھی تھا میں لے جاتی ہوں بکری کو میرا تو روز کا کام ہے۔ پر تُو تو شہر کی کُڑی ہے تجھ سے کہاں ہوتی ہے کوئ مشقت۔۔۔

اس نے کچھ فاصلے ہر ہڑی چوکی کو اسکی طرف کھسکایا۔

میں بھی مشقت ہی کاٹتی آئ ہوں اماں۔۔یہ مشقت تو کچھ بھی نہیں۔۔۔

امامہ اس سے کہتے ہوئے آگے بڑھ آئ تھی۔۔وہ بوڑھی عورت ہنس پڑی۔۔۔

بس مجھے مشقت نہیں لگتی۔۔۔تجھے لگتی ہے۔۔یہی تو فرق ہے۔۔

امامہ اسکا چہرہ دیکھنے لگی وہ اس حلیے اور اس جگہ رہنے والی عورت سے ایسی بات کی توقع نہیں رکھتی تھی۔

آدمی کیا کرتا ہے تیرا؟؟ وہ اماں کے اس سوال پر اچانک چونکی۔۔۔

کیا کرتا ہے؟؟ اس نے جیسے یاد کرنے کی کوشش کی۔۔کام کرتا ہے۔

کیا کام کرتا ہے۔۔اماں نے پھر پوچھا۔۔

باہر کام کرتا ہے۔۔وہ بڑبڑائ۔۔

پردیس میں ہے؟ بوڑھی عورت نے پوچھا۔

ہاں۔۔۔وہ اسی طرح ساگ کو دیکھتے ہوئے بولی۔

تُو یہاں کس کے پاس ہے؟ سسرال ولوں کے پاس؟؟

نہیں۔۔۔۔۔۔۔

پھر؟؟؟

میں کسی کےپاس نہیں۔۔۔

آدمی نے گھر سے نکال دیا کیا۔۔اس نے چونک کر اماں کا چہرہ دیکھا۔

نہیں۔۔۔۔۔۔

تو پھر لڑ کر آئ ہے کیا؟؟

نہیں۔۔اس نے بے ساختہ سر ہلادیا۔۔

تو پھر یہاں کس لیئے آئ ہے؟؟

سکون کے لیئے۔۔اس نے بے اختیار کہا۔۔

سکون کہی نہیں ہے۔۔وہ اس عورت کا چہرہ دیکھنے لگی۔

جو چیز دنیا میں ہے ہی نہیں اسے دنیا میں کیا ڈھونڈنا۔۔اس نے حیرت سے اس عورت کو دیکھا۔وہ گہری بات کر گئ تھی۔

پھر بندہ رہے کیوں دنیا میں اگر بے سکون ہی رہنا ہے۔۔وہ اس سے یہ سوال نہیں پوچھنا چاہتی تھی جو پوچھ لیا تھا۔

تو پھر کہاں رہے؟؟ وہ لاجواب ہوئ۔

تیرا آدمی کہتا نہیں واپس آنے کو؟

پہلے کہتا تھا اب نہیں کہتا۔

بیچارہ اکیلا ہے وہاں؟؟

وہ ایک لمحے کے لیئے ٹھٹکی۔ہاں۔۔اس نے مدھم آواز میں کہا۔

تُو اکیلا چھوڑ کر آگئ اسے؟ اس نے جیسے افسوس کیا تھا۔

تجھ سے پیار نہیں کرتا تھا؟؟ وہ ایک لمحہ کے لیئے ساکت ہوئ۔

کرتا تھا۔۔اسکی آواز بے حد مدھم تھی۔۔

خیال نہیں رکھتا تھا؟ ۔

رکھتا تھا۔۔۔آواز اور بھی مدھم ہوتی گئ۔۔

روٹی کپڑا نہیں دیتا تھا؟؟

دیتا تھا۔وہ اپنی آواز بمشکل سن پائ۔۔

تو نے پھر بھی چھوڑ دیا اسے۔تو نے بھی اللہ سے بندے والا معاملہ کیا اسکے ساتھ۔سب کچھ لیکر بھی دور ہوگئ اس سے۔

وہ بول نہ سکی۔

تجھے یہ ڈر بھی نہ لگا کہ کوئ دوسری عورت لے آئے گا وہ؟

نہیں۔۔۔۔

تجھے پیار نہیں ہے اس سے؟؟ کیا سوال آیا تھا۔

کبھی پیار کیا ہے؟؟ آنکھوں میں سیلاب آیا ۔

کیا تھا۔۔اس نے آنسوؤں کو بہنے دیا۔

پھر کیا ہوا۔۔

نہیں ملا۔۔سر جھکائے اس نے آگ میں کچھ لکڑیاں ڈالی۔

ملا نہیں یا اس نے چھوڑ دیا۔۔اسکے منہ میں جیسے ہری مرچ آئ۔۔

اس نے چھوڑ دیا۔۔

پیار نہیں کرتا ہو گا۔۔اماں نے بے ساختہ کہا۔۔۔

پیار کرتا تھا لیکن انتظار نہیں کرسکتا تھا۔۔اس نے پتا نہیں کیوں صفائ دی اسکی۔

جو پیار کرتا ہے وہ انتظار کرتا ہے۔جواب کھٹاک سے آیا تھا۔

اس آدمی کی وجہ سے گھر چھوڑ آئ اپنا؟؟

نہیں بس وہاں بے سکونی تھی مجھے اس لیئے۔۔

کیا بے سکونی تھی۔۔وہ برستی آنکھوں کیساتھ بتاتی گئ۔۔۔

اماں چپ چاپ سنتی رہی اسکے خاموش ہونے پر بھی وہ کچھ نہ بولی۔

وہاں نہر کنارے کیا کر رہی تھی/؟

بہت بزدل ہوں اماں ۔۔مرنے کے لیئے نہیں کھڑی تھی۔

یعنی تم تو بڑی بہادر ہو۔مجھ سے بھی زیادہ بہادر۔۔

نہیں میں تو بہت کمزور ہوں۔۔امامہ نے کہا۔

تجھے اپنی ہونے والی اولاد کا بھی خیال نہیں آتا ۔۔پیار نہیں آتا اس پر۔۔۔اسکی آنکھیں ایک بار پھر برسنے لگی۔

کوئ اسطرح گھر چھوڑ کے آتا ہے جیسے تم چھوڑ کر آگئ۔۔۔۔مر جاتے ہیں بڑے بڑے پیارے مر جاتے ہیں پر کوئ ایک کے مرنے پر باقیوں کو چھوڑ دیتا ہے؟؟؟

میں اب کسی سے پیار نہیں کرنا چاہتی اماں۔۔۔میں جس سے بھی پیار کرتی ہوں وہ مجھ سے چھن جاتا ہے۔۔بار بار پیار کروں۔۔بار بار گنوادوں۔۔میں اب اس تکلیف سے نہیں گزر سکتی۔۔

وہ روتی جارہی تھی۔۔

یہ تو نہیں بلکہ یہ تو کوئ انسان بھی نہیں کرسکتا کہ اپنوں کو اس لیئے چھوڑ دے کہ اسکے بچھڑنے کی تکلیف سے بچ جائے۔ایک کا درد جھیل نہیں پارہی ہو تو سب کو اکٹھا چھوڑ کر سہہ پاؤ گی؟؟ امامہ کے پاس جواب نہیں تھا۔۔

اس جھگی کے اندر میرا جوان بیٹا ہے ٹہرو ذرا میں اسے لیکر آتی ہوں ۔۔

وہ عورت ایکدم اٹھ کر اندر چلی گئ۔چند منٹ کے بعد وی ایک ریڑھی نما ٹرالی کو دھکیلتی ہوئ باہر لائ۔جس میں ایک دبلا پتلا مرد ایک بستر پر لیٹا ہوا قہقہے لگا رہا تھا۔جیسے وہ ماں کی توجہ ملنے پر خوش ہو۔وہ ذہنی اور جسمانی طور پہ معذور تھا۔

میرا اکلوتا بیٹا ہے یہ۔اڑتیس سال میں نے اسکے سہارے گزارے ہیں اللہ کے بعد۔

پانچ بیٹے پیدا ہوئے پر ختم ہوگئے۔پھر یہ پیدا ہوا تو شوہر نے کہا اسے کسی درگاہ پہ چھوڑ آتے ہیں۔میں نہیں پال سکتا ایسی اولاد کو۔۔پر میں کیسے مان سکتی تھی مجھے تو پیار ہی بڑا تھا اس سے۔۔

شوہر دو چار سال سمجھاتا رہا پر میں نہ مانی۔۔اللہ کی دی ہوئ چیز کو کیسے پھینک دیتی۔۔

شوہر کو بڑا پیار تھا مجھ سے پر اسے اولاد بھی چاہیئے تھی۔وہ مرگیا تو ساری جائداد رشتہ داروں نے چھین لی بس بیٹا میرے پاس رہنے دیا۔یہ ٹھیک ہوتا تو یی بھی چھین لیتے ۔۔اڑتیس سال سے اسکا اور میرا ساتھ ہے۔اسکو شوہر کے کہنے پر درگاہ چھوڑ آتی تو میرا کیا ہوتا۔

کوئ بوجھ تھا جو امامہ کے کندھوں سے ہٹ رہا تھا۔کوئ سحر تھا جو ٹوٹ رہا تھا۔

جو وچھوڑا اللہ دیا اس پر صبر کر اور خود کسی کو وچھوڑا نہ دے۔اللہ پسند نہیں کرتا یہ۔

غم بہت بڑا تھا میرا اماں۔

اللہ نے تجھے غم دیا تم نے اہنے آدمی کو۔۔۔تو کونسا اپنا غم اپنے اندر رکھ کر بیٹھ گئ تھی۔

اسے سالار یاد آیا۔۔اسکی آنکھیں دھندلائ۔

اسکی محبت اسکی عنایات یاد آئ اور اس اولاد کا خیال آیا جسے اس نے بڑی دعاؤں میں مانگا تھا اور جب دعا پوری ہوئ تو وہ کسی چیز کی قدر نہیں کر رہی تھی۔

وی جانے سے پہلے ایک بار پھر اس بوڑھی عورت سے ملنے آئ تھی اسکے لیئے کچھ چیزیں لیکراسے بے حد کوشش کے باوجود نہ وہ جھگی ملی نہ وہ عورت۔

جبریل سکندر اپنی پیدائش سے بھی پہلے اپنی ماں کے بہت سارے رازوں کا امین تھا۔۔۔

امریکہ کے ہسپتال کے نیورو سرجری کے ڈیپارٹمنٹ کے آپریشن تھیٹر میں ڈاکٹر جس شخص کا دماغ کھولے بیٹھے تھے۔وہ آبادی کے اس 2.5فیصد سے تعلق رکھتا تھا جو 150آئ کیو لیول رکھتے تھے۔اور اسکے ساتھ غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔۔۔

وہ آپریشن آٹھ گھنٹے سے ہورہا تھا اور نجانے مزید کتنی دیر جاری رہنا تھا۔ڈاکٹرز کی اس ٹیم کو لیڈ کرنے والا ڈاکٹر دنیا کے قابل ترین سرجن میں سے ایک مانا جاتا تھا۔





قسط نمبر 24...

واشنگٹن میں ورلڈ بنک کے ہیڈ کوارٹرز میں وہ سالار سکندر کی پہلی میٹنگ نہیں تھی وہ درجنوں بار وہاں آ جا چکا تھا۔مگر اپنی زندگی میں وہ کبھی کسی بورڈروم میں دماغ پر اتنا بوجھ لیکر نہیں بیٹھا تھا جتنا اس دن بیٹھا تھا۔

وہ فلائٹ کے دوران دو گھنٹے سویا تھا اور باقی کا وقت اس نے اس پریزنٹیشن کو بار بار دیکھتے اور اس میں تبدیلیاں اور اضافے کرتا گزارا جو وہ اس میٹنگ میں پیش کرنے آیا تھا۔سالار کو سانپوں کے بل میں بیٹھ کر اسکا زہر نکالنے کی تجویز پیش کرنی تھی۔اور اسے اپنی کامیابی یا ناکامی کے بارے میں کوئ خوش فہمی یا غلط فہمی نہیں تھی۔

اس کی فلائٹ واشنگٹن میں جس وقت پہنچی اس کے ٹھیک چار گھنٹے بعد ورلڈ بنک کے دربار میں اسکی حاضری تھی وہ ایک بار پھر ہوٹل کے کمرے میں سوئے بغیر کاغذات کا وہ پلندہ دیکھتا رہا جو اسے پریزنٹیشن کیساتھ بورڈ روم میں تقسیم کرنا تھے۔ان کاغذات کے ڈھیر کو اگر وہ کورٹ میں پیش کردیتا تو وہ کیس جیت جاتا۔لیکن سوال یہ تھا کہ دنیا میں ایسی کونسی عدالت تھی جو اس کیس کو سنتی۔ایباکا عالمی عدالت انصاف میں جانے کے وسائل نہیں رکھتا تھا اور وہ ورلڈ بنک میں کام کرتا تھا وہ اپنے پروفیشنل معاملات خفیہ رکھنے کا پابند تھا۔اسے یہ معلوم بھی نہیں تھا کہ پیٹرس ایباکا اس وقت نیویارک کے ایک ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا تھا۔

*********-------*********

اس بورڈ روم کا ماحول ویسا نہیں تھا جیسااس نے ھمیشہ دیکھا تھا۔سنجیدگی ہر بورڈروم کا حصہ ہوتی ہے لیکن جو اس نے اس دن وہاں دیکھی وہ سرد مہری تھی۔وہاں بیٹھے سات کے سات لوگوں کے چہروں اور آنکھوں میں ایک جیسی سرد مہری تھی۔ایسی سرد مہری جو کسی بھی کمزور اعصاب کے انسان کو حواس باختہ کرنے کے لیئے کافی تھی۔بے تاثر چہرے اور اوسان خطا کرنے والی نظریں۔۔ ایک بیضوی شکل کی میز کے گرد ٹانگوں پر ٹانگیں رکھے وہ پانچ مرد اور دو عورتیں اس کام کے ماہر تھے جو وہ اس وقت کر رہے تھے۔۔ورلڈ بنک کے سالار سکندر جیسے کئ باضمیر ایمپلائیز کا دھڑن تختہ کرچکے تھے۔سالار سکندر انکے سامنے کیا شے تھا کم از کم اس میٹنگ کے آغاز سے پہلے وہ یہی سوچ کر آئے تھے۔

سالار سکندر نے میٹنگ کے آغاز میں اس میٹنگ کی سربراہی کرنے والے ہیڈ کے ابتدائ کلمات بڑے تحمل سے سنے تھے۔وہ سالار سکندر کی نا اہلی ناکامیوں اور کوتاہیوں کو ڈسکس کر رہے تھے ۔سالار نے باقی چھ لوگوں کی نظریں خود پر جمی محسوس کی۔

میں ان میں سے کسی بھی بات کا جواب دینے سے پہلے اس پراجیکٹ کے حوالے سے ایک پریزنٹیشن دینا چاہتا ہوں کیونکہ میرا خیال ہے کہ ان میں سے بہت سارے سوالات اور اعتراضات کے جواب موجود ہے جو آپ لوگ مجھ پر کر رہے ہیں۔۔۔۔

سالار نے مائیکل کے ابتدائ کلمات کے بعد اسکے کسی الزام کا جواب دینے کی بجائے کہا۔

سالار ایک کے بعد ایک سلائیڈ پراجیکٹر پر دکھاتا گیا۔۔ان سات لوگوں نے وہ پریزنٹیشن بے تاثر چہرے کیساتھ ساکت بیٹھے دم سادھے دیکھی۔

لیکن اسکے ختم ہونے کے بعد ان ساتوں کے ذہن میں جو خدشہ ابھرا تھا وہ ایک ہی تھا۔سالار سکندر کے ہاتھ میں وہ گرینیٹ تھا جسکی پن وہ نکالے بیٹھا تھا۔وہ جہاں بھی پھٹتا تباہی پھیلا دیتا۔

پروجیکٹر کی سکرین تاریک ہوئ۔۔سالار نے اپنے لیپ ٹاپ کو بند کرتے ہوئے ان ساتوں کے چہروں پر نظر ڈالی۔۔اتنے سالوں کی پبلک ڈیلنگ کے بعد وہ اتنا اندازہ تو لگا پایا تھا کہ اس نے وہ پریزنٹیشن وہاں پیش کرنے میں اپنا وقت ضائع کیا تھا۔

تو تم اس پراجیکٹ میں کام نہیں کرنا چاہتے؟؟

مائیکل نے خاموشی توڑتے ہوئے اس سے جو سوال کیا تھا اس نے سالار کے خدشات کی تصدیق کی۔

میں چاہتا ہوں کہ ورلڈ بنک کانگو میں اس پراجیکٹ کو ختم کردے۔۔سالار نے بھی وقت ضائع کیئے بغیر کہا۔

تم مضحکہ خیز باتیں کر رہے ہو ۔اتنے سالوں سے شروع کیئے جانے والے ایک پراجیکٹ کو ورلڈ بنک ایک چھوٹے سے عہدیدار کے کہنے پر ختم کردے کیونکہ اسے بیٹھے بٹھائے یہ فوبیا ہوگیا ہے کہ بنک کانگو میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے پراجیکٹس کو سپورٹ کر رہا ہے۔۔

وہ جولیا پٹرورڈ تھی جس نے بے حد تضحیک آمیز انداز میں سلگا دینے والی مسکراہٹ کیساتھ سالار سے کہا تھا۔

اگر میں فوبیا کا شکار یا یہ میرا دماغی خلل ہے تو یہ بیماری اس وقت ان جنگلات میں بسنے والے لاکھوں لوگوں کو لاحق ہوچکی ہے۔۔۔سالار نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تھا۔

تم کیا ہو؟ کس حیثیت میں کانگو میں بیٹھے ہو؟ ورلڈ بنک کے ایک ایمپلائ کے طور پر یا ایک ہیومن رائٹ ایکٹوسٹ کے طور پر؟؟ کانگو کے لوگ یا پگمیز تمہارا درد سر نہیں ہے تمہاری ترجیح صرف ایک ہونی چاہیئے کہ تم مقررہ وقت پر پراجیکٹ مکمل کرو۔۔

اس بار بات کو ترشی سے کاٹنے والا الیگزنڈر رافیل تھا۔جو ورلڈ بنک کے صدر کے قریبی معاونین میں سے ایک تھا۔

تم نے وہ کانٹریکٹ پڑھا ہے۔۔وہ شرائط و ضوابط پڑے ہیں جس سے اتفاق کرتے ہوئے تم نے سائن کیئے تھے۔تم اپنے کانٹریکٹ کی خلاف ورزی کر رہے ہو۔۔۔اور بنک تمہیں جاب سے نکالنے کا پورا اختیار رکھتا ہے اسکے بدلے میں۔

میں نے اپنا کانٹریکٹ پڑھا ہے اور ورلڈ بنک کا چارٹر بھی پڑھا ہے دونوں میں کہی بھی یہ نہیں لکھا کہ مجھے کوئ ایسا کام کرنا پڑے گا جو بنیادی انسانی حقوق اور کسی ملک کے قوانین کی دھجیاں اڑا کر ہوسکے۔۔اگر ایسی کوئ شق میرے کانٹریکٹ میں شامل تھی تو آپ مجھے ریفرنس دے۔

الیگزنڈر رافیل چند لمحے بول نہ سکا۔اس کے ماتھے پر بل تھے اور مسلسل تناؤ میں رینے کی وجہ سے وہ مستقل جھریوں میں تبدیل ہوچکے تھے۔

اور تم اپنے آپ کو ان لوگوں سے زیادہ قابل سمجھتے ہو جنہوں نے یہ پراجیکٹ کئ سال کی تحقیق کے بعد شروع کیا تھا ۔تم سمجھتے ہو جن لوگوں نے فزبلٹی بنائ تھی وہ ایڈیٹس تھے۔۔۔وہ اب تضحیک آمیز انداز میں اس سے پوچھ رہا تھا۔۔

نہیں۔۔۔وہ ایڈیٹس نہیں تھے۔۔۔نہ میں ایڈیٹ ہوں۔۔وہ فیئر نہیں تھے اور میں ہوں۔بات صرف اس دیانت کی ہے جو فزبلٹی تیار کرتے وقت نظرانداز کی گئ ہے ورنہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اس پراجیکٹ کی فزبلٹی رپورٹ تیار کرنے والے اتنے عقل کے اندھے اور نا اہل ہو کہ انہیں وہ سب نظر نہ آیا ہو جو مجھے نظر آیا ہے اور

میرے علاوہ لاکھوں مقامی لوگوں کو نظر آ رہا ہے۔۔۔ورلڈ بنک کو اس پراجیکٹ کے حوالے سے زیادہ انویسٹیگیشن کرنی چاہئے ایک انکوائری کمیٹی بنا کر۔۔۔مجھے یقین ہے کہ اگر اس کمیٹی نے دیانت داری سے کام کیا تو انہیں بھی یہ سب نظر آجائے گا جو مجھے نظر آرہا ہے۔۔۔سالار نے رافیل کے ہتک آمیز جملوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔

میرے خیال میں بہتر ہے کہ اس ڈیڈلاک کو ختم کرنے کے لیئے ایک کام کیا جائے جو واشنگٹن اور گومبے میں تمہارے آفس میں اس پراجیکٹ کے حوالے سے پیدا ہوگیا ہے۔

اس بار بولنے والا بل جاؤلز تھا۔۔تم ریزائن کردو۔جیسے تم نے پریزنٹیشن اور بنک کے ساتھ ہونے والی آفیشل خط و کتابت میں بھی آفر کیا تھاکہ اس پراجیکٹ کو تم اس طرح نہیں چلا سکتے۔۔ وہ بڑے تحمل اور رسانیت سے جیسے سالار سکندر کو صلاح دے رہا تھا۔

اگر یہ آپشن ورلڈ بنک کو مناسب لگتا ہے تو مجھے بھی اس پر کوئ اعتراض نہیں۔۔مجھے بھی اس مسلے کا حل صرف میرا استعفی نظر آرہا ہے۔لیکن میں اپنی استعفے کی وجوہات میں اس پریزنٹیشن میں دیئے جانے والے سارے اعداد و شمار کو بھی شامل کروں گا اور اپنے تحفظات بھی لکھوں گا اور میں اس استعفے کو پبلک کروں گا۔

بورڈ روم میں چند لمحوں کے لیئے خاموشی چھائی تھی۔وہ بلآخر اس ایک نکتے پر آگئے تھے جسکے لیئے اس نے سالار کو واشنگٹن طلب کیا تھا۔جو ورلڈ بنک کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنسا ہوا تھا۔بورڈ روم میں بیٹھے ان سات افراد کے صرف دو ٹاسک تھے۔یا سالار کو اس پراجیکٹ کے چلانے کے لیئے راضی کرلیا جائے یا پھر اس سے خاموشی سے استعفی لیا جائے اور وہ ذاتی وجوہات کی بناء پر ہو۔۔اب مسلہ اس سے بڑھ گیا تھا۔وہ نہ صرف استعفے میں یہ سب کچھ لکھنا چاہتا تھا بلکہ اسے پبلک بھی کرنا چاہتا تھا۔

اگلے تین گھنٹے وہ ساتوں سالار کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔انہوں نے ہر حربہ استعمال کرلیا تھا۔جب دلیلوں سے کام نہیں بنا تو انہوں نے بنک کے کانٹریکٹ میں استعفے کے حوالے سے کچھ شقوں کو اٹھا کر اسے دھمکی دی تھی کہ وہ جاب کے دوران اہنے علم میں لائے گئے تمام فروفیشنل معلومات کو صیغہ راز میں رکھنے کا پابند ہے۔اور استعفے کو پبلک کرنے اور اس رپورٹ کو میڈیا پر لانے پر اس کے خلاف قانونی کاروائی کی جاسکتی تھی۔اور اسے نہ صرف مالی طور پر لمبا چوڑا ہرجانہ بھرنا پڑتا بلکہ وہ آئندہ بنک یا اس سے منسلک کسی بھی چھوٹے بڑے ادارے کی جاب کرنے کے لیئے نااہل قرار دیا جاتا۔۔۔سالار کو پتا تھا یہ دھمکی نہیں تھی۔۔۔بہت بڑی دھمکی تھی۔۔۔

دباؤ اور دھمکیاں جتنی بڑھتی گئ سالار سکندر کی ضد بھی اتنی ہی بڑھتی گئ۔اگر سکندر عثمان کہتے تھے کہ ڈھٹائی میں اسکا کوئ مقابلہ نہیں کرسکتا تو وہ ٹھیک کہتے تھے۔

تم کیا چاہتے ہو؟؟ تین گھنٹے کے بعد بلآخر مائکل نے اسکی ضد کے آگے ہتھیار ڈالتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔۔۔

ایک غیرجانبدارانہ انکوائری ٹیم جو نئے سرے سے اس پراجیکٹ کا جائزہ لے۔اور اسکے بعد پگمیز اور ان بارانی جنگلات کے بہترین مفاد میں اس پراجیکٹ کو ختم۔کیا جائے۔یا کوئ ایسا حل نکالا جائے جو اس جنگلات میں رہنے والے لوگوں کے لیئے قابل قبول ہو اور میں مقامی لوگوں کی بات کر رہا ہوں۔وہاں کی مقامی حکومت کی بات نہیں کر رہا۔۔

سالار نے جواباً وہی مطالبہ دہرایا۔

تمہاری قیمت کیا ہے؟ الیگزنڈر نے سالار کو جیسے بات کرنے کے قابل نہیں چھوڑا تھا۔۔کوئ تو ایسی چیز ہوگی جسکے لیئے تم اس مطالبے سے ہٹ جاؤ۔۔ہمیں بتاؤ وہ کونسی ایسی چیز ہے جس پر تم ہم سے سودا کرلو۔۔رافیل نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔۔سالار نے ٹیبل پر رکھی اپنی چیزیں سمیٹنی شروع کردی۔

میری کوئ قیمت نہیں۔۔اور میں نے ورلڈ بنک کو اسی غلط فہمی میں جوائن کیا تھا کہ میں ایسے لوگوں کے ساتھ کام کروں گا جو دنیا میں اپنی پروفیشنل مہارت اور قابلیت کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔اگر بروکرز کے ساتھ کام کرنا ہوتا تو بیچنے خریدنے اور قیمت لگانے والا تو اسٹاک ایکسچینج میں کرتا یا کسی بنک میں انویسمنٹ بنکنگ۔۔۔

وہ نرم لہجے میں انکے منہ پر جوتا مار گیا تھا۔اور اس چوٹ کی شدت وہاں بیٹھے ساتوں نے ایک ساتھ محسوس کی۔وہ سادہ زبان میں انہیں دلال کہہ رہا تھا اور ٹھیک کہہ رہا تھا۔

ان ساتوں میں سے کسی نے مزید کچھ نہیں کہا ۔۔ستے ہوئے اور تنے ہوئے چہروں کیساتھ وہ بھی اپنے کاغذات اور لیپ ٹاپ سنبھالنے لگے تھے۔میٹنگ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئ تھی۔اور سالار کو اندازہ ہوا تھا کہ اسکے بعد ورلڈ بنک میں اسکا کیرئیر بھی ختم ہوگیا تھا۔۔۔۔

وہ میٹنگ ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی ہر میٹنگ کی طرح ریکارڈ ہوئ تھی۔۔۔لیکن سالار کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ میٹنگ براہ راست کسی دوسری جگہ بھی پیش کی جارہی تھی۔سالار کے اس بورڈ روم سے نکلنے سے پہلے اس سے نمٹنے کے لیئے دوسری حکمت عملی طے ہوگئ تھی۔

الیگزنڈر رافیل سالار کے پیچھے آیا تھا اور اس نے چند منٹوں کے لیئے سالار سے علیحدگی میں بات کرنا چاہی ۔۔سالار کچھ الجھا لیکن پھر آمادہ ہوگیا۔وہ کونسی بات تھی جو میٹنگ میں نہیں کہی جاسکتی تھی اور یہاں کہی جارہی تھی۔الیگزنڈر رافیل کے آفس میں وہ مزید اسی پیرائے کی کوئ گفتگو سننے کی توقع کیساتھ گیا تھامگر اپنے آفس میں الیگزنڈر رافیل کا رویہ انکے ساتھ حیران کن طور پر مختلف تھا۔

مجھے یہ ماننے میں کوئ شبہ نہیں کہ میں تمہاری رپورٹ سے بہت متاثر ہوا ہوں اور صرف میں نہیں پریزیڈنٹ بھی۔۔۔اسکے پہلے ہی جملے نے سالار کو حیران کردیا۔صدر ہمیشہ تم سے بہت ساری توقعات رکھتے تھے۔افریقہ کے لیئے جو وژن انکا ہے انکو صرف تم عملی جامہ پہنا سکتے ہواور یہ پراجیکٹ ان سینکڑوں پراجیکٹس میں سے بہت چھوٹا پراجیکٹ ہے جو وہ تمہارے لیئے سوچتے ہیں وہ بہت بڑی شے ہے۔تمہارے ذریعے افریقہ کی تقدیر بدلی جاسکتی ہے اور میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ صدر افریقہ لے بارے میں بہت سنجیدہ ہیں۔وہ وہاں سے غربت اور بھوک مٹانا چاہتے ہیں۔ایباکا ایک بے وقوف آدمی ہے۔۔وہ ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے جو افریقہ کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔

تم نے کوئ سوال نہیں کیا۔۔۔رافیل کو اسکی خاموشی چبھی۔اگر وہ سالار کو صدر کے حوالے سے تعریفی کلمات پہنچا کر جوش دلانا چاہتا تھا تو وہ ناکام ہورہا تھا۔سالار کے رویے میں کوئ تبدیلی نہیں آئ تھی۔

میرے پاس جو بھی سوال تھے وہ میں اپنی رپورٹ میں اٹھا چکا ہوں مجھے خوشی ہے کہ صدر افریقہ میں میرے کام سے اور اس رپورٹ سے متاثر ہے۔لیکن میں زیادہ خوش تب ہوں گا جب اس رپورٹ پر مجھے ورلڈ بنک سے کوئ پازیٹیو رسپانس آئے گا۔

بنک تمہیں وائس پریذیڈنٹ کا عہدہ دینا چاہتا ہے اوت یہ پریذیڈنٹ کی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے ہورہا ہے۔اور اس سلسلےمیں امریکن گورنمنٹ سے بھی بات ہوئ ہے انکی.

رافیل ایسے بات کر رہا تھا جیسے بہت بڑے راز افشا کر رہا ہو اس پر۔۔ اسکی مایوسی کی انتہا نہ رہی تھی جب اس نے میز کے دوسری طرف بیٹھے اپنے سے پندرہ سال چھوٹےاس مرد کے چہرے کو اس خبر پہ بھی بے تاثر پایا۔۔

اور اس عہدے کے بدلے میں مجھے کیا کرنا ہے؟؟ رافیل کو اتنی لمبی تقریر کے بعد اتنا دو ٹوک سوال سننے کی توقع نہیں تھی۔۔

پریذیڈنٹ کو اس پراجیکٹ پر تمہاری سپورٹ چاہیئے۔۔مطلق اور غیر مشروط سپورٹ۔۔

رافیل نے اب تمہیدوں میں وقت ضائع نہیں کیا تھا۔۔

میرا خیال ہے وہ میں نہیں دے سکوں گا۔۔اس پراجیکٹ کے حوالے سے میں اپنی رائے بتا چکا ہوں۔۔۔۔مراعات اور عہدے میرے سٹینڈ کو نہیں بدل سکتے۔۔کیا کچھ اور کہنا ہے؟؟

سالار سکندر کو رافیل اس ملاقات سے پہلے کچھ نہیں سمجھتا تھا اور اب اسے بے وقوف سمجھ رہا تھا۔۔اتنا بڑا عہدہ اسے پلیٹ میں رکھ کر پیش کیا جا رہا تھا اور وہ اسے ٹھکرا رہا تھا۔۔غرور تھا تو بے جا تھا۔۔بے وقوفی تھی تو انتہا کی۔

تمہیں سب کچھ آتا ہے ۔ٹیکٹ نہیں آتے اس لیئے تم کامیابی کے سب سے اوپر والے زینےپر کبھی کھڑے نہیں ہوسکو گے۔وہ اس سے ایسی بات نہیں کہنا چاہتا تھا پھر بھی کہہ بیٹھا تھا۔۔

اگر ٹیکٹ فل کا مطلب بے ضمیر اور بد دیانت ہونا ہے تو پھر یہ خصوصیت میں کبھی اپنے اندر پیدا نہیں کرنا چاہوں گا۔۔میں اپنا استعفٰی آج ہی میل کردوں گا۔۔۔۔سالار اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

*********-------*********

سالار جب ورلڈ بنک ہیڈ کوارٹر سے نکلا اس وقت بوندا باندی ہورہی تھی۔وہ کیب پر وہاں آیا تھا اور واپس بھی اسی میں جانا تھا مگر جو کچھ پچھلے چند گھنٹوں میں اندر بھگت آیا تھا۔اسکے بعد وہ بے مقصد پیدل فٹ پاتھ پر چلتا رہا۔چلتے چلتے اس نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔وہ چند دن پہلے تک اپنے آپ کو دنیا کا مصروف ترین انسان سمجھتا تھا اور اب چند گھنٹوں بعد دنیا کا بے کار ترین انسان۔۔

کچھ عجیب سی ذہنی کیفیت تھی اسکی۔فی الحال کرنے کے لیئے کچھ بھی نہ تھا۔۔کوئ میٹنگ کوئ وزٹ کوئ ایجنڈا۔۔کوئ فون کال ای میل کوئ پریزنٹیشن بھی نہیں۔۔لیکن سوچنے کے لیئے بہت کچھ تھا۔ایک لمحے کے لیئے چلتے چلتے اسے خیال آیا کیا ہوا اگر وہ سمجھوتہ کرلے وہی سے واپس ہیڈکوارٹر چلا جائے ۔وہ پیش کش قبول کرلے جو ابھی اسے کی گئ تھی۔کوئ مشکل اور ناممکن تو نہیں تھا یہ۔۔ابھی سب کچھ اسکے ہاتھ میں تھا۔۔ورلڈ بنک میں پہلے سے بھی بڑا عہدہ مل جاتا اسے۔کیا برائ تھی اگر وہ کچھ دیر کے لیئے ضمیر کو سلا دیتا۔۔کانگو اس کا ملک نہیں۔۔نا ہی پگمیز اسکے لوگ۔۔۔۔پھر؟؟؟

واقعی ٹھیک کہا تھا رافیل نے وہ کیوں یہ سب کر رہا تھا انکےلیئے۔۔اور یہ سب کرتے کرتے اہنے آپکو یہاں لایا تھا۔جہاں آگے کنواں تھا پیچھے کھائ۔۔لیکن پھر اسے وہ غربت اور بد حالی نظر آئ جو اس نے وہاں کے لوگوں میں دیکھی تھی۔وہ امید بھری نظریں یاد آئ تھی۔۔جن سے وہ اسے دیکھتے تھے۔کاغذات کا وہ پلندہ یاد آیا جسکا ایک ایک لفظ کہہ رہا تھا کہ وہاں انسانیت کی تذلیل ہورہی تھی۔وہ غلامانہ استحصال تھا جواسکا مذہب چودہ سو سال پہلے ختم کرچکا تھا۔۔۔

اور یہ سب یاد کرتے ہوئے اسے امامہ بھی یاد آئ تھی۔

اس نے جیب سے سیل فون نکال کر اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی پر نہیں ہوا۔ایک عجیب سی اداسی اور تنہائ نے اسے آگھیرا تھا۔

سوچوں کی رفتار ایک دم ٹوٹی تھی ۔وہ کس بحران میں کیا سوچنے بیٹھ گیا۔اس نے ہر منفی سوچ کو ذہن سے جھٹک دیا تھا۔شاید یہ ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہورہا تھا اس نے خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کی تھی۔

اپنے ہوٹل کے کمرے میں پہنچ کر اپنا لیپ ٹاپ والا بیگ رکھ کر اس نے معمول کے انداز میں ٹی وی آن کیا تھا۔۔ایک مقامی چینل پر واشنگٹن میں صبح سویرے ہونے والے ایک ٹریفک حادثے کی خبر چل رہی تھی۔جس میں دو مسافر موقع پر مر گئے تھے۔جبکہ تیسرا شدید زخمی حالت میں ہسپتال میں تھا سالار نے ہاتھ میں پکڑے ریمورٹ سے چینل بدلنا چاہا لیکن پھر سکرین پر چلنے والی ایک ٹکر کو دیکھتے ہوئے جامد ہوگیا۔اسکرین میں اسکرول پر اب اس حادثے کی تفصیلات دی جارہی تھی اس میں زخمی ہونے والے شخص کا نام پیٹرس ایباکا بتایا جارہا تھا جو کہ ایک انقلابی تھا۔اور سی این این کے ایک پروگرام میں شرکت کے لیئے آرہا تھا۔سالار کا دماغ جیسے بھک سے اڑ گیا۔

سالار جانتا تھا کہ وہ امریکہ میں ہے کئ دنوں سے۔وہ امریکہ روانہ ہونے سے پہلے اس سے ملنے آیا تھا اور اس نے سالار کو بتایا تھا کہ اس کے کچھ دوستوں نے بلآخر بڑی کوششوں کے بعد کچھ بڑے نیوز چینلز کے نیوز پروگرامز میں اسکی شرکت کے انتظامات کیئے تھے۔

اسکا مطلب ہے کہ چھری میری گردن پر گرنے والی ہے۔سالار نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔تم اگر اس پراجیکٹ کے حوالے سے ورلڈ بنک اور اسکے عہدیداران پر تنقید کروگے تو سب سے پہلے میں ہی نظر میں آؤں گا۔۔اور یہ چینلز مجھ سے رسپانس کے لیئے رابطہ کرینگے۔۔

سالار کو اس مشکل صورت حال کا اندازہ ہونے لگا تھا جس میں وہ پیٹرس ایباکا کے انٹرویوز کے بعد پھنستا۔وہ آتش فشاں جو عرصے سے پک رہا تھا اب پھٹنے والا تھا۔اور بہت سو کو ڈبونے والا تھا۔۔

میں تمہیں بچانے کی پوری کوشش کروں گا۔۔ایباکا نے اسے یقین دلایا تھا۔میں تم پر کوئ تنقید نہیں کروں گا۔بلکہ تمہاری سپورٹ کے لیئے تمہاری تعریف کروں گا۔۔تم اب آئے ہو یہ پراجیکٹ تو پہلے سے جاری ہے۔

ایباکا بے حد سنجیدہ تھا لیکن سالار کیساتھ ساتھ وہ خود بھی یہ جانتا تھا کہ اسکی یہ یقین دہانی ایک خوش فہمی تھی۔سالار اس پراجیکٹ کی سربراہی کر رہا تھا ۔اور نہ ہی اسے جمعہ جمعہ چار دن ہوئے تھے وہاں آئے۔۔۔ ۔ا

اسے بھی میڈیا کی شدید تنقید کا سامنا ہونے والا تھا۔

تم جلد سے جلد ورلڈ بنک چھوڑ دو ۔میں تمہاری رپورٹ کا حوالہ دوں گا کہ تم اس پراجیکٹ سے ناخوش تھے اور تمہارے اس پوزیشن کو چھوڑنے کی وجہ بھی یہی ہے۔۔۔ایباکا نے جیسے اسے ایک راہ دکھائ تھی۔

میں اس سے پہلے ایک کوشش ضرور کروں گا کہ بنک کو مجبور کر سکوں کہ اس پراجیکٹ پر نظر ثانی کرے۔

وہ دونوں کا آخری رابطہ تھا۔نیوز چینل بتا رہا تھا کہ بچنے والے مسافر کی حالت تشویش ناک تھی۔اس نے اپنا فون نکال کر یہ جاننے کی کوشش کی تھی کہ ایباکا کو کہاں لے جایا گیا تھا۔عجیب اتفاق تھا لیکن ایکدم اسکا فون رابطوں کے مسائل کا شکار ہونے لگا تھا۔کچھ دیر پہلے امامہ اور اب بھی وہ یہاں لوکل کال بھی نہیں کر پا رہا تھا۔کچھ دیر سیل فون کیساتھ مصروف رہنے کے بعد اس نے جھنجھلا کر کمرے میں موجود فون لائن اٹھا کر اسے استعمال کرنے کی کوشش کی وہ لائن بھی کام نہیں کر رہی تھی۔سالار حیران ہوا تھا۔وہ ایک فائیو سٹار ہوٹل میں تھا اور اسکی فون لائن کا کام نہ کرنا حیران کن ہی تھا۔اس نے انٹرکام پر آپریٹر کے ذریعے ایک کال بک کروائ تھی۔۔۔

اگلا آدھا گھنٹہ وہ آپریٹر کی کال کا انتظار کرتا رہا ۔۔سالار کو لگا جیسے س کو کسی سے بھی رابطہ کرنے سے روکا جا رہا ہے۔۔ اس بار کہی بھی خود کال کرنے کی بجائے اس نے ریسیپشنسٹ سے کہا تھا کہ وہ اسے پولیس انکوائری سے پتا کر کے بتائے کہآج صبح واشنگٹن میں ہونے والے اس ٹریفک حادثے کے زخمی کو کہاں لے جایا گیا تھا۔۔اس نے چند ہی منٹوں میں سالار کو اسپتال کا نام بتا دیا۔سالار نے اسکو کانگو میں اپنا گھر اور امامہ کا سیل فون نمبر دیا تھا۔وہ اگلی کال وہاں کرنا چاہتا تھا۔لیکن وہاں رابطہ نہ ہوسکا۔

اسپتال پہنچ کر پیٹرس کو تلاش کرنا مشکل نہیں تھا لیکن اسے ایباکا سے ملنے نہیں دیا گیا۔وہ مخدوش حالت میں تھا اور اسکی سرجری کے بعد اسے مصنوعی تنفس پر رکھا گیا تھا۔اپنے آپ کو ایباکا کا رشتہ دار ظاہر کرنے پر اسے بحر حال دور سے دیکھنے کی اجازت دی گئ۔مگر استقبالیہ پر موجود شخص نے اسے بے یقینی اور شبہ کی نظر سے دیکھا۔ایک پگمی اور ایک ایشیائ کی رشتہ داری کیسے ممکن تھی۔

اسپتال کی آئ سی یو میں نلیوں تاروں اور پٹیوں میں جکڑے ایباکا کو وہ پہلی نظر میں پہچان نہ پایا۔سالار کی سمجھ میں نہیں ایا کہ وہ کیا کرے۔۔اسکا اور ایباکا کا انسانیت کا رشتہ تھا صرف پھر بھی وہ عجیب غمزدہ حالت میں کھڑا تھا وہاں۔

وہاں کھڑے کھڑے سالار کو ایک بار پھر خیال آیا کہ وہ چاہتا تو اب بھی سب ٹھیک کرسکتا تھا ایباکا مر رہا تھا اور اسکے مرنے کیساتھ ہی وہ سارے حقائق و شواہد بھی غائب ہونے والے تھے ۔۔پگمیز کو فوری طور پر ایباکا کا متبادل نہیں مل سکتا تھا۔جو کسی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حق کی بات اس دبنگ انداز میں کہہ سکتے جس انداز میں ایباکا کہتا تھا۔۔شاید یہ ایک موقع اسے قدرت دے رہی تھی۔۔وہ الجھا۔۔۔بھٹکا۔۔ضمیر کا چابک ایک بار پھر اس پر برسا تھا۔

اسکے اپنے ہوٹل واپسی پر ایک اور بڑا سانحہ اسکا منتظر تھا۔اسکے کمرے میں اسکا لاکر کھلا ہوا تھا۔اور اس میں موجود اسکا پاسپورٹ اور کچھ دوسرے اہم ڈاکومینٹس غائب تھے اور اس کا وہ بیگ بھی غائب تھا جس میں اسکا لیپ ٹاپ اور اس رپورٹ سے متعلقہ تمام ثبوتوں کی کاپیاں تھی۔سالار کو چند لمحے یقین ہی نہیں آیا کہ یہ اسکا کمرہ ہے۔

بے حد طیش کے عالم۔میں اس نے فون اٹھا کر فوری طور پر اپنے ساتھ ہونے والے واقعے کی اطلاع مینیجر کو دی اور اسے اپنے کمرے میں طلب کرلیا گیا۔مینیجر اور سیکیورٹی گارڈز کے اسکے کمرے میں آنے پر اسکا دماغ یہ جان کر بھک سے اڑ گیا کہ اس پورے فلور پر صفائ سے متعلقہ کام کرنے کے لیئے پچھلے دو گھنٹے اس فلور کے سی سی ٹی وی کیمرے آف کیئے گئے تھے۔ایک لمحےکےلیئے اسے لگا جیسے اسکے ہاتھ پاؤں کٹ گئے ۔اسکے پاس جو کچھ بھی تھا وہ اس لیپ ٹاپ اور اس بیگ میں تھا۔اسکی ایک کاپی اسکے پاس اور ایک گومبے میں اسکے گھر کےباس لاکر میں جو امامہ کی تحویل میں دیکر آیا تھا۔

وہ پہلا موقع تھا جب سالار نے ایک عجیب سا خوف سا محسوس کیا تھا۔۔ایباکا کا ایک حادثے میں زخمی ہونا اب اسے ایک اتفاق نہیں لگ رہا تھا ۔کوئ تھا جو ایباکا کو نقصان پہنچانے کے بعد اسکے ہاتھ پیر کاٹ رہا تھا۔اسے بے بس کر رہا تھا۔پہلا خیال جو اس وقت اسے آیا تھا وہ امامہ اور اپنے بچوں کا تحفظ تھا۔ان سے رابطہ ہر قیمت پر ضروری تھا۔اسے امامہ کو متنبہ کرنا تھا کہ وہ ان ڈاکومینٹس کیساتھ پاکستان ایمیسی یا کسی پولیس اسٹیشن چلی جائے کم از کم تب تک جب تک وہ خود وہاں نہیں پہنچ جاتا۔۔

اس نے مینیجر سے کہا تھا کہ وہ پولیس میں رپورٹ کروانا چاہتا ہے اسکی قیمتی چیزوں کی حفاظت یقیناً ہوٹل کی ذمہ داری نہیں تھی لیکن کم از کم ہوٹل اتنی ذمہ داری تو دکھاتا کہ اسکی عدم موجودگی میں اس فلور کے سی سی ٹی وی سسٹم کو آف نہ کیا جاتا۔

مینیجر نے معذرت کرتے ہوئے فوری طور پر اسے اس نقصان کی تلافی کی آفر کی تھی اور اس سے درخواست کی تھی کہ وہ پولیس کو اس معاملے میں انوالو نہ کرے ۔لیکن سالار اس وقت اپنے حواسوں میں نہیں تھا وہ اپنے کمرےسےہی باہر نہیں نکلا تھا وہ اس ہوٹل سے بھی باہر نکل آیا تھا۔۔۔

ایک فون بوتھ سے اس نے ایک بار پھر کانگو میں گھر اور امامہ کا نمبر ملانے کی کوشش کی نتیجہ وہی آیا تھا اسکا ذہن ماؤف ہورہا تھا۔۔

اس نے بلآخر پاکستان میں سکندر عثمان کو فون کیا تھا اور جب اسے فون پر انکی آواز سنائی دی تو کچھ دیر کے لیئے اسے یقین نہیں آیا کہ وہ بلآخر کسی سے بات کرنے میں کامیاب ہو پارہا تھا۔ سکندر کو بھی اسکی آواز سے پتا چل گیا تھا کہ وہ پریشان تھا۔

سالار نے کوئ تفصیلات بتائے بغیر مختصر انہیں بتایا کہ وہ اپنے سفری دستاویزات گم کرچکا ہے اور اس وجہ سے وہ فوری طور پر اگلی فلائٹ سے واپس نہیں جاسکتا۔اور وہ امامہ سے رابطہ نہیں کر پا رہا ۔اس نے سکندر سے کہا کہ وہ پاکستان سے امامہ کو کال کریں اور اگر رابطہ نہ ہوسکے تو پھر فارن آفس میں اپنے جاننے والوں کے ذریعے کنشاسا میں پاکستان ایمبیسی کے ذریعے انہیں تلاش کریں

اور فوری طور پر اس سے کہے کہ لاکر میں پڑے سارے ڈاکومینٹس سمیت ایمبیسی چلی جائے۔۔سکندر عثمان بری طرح ٹھٹکے۔

ایسا کیا ہوا ہے کہ تمہیں یہ سب کرنا پڑ رہا ہے۔سالار سب ٹھیک ہے نا۔۔

پاپا اسوقت آپ صرف وہ کریں جو میں کہہ رہا ہوں ۔۔میں تفصیل آپکو بعد میں بتاؤں گا۔۔وہ جھنجھلا گیا تھا۔

میں تھوڑی دیر تک آپکو خود کال کر کے پوچھتا ہوں آپ میرے فون پر کال مت کریں نہ ہی میرے نمبر پر میرے لیئے کوئ میسج چھوڑیں۔۔اس نے باپ کو مزید تاکید کی۔

سالار تم مجھے پریشان کررہے ہو۔سکندر عثمان کا ان ہدایات کو سن کر خوفزدہ ہونا لازمی تھا۔

سالار نے فون بند کردیا تھا۔وہ باپ کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اسکے اپنے حواس اس وقت اس سے زیادہ خراب ہورہے تھے۔فون بوتھ سے کچھ فاصلے پر پڑی ایک بنچ پر بیٹھے ہوئے اس نے بے اختیار خود کو ملامت کی تھی اسے اپنی فیملی کو کانگو میں چھوڑ کر نہیں آنا چاہیئے تھا۔۔اور ان حالات میں۔۔۔۔میٹنگ جاتی بھاڑ میں۔۔۔۔وہ اسے آگے پیچھے کروا دیتا ۔۔۔کیا ضرورت تھی اتنی مستعدی دکھانے کی۔۔۔۔

اب رات ہورہی تھی اور صبح سے لیکر اس وقت تک اسکے سیل پر نہ کوئ کال آئ تھی نہ ٹیکسٹ میسج۔۔۔فون سگنلز کو بہترین حالت میں دکھا رہا تھا مگر سالار کو یقین تھا اسکا فون اور فون کے ذریعے ہوئےاسکے رابطوں کو کنٹرول کیا جا رہا تھا۔۔اور کس لیئے۔۔۔ وہ یہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔

وہ اگر اسے نقصان پہنچانا چاہتے تھے تو ان سب ہتھکنڈوں کے بغیر نقصان پہنچاتے جیسے ایباکا پر وار کیا تھا۔۔اور اگر اسے بنک سے نکالنا تھا تو یہ کام تو وہ خود کر رہا تھا۔پھر یہ سب کیوں؟؟؟

اسکی ریڑھ کی ہڈی میں جیسے سنسناہٹ ہوئ تھی۔اسے اچانک احساس ہوا وہ لوگ اسے احساس دلانا چاہتے تھے کہ اسے مانیٹر کیا جا رہا تھا۔۔اسے نقصان پہنچایا جاسکتا تھا۔۔اور کس کس قسم کا۔۔اور اسے یہ بھی بتایا جارہا تھا اور یہ سب ورلڈ بنک نہین کرسکتا۔۔صرف ورلڈ بنک نہیں۔۔۔اسے سی آئی اے چیک کر رہی تھی۔۔پتا نہیں جو پسینے چھوٹے تھے وہ جسم کے ٹھنڈا ہونے پر چھوٹے تھے یا گرم ہونے پر۔۔۔۔۔۔۔لیکن سالار کچھ دیر کے لیئے پانی میں نہا گیا تھا۔اسکا دماغ اس وقت بلکل خالی تھا۔۔یہ اسکے فرشتوں نے بھی کبھی نہیں سوچا ہوگا کہ وہ کبھی ایسے معاملے میں انوالو ہوسکتا ہے کہ سی آئی اے اسکے پیچھے پڑ جاتی اور اب اسے اندازہ ہورہا تھا کہ وہ پراجیکٹ ورلڈ بنک کی خواہش نہیں امریکہ کی خواہش تھا۔اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیئے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔۔۔

وہ ڈیڑھ گھنٹہ وہاں بت کی طرح بیٹھا رہا ۔۔اسے تین دن کے لیئے واشنگٹن میں رہنا تھا لیکن اب اپنی سفری دستاویزات گم ہوجانے کے بعد اسے یقین تھا وہ فوری طور پر واپس نہیں جاسکتا۔کم از کم تب تک جب تک وہ ان مطالبات میں کوئ لچک نہ دکھاتا جو وہ ان سے کر رہے تھے۔

ڈیڑھ گھنٹہ بعد اس نے سکندر عثمان کو دوبارہ فون کیا تھا اور انہوں نے اسے بتایا کہ امامہ اوراسکے بچے گھر پر نہیں ہے۔گھر لاکڈ ہے اور وہاں کوئ ملازم یا گارڈ نہیں ہے۔جو انکے بارے میں کوئ اطلاع دیتا۔۔۔ایمبیسی کے افسران نے اس سلسلے میں کانگو کے وزارت داخلہ سے رابطہ کیا تھا مگر جو بھی پتا چلتا اسکی فیملی کے بارے میں وہ فوری پتا نہیں چل سکتا تھا۔۔کچھ وقت تو لگتا ہے۔۔۔۔

جو کچھ وہ فون پر سن رہا تھا۔اس کے جسم میں کپکپاہٹ دوڑانے کے لیئے کافی تھا۔امامہ اور اسکے بچے کہی نہیں جاسکتے تھے ۔۔اس سے پوچھے اور اسے اطلاع دییے بغیر۔۔۔۔گارڈ بنک کے فراہم کیئے ہوئے تھے۔یہ کیسے ممکن تھا کہ گھر لاکڈ ہونے پر وہ بھی وہاں سے چلے گئے۔۔۔

میں کوشش کر رہا ہوں فوری طور پر ایمبیسی میرے ویزے کا انتظام کرے اور میں وہاں جاکر خود اس سارے معاملے کو دیکھوں۔۔۔۔۔۔سکندر اسے تسلی دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

تم بھی کوشش کرو کہ فوری طور پر وہاں پہنچو ۔۔امریکن ایمیبیسی کو اسکی گمشدگی کی اطلاع دو۔تم تو امریکن نیشنل ہو تمہارے بچے بھی۔۔۔ وہ ہماری ایمبیسی سے زیادہ مستعدی سے انہیں تلاش کرلینگے۔۔۔

سکندر نے ایک راستہ دکھایا تھا اور بلکل ٹھیک دکھایا تھا۔لیکن وہ باپ کو اس وقت یہ کہہ نہ پایا کہ وہ امریکن گورنمنٹ کیساتھ ہی الجھ پڑا ہے۔۔۔۔سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا سالار تم پریشان مت ہو۔۔کانگو میں ابھی اتنا بھی اندھیر نہیں مچا کہ تمہاری فیملی اس طرح غائب ہوجائے۔۔۔۔جواب میں کہنے کے لیئے سالار کے پاس کچھ نہ تھا۔۔۔مزید کچھ کہے اس نے فون رکھا اور فون بوتھ سے آگیا تھا۔۔۔اس فون بوتھ سے واپس ہوٹل جانے میں اسے صرف پانچ منٹ لگے تھے لیکن اس وقت وہ پانچ منٹ اسے پانچ ہزار سال لگ رہے تھے۔۔۔آزمائش تھی کہ بلا کی طرح اسکے سر پر آئ تھی اور اس بھی زیادہ اسکی فیملی کے سر پر۔۔۔

وہ ہوٹل لے کمرے میں آکر دروازہ بند کر کے خود پر قابو نہیں رکھ پایا تھا۔۔۔وہ بے اختیار چیخیں مارتا رہا تھا۔۔اس ہوٹل کے ساتویں فلور کے ایک ڈبل گلیزڈ شیشوں والے ساؤنڈ پروف کمرے کے دروازے کو اندر سے لاک کیئے وہ اسکے ساتھ چپکا پاگلوں کی طرح چلاتا رہا۔۔بلکل اس طرح جب کئ سال پہلے مارگلہ کی پہاڑیوں پر ایک۔تاریک رات میں ایک درخت سے بندھا چلاتا رہا تھا۔۔بے بسی کی وہی انتہا اس نے آج بھی محسوس کی تھی۔۔اور اس سے زیادہ شدت سے محسوس کی تھی کیونکہ تب جو بھی گزر رہا تھا اسکے اپنے اوپر گزر رہا تھا اور آج جو بھی گزر رہا تھا اسکی بیوی اور کم سن بچوں پر گزر رہا تھا۔اور انکو پہنچنے والی تکلیف کا تصور بھی سالار کو جیسے صلیب پر لٹکا رہا تھا۔۔وہ لوگ جو اسکے اعصاب کو شل کرنا چاہتے تھے وہ اس میں کامیاب ہورہے تھے۔وہ اگر اسے اوندھے منہ دیکھنا چاہتے تھے تو وہ اوندھے منہ پڑا تھا۔۔۔

وہ رات سالار پر بہت بھاری تھی۔۔وہ ساری رات ایک لمحہ کےلیئے بھی نہیں سویا۔۔امامہ۔جبریل اور عنایہ کے چہرے اسکی آنکھوں کے سامنے گھومتے رہے تھے۔

اگلی صبح وہ آفس کے اوقات شروع ہونے سے بہت دیر پہلے ورلڈ بنک کے ہیڈ کوارٹر پہنچا تھا۔۔۔

الیگزنڈر رافیل نے سالار کو اپنے کمرے کی طرف آتا ہوا بڑے اطمینان سے دیکھا تھا۔یہ وہ سالار نہیں تھا جو کل یہاں آیا تھا۔ایک دن اور ایک رات نے اسے پہاڑ سے مٹی کردیا تھا۔

مجھے صدر سے ملنا ہے۔

اس نے آتے ہی جو جملہ کہا رافیل اس جملے کی توقع نہیں کر رہا تھا۔اسکا خیال تھا کہ وہ اس سے کہے گا کہ وہ اسکی تمام شرائط ماننے کے لیئے تیار ہے۔

پریزیڈنٹ سے ملاقات۔۔۔۔۔بہت مشکل ہے یہ تو۔۔۔۔کم از کم اس مہینے میں تو یہ ممکن نہیں۔۔۔اور پھر اس ملاقات کی ضرورت ہی کیوں پیش آئ تمہیں۔۔۔اگر تمہیں وہ سب دہرانا ہے جو کل کہا تھا تو وہ میں ان تک پہنچا چکا ہوں۔۔۔

کچھ لمحوں کے لیئے سالار کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کہے۔۔وہ ورلڈ بنک کے اس دفتر میں رونا نہیں چاہتا تھا لیکن اس وقت اسے لگ رہا تھا جیسے کسی بھی لمحے وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے گا۔۔۔

کنشاسا میں کل سے میری فیملی غائب ہے ۔میری بیوی۔۔۔میرا بیٹا اور میری بیٹی۔۔۔۔ اپنے لہجے پر قابو پاتے ہوئے اس نے رافیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہنا شروع کیا۔۔۔

اوہ۔۔۔۔۔بہت افسوس ہوا۔۔۔تمہیں فوری طور پر واپس جانا چاہیئے کانگو، تاکہ پولیس کی مدد سے اپنی فیملی کو برآمد کرواسکو۔۔

میرا پاسپورٹ اور سارے ڈاکومینٹس گم ہوچکے ہیں ہوٹل کے کمرے سے سب کچھ غائب ہوا ہے کل۔۔اور اب میں کل واپس کنشاسا نہیں جاسکتا۔۔مجھےنہیڈ کوارٹر کی مدد چاہیئے اپنے پاسپورٹ اور دوسرے دستاویزات کے لیئے۔۔۔اور مجھے ورلڈ بنک سے فوری طور پر ڈاکومینٹس چاہیئے تاکہ میں اپنا پاسپورٹ لے سکوں۔۔۔

رافیل نے اسکی بات خاموشی سے سننے کے بعد اسے بڑی سرد مہری سے کہا۔۔۔۔

ان حالات میں ورلڈ بنک تمہیں نئے پاسپورٹ کےلیئے کوئ لیٹر جاری نہیں کرسکتا کیونکہ تم آج ریزائن کر رہے ہو۔۔میرا خیال ہے تمہیں معمول کے طریقہ کار کے مطابق پاسپورٹ کے لیئے اپلائ کرنا چاہیئے اور پھر کانگو جانا چاہیئے۔۔۔۔ایک ویزیٹر کے طور پر۔۔۔۔۔۔اگر تم ورلڈ بنک کے ایمپلائ ہوتے تو ھم تمہاری فیملی کے لیئے کسی بھی حد تک جاتے لیکن اب انکا تحفظ ہماری ذمہ داری نہیں۔۔۔تمہارے لیئے زیادہ مناسب یہ ہے کہ تم کنشاسا میں امریکن ایمبیسی سے رابطہ کرو یا پاکستان ایمبیسی سے۔۔۔تم اوریجنلی پاکستان سے ہو نا؟؟

سالار اس کے اس تضحیک آمیز جملے کو شہد کے گھونٹ کی طرح پی گیا۔رافیل کے دو ٹوک انکار نے اسکے ذہنی ہیجان میں اضافہ کر دیا تھا۔زندگی میں کبھی کسی مغربی ادارے سے اسے اتنی شدید نفرت نہیں ہوئ جتنی اس وقت اسے ورلڈ بنک سے ہوئ تھی۔۔۔وہ اپنی زندگی کے بہترین سال اور صلاحیتیں مغرب کو دیتا آیا تھا ۔۔اقوام متحدہ اور اسکے باقی ادارے اور اب ورلڈ بنک۔۔۔کل تک وہ وہاں ایک خاص اسٹیٹس کیساتھ آتا رہا تھا اور آج وہ اس سے ایسا سلوک کر رہے تھے جیسے وہ ایک بھکاری ہو۔جسکے لیئے ورلڈ بنک کےپاس کچھ نہیں۔

بعض لمحے انسانوں کی زندگی میں تبدیلی کےلمحےہوتے ہیں ۔۔صرف ایک لمحے کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔پہلی دفعہ مارگلہ کی پہاڑی پر موت کے خوف سے وہ اس طرز زندگی سے تائب ہوا تھا جو وہ گزارتا آیا تھا اور آج دوسری بار امامہ اور اپنے بچوں کی موت کے خوف اور ورلڈ بنک میں اپنے سینئرز کے ہاتھوں ملنے والی تذلیل کے بعد وہ فیصلہ کر بیٹھا تھا۔جو وہ اب تک کتراتا رہا تھا۔۔۔بعض خوف سارے خوف کھا جاتے ہیں۔۔۔سالار کیساتھ بھی اس دن وہی ہوا تھا ۔وہاں بیٹھے اس نے اس دن یہ طے کیا تھا کہ وہ اگلے دس سال میں ورلڈ بنک سے بڑا ادارہ بنائے گا۔وہ دنیا کے اس مالیاتی نظام کو الٹ دے گا جس پر مغرب قابض تھا۔۔

تم مزید کسی ایشو کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہو؟؟ رافیل نے بظاہر بے نیازی جتاتے ہوئے اس سے کہا۔

نہیں۔۔۔۔وہ مزید کچھ کہے بغیر اٹھ گیا۔۔۔رافیل بھونچکا رہ گیا تھا۔وہ اسے اپنی بیوی بچوں کی زندگی کے لیئے گڑگڑاتا دیکھنا چاہتا تھا۔۔لیکن سالار سکندر ان حالات میں بھی اٹھ کر چلا گیا تھا۔۔۔۔رافیل کو لگا اسکا ذہنی توازن خراب ہوچکا تھا۔۔۔

ہیڈ کوارٹرز کی عمارت سے اس طرح نکلتے ہوئے سالار کو خود بھی ایسے لگا تھا جیسے اسکا ذہنی توازن خراب ہوچکا تھا۔۔اور وہ اتنا بے حس اور بے رحم تو نہیں ہوسکتا تھا کہ امامہ اور بچوں کے لیئے وہاں کچھ بھی کیئے بغیر آجائے۔وہ وہاں کمپرومائز کرنے گیا تھا اپنی بیوی اور بچوں کی زندگی بچانے لے لیئے انکی شرائط ماننے کی نیت سے گیا تھا لیکن رافیل لے رویے نے جیسے اسکا ذہن الٹ کر رکھ دیا تھا۔۔

میں ان میں سے کسی سے بھی اپنی فیملی کی زندگی کی بھیک نہیں مانگوں گا۔۔ان میں سے کسی کے سامنے نہیں گڑگڑاؤں گا۔۔عزت اور ذلت دونوں اللہ کے ہاتھ میں ہے۔اللہ نے ہمیشہ مجھے عزت دی ہے ور ذلت جب بھی میرا مقدر بنی ہے میرے اپنے فیصلوں کی وجہ سے بنی ہے۔۔۔

میں آج بھی اللہ سے ہی عزت مانگوں گا پھر اگر اللہ مجھے ذلت دے گا تو میں اللہ کی دی ہوئ ذلت بھی قبول کر لوں گا۔لیکن میں دنیا کے کسی اور شخص سے ذلت نہیں لوں گا۔۔نہ جھکوں گا۔۔۔نہ کمپرومائز کروں گا۔

وہ ریت کا ٹیلا بن کر اندر گیا تھا اور آتش فشاں بن کر باہر آیا تھا۔۔وہ وہی لمحہ تھا جب اس نےامامہ اور اپنے بچوں کی زندگیاں بھی داؤ پر لگا دی تھی۔۔۔۔۔۔







قسط نمبر 25۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سالار سکندر کو پھانسنے کے لیئے جو پھندا تیار کیا گیا تھا وہ اس سے بچ کر نکل گیا تھا اور جن لوگوں نے وہ پھندا تیار کیا تھا انہیں اندازہ نہیں تھا کہ بساط کسطرح پلٹنے والی ہے۔۔۔وہ اسکو مات دینا چاہتے تھے وہ انہیں شہ مات دینا چاہتا تھا۔۔اور اللہ بیشک بہترین تدبیر کرنے والا ہے

*******----------*********

وہ دن ورلڈ بنک کے لیئے بڑی خوشخبری لیکر آیا تھا پیٹرس ایباکا کوما کی حالت میں مر گیا تھا۔سالار نے وہ خبر بنک سے واپس آکر ٹی وی پر سنی تھی۔یہ اسکے لیئے ایک اور دھچکا تھا۔لیکن وہ رات ورلڈ بنک کےلیئے سیاہ ترین رات تھی۔۔۔ایباکا مرنے سے پہلے ورلڈ بنک کی موت کا سامان کرگیا تھا۔۔۔

******-****-----********

ایکسکیوز می۔۔۔۔۔وہ کہتے ہوئے اٹھ کر بار کی طرف چلی گئ۔۔اسکی نظروں نے جیکی کا تعاقب کیا۔۔

اس نے نظر ہٹاتے ہوئے اپنے سامنے پڑے اورنج ڈرنک کا ایک گھونٹ لیا۔بہت عرصے بعد وہ کسی عورت کیساتھ اکیلا بار میں بیٹھا تھا۔

وہ ہاتھ میں پکڑے گلاس سے دوسرا گھونٹ لے رہا تھاجب جیکی دو شیمپئن لے گلاس لیکر واپس آگئ ۔۔

میں نہیں پیتا۔۔۔۔اس نے ایک گلاس اپنے سامنے رکھنے پر چونک کر اسے یاد دلایا۔

یہ۔شیمپیئن ہے۔۔۔جیکی نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا۔۔

شیمپئن شراب نہیں ہے کیا؟؟ وہ ٹیبل پر پڑی سگریٹ کی ڈبیا سے اب ایک سگریٹ نکال کر لائٹر کی مدد سے سلگا رہا تھا۔۔

جیکی نے آگے جھکتے ہوئے بڑے سہولت کیساتھ اس کے ہونٹوں میں دبا سگریٹ نکال لیا۔وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔

وہ اب اسی سگریٹ کو اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں میں دبائے بائیں ہاتھ میں شیمپئن کا گلاس پکڑے مسکراتے ہوئے سگریٹ کے کش لے رہی تھی۔۔

اس نے نظریں چراتے ہوئے سگریٹ کی ڈبیا سے ایک اور سگریٹ نکال لی۔

آو ڈانس کریں۔۔۔وہ۔جیکی کی آفر پر ایک بار پھر چونکا۔

میں ڈانس نہیں کرتا۔۔اس نے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے لائٹر رکھا۔

آتا نہیں ہے۔۔۔جیکی ہنسی تھی۔۔۔۔

پسند نہیں ہے۔۔۔وہ مسکرایا تھا۔

شراب کبھی نہیں پی تم نے؟؟ جیکی نے پوچھا۔۔

بہت عرصہ پہلے۔۔۔اس نے جیسے اعتراف کیا۔۔۔

شیمپیئن؟؟ جیکی نے مصنوعی حیرت سے کہا۔۔

یہ بھی۔۔۔۔۔بے تاثر چہرے کیساتھ اس نے کہا۔

وہ دعوے کیساتھ کہہ سکتی تھی کہ یہ مرد کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کرسکتا تھا اور وہ بھی بری طرح اسکی طرف ملتفت ہورہی تھی۔۔۔

تمہاری شیمپئن۔۔۔۔جیکی نے ایک بار پھر یاد دلایا۔

تم لے سکتی ہو۔۔اس نے جواباً گلاس اسکی طرف بڑھا دیا۔۔۔

اگر پہلے پیتے تھے تو اب اس میں کیا برائ نظر آئ تمہیں۔۔۔جیکی اس بار سنجیدہ ہوئ تھی۔

لطف حاصل کرنے کے لیئے پیتا تھا جب لطف ختم ہوگیا تو شراب بھی چھوڑ دی۔

وہ اسکی بات پہ بے اختیار ہنسی تھی۔۔۔وہ آگے جھکی اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے اس نے کہا۔۔۔

کیا تم جانتے ہو مجھے تم میں ایک ساحرانہ کشش محسوس ہوتی ہے۔۔۔

وہ مسکرایا تھا۔۔۔جیسے اس کے جملے سے محظوظ ہوا تھا۔۔۔

زہے نصیب۔۔۔اس نے جواباً کہا۔۔۔

جیکی نے بڑے غیر محسوس انداز میں میز پر رکھے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔وہ ہٹانا چاہتا تھا لیکن چاہتے ہوئے بھی نہ ہٹا سکا۔وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے۔۔

پھر جیکی نے کہا۔۔۔

کیا تم ایک رات کے تعلق پر یقین رکھتے ہو/؟؟

جواب فوری آیا تھا۔۔۔

بلکل۔۔۔۔۔

××××----××××××----××××

اینڈرسن کووپر دو ہفتے بعد کانگو میں بارانی جنگلات کے حوالے سے ایک پروگرام کرنے جارہا تھا اس نے انگلینڈ اور یورپ کے اخبارات میں ایباکا کے انٹرویوز اور پگمیز کی بقاء کے لیئے چلائ جانء والی مہم کے بارے میں بنیادی معلومات لینے کے بعد اپنی ٹیم کے ایک فرد کے ذریعے اس سے رابطہ کیا تھا۔۔۔اور آج ایباکا کو کووپر سے خفیہ ملاقات کرنی تھی اور ایباکا خوشی سے بے قابو تھا۔اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ کام اتنی جلدی ہوسکتا ہے۔وہ واشنگٹن میں کئ دنوں سے کئ چینلز کے لوگوں سے ملتا رہا تھا اور امید و نا امیدی کے درمیان لڑھک رہا تھا۔۔۔ایباکا کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ اینڈرسن کووپر کی طرف سے ملنے والی کال نے اسکی زندگی اور موت کا فیصلہ کرلیا تھا۔مگر تاخیر بس تھوڑی سی ہوئ تھی اسکی نگرانی کرنے والوں سے ۔۔ایک سراسیمگی اور بد حواسی پھیلی تھی ان لوگوں میں جنہوں نے یہ طے کرنا تھا کہ اب اچانک سی این این کے منظر میں آجانے کے بعد وہ فوری طور پر ایباکا کا کیا کریں۔۔۔تشویش اس بات پر بھی ہوئ تھی کہ اگر ایباکا اور پگمیز کے حوالے سے کووپر نے پروگرام کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔تو اور کتنے ایسے صحافی تھے جو اس پراجیکٹ کے حوالے سے پروگرام کرنے کی تیاریوں میں تھے۔۔۔

ایباکا جن چھوٹے موٹے چینلز اور جرنلسٹس کو بڑا اور طاقتور سمجھ کر واشنگٹن میں انکے ساتھ ساتھ وقت گزارتا آرہا تھا وہ سب پہلے ہی ایباکا کی نگرانی کرنے والوں کی فہرست میں شامل تھے۔اور یہاں بھی ایباکا کو مانیٹر کرنے والے لوگوں کو اچانک دعپیش آنے والا چیلنج یہی تھا اگر وہ پروگرام کووپر ایباکا سے پہلے پیش کرنے کا ارادہ نہ کرچکا ہوتا تو سی آئ اے کے لیئے کوپر کو اس آفیشنسی صحافت سے روکنے کا واحد حل یہ تھا کہ ایباکا کو اس تک کسی بھی قیمت پر نہ پہنچنے دیا جاتا۔۔لیکن یہاں کووپر ایباکا سے اس اسٹیج پر رابطہ کر رہا تھا جب مبادہ اور اسکی ٹیم پہلے ہی اس ایشو پر بہت زیادہ کام کرنے کے بعد کانگو روانگی کی تیاریوں میں تھی۔یہ تھا وہ چیلنج جس نے فوری طور پر ایباکا اور کووپر کی ملاقات کے حوالے سے سی آئ اے کو پریشان کیا تھا۔اور اس پریشانی میں اضافہ تب ہوا تھا جب ایباکا اس کال ملنے کے فوراً بعد ہی واشنگٹن سے نیویارک کے لیئے چل پڑا تھا۔اور جب تک انکا اگلا لائحہ عمل طے ہوتا ایباکا ٹائم وارنر سینٹر پہنچ چکا تھا۔

اینڈرسن کوپر کیساتھ دو گھنٹوں کی ایک گرما گرم نشست کے بعد وہ جب سی این این سٹوڈیوز سے باہر نکلا تھا تو ایباکا کا جوش پہلے سے زیادہ بڑھ گیا تھا۔

اسے پہلی بار سالار سے رابطے کا خیال آیا ۔۔۔

اینڈران کووپر کے ساتھ سوال وجواب کے اس آف کیمرہ سیشن میں سالار سکندر کا ذکر بار بار آیا تھا۔کہ کیسے اس نے اس پراجیکٹ کے حوالے سے اسکے تحفظات کو سنجیدگی سے سنا اور چھ ماہ انکے ساتھ ان جنگلات میں جا جا کر مقامی لوگوں سے حقائق اکھٹے کرتا رہا۔سالار سکندر کے لیئے اپنے ستائشی جذبات کووپر تک پہنچاتے ہوئے ایباکا کو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ اس نے سالار سکندر کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔

ایباکا نے اس عمارت سے نکلنے کے بعد سینٹرل پارک کیطرف جاتے ہوئے بے حد خوشی کے عالم میں سالار کو ٹیکسٹ کیا تھا۔وہ اسے بتانا چاہتا تھا کہ وہ اب سی این این تک رسائی حاصل کرچکا تھا۔وہ ٹیکسٹ بہت لمبا تھا اور اس میں بہت کچھ تھا۔سالار اس وقت اپنی فلائٹ پر تھا اور کچھ گھنٹوں بعد جب وہ واشنگٹن میں اترا تب تک اسکے رابطوں کے تمام ذرائع زیر نگرانی آچکے تھے۔ایباکا کی آخری ای میل سالار سکندر کو اسکی موت کے بعد ملی تھی۔لیکن ان لوگوں کو سالار سکندر کے جہاز اترنے سے بھی کئ گھنٹہ پہلے مل گئ تھی جو ایباکا کی زندگی اور موت کے حوالے سے فیصلہ کررہے تھے۔۔ایباکا کی فوری موت انہیں نہیں چاہیئے تھی۔انہیں فی الحال کچھ گھنٹوں کے لیئے اسکی زندگی چاہیئے تھی۔اپنی تحویل میں ایباکا کو رکھتے ہوئے وہ اب اسی کے ذریعے اس کیس کو بند کرنا چاہتے تھے۔۔اور اسکے بعد وہ ایباکا سے جان چھڑا لیتے ۔۔اسکی طبعی موت کے ذریعے۔۔۔

کووپر سے ایباکا کی ہونے والی اچانک ملاقات نے سی آئ اے کو ایکدم پسپا کردیا تھا۔۔۔وہ ایباکا اور سالار دونوں کو اکٹھے نہیں مار سکتے تھے۔

سالار کو فی الحال صرف خوفزدہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔اور سی آئ اے کو اندازہ نہیں تھا کہ انہوں نے غلط حکمت عملی غلط آدمی پر لاگو کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔۔

ایباکا کو چند گھنٹوں کی بعد بروکلین کے ایک ایسے علاقے کی تنگ و تاریک گلی میں روکا گیا تھا جہاں ایک قریبی عمارت میں ایباکا کو اہنے ایک دوست سے ملنا تھا۔سی آئ اے سمجھتے تھے کہ ایباکا انکے لیئے حلوہ ہے جسے وہ آسانی سے قابو کرلیتے۔۔۔ایسا نہیں ہوا تھا۔ایباکا ان دو افراد سے بڑی بے جگری سے لڑا تھا جنہوں نے اچانک اسکے قریب گاڑی روک کر اسے ریوالور دکھا کر اندر بٹھانے کی کوشش کی تھی ۔۔اس نے ساری زندگی امریکہ کی مہذب دنیا میں گزاری تھی لیکن جنگلی زندگی اسکی سرشت میں تھی اسے اپنا دفاع کرنا آتا تھا۔ وہ خود لہولہان تھا تو ان دونوں افراد کو بھی لہولہان کرچکا تھا۔۔پتا نہیں یہ ایباکا کی بد قسمتی تھی ان دونوں ایجنٹس کی یا سی آئ اے کی۔۔۔۔کہ لڑتے لڑتے ریوالور ایباکا کے ہاتھ میں آگیا تھا اور پھر اس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ ان دونوں افراد پر گولی چلا دی ۔۔گولی ایک کو لگی تھی لیکن دوسرا خود پر ہونے والے فائر سے بہت پہلے اپنا ریوالور نکال کر ایباکا پر دو فائر کرچکا تھا جو اسکے سینے میں لگے تھے۔۔۔

ان فائرز نے اس سڑک پر چلتے راہ گیر کو وہاں سے بھاگنے پر مجبور کردیا تھا اور ان ہی میں سے کسی نے پولیس کو بھی فون کیا تھا لیکن پولیس کے آنے سے پہلے ہی وہ دونوں ایجنٹس شدید زخمی حالت میں تڑپتے ایباکا کو گاڑی میں ڈال کر فرار ہوگئے تھے۔۔جس ایجنٹ کی ٹانگ میں گولی لگی تھی۔وہ ہوش وحواس میں تھا اور ایباکا کو گاڑی میں لیکر فرار ہوتے ہوئے اس نے اپنے سرپرستوں کو سارے واقعے سے آگاہ کردیا تھا۔

ایباکا کی وہ حالت اس دن سی آئ اے کےلیئے دوسرا جھٹکا تھی۔انہیں ایباکا کی زندگی چند گھنٹوں کے لیئے چاہیئے تھی تاکہ وہ ان تمام چیزوں کو بھی نابود کرے جو ایباکا کے مرنے کے بعد کسی اور کے ہاتھ لگ جانے کی صورت میں انکے لیئے کوئ اور ایباکا کھڑا کردیتا۔ ۔ ایباکا سے پہلے چند لوگوں نے رابطہ کرکے اسے اس سارے معاملے سے ہٹ جانے کے لیئے رشوت کے طور پر بلینک چیک پیش کیا تھا۔۔لیکن ایباکا کا انکار اقرار میں نہیں بدلا تھا ۔۔قیمت ھمیشہ اقرار کی ہوتی ہے ۔انکار انمول ہوتا ہے۔۔ان پیش کشوں کے انکار کے بعد ایباکا کو پہلی بار یہ حدشات لاحق ہونے لگے تھے کہ اگر اسے خریدا نہیں جاسکتا تو اسے مارا جاسکتا ہے۔۔اور اسی وجہ اس ایباکا نےاپنے بہت سے دوستوں اور ساتھیوں کے پاس ان دستاویزات کی کاپیاں رکھ دی تھی۔سی آئ اے کو اسکی خبر بھی تھی ایباکا نے اگر سینکڑوں کاپیاں امریکہ کانگو اور انگلینڈ میں اپنے دوستوں کے پاس رکھوائ تھی تو سی آئ اے کو ان سینکڑوں لوگوں کی معلومات تھی۔وہ دستاویزات ہر اس جگہ سے چوری کر کے انکی جگہ کچھ اور ڈاکومنٹس رکھ دیئے جاتے تھے۔اور ایباکا کو اس بات کا احساس تک نہیں ہوا کہ اسکے پیچھے اس پراجیکٹ کے حوالے سے سارے سراغ مٹائے جارہے تھے۔

فی الحال دنیا میں صرف دو شخص تھے جنکےپاس وہ دستاویزات اپنی اصل شکل میں موجود تھی۔پیٹرس ایباکا۔اور سالار سکندر۔۔۔ایباکا اب زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا اور سالار اگلے دن خوار ہونے والا تھا مگر سی آئ اے کو اسوقت سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ وہ ایباکا کے دستخط کیسے حاصل کرسکتے جسکی انہیں فوری ضرورت تھی۔ تاکہ وہ اسکے لاکرز کھلوا سکتے جہاں اسکی اصل دستاویزات تھی۔انکی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ ان اصلی دستاویزات کو حاصل کرنے کے بعد ایباکا کو ختم کردے مگر سب کچھ الٹ ہوا ۔

پلان اے اور پلان بی ناکام ہوچکا تھا۔اب سی آئ اے کو پلان سی سے کام لینا تھا۔لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایباکا کے پاس ایک پلان ڈی تھا جسکا انہیں کبھی پتا نہ چل سکا۔۔۔وہ کانگو میں اپنی۔گرل فرینڈ کے پاس ایک وصیت چھوڑ آیا تھا۔

******-------****---*****

امامہ کو اندازہ نہیں تھا وہ کتنی دیر تک بے ہوشی کی حالت میں رہی یا رکھی گئ تھی مگر بے ہوشی جب ختم ہونا شروع ہوئ تو اس نے جیسے بے اختیاری کے عالم میں سب سے پہلے اس وجود کو ڈھونڈنا شروع کیا جسے اس نے پہلی بار اور آخری بار آپریشن تھیٹر میں بے ہوش ہونے سے پہلے دیکھا تھا۔۔تکلیف کی حالت میں بھی اسے یاد تھا کسی نے اسے بتایا تھا کہ وہ لڑکا تھا۔۔۔

درد سے بے حال اس نے محمد حمین سکندر کو اپنی آغوش میں لیتے ہوئے اسے چوما تھا اور پھر اسے چومتی چلی گئ ۔وہ بے حد کمزور تھا۔اور وجہ اسکی قبل از وقت پیدائش تھی۔وہ تین ہفتے قبل دنیا میں آیا تھا ۔۔نیم غنودگی میں وہ اپنا بستر ٹٹولتی رہی اس بات کا احساس کیئے بغیر کے وہ نوزائیدہ بچہ اسکے بستر پر نہیں سو سکتا تھا۔بے ہوشی ختم ہورہی تھی اسکی یاداشت آہستہ آہستہ واپس آرہی تھی دماغ نے کام کرنا شروع کیا تھا ۔۔جبریل۔۔۔۔۔عنایہ۔۔۔۔سالار۔۔۔۔۔وہ کچھ بے چین ہوئ تھی۔امامہ نے یاد کرنے کی کوشش کی۔کہ وہ وہاں کیسے آئ ۔۔ذہن پر زور دیکر۔۔۔۔

----*******----***----***--*

سی آئ اے کے لیئے سب سے بڑی پریشانی سالار کی فیملی۔تھی ۔انہیں غائب کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کام تھا ۔مگر انہیں یہ احساس دلائے بغیر غائب کرنا کہ انہیں غائب کیا جارہا ہے بہت مشکل تھا۔سالار جس رات واشنگٹن کے لیئے روانہ ہوا تھا اسکے اگلے دن امامہ کی گائناکالوجسٹ نے اسے فون کیا تھا۔امامہ کے معائنہ کی تاریخ تین دن بعد کی تھی ۔اس کی امریکن ڈاکٹر نے اسے اسی دن ایمرجنسی میں آنے کے لیئے کہا تھا۔۔۔۔امامہ نے کسی غور و حوض کے بغیر جانے کی ہامی بھر لی۔۔

وہ ہمیشہ کی طرح جبریل اور عنایہ کیساتھ پیڈی کو بھی ہسپتال لیکر گئ تھی۔اسکی ڈاکٹر نے اسکا الٹراساؤنڈ کرنے کے بعد کچھ تشویش کے عالم میں اس سے کہا تھا کہ اسے بچے کی حرکت ابنارمل محسوس ہورہی ہے اس کو کچھ اور ٹیسٹ کروانے ہونگے اور ساتھ انہیں کچھ انجیکشن لینا ہونگے۔امامہ کو تشویش ہوئ تھی تو صرف یہ کہ سالار وہاں نہیں تھا۔وہ اس سے پہلے ہمیشہ اس کے ساتھ وہاں آتی تھی ایسے معائنوں کے لیئے۔۔۔۔ڈاکٹر نے انہیں فوری طور پر ہاسپٹل میں کچھ گھنٹوں کے لیئے یہ کہہ کر ایڈمٹ کیا تھا کہ انہیں اسکو زیر نگرانی رکھنا تھا۔۔

اسے ایک کمرے میں شفٹ کیا گیا اور جو انجکشن امامہ کو دیئے گئے وہ درد بڑھانے والے انجکشن تھے۔امامہ کو گھر سے غائب اور سالار اور اپنی کسی فیملی ممبر سے رابطہ منقطع رکھنے کے لیئے سی آئ اے کےپاس اس سے بہترین حل نہیں تھا کہ اسکے بچے کی قبل از وقت پیدائش عمل میں لائ جائے۔۔۔۔

امامہ انجکشن لگوانے سے قبل ہسپتال کے کمرے میں ہی پیڈی جبریل اور عنایہ کو لے آئ تھی۔اس وقت بھی اسکا یہی خیال تھا کہ چند گھنٹوں بعد وہ واپس گھر چلی جائے گی۔لیکن اسے پہلی بار تشویش تب ہوئ جب اسے درد زہ ہونا شروع ہوا اور ڈاکٹر نے اسکی تصدیق بھی کردی کہ انجیکشن کے ری ایکشن میں شاید انہیں بچے کی زندگی بچانے کے لیئے اسے فوری طور پر دنیا میں لانا پڑے۔۔

وہ پہلا موقع تھا جب امامہ بری طرح پریشان ہوئ تھی۔۔۔اسکی سمجھ میں نہ آیا کہ بچوں کو کہاں بھیجے۔اسکے ڈاکٹر نے مدد کی پیشکش کی لیکن امامہ کے لیئے تو یہ ناممکن تھا۔وہ اپنی اولاد کے بارے میں جنون کی حد تک محتاط تھی۔وہ پہلی بار جبریل کو گود میں لینے پر بلک بلک کر روئ تھی لگتا تھا اولاد نہیں معجزہ تھا اسکے لیئے۔۔ سالار کہتا تھا وہ جبریل کی عاشق تھی۔اور وہ ٹھیک کہتا تھا۔اسے جبریل کے سامنے واقعی کچھ نظر نہیں آتا تھا۔عنایہ۔۔۔سالار دونوں کہی پیچھے چلے جاتے تھے۔وہ اس پر بھروسا کرتی تھی اور چار سال کے اس بیٹے کو ہرجگہ اپنے ساتھ یوں رکھتی تھی جیسے وہ بہت بڑا ہو۔جبریل عام بچوں جیسی عادات نہیں رکھتا تھا ۔۔ذہانت باپ سے ورثے میں ملی تھی لیکن برداشت اس نے کہاں سے سیکھ لی یہ امامہ نہیں جان پائ۔۔جبریل میں عجیب سی سنجیدگی اور ذمہ داری تھی جو اسکے معصوم چہرے پر بلا کی سجتی تھی۔۔۔

وہ ہر چیز کا بے حد خاموشی سے مشاہدہ کرنے کا عادی تھا۔۔۔امامہ کونسی چیز کہاں رکھتی تھی یہ جبریل کو یاد رہتا تھا وہ سالار سکندر کی غیر موجودگی مین اس گھر کا بڑا تھ امامہ کو اب بہت گھبراہٹ ہورہی تھی وہ چاہتی تھی اسکی ڈلیوری کم از کم تب تک ٹل جائے جب تک سالار امریکہ پہنچ جائے اوروہ اس سے بات کرلے۔اسے صورت حال سے آگاہ کرلے وہ اسکے اور بچوں کی فوری دیکھ بھال کے لیئے تو کچھ کرتا ہی لیکن کم از کم وہ اس سے ڈلیوری سے پہلے ایک بار بات تو کرلیتی۔۔وہ خوف جو ہمیشہ اسے اپنے حصار میں لیتا رہا تھا وہ اب بھی لے رہا تھا ۔۔اور کیا ہوا۔۔۔۔۔اگر ڈلیوری کے دوران وہ مر جائے تو۔۔۔اور یہ تو تھی جو اسے ہر بار آپریشن تھیٹر میں جاتے ہوئےسالار سے ایک بار معافی مانگنے پر مجبور کرتی ۔اپنی احسان مندی جتانےپر مجبور کرتی لیکن بس زبان اگر ایک جملے پر آ کر اٹکتی تھی تو وہ اس سے محبت کا اظہار تھا۔وہ حمین کی پیدائش سے پہلے موت کے خوف میں مبتلا ہوئ تھی۔اور اس بار پہلے سے کئ گنا زیادہ ۔۔کیونکہ سالار دور تھا۔۔۔۔۔وہ تنہا تھی اور اسکے بچے کمسن۔۔اسکی خواہش پوری نہ ہوسکی درد بڑھ رہا تھا اور ڈاکٹر اسے آپریشن تھیٹر میں لیجانا چاہتی تھی۔کیونکہ کیس نارمل نہیں تھا۔اسے آپریشن کرنا تھا۔۔ امامہ نے جبریل کو عنایہ کی ذمہ داری سونپی تھی۔اسے بہن کا خیال رکھنے اور اسے کبھی اکیلا نہ چھوڑنے کا کہا تھا۔جبریل نے ہمیشہ کی طرح سر ہلایا تھا فرمانبرداری سے۔۔۔آپ نیا بے بی لے آئیں میں اس بے بی کا خیال رکھوں گا۔۔۔

چار سالہ جبریل نے انگلش میں ماں کو تسلی دی۔۔اور اسکی تسلی سے امامہ کے ہونٹوں پر اس تکلیف میں بھی مسکراہٹ آئ تھی۔۔آپریشن تھیٹر جانے سے قبل اس نے دونوں کو گلے لگا کر چوما۔۔۔

******------*****---******

یوٹیوب پر کسی نے ایک ویڈیو اپلوڈ کی تھی جسمیں ایک سیاہ فام بروکلین کے پس ماندہ حصہ میں ایک پاس سے گزرنے والی گاڑی سے یکدم نکلنے والے دو سفید فاموں سے لڑتا نظر آیا۔۔ویڈیو اس بلڈنگ میں رہنے والے ایک سیاہ فام نو عمر بچے نے ہینڈی کیم سے بنائ تھی جو اس جگہ سے بلکل قریب ایک بلڈنگ کی دوسری منزل کی کھڑکی سے اسکول پراجیکٹ کے سلسلے میں ایک ویڈیو شوٹ کر رہا تھا ۔۔میرے پڑوسی۔۔۔۔۔اس نے اپنی گلی میں شروع ہونے والی اس لڑائ کو اتفاقاً لیکن بڑی دلچسپی سے یہ سوچتے اور کمنٹری کرتے ہوئے ریکارڈ کیا تھا کہ وہ اس علاقے میں ہونے والی اسٹریٹ فائٹ کو بھی اہنے اطرف کے امتیازی فیچر کے طور پر پیز کریگا۔لیکن اسے اندازی نہیں تھا کہ وہ سٹریٹ فائٹ گولیاں مارنے پر ختم ہوگی۔۔

سی آئ اے کی بد قسمتی یہ تھی کہ وہ ویڈیو بہت قریب سے بنائ گئ تھی اور اس میں نظر آنے والے تینوں افراد کے چہرے واضح تھے۔اس بچے نے ویڈیو شوٹ کرتے ہوئے بھی چلا چلا کر ان دونوں افراد کو سیاہ فام کو کھینچ کر گاڑی میں ڈالنے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔لیکن اس کوشش میں ناکامی کے بعد اس نے گاڑی کا نمبر پلیٹ زوم کر کے ریکارڈ کیا تھا۔

پولیس کو وہ ویڈیو دینے سے پہلے اس نے وہ ویڈیو سیاہ فاموں کے ساتھ امریکہ میں ہونے والی زیادتیوں پر مبنی ایک ویب سائٹ پر منتقل کی تھی اور اس ویب سائٹ نے اسے یوٹیوب پر ۔۔اس پر بے شمار لوگوں نے رد عمل کا اظہار کیا وہ ویڈیو یوٹیوب سے اب نیوز چینلز پر آگئ تھی اور وہاں سے بین الاقوامی نیٹ ورکس پر۔۔

پیٹرس ایباکا کو پہچاننا مشکل نہیں تھا وہ جلد پہچانا گیا۔۔طوفان یوٹیوب پر کیا مچا تھا طوفان تو وہ تھا جو سی آئ اے کے ہیڈکوارٹرز میں آیا تھا۔ایک آسان ترین سمجھنے والا آپریشن سی آئ اے کے منہ پر ذلت اور بدنامی تھوپنے والا تھا۔۔۔ساتھ امریکی حکومت اور ورلڈ بنک بھی پھنسنے والے تھا ۔کبھی کبھی انسان کو اسکی بے وقوفی نہیں اسکی ضرورت سے زیادہ چالاکی لے ڈوبتی ہے اور سی آئ اے کیساتھ بھی اس وقت یہی ہوا تھا۔وہ اسے کسی زخمی کا حادثہ دکھا کر اس سے جان چھڑانا چاہتے تھے اور یہ کام وہ واشنگٹن میں کرنا چاہتے تھے جہاں سالار سکندر موجود تھا۔اور اس دن واشنگٹن میں صرف ایک حادثہ ہوا تھا۔ جسکا ایک زخمی پیٹرس ایباکا کو ظاہر کر کے دونوں کا تبادلہ کیا گیا تھا ہاسپٹل انتظامیہ کو ایباکا کے حوالے سے معلومات تھی ۔۔

اسکی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی اور سی آئ اے سرجری کے بعد ہاسپٹل سے اسے اپنے ٹھکانے پر لیجا کر بھی اس سے کوئ کام کی بات نہ پوچھ سکی۔تو اب انہیں اس سے وہ آخری کام لینا تھا جسکے لیئے اسے واشنگٹن پہنچایا گیا تھا اور جس کے لیئے نیوز چینل پر بار بار اس حادثے کے زخمی اور مرنے والوں کے نہ صرف نام چلائے گئے تھے بلکہ انکی پاسپورٹ سائز کی تصویریں بھی۔۔۔سی آئ اے کو یقین تھا کہ نیوز چینل پر چلنے والی یہ خبر سالار کے علم میں ضرور آئے گی اور انہیں یہ بھی یقین تھا کہ سالار اس سے ملنے ضرور جاتا۔

اندازے درست ثابت ہوئے وہ خبر سالار نے دیکھ بھی لی تھی اور وہ فوری طور پر اس سے ملنے بھی چلا گیا ۔۔سالار کو ہاسپٹل آنے جانے میں تقریباً دو گھنٹے لگے اور اتنا ہی وقت چاہیئے تھا سی آئ اے کو اسکے کمرے سے لیپ ٹاپ سمیت ہر اس چیز کا صفایا کرنے کے لیئے جسے وہ کام کی سمجھتے تھے۔۔سب کچھ ویسے ہی ہوا تھا جیسے اسکا پلان تھا۔لیکن نتیجہ وہ نہیں نکلا جسکی انہیں توقع تھی۔۔۔۔

وہ ویڈیو انہیں لے ڈوبی تھی۔کوئ بھی اس ویڈیو میں نظر آنے والے چہرے کے نقوش نہیں بھول سکتا تھا۔وہ حادثے میں زخمی ہوکر مرنے والے ایباکا کی شناخت نہیں بدل سکتے تھے۔۔وہ نیوز چینلز پر ایباکا کی تصویریں نہ چلوا چکے ہوتے تو اس حادثے کے فوری بعد شدید زخمی فرد کے طور پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ت شاید سی آئ اے یہی کرتی اور ایباکا کو واشنگٹن کے اس ہاسپٹل سے فوری طور پر واپس نیویارک منتقل کردیا جاتا لیکن وہ ایک غلطی کے بعد دوسری نہیں تیسری اور چوتھی غلطی بھی کر بیٹھے تھے۔۔۔

اس جلتی آگ کو بجھانے کی کوشش بہت جلد شروع کی گئ۔۔انہوں نے یوٹیوب سے اس ویڈیو کو مٹانے کی کوشش کی وہ اسے بلاک نہیں کر سکتے تھے کیونکہ یہ شور شرابے کو بڑھا دیتا لیکن بار بار اپلوڈ ہونے والے لنکس کو مٹا رہے تھے۔اور اس میں کوشش کے باوجود ناکام ہورہے تھے۔ ۔۔وہ آگ امریکہ سے کانگو پہنچ گئ تھی۔

ایباکا کی موت کی وجہ کیا ہوسکتی تھی۔۔۔کون اسے مار سکتا تھا۔اور کیوں مارسکتا تھا۔۔اسکو صرف وہ شخص بتا سکتا تھا جسکا نام ایباکا کووپر کے سامنے کئ بار لے چکا تھا۔جو واشنگٹن میں اس سے ملنے کے لیئے آنے والا واحد ملاقاتی تھا۔امریکہ کے ہر نیوز چینل پر اس رات سالار سکندر کا نام اس حوالے سے چل رہا تھا۔اور ہر کوئ سالار سکندر سے رابطہ کرنے میں ناکام تھا۔۔۔۔

*******------***--********

اس رات اپنے ہوٹل کے کمرے میں بیٹھے ان تمام نیوز چینلز کی کوریج ماؤف دماغ کیساتھ سالار بھی دیکھ رہا تھا ۔۔۔سی آئ اے بھی دیکھ رہی تھی اور ورلڈ بنک کے وہ سارے کرتا دھرتا بھی جو دو دن سے سالار سکندر کو ہراساں کرنے کے لیئے تن من دھن کی بازی لگا بیٹھے تھے۔۔۔

پیٹرس ایباکا کو اس ویڈیو میں نشانہ بنتے دیکھ کر سالار کو اس رات یقین ہوگیا تھا کہ اسکی فیملی زندہ نہیں ہے۔وہ لوگ اگر ایباکا کو مار سکتے تھے تو وہ اور اسکی فیملی کیا شے تھی۔۔۔۔ اس رات اگر اسے کسی شے میں دلچسپی تھی تو وہ صرف اپنی فیملی کی زندگی تھی۔۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔اپنا آپ بھی نہیں۔۔۔

اور سی آئ اے میں اس آپریشن کو کرنے والے لوگ اس رات صرف ایک بات سوچ رہے تھے کہ سالار سکندر کا کیا کرنا تھا اب۔۔۔زندہ رکھنا تھا۔۔۔۔مار دینا تھا۔۔۔زندہ رکھنا تھا تو پھر اسکی کھلنے والی وہ زبان کیسے بند رکھے ج ورلڈ بنک سمیت بہت سے دارلحکومتوں میں بھونچال برپا کرتی۔۔مار دیتے تو کیسے مارتے۔۔۔۔کہ اسکی موت ایباکا کی طرح سی آئ اے کے منہ پر ایک اور بدنامی کے دھبے کا اضافہ کردیتی۔۔یا پھر کنشاسا میں موجود اسکی فیملی کی زندگی کے ذریعے اسے بلیک میل کرتے۔۔قید میں وہ اسے رکھ نہیں سکتے تھے۔۔۔

زندگی یا موت۔۔۔۔زندگی۔۔۔۔موت۔۔ ۔۔

پھر فیصلہ ہوگیا تھا لیکن وہ سی آئ اے نے نہیں بلکہ کانگو کے عوام نے کیا تھا۔۔۔

++++++****+++++****

چار سالہ جبریل نے اپنے خاندان کو درپیش آنے والے بحران میں جو رول ادا کیا وہ اس نے زندگی میں کئ بار ادا کرنا تھا ۔۔

امامہ کے جانے کے بعد پیڈی کو اچانک خیال آیا کہ امامہ اسے گھر سے کچھ چیزیں لانے کا کہہ گئ تھی پیڈی نے سوچا کہ وہ وہاں بچوں کو اکیلا چھوڑنے کی بجائے اپنے ساتھ لے جائے گی پھر واپس لے آئے گی۔ جبریل نے اس ساتھ لیجانے والی کوشش کے جواب میں صاف انکار کرتے ہوئے اسے یاد دلایا تھا کہ ممی نے اس سے کہا تھا کہ وہ وہی رہینگے۔وی انہیں ساتھ نہیں لے جائے گی۔پیڈی کو یاد آیا اور اس نے دوبارہ اصرار نہیں کیا۔۔۔

وہ جبریل کو جانتی تھی ۔چار سال کی عمر میں بھی وہ بچہ کسی طوطے کی طرح ماں باپ کی باتیں رٹ کر پھر وہی کرتا تھااور مجال تھی کہ کسی دوسرے کی باتوں میں آ کر وہ امامہ اور سالار کی کسی ہدایت کو فراموش کرتا۔پیڈی انہیں امامہ کی ڈاکٹر کی ایک اسسٹنٹ کے پاس چھوڑ کر فوری طور پر گھر چلی گئ ۔انکی عدم موجودگی میں عنایہ کو نیند آنے لگی تھی ۔ڈاکٹر کی اسسٹنٹ نے نیند میں جھولتی ہوئ دو سال کی اس بچی کو اٹھا کر ایک بنچ پر لٹانے کی کوشش کی اور جبریل نے اسے روک دیا۔۔وہ وہاں سے عنایہ سمیت ہٹنا نہیں چاہتا تھا جہاں پیڈی انہیں بٹھا کر گئ تھی۔اسسٹنٹ کچھ حیران ہوکر واپس اپنی ٹیبل پر گئ۔۔وہ ایک انٹرسٹنگ بچہ تھا۔۔۔اس نے اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے اسے دیکھ کر سوچا۔۔دو سالہ عنایہ اب جبریل کی گود میں سررکھے سو رہی تھی اور وہ بے حد چوکنا بیٹھا بہن کے سر کو اپنے ننھے ننھے بازوؤں کے خلقے میں لییے ملاقاتی کمرے میں آنے جانے والوں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔اور تب وہ عورت ان دونوں کے برابر آکر بیٹھ گئ اور اس نے جبریل کو ایک مسکراہٹ دیتے ہوئے اسکا سر تھپتھپایا۔۔اور جواباً اس بچے کے تاثرات نے اسے سمجھا دیا تھا کہ اسے یہ بے تکلفی اچھی نہیں لگی۔۔اس عورت نے دوسری بار سوئ ہوئ عنایہ کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے کی کوشش کی تو اس بار جبریل نے اسکا ہاتھ بڑی نرمی سے پرے کرتے ہوئے سرگوشی میں کہا۔۔

She is sleeping

اوہ سوری۔۔امریکن عورت اسے دیکھ کر مسکرائ۔۔

اس عورت نے اپنا پرس کھول کر اس میں سے چاکلیٹ کی ایک بار نکال کر جبریل کی طرف بڑھائ۔۔

No thanks

جواب چاکلیٹ بڑھانے سے بھی پہلے آگیا تھا۔۔

میرے پاس کچھ کھلونے ہیں۔۔۔اس بار اس عورت نے زمین پر رکھے ایک بیگ سے ایک اسٹفڈ کھلونا نکال کر جبریل کی طرف بڑھایا۔اسکی سرد مہری کی دیوار توڑنے کی یہ آخری کوشش تھی۔

جبریل نے اس کھلونے پر نظر ڈالتے ہوئے نہایت شائستگی سے اس سے کہا۔۔

آپ ہمیں تنگ کرنا بند کریں گی پلیز۔۔۔۔

ایک لمحے کے لیئے وہ عورت چپ ہی رہ گئ تھی۔یہ جیسے شٹ اپ کال تھی۔مگر وہ وہاں منہ بند کرنے کے لیئے نہیں آئ تھی۔۔۔انہیں ان دونوں بچوں کو وہاں سے لے جانا تھا اور انکا خیال تھا آتے جاتے ملاقاتیوں میں دو کمسن بچوں کو بہلا پھسلا کر وہاں سے لیجانا کونسا مشکل تھا۔زور زبردستی وہ اتنے لوگوں کے سامنے عنایہ کے ساتھ کرسکتے تھے جبریل کیساتھ نہیں۔۔۔۔۔

اب وہ منتظر تھی کہ عنایہ کی طرح وہ چار سالہ بچہ بھی تھک کر سو جائے پھر شاید انکو کسی طرح وہاں سے ہٹا دیا جاتا۔وہ دس پندرہ منٹ بیٹھے رہنے کے بعد وہاں سے اٹھ گئ تھی۔۔اسے ان بچوں کے حوالے سے نئ ہدایات لینی تھی اور پانچ منٹ بعد جب وہ واپس آئ تو پیڈی وہاں انکے پاس موجود تھی۔۔۔۔

وہ عورت ایک گہرا سانس لیکر رہ گئ۔وہ ان دونوں کو کوئ نقصان نہیں پہنچانا چاہتے تھے صرف اپنی نگرانی میں رکھنا چاہتے تھے جب تک امریکہ میں سالار کیساتھ معاملات طے نہ ہوجاتے۔۔

عنایہ اب جاگ گئ تھی اسے باتھ روم جانا تھا ۔پیڈی اسے باتھ روم لیکر جانا چاہتی تھی اس نے جبریل کو ایک بار پھر وہی ٹہرنے کا کہا لیکن وہ نہیں ٹہرا۔ وہ کسی بھی طرح عنایہ کو اپنی آنکھوں سے اوجھل کرنے پہ تیار نہیں تھا۔پیڈی کو اسے بھی باتھ روم لے جانا پڑا۔وہ عورت بھی انکے پیچھے باتھ روم آئ تھی۔اور جبریل نے اس عورت کو ایک بار پھر نوٹس کیا تھا۔۔

تم ہمارے پیچھے کیوں پڑی ہو۔

واش بیسن میں ہاتھ دھونے میں مصروف وہ عورت اس بچے کا جملہ سن کر جیسے ایڑھیوں پر گھومی تھی۔۔پیڈی نے اس عورت کو دیکھا اور معذرت خواہانہ انداز میں مسکرائ جیسے وہ جبریل کی اس بات سے متفق نہیں تھی۔۔پینتالیس سال کی اس عورت نے مسکراتے ہوئے اس چار سالہ بچے کو سراہا تھا۔وہ پہلی بار ایک چار سالہ بچے سے پسپا ہوئ تھی۔وہ جن بھی ماں باپ کی اولاد تھا کمال تربیت ہوئ تھی اسکی۔۔ پیڈی ان دونوں کو لیکر وہاں سے چلی گئ تھی لیکن وہ عورت نہیں گئ تھی۔وہ ایک بار پھر اس بچے سے وہ جملہ نہیں سننا چاہتی تھی۔بہتر تھا اسکے بھیجنے والے اسکی جگہ کسی اور کو بھیج دیتے۔

پیڈی امامہ سے ڈیڑھ گھنٹہ بعد بھی نہ مل سکی تھی کیونکہ ڈاکٹر نے کہا تھا وہ ہوش میں نہیں ۔آپریشن ٹھیک ہوا تھا لیکن اسے خواب آور دوائیاں دی جارہی تھی۔پیڈی نے امامہ کے فون سے بار بار سالار کا نمبر ملانے کی کوشش کی لیکن ہر بار ناکام ہوئ۔وہ اسے اسکے بیٹے کی خبر دینا چاہتی تھی اور ساتھ یہ اطلاع بھی کہ اسکے بچے انکے پاس محفوظ ہیں۔۔۔پیڈی نے بار بار امامہ سے ملنے کی کوشش کی کیونکہ اب عنایہ بھی بے قرار ہورہی تھی۔ڈاکٹر نے اسے ان کوییٹر میں پڑا حمین تو دکھا دیا تھا لیکن امامہ تک رسائی نہیں دی تھی۔اس نے ایک بار پھر اسے دونوں بچوں کو اسکی تحویل میں دینے کا کہا اور ہمیشہ کی طرح جبریل اڑ گیا تھا ۔۔نیند سے بوجھل آنکھوں اور تھکاوٹ کے باوجود عنایہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے بیٹھا ہوا تھا کیونکہ ممی نے اسے عنایہ کا خیال رکھنے کا کہا تھا۔اس نے وہ بے بی بوائے بھی دیکھ لیا تھا جسے ممی لینے گئ تھی لیکن ممی کہاں تھی یہ سوال اب صرف اسے ہی نہیں پیڈی کو بھی پریشان کر رہا تھا وہ اب کنشاسا میں سالار کے آفس کے ذریعے اس سے رابطہ کرنے میں مصروف تھی لیکن سالار غائب تھا اور کانگو میں ورلڈ بنک پر قیامت ٹوٹنے والی تھی ۔۔۔۔

--------*********---------

پیٹرس ایباکا اپنی موت کے چوبیس گھنٹوں میں ہی صرف کانگو کے پگمیز کا نہیں بلکہ پورے افریقہ کا ہیرو بن گیا تھا۔اس خطے نے آج تک صرف بکنے والے حکمران دیکھے تھے اس خطے نے ہیرو پہلی بار دیکھا تھا۔جان دینے والا ہیرو ۔ایباکا ساری زندگی پرامن طریقوں سے جدوجہد کرنے والا تھا اور اس کا درس دیتا تھا لیکن اپنی موت کے بعد اسکی جو وصیت منظر عام پر آئ تھی اس میں اس نے پہلی بار غیر متوقع اور غیر فطری موت کی صورت میں اپنے لوگوں کو لڑنے کے لیئے اکسایا تھا۔اس جنگل کو بچانے کے لیئے انہیں سفید فاموں کو مار بھگانا تھا۔چاہے اسکے لیئے کچھ بھی کرنا پڑے۔اپنی اس وصیت میں اس نے ورلڈ بنک امریکہ اور ان دوسری عالمی طاقتوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ان سب کے خلاف جہاد کرنے کا کہا تھا۔۔۔وہ مسلمان نہیں تھا لیکن مذاہب کا تقابلی جائزہ لیتا رہا تھا اور اسے اپنے لوگوں کیساتھ ہونے والی نا انصافی اور ظلم کے خلاف بغاوت کے لیئے جہاد سے زیادہ موزوں لفظ نہیں ملا تھا۔۔اس نے صرف پگمیز کو مخاطب کی تھا صرف انہیں جنگلوں سے نکل کر شہروں میں آ کر لڑنے کا کہا تھا۔ورلڈ بنک اور ان آرگنائزیشنز کے ہر دفتر پر حملہ کر کے وہاں کام کرنے والوں کو مار بھگانے کا کہا تھا لیکن اس رات وہ صرف پگمیز نہیں تھے جو ایباکا کی کال پر ورلڈ بنک کیساتھ ان غیر ملکی آرگنائزیشنز پر چڑھ دوڑے تھے ۔وہ کانگو کے استعماریت کے ہاتھوں سالوں سے استحصال کا شکار ہوتے ہوئے عوام تھے جو باہر نکل آئے تھے۔۔

کنشاسا میں اس رات تاریخ کے وہ سب سے بڑے فسادات ہوئے تھے جس میں کوئ سیاہ فام نہیں صرف سفید فام مارے گئے تھے۔۔ورلڈ بنک کے آفسوں پر حملہ کر کے اسے لوٹنے کے بعد اسکو آگ لگادی گئ تھی۔اور یہ سلسلہ صرف وہاں تک نہیں رکا تھا۔۔ورلڈ بنک کے حکام کی رہائش گاہوں پر بھی حملے لوٹ مار اور قتل و غارت ہوئ تھی اور ان میں سالار سکندر کا گھر بھی تھا۔۔۔وہ سالار سکندر کا گھر نہیں تھا جسے آگ لگائ گئ تھی وہ ورلڈ بنک کے سربراہ کا گھر تھا جسے ہجوم نے اس رات تباہ کیا تھا۔۔۔ورلڈ بنک کے چالیس افراد ان فسادات میں مارے گئے تھے۔اور یہ نچلے عہدوں پر کام کرنے والے لوگ نہیں تھے وہ ورلڈ بنک کی سینئر اور جونیئر منیجمنٹ تھی۔۔اپنی اپنی فیلڈ کے ماہر اور نامور لوگ۔۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ورلڈ بنک اور سی آئ اے ہیڈ کوارٹرز میں آپریشن روم کی دیواروں پر لگی سکرینوں پر تینوں اداروں کے سینئر حکام دم سادھے بے بسی کیساتھ کانگو میں ہونے والے ان فسادات کے مناظر دیکھ رہے تھے ۔انہیں بچانے کی کوششیں ہورہی تھی لیکن فوری طور پر کوئ بھی کانگو کے ان فسادات میں عملی طور پر کود سکتا تھا۔جو جانی اور مالی نقصان ہوا تھا وہ پورا کرلیا جاتا لیکن جو ساکھ اور نام ڈوبا تھا اسے بحال کرنے کےلیئے کوئ معجزہ چاہیئے تھا۔۔۔

ان فسادات کے آغاز سے بلکل پہلے اینڈرسن کووپر نے ایباکا کیساتھ ہونے والے سے آف کیمرہ سیشن کو اپنے پروگرام میں چلا دیا تھا تب تک اسے اندازہ نہیں تھا کہ اس رات کانگو میں کیا ہونے والا تھا ۔اس سیشن میں ایباکا نے امریکہ اور ورلڈ بنک پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں گدھ اور ڈاکو قرار دیا تھا جو کانگو کو نوچ نوچ کر کھا رہے تھے۔اور کوئ انکا ہاتھ نہیں روک پا رہا تھا۔۔

پیٹرس ایباکا کا وہ آخری انٹرویو افریقہ میں لوگوں نےاسٹیڈیم اور چوکوں پر روتے ہوئے بڑی سکرینوں پر سنا تھا۔۔اور اس کی گفتگو میں ورلڈ بنک کے صرف ایک عہدیدار کی تعریف تھی جو بنک کو اس پراجیکٹ کی انکوائری پر مجبور کر رہا تھا۔

قسط نمبر26.---------

اور ایسا نہ کرنے پر وہ ورلڈ بنک کو چھوڑ دینا چاہتا تھا۔ایباکا نے اپنی زندگی کو لاحق ہونے والے خطرات کی بات بھی کی تھی اور یہ بھی کہا تھا کہ وہ طاقتیں جو اسے مار ڈالنا چاہتی ہیں وہ سالار سکندر کو بھی مار ڈالیں گے۔

سالار سکندر کا نام پیٹرس ایباکا کے بعد ایک رات میں افریقہ میں زبان زد عام ہوگیا تھا۔افریقہ میں ویسی شہرت پہلی بار کسی غیر ملکی کو نصیب ہوئ تھی۔اور وہ غیر ملکی اس وقت واشنگٹن میں اہنے کمرے میں ٹی وی پر یی سب دیکھ رہا تھا ۔پھر بار بار باہر جا کر پاکستان فون کر کے اپنی فیملی کے بارے میں سکندر سے پتا کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔کاش اسے وہ نام وری نہ ملتی۔۔اس نے سوچا۔

نیوز چینلز یہ بتا رہے تھےکہ کنٹری ہیڈ سمیت سارے گھروں کو لوٹا گیا تھا اور بہت سے گھروں میں اموات بھی ہوئ۔کچھ افسران کی بیویوں پر حملے ہوئے اور کسی کے بچے مارے گئے۔۔۔

ٹی وی پر وہ سب کچھ دیکھتے ہوئے وہ شدید پریشان تھا۔

-------**********----------

میرے بچے کہاں ہیں؟؟ اس نے اٹینڈنٹ کی شکل دیکھتے ہی ہوش و حواس سنبھالنے کے بعد سب سے پہلا سوال یہی کیا تھا۔

وہ کچھ دیر میں آپکےپاس آجائیں گے آپکو ہاسپٹل سے کہی منتقل کرنا ہے۔اٹینڈنٹ نے بے حد مودب انداز میں کہا۔امامہ نے بستر سے اٹھنے کی کوشش کی اور بے اختیار کراہ کر رہ گئ۔زخم والی جگہ اب سن نہیں رہی تھی۔اسے لگا جیسے کسی نے ایک خنجر اسکے پیٹ میں گھونپا ہے۔۔اٹینڈنٹ نے جلدی سے آگے بڑھ کر انہیں لٹانے میں مدد دی۔اور پھر ٹرے میں ایک انجیکشن اٹھا کر سرنج میں بھرنے لگی جووہ لائ تھی۔۔۔

مجھے کوئ انجکشن نہیں لگوانا میں نے اپنے بچوں کو دیکھنا ہے۔امامہ نے بے حد ترشی سے اسے کہا۔۔۔

یہ آپکی تکلیف کم کردے گا۔آپکی حالت ابھی ٹھیک نہیں ہے ۔اٹینڈنٹ نے کہتے ہوئے گلوکوز کی بوتل میں سرنج کی سوئ گھونپ دی۔

امامہ۔نے اپنے ہاتھ کی پشت پر ٹیپ کیساتھ چپکائی ہوئ سرنج نکال لی۔۔۔

مجھے فی الحال کسی میڈیسن کی ضرورت نہیں مجھے اپنے بچوں سے ملنا ہے اور اپنے شوہر سے بات کرنی ہے۔۔

وہ اس بار زخم کی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہوئے اٹھ بیٹھی اور اس نے اٹینڈنٹ کا ہاتھ جھٹک دیا تھا۔۔وہ کچھ دیر چپ کھڑی رہی پھر خاموشی سے کمرے سے نکل گئ۔

اسکی واپسی آدھ گھنٹہ بعد پیڈی جبریل اور عنایہ کیساتھ ہوئ ۔کمرے کا دروازہ کھلتے ہی ماں پر پہلی نظر پڑتے ہی جبریل اور عنایہ شور مچاتے ہوئے اس کی طرف آئے۔ اور اسکے بستر پر چڑھ کر اس سے لپٹ گئے تھے۔دو دن کے بعد ماں کو دیکھ رہے تھے۔پیڈی بھی بے اختیار لپک کر انکےپاس آئ۔دو دن سے امامہ کو نہ دیکھنے پر اور ڈاکٹرز کی بار بار کی لیت لعل پر امامہ کے حوالے سے اسکے ذہن میں عجیب وہم آرہے تھے۔اور اب امامہ کو بخیریت دیکھ کر وہ بھی جذباتی ہوئے بنا نہ رہ سکی۔۔۔

تم نے سالار کو اطلاع دی؟؟ امامہ نے پیڈی کو دیکھتے ہی اس سے پوچھا۔

میں کل سے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہی ہوں لیکن انکا نمبر نہیں مل رہا میں نے انکے آفس کے سٹاف سے بھی رابطہ کیا لیکن وہ کہہ رہے کہ سالار صاحب کے ساتھ انکا بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا

امامہ کے دماغ کو ایک جھٹکا لگا تھا۔۔

کل؟؟ وہ بڑبڑائ۔۔آج کیا تاریخ ہے؟؟

پیڈی نے جو تاریخ بتائ وہ اس دن کی نہیں تھی جس دن اسے ہاسپٹل لایا گیا تھا۔اس نے اپنا بیگ لیکر اس میں سے فون نکال کر اس پر کال کرنے کی کوشش کی۔۔اٹینڈنٹ نے انہیں بتایا کہ ہاسپٹل کے اس حصے میں سگنلز نہیں آتے۔وہ اسکا منہ دیکھ کر رہ گئ تھی۔اپنے سیل فون پر اس نے سب چیٹ ایپس اور ٹیکسٹ میسجز چیک کرلیئے تھے کل سے آج تک اس میں کچھ بھی نہیں تھا۔۔ اس سے پہلے کہ وہ پیڈی سے کچھ پوچھتی اس نے اسے کانگو میں ہونے والے فسادات کے بارے میں بتایا تھا۔اور ساتھ یہ بھی کہ انکے گھر پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔۔۔۔امامہ سکتے میں آگئ۔۔

یہ وہ پہلے لمحہ تھا جب امامہ کو سالار کے حوالے سے بے قراری ہوئ۔پیٹرس ایباکا مارا گیا تھا تو سالار کہاں تھا؟ وہ بھی تو واشنگٹن میں تھا۔پیڈی نے اسے نیوز چینل پر چلنے والی ساری خبریں بتا دی تھی۔ایباکا کیسے مارا گیا اور کیسے اسکی موت سامنے آئ اور اس سے آخری بار ملنے کے لیئے جانے والا سالار سکندر تھا اوروہ اسی وقت سے غائب ہے۔

امامہ کے ہاتھ کانپنے لگے تھے۔اسکا خیال تھا کہ اسے دنیا میں سب سے زیادہ محبت جبریل سے تھی لیکن اب جب سالار اس کی زندگی سے کچھ دیر کے لیئے عجیب طرح سے غائب ہوا تھا تو اسکے اوسان خطا ہونے لگے تھے۔

وہ جبریل اور عنایہ کو اسی طرح بستر پر چھوڑ کر درد سے بے حال ہوتے ہوئے بھی لڑکھڑاتے قدموں سے فون لییے کمرے سے باہر نکل آئ۔اسے ہاسپٹل میں اس جگہ جانا تھا جہاں سے وہ اس سے بات کرسکتی۔اسے اسکے گجر تباہ ہونے کا بھی خیال نہیں آیا تھا گھر بچے سب کچھ یکدم اس ایک شخص کے سامنے بے معنی ہوگیا تھا جو اسکا سائبان تھا۔جو زندگی کی دھوپ میں اسکے لیئے تب چھاؤں بنا تھا جب اسکا وجود حدت سے جھلس رہا تھا۔

اٹینڈنٹ اور پیڈی نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ نہ رکی۔وہ ننگے پاؤں پھوڑے کی طرح دکھتے جسم کیساتھ کوریڈور میں نکل آئ تھی۔۔

سالار وہاں ہوتا تو اسے اس حالت میں بستر سے بھی اٹھنے نہیں دیتا لیکن مسلہ ہی یہی تھا کہ سالار وہاں نہیں تھا۔۔اسکا جسم ٹھنڈا پڑ رہا تھا ۔یہ موسم نہیں تھا جو اسے لرزا رہا تھا خوف تھا جو رگوں میں خون جما رہا تھا۔اسکا پورا جسم پتے کی طرح کانپ رہا تھا۔

آپکے شوہر بلکل ٹھیک ہیں میں تھوڑی دیر میں آپکی ان سے بات کروا دیتی ہوں۔۔

امامہ چلتے چلتے ساکت ہوئ اور اٹینڈنٹ کی آواز پر پلٹی۔۔۔۔اور پھر وہاں کھڑے کھڑے موم کی طرح پگھلنے لگی۔۔۔۔۔۔۔

----------++++++----------

سی آئ اے اور ورلڈ بنک کے ساتھ امریکن گورنمنٹ کو ایک ہی وقت میں سالار کی ضرورت پڑی تھی۔کانگو میں اگر اس وقت کوئ انکی عزت بحال کرنے کی پوزیشن میں تھا تو وہ سالار سکندر ہی تھا۔پاور گیم ون مین شو بن گیا تھا۔افریقہ میں جو آگ ایباکا کی موت نے لگائ تھی وی سالار سکندر کی زندگی ہی بجھا سکتی تھی ۔فیصلہ تاخیر سے ہوا تھا لیکن ہوگیا۔۔۔

اس آپریشن کے تباہ کن نتائج نہ صرف سی آئ اے میں بہت سے لوگوں کی کرسیاں لے جانے والے تھے بلکہ ورلڈ بنک میں بھی بہت سے سر کٹنے والے تھے۔تاج کہی اور رکھا جانے والا تھا۔

سالار اس سب سے بے خبر ہوٹل کے کمرے میں اب بھی نیوز چینلز دیکھ رہا تھا۔وہ کچھ دیر پہلے اپنے باپ سے بات کر کے آیا تھا سالار کے سر میں درد شروع ہوا تھا۔

What is next to exstasy

آہ کیا سوال تھا۔۔۔کیا یاد دلایا تھا ۔۔کیا یاد آیا تھا۔

Pain......

And what is next to pain

اتنے سالوں بعد ایک بار پھر وہ سوال و جواب اسکے ذہن میں چلنے لگے تھے۔آخر کتنے مواقع آئے تھے زندگی میں اسے سمجھانے کہ اس کے بعد کچھ نہیں ہے۔۔۔عدم وجود۔۔خالی پن۔۔۔۔۔۔

And what is next to nothingness

اسکا اپنا سوال ایک بار پھر اسکا منہ چھڑانے آیا تھا۔۔

Hell,,,,

جہنم کوئ اور جگہ تھی کیا؟ اس نے بے اختیار کراہتے ہوئے سوچا۔

دو دن بعد اسکا سیل فون جیسے موت کی نیند سے جاگا تھا ۔۔وہ میوزک اور وہ روشنی۔۔اسے لگا وہ خواب دیکھ رہا ہے۔۔وہ میوزک اس نے امامہ کی کالر آئ ڈی کیساتھ محفوظ کیا ہوا تھا۔۔۔

سیل فون پر اسکا مسکراتا چہرہ اسکا نام ۔سالار کو لگا وہ واقعی جنت میں کہی تھا۔اس نے کانپتے ہاتھوں سے کال ریسیو کی۔لیکن ہیلو نہیں کہہ سکا۔وہ امامہ نے کہا تھا۔بے قرار بے آواز. وہ بول ہی نہ سکا۔سانس لینا تو بہت بڑی بات تھی اپنے قدموں پر کھڑا تھا تو کمال تھا۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف سے وہ بے قراری سے اسکا نام لے رہی تھی ۔۔بار بار۔۔۔سالار کا پورا وجود کانپنے لگا تھا۔وہ آواز اسے ہرا کر رہی تھی۔۔کسی بنجر سوکھے پیڑ پر بارش کے بعد بہار میں پھوٹنے والی سبز کونپلوں کی طرح ۔۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا تھالیکن اسکے سامنے رو نہیں سکتا تھا۔۔وہ مرد تھا۔۔بولنا مشکل تھا پر بولنا ضروری تھا۔

امامہ۔۔۔۔اس نے اپنے خلق میں پھنسے ہوئے نام کو آزاد کیا تھا۔۔۔

دوسری طرف وہ پھوٹ پھوٹ کر روئ تھی۔وہ عورت تھی یہ کام آسانی سے کرسکتی تھی۔وہ بے آواز روتا رہا۔۔وہ دوزخ سے گزر کر آئے تھے۔۔

بے آواز روتے ہوئے سالار نے اسی طرح کھڑے کھڑے اس کمرے کے درمیان میں امامہ کی ہچکیاں اور سسکیاں سنتے اپنے جوتے اتارے۔۔پھر وہ گھٹنوں کے بل سجدے میں جاگرا تھا۔۔۔

کئ سال پہلے وہ ریڈ لائٹ ایریا میں امامہ کے نہ ہونے پر اسی طرح ایک طوائف کے کوٹھے پر سجدے میں جاگرا تھا۔۔۔آج وہ امامہ کے ہونے پر سجدے میں گرا تھا۔۔

بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔۔وہ کن کہتا ہے اور چیزیں ہوجاتی ہیں۔۔گمان سے آگے بیان سے باہر۔بیشک اللہ ہی سب سے بڑا اور طاقتور ہے۔۔

------------++++++---------

ہی از کیوٹ۔۔۔جبریل نے حمین پر ایک نظر ڈالنے کے بعد تین لفظوں میں بڑے محتاط اور مفصل انداز میں اپنے خاندان میں اس نئے اضافے پر تبصرہ کیا تھا۔۔اس کے برعکس عنایہ بڑے اشتیاق سے والہانہ انداز میں اس چھوٹے بھائ کو دیکھ رہی تھی جسکی آمد کے بارے میں وہ مہینوں سے سن رہی تھی۔امامہ کی باتیں سن سن کر اسے چھوٹے بھائ سے زیادہ اس پری کو دیکھنے کی دلچسپی ہوگئ تھی جو انکے گھر روز یہ دیکھنے آتی تھی۔کہ انہیں بھائ کی ضرورت تھی یا نہیں۔وہ امامہ سے زیادہ پری کے بارے میں اشتیاق سے پوچھتی تھی۔۔جبریل نے نہ کبھی بھائ کے بارے میں سوال کیا نہ ہی پری کے بارے میں۔۔کیونکہ اسے پتا تھا ممی جھوٹ بول رہی تھی۔کیونکہ نہ پریاں ہوتی ہیں نہ بھائ کو پری نے لانا تھا۔بھائ کو اسپتال سے آنا تھا اور اسپتال خود جانا پڑے گا۔اور وہ بھی کار سے سڑک کے ذریعے اس اسپتال میں جہاں وہ ممی کیساتھ جاتے تھے۔۔۔لیکن اس نے یہ معلومات صرف عنایہ کیساتھ تنہائ میں شیئر کی تھی امامہ کے سامنے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ممی جھوٹ بولتی ہیں۔۔۔عنایہ نے اس سے پوچھا۔۔۔۔۔

نہیں ۔۔۔وہ جھوٹ نہیں بولتی لیکن تم چھوٹی ہو اس لیئے وہ تم سے کہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نے بڑے مدبرانہ انداز میں بہن کو سمجھایا تھا۔

وہ اس وقت امریکن ایمبیسی کے اندر موجود ایک چھوٹے سے میڈیکل یونٹ میں تھے۔وہ طوفان جو انکی زندگی اڑانے آیا تھا۔کچھ بھی تہس نہس کیئے بغیر قریب سے گزرتا چلا گیا۔امامہ اپنے بچوں کیساتھ سالار سے بات چیت کے بعد اب پرسکون تھی۔اس نے وقفے وقفے سے پاکستان میں سب سے بات کی تھی اور سب سے حمین کی پیدائش پر مبارکباد وصول کی تھی۔۔۔۔

سالار نے اسے ہر بات سے بے خبر رکھا تھا ۔فون پر انکی لمبی بات نہیں ہوسکی تھی۔سالار نے اسے آرام کرنے کا کہا تھا۔اس نے امامہ سے کہا تھا کوئ سگنلز اور سیٹلائٹ کا مسلہ تھا جسکی وجہ سے اسکا رابطہ اس سے نہیں ہو پارہا تھا۔۔اور اسی وجہ سے وہ اس قدر پریشان تھا۔

امامہ نے اس سے ایباکا کے حوالے سے بات کی تو اس نے اسے تسلی دی کہ سب ٹھیک ہے وہ پریشان نہ ہو اسکی زندگی کو خطرہ نہیں۔۔وہ اس سلسلے میں پولیس سے رابطے میں ہے۔

امامہ مطمئن ہوگئ تھی۔

پیڈی اب بھی اسکے ساتھ تھی اور وہ کمرے میں چلتےہوئے ٹی وی پر کانگو کے حالات کے حوالے سے چلنے والی خبریں دیکھ رہی تھی ۔جہاں ایباکا کا ذکر آرہا تھا وہاں سالار سکندر کا بھی ذکر ہورہا تھااس انٹرویو کی جھلکیاں بھی بار بار چل رہی تھی جس میں ایباکا نے بار بار سالار کے بارے میں اچھے الفاظ میں بتایا تھا اور اسکی اور اپنی زندگی کے حوالے سے لاحق خطرات کا بھی ذکر کیا تھا۔۔۔

سالار سے بات کرنے کے بعد امامہ کی جو پریشانی ختم ہوئ تھی۔ وہ ایک بار پھر سر اٹھانے لگی۔وہ مصیبت میں تھا لیکن اسے کیوں بے خبر رکھ رہا تھا۔امامہ کو اسکا احساس ہونے لگا تھا ۔وہ وہاں بیٹھ کر اس سے فون پر سوالات کرنا نہیں چاہتی تھی وہ اسکے سامنے بیٹھ کر اس سے پوچھنا چاہتی تھی۔کہ اسکے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

ممی۔۔۔۔جبریل نے اسے مخاطب کیا۔۔۔

پاپا کو کون مارنا چاہتا ہے۔

وہ اسکے سوال پر منجمد ہوگئ تھی۔امامہ کو ٹی وی دیکھتے ہوئے اندازہ نہیں ہوا تھا کہ وہ بھی اسکے ساتھ بیٹھا ہوا وہ سب دیکھ اور سن رہا ہے۔۔ وہ بلا کا ذہین تھا اپنے باپ کی طرح۔۔۔ امامہ اور سالار اسکے سامنے گفتگو میں بہت محتاط رہتے تھے۔

امامہ نے ٹی وی آف کردیا وہ اب اسے ٹالنا چاہتی تھی ۔

کوئ آپکے پاپا کو نہیں مارنا چاہتا۔۔اس نے جبریل کو اہنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔اللہ آپکے پاپا کی حفاظت کر رہا ہے اور ھم سب کی بھی۔۔وہ اسے تھپتھپاتےہوئے بولی۔۔۔

اللہ نے پیٹرس ایباکا کی حفاظت کیوں نہیں کی؟؟

امامہ لاجواب ہوگئ۔۔۔جبریل کے سوال اسے ہمیشہ لاجواب کردیتے۔۔۔وہ بحث نہیں کرتا تھا صرف پوچھتا تھا۔جواب سنتا تھا سوچتا تھا اور خاموش ہوجاتا تھا۔مگر امامہ سمجھ نہ پاتی کہ اسکے جواب نے اسے قائل کیا تھا یا نہیں۔۔۔وہ بچہ گہرا تھا۔اس کا احساس اسے تھا۔لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ اپنے ماں باپ کے حوالے سے بہت ساری باتیں سوچتا تھا۔جو وہ ان سے پوچھتا کبھی نہیں تھا۔۔

دیکھو تمہارا چھوٹا بھائ کیسا لگتا ہے تمہیں۔۔۔امامہ نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔

ہی از کیوٹ۔۔۔۔اس نے جواب دیا.

تمہارے جیسا لگتا ہے نا۔۔امامہ نے اسے خوش کرنے کی کوشش کی۔۔

مجھے تو نہیں لگتا۔۔جبریل کو شاید ماں کی یہ مماثلت اچھی نہیں لگی۔

اچھا تم سے کیسے ڈفرنٹ ہے۔۔امامہ نے دلچسپی سے پوچھا۔

اسکی مونچھیں ہیں۔۔میری تو نہیں ہیں۔

امامہ بے ساختہ ہنسی۔وہ حمین کے چہرے اور بالائ لب پر آنے والی روئیں کو دیکھ کر کہہ رہا تھا۔

یہ میری طرح لگتا ہے۔۔۔عنایہ نے بڑی مدھم آواز میں اٹکتے ہوئے امامہ کو مطلع کیا تھا۔

وہ عنایہ کی مدھم آواز پر ہنس پڑی تھی۔وہ احتیاط کر رہی تھی کہ سویا ہوا بھائ بیدار نہ ہوجائے۔انہیں اندازہ نہیں تھا وہ سویا ہوا بھائ نہیں سویا ہوا جن تھا جو بیدار ہونے کے لیئے اپنے باپ کی آمد کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔

سی آئ اے نے جس بچے کو تین ہفتے پہلے دوا ں کے اثر سے قبل از وقت دنیا میں لانے کی کوشش کی تھی اگر انہیں محمد حمین سکندر کا تعارف ہوجاتا تو وہ اس پیدائش کو کم از کم تین سو سال تک روکتے۔۔۔

مستقبل سے بے خبر امامہ بڑی محبت سے اسے سوئے ہوئے دیکھ رہی تھی۔جو دو دن بعد ہی خراٹیں لے رہا تھا۔

کیا یہ خراٹے لیتا ہے؟ جبریل نے اسکے خراٹے نوٹس کرتے ہوئے بے یقینی دے ماں کو دیکھا۔

امامہ اسکے مشاہدے پر حیران ہوئ تھی۔۔۔جبریل کے احساس دلانے پر اس نے پہلی بار غور کیا تھا۔

نہیں۔۔۔وہ بس گہرے سانس لے رہا ہے۔۔۔

ممی کیا یہ آپکا لاسٹ بے بی ہے۔۔سوال ڈائریکٹ آیا تھا اور سنجیدگی سے کیا گیا تھا۔امامہ کو سمجھ نہ آیا کہ وہ ہنسے یا شرمندہ ہو۔۔۔پیڈی ہنس پڑی تھی۔۔۔

ہاں سویٹ ہارٹ یہ لاسٹ بے بی ہے۔۔۔اس نے جیسے جبریل کو تسلی دی۔

ھم دو بھائ اور ایک بہن ہے۔۔جبریل نے انگلیوں کو چھو کر گنا۔۔۔۔

ہاں ڈیئر۔۔۔امامہ نے اسکا منہ چوم کر اسے یقین دلایا۔۔۔اسے پتا نہیں تھا اسکے گھر ایک اور بچی نے پرورش پانی تھی۔۔ کنیز غلام فرید عرف چنی۔۔۔۔۔۔

-----------********-----------

سکندر عثمان کے گھر آنے والا وہ مہمان ناقابل یقین تھا۔وہ انکے گھر کئ بار گئے تھے مصالحت کے طور پر. تعزیت کے لیئے۔لیکن ہاشم مبین کبھی اس کے گھر نہیں آیا تھا۔۔وہ اب اسکے پڑوس میں نہیں رہے تھے وہ گھر بک چکا تھا۔سکندر پہلی نظر میں اسے پہچان نہ پایا۔۔اسکی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ اسکے ساتھ کیا رویہ رکھیں۔۔

مجھے امامہ سے بات کرنی اور ملنا ہے۔چند ہی جملوں کے بعد ہاشم مبین نے ان سے کہا تھا۔

وہ یہاں نہیں ہے۔۔سکندر نے بڑے محتاط انداز میں بتایا۔

میں جانتا ہوں وہ کانگو میں ہے میں وہاں کا نمبر لینا چاہتا ہوں وہاں کے حالات خراب ہیں وہ ٹھیک تو ہے نا؟؟

انہوں نے رک رک کر ایک ہی سانس میں ساری باتیں کہی۔

ہاں وہ سالار اور بچے ٹھیک ہیں۔۔۔وہ فون نمبر کا مطالبہ گول کر گئے تھے۔

میں اس سے بات کرنا چاہتا ہوں ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہوں۔وہ اپنا مطالبہ نہیں بھولا تھا۔

میں امامہ سے پوچھے بنا آپکو اسکا نمبر یا ایڈریس نہیں دے سکتا۔۔سکندر نے بلا تمہید کہا۔۔

میں اسے کوئ نقصان نہیں پہنچا سکتا اب۔۔۔۔اس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔۔۔۔

آپ اسے بہت زیادہ نقصان پہنچا ہی چکےہیں وہ اب اپنی زندگی میں سیٹ ہے اپنے بچوں کیساتھ بہت خوش مطمئن زندگی گزار رہی ہے آپ کیوں ایک بار پھر اسے ڈسٹرب کرنا چاہتے ہیں آپکی بیٹی نے پہلے ہی آپکی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائ ہے آپ اب اسے چھوڑ دے بخش دے اسے۔۔۔

ہاشم مبین کے چہرے کی جھریاں ایک دم بڑھی تھی پھر انہوں نے مدھم آواز میں کہا۔

میں جانتا ہوں مجھے احساس ہے۔

سکندر عثمان بول نہ سکے اسے یہ جملہ سننے کی توقع نہیں تھی۔بس ایک آخری بار اس سے ملنا چاہتا ہوں اسکی ایک امانت ہے وہ دینی ہے مجھے۔اور اس سے معافی مانگنی ہے۔

آپ مجھے اپنا فون نمبر اور ایڈریس دے میں اس سے بات کروں گا پھر آپ سے رابطہ کروں گا آپ کہاں رہتے ہیں اب۔۔۔۔سکندر نے اس سے پوچھا۔

ایک اولڈ ہوم میں۔۔۔۔۔سکندر چپ کے چپ رہ گئے۔ہاشم مبین اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔

امامہ کو بتادیں کہ میں نے اسلام قبول کرلیا ہے ۔۔پھر وہ مجھ سے بات ضرور کرے گی۔۔

اپنی نشست سے کھڑے ہوئے سکندر عثمان اگلے جملے پر دم بخود رہ گئے تھے۔۔۔

********---------********

جیکی بے اختیار ہنسی۔۔جواب غیر متوقع نہیں تھا۔کوئ مرد اسکی کشش کے سامنے نہیں ٹہر سکتا تھا۔۔

اوہ واؤ گریٹ۔۔۔جیکی نے شیمپئن کا ایک اور گھونٹ لیتے ہوئے قاتلانہ مسکراہٹ کیساتھ اس سے کہا۔

میں ایک رات کے تعلق پر یقین رکھتا ہوں لیکن صرف حوروں کے ساتھ۔۔۔

اس شخص کا اگلا جملہ اسکی سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔

حور۔۔۔وہ کون ہے۔۔۔اسکی سمجھ میں نہ آیا۔۔۔سالار سکندر نے اپنے والٹ سے ایک وزٹنگ کارڈ نکال کر اسکی پشت پر پین سے کچھ لکھا اور انگلیوں کے نیچھے دبائے ہوئے اسے جیکی کی طرف بڑھا دیا۔جیکی نے عربی میں لکھا ایک جملہ دیکھا۔

یہ کیا ہے۔۔میں اسے پڑھ اور سمجھ نہیں سکتی۔اس نے کندھے اچکا کر سالار کو دیکھا جو اب اپنے گلاس کے نیچھے کچھ نوٹ دباتے ہوئے اس سے کہہ رہا تھا۔ میں نے تمہارے ڈرنکس کی ادائیگی کردی ہے۔۔جیکی نے انگلی اور انگوٹھے میں دبے اس کارڈ کو سالار کو دکھایا اور دوبارہ کہا۔۔میں یہ پڑھ اور سمجھ نہیں سکتی۔۔۔۔۔

جنہوں نے آپکو بھیجا ہے وہ پڑھ بھی لیں گے سمجھ بھی لیں گے اور سمجھا بھی دینگے۔

جیکی کو اسکے جملے پر کرنٹ لگا۔اسکی مسکراہٹ سب سے پہلے غائب ہوئ۔۔

Excuse me....

اس نے لاعلمی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔۔۔

Exceesed

وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

سی آئ اے ہیڈ کوارٹرز میں بیٹھے ہوٹل کے اس کمرے کو کنڈکٹ کر کے اور خفیہ کیمرے اور مائیکرو فون کی مدد سے گفتگو سنتے ان پانچ لوگوں کو پسینہ آیا

انہوں نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا اور اس شخص کو گالی دی تھی۔۔وہ اس شخص کو پیش کیا جانے والا خراج تحسین تھا۔وہ اس پھندے سے بچ کر نکلنے والا پہلا مرد تھا۔

اس کارڈ پر کیا لکھا ہے۔۔۔سی آئ اے کی سٹنگ ٹیم کے لیڈر نے آدھ گھنٹہ بعد جیکی کے اس کمرے میں آنے سے پہلے وہاں بلوائے عربی مترجم سے پوچھا۔۔۔

اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔۔مترجم نےوہ تحریر پڑھی۔۔

مطلب؟؟

میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔۔مترجم نے روانی سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔

ان سب لوگوں نے جیکی اور جیکی نے انہیں دیکھا۔۔۔پھر قاتلانہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔۔

مجھے یقین ہے کہ یہ میرے بارے میں نہیں۔۔۔۔

---------+++++++-------

آپریشن کے دوران نیورو سرجن چند لمحوں کے لیئے رکا ۔ایک نرس نے بنا کہے اسکے ماتھے پر ابھرنے والے پسینے کے قطروں کو صاف کیا۔۔وہ ایک بار پھر اپنے سامنے ٹیبل پر کھلے پڑے اس دماغ پر جھکا جو دنیا کے ذہین ترین دماغوں میں سے ایک تھا۔۔اور جو ایک گولی کا نشانہ بننے کے بعد اسکے سامنے تھا۔۔وہ امریکہ کی تاریخ کا کم عمر اور سب سے قابل سرجن تھا۔لیکن آج اسے پہلی بار لگ ریا تھا کہ اسکا ہنڈرڈ پرسنٹ کامیابی کا ریکارڈ ختم ہونے والا ہے۔وہ ٹیبل سے ہٹا ۔اسے کسی چیز کی ضرورت پڑی تھی اس آپریشن میں کامیابی کے لیئے۔۔۔

کھڑکی سے سالار نے واشنگٹن میں ڈوبتے ہوئے سورج پر اک آخری نظر ڈالی۔ڈوبتے ہوئے سورج کی نارنجی شعاعیں جہاز کے دودھیا پروں کو بھی ایک روپہلا رنگ دے رہی تھی۔۔جہاز اب ہزاروں فٹ کی بلندی پر تھا۔نہ آسمان پر نہ زمین پر۔۔۔اور یہی کیفیت سالار کی بھی تھی ۔۔37سال کی عمر میں وہ ورلڈ بنک کا کم عمر ترین وائس پریزڈنٹ تھا۔اور اسکی تعیناتی چار دن پہلے ہوئ تھی۔

ورلڈ بنک کے بورڈ آف گورنرز کے ایک ہنگامی اجلاس نے متفقہ طور پر اسے افریقہ کے لیئے نیا نائب صدر ۔۔نیا چہرہ چنا تھا۔۔۔

امریکا کا ہر چھوٹا بڑا چینل اس وقت ایک یہی خبر بریکنگ نیوز کی طرح چلا رہا تھا کہ سالار سکندر کی زندگی خطرے میں تھی اور وہ غائب کیوں تھا۔وہ اس صورت حال کے بارے میں کوئ بیان کیوں نہیں دے رہا۔ایباکا کے بارے میں خاموش کیوں تھا ادھر سالار ورلڈ بنک کے صدر سے ملاقات کی تیاری کر رہا تھا۔جو ورلڈ بنک کے صدر کی درخواست پر ہورہی تھی۔۔۔صدر کی منت بھری درخواستوں ہر وہاں صدر کے ذاتی استعمال میں آنے والی کاروں میں سے ایک شوفر سمیت لیموزین میں بادشاہوں کی طرح پروٹوکول کیساتھ وہاں بلایا جا رہا تھا ۔۔۔۔

ہیڈ کوارٹرز کے باہر پریس موجود تھا، اپنے مشین گن جیسے کیمروں اور مائیکس کیساتھ۔۔بجلی کی طرح فلیش لائٹس کے جھماکوں کیساتھ۔۔۔انہیں اطلار کس نے دی تھی یہ سالار کے لیئے حیرت کی بات نہیں تھی۔ وہ سرکس کا وہ جانور تھا جسے بنک اور سی آئ اے اب نچا کر تماشہ لوٹنا چاہتے تھے۔اور وہ اپنی اگلی حکمت عملی ترتیب دے رہا تھا۔۔۔۔ ۔اسے اگر ناچنا ہی تھا تو اپنی شرطوں پر۔۔۔

وہ لیموزین سے اتر کر اپنے کھلے کوٹ کے بٹن بند کرتا فلیش لاحٹس کے جھماکوں سے کچھ فاصلے پر ڈرائیو وے کے دونوں اطراف میں لگی ہوئ وارننگ ٹیپ کےپار کیمرہ مینوں اور جرنلسٹس کی بھیڑ کی طرف ایک نظر ڈالے بغیر عملے کے افراد کی رہنمائ میں لمبے لمبے قدموں کیساتھ اندر چلا گیا۔

کچھ نئے لوگوں کے علاوہ بورڈ روم میں وہ سب لوگ موجود تھے جس سے وہ کچھ دن پہلے بھی ملا تھا۔۔ لیکن اب سب کچھ بدل چکا تھا۔سالار کا استقبال وہاں ایک ہیروں کے طور پر تالیاں بجاتے اور خیر مقدمی نعروں سے ہوا۔۔۔یوں جیسے وہ کوئ جنگ جیت کر کسی بادشاہ کے دربار میں اپنی خدمات کا کوئ اعزاز لینے آیا ہو۔ان سب کے چہروں پر مسکراہٹیں اور نرمی تھی۔آنکھوں میں ستائش اور ہونٹوں پر داد و تحسین۔۔۔سالار سکندر صرف یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ وہ کر کے کیا آیا تھا جسکے لیئے ایسا استقبال کیا گیا۔۔۔میز پر صدر کی سیٹ کے دائیں جانب پہلی نشست پر اسے بٹھایا گیا ۔۔ ۔

اسکی آمد کے پانچ منٹ بعد ورلڈ بنک کا صدر بورڈ روم میں آگیا۔۔سالار سکندر بھی باقی سب کی طرح احتراماً کھڑا ہوگیا۔۔

ورلڈ بنک کو آپ پر فخر ہے۔۔۔اسکے ساتھ ہی استقبالی کلمات کی ادائیگی کے بعد صدر کے منہ سے نکلنے والے پہلے ھملے کو سن کر سالار کا دل قہقہہ مار کر ہنسنے کو چاہا۔۔صدر کے جملے پر بورڈ روم نے تالیاں بجائیں ۔

صدر نے کانگو کی صورت حال سے گفتگو کا آغاز کیا تھا اور وہاں ورلڈ بنک کے ملازمین پر ہونے والے حملوں میں زخمی اور مارے جانے والوں کے لیئے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئ۔اسکے بعد ایباکا کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا تھا چند جملوں میں اور پھر وہ سالار سکندر کی رپورٹ پر آگیا تھا۔جو بنک کے بورڈ آف گورنرز نے پڑھ لی تھی نہ صرف پڑھ لی تھی بلکہ اس رپورٹ کی تمام سفارشات کو مانتے ہوئے ایک انکوائری کمیشن تشکیل دیا تھا ۔

سالار سکندر نہ حیران ہوا تھا نہ متاثر۔۔۔اسے اندازہ تھا ورلڈ بنک اس سے کم میں کانگو میں داخل نہیں ہوسکتا۔۔انہیں اب وہ پراجیکٹ ختم کرنا ہی تھا۔۔۔وہ خاموشی سے صدر کی گفتگو سنتا رہا۔اور گفتگو کے اختتام پر سالار سکندر کو دی جانے والی نئ ذمہ داریوں کا اعلان کیا۔۔بورڈ روم میں بجتی تالیوں کیساتھ وہ بے تاثر چہرے کے ساتھ اپنی بے وقعت خدمات کے صلے میں ملنے والے ایم ترین عہدہ کی قدر و قیمت کا اندازہ لگا رہا تھا۔سالار کو وہاں بیٹھے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ دنیا کے طاقتور ترین مالیاتی ادارے کے ہیڈکوارٹرز میں نہیں کسی گھٹیا تھیٹر میں چلنے والے مزاخیہ ڈرامے کے سامنے بیٹھا ہے۔۔ جس میں ہر ایکٹر اوور ایکٹنگ کر رہا تھا۔

میں صدر اور بورڈ میں موجود تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے یہاں آنے کا موقع دیا اور مجھے خوشی ہے کہ اس رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے اسکی تمام سفارشات کو مان لیا گیا ہے۔مجھے امید ہے اس قدم کے اٹھانے سے ورلڈ بنک کو ایک بار پھر کانگو میں اپنی ساکھ بحال کرنے میں مدد ملے گی۔۔۔سالار نے بہت مختصر بات کی تھی۔ٹو دی پوائنٹ۔۔۔پروفیشنل۔۔۔جذباتیت کے بغیر۔۔۔۔۔اور اسی دو ٹوک انداز میں جسکے لیئے وہ مشہور تھا۔۔

میں شکر گزار ہوں کہ ورلڈ بنک اور بورڈ آف گورنرز نے مجھے نائب صدر کے لیئے منتخب کیا ہے لیکن میں اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے یہ عہدہ سنبھال نہیں پاؤں گا۔۔مجھے یقین ہے بنک کی ٹیم میں اس عہدے کے لیئے مجھ سے زیادہ موزوں لوگ موجود ہیں ۔

صدر نے بے چینی سے اپنی نشست پر پہلو بدلا۔۔۔اسے اپنی ساکھ بچانا تھی اور یہ کام اس وقت صرف سالار کرسکتا تھا۔میٹنگ اس کے بعد ختم ہوئ اور اس کے بعد سالار ورلڈ بنک کے صدر سے اکیلے میں ملا تھا۔۔وہاں کا ماحول کچھ اور تھا اور باتیں بھی۔

مجھے اپنے کمرے سے چوری ہونے والی تمام چیزیں چاہیئے۔۔۔لیپ ٹاپ۔۔ٹریول ڈاکومنٹس۔۔۔میرے باقی ڈاکومنٹس۔۔۔۔سالار نے اس کمرے میں میٹنگ کے شروع میں ہی ایجنڈا سیٹ کیا تھا۔۔وہ اپنی باتیں منوانے آیا تھا آج۔۔۔

آپ کے کمرے سے چوری ہونے والی چیزوں سے ورلڈ بنک کا کیا تعلق۔۔۔۔

صدر نے انجان بننے کی کوشش کی سالار نے اسکی بات کاٹ دی۔۔۔

اگر میری چیزیں نہیں مل سکتی تو پھر مجھے کسی بھی ایشو پر بات کرنے یہاں نہیں بیٹھنا۔۔۔۔۔

صدر نے لہجہ نرم کرتے ہوئے جسے اسے چمکارا۔۔میں ہدایت جاری کرتا ہوں کہ فوری طور پر آپکے نقصان کی تلافی کی جائے اور آپکے ڈاکومنٹس کا متبادل ۔۔۔۔۔

سالار نے اسی اکھڑپن سے اسکی بات کاٹی۔۔۔مجھے اپنی چیزیں چاہیئے۔۔ نہ تلافی چاہیئے نہ متبادل۔۔۔مجھے اپنے اوریجنل ڈاکومنٹس چاہیئے۔۔۔

خاموشی کے ایک لمبے وقفے کے بعد صدر نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔ٹھیک ہے مل جائیں گے۔۔۔لیکن ورلڈ بنک اور امریکہ کو کانگو میں آپکی ضرورت ہے۔ ایک شرط اس نے منوائ ایک شرط انہوں نے رکھ دی۔

میں کسی کی کٹھ پتلی بن کر کانگو میں وہاں کے انسانوں کا استعمال نہیں کرسکتا نہ ہی کروں گا۔اس نے دو ٹوک کہا۔

آپ کانگو میں جا کر وہ کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔۔صدر نے کہا۔۔۔

میں بندھے ہاتھوں سے کہی کچھ نہیں کرسکتا۔

نائب صدر کے طور پر آپکو لامحدود اختیارات دیئے جائینگے۔۔آپ پراجیکٹ کو روکنا چاہیں آپکو ہیڈکوارٹر کی منظوری کی ضرورت نہیں آپ خود فیصلہ کرسکتے ہیں۔۔۔۔

چند لمحوں تک سالار بول نہ سکا۔۔یہ جھانسہ تھا تو پکا تھا۔۔۔۔جتنے اختیارات آپ مجھے دیکر کانگو بھیجنا چاہتے ہیں اتنے آپ کسی کو بھی دیں وہ صورت حال سنبھال لے گا۔۔سالار نے کہا۔

ایشو اختیارات کا نہیں ہے نیت کا ہے۔۔جو کچھ تم افریقہ میں کرنا چاہتے ہو وہ کوئ دوسرا نہیں کرنا چاہے گا۔

کچھ وقت لو سوچو پھر فیصلہ کرو۔۔۔۔۔اسے قید کر کے آزاد کیا گیا تھا۔۔۔

اس نے واپسی پر میڈیا سے بات نہیں کی۔۔۔الجھن تھی کہ اور بڑھی تھی۔ہوٹل واپس آتے ہی اس نے کمرے میں ٹی وی پر نہ صرف ورلڈ بنک ہیڈ کوارٹر جاتے اپنی فوٹیج دیکھ لی بلکہ نیوز چینل پر اپنی تعیناتی کی بریکنگ نیوز بھی پڑھ لی۔

وہ اسکے لیئے انکار کو مشکل بنا رہے تھے جال کی ڈوریاں کستے جارہے تھے۔۔۔اسکا سیل فون منٹوں میں مبارکباد کے پیغامات اور کالز سے بجنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔

ورلڈ بنک جوائن کرنے کے فیصلے سے امامہ خوش نہیں تھی اسکا اعتراض وہی تھا اور وہی تھا۔۔۔تم بیشک ورلڈ بنک کے پراجیکٹس سے منسلک ہورہے ہو لیکن وہ کرتا تو سود کا کاروبار ہی ہے نا۔چھوٹے بنک افراد کا استعمال کرتا ہے اور ورلڈ بنک قوموں کا۔۔۔مجھے بتاؤ فرق کیا ہوا۔۔۔آسان قرضہ۔۔۔سستا قرضہ۔۔۔لونگ ٹرم قرضہ۔۔۔شارٹ ٹرم قرضہ۔۔۔آسان شرائط قرضہ۔۔۔کوئ ایسا قرضہ ہے ورلڈ بنک کیساتھ جس پر وہ سود نہ لیتا ہو۔۔۔۔۔۔۔اس نے سالار کے ساتھ بحث کی تھی۔۔۔

اگر ہم اسی طرح ایک ایک چیز میں میخ نکالتے رہینگے تو پھر اس معاشرے اور اس سسٹم میں تو کہی بھی کام نہیں کرسکیں گے کیونکہ یہ تو پورا معاشرہ سود پر کھڑا ہے اور وہ ہمارے لیے اپنے سسٹم کو نہیں بدلیں گے۔۔ اس نے امامہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔پھر تو ہمیں حلال کھانے کی کوشش بھی ترک کرنی چاہیئے ۔۔پھر تم سپر سٹور میں ڈبوں پر انکے اجزاء کیوں چیک کرتے رہتے ہو ۔۔بس یہ سمجھ کر کھا لینا یہ سب کچھ کہ یہ ہمارا نہیں انکا معاشرہ ہے اور اہنے سپر سٹور میں وہ چیزیں رکھیں گے جو انہیں پسند ہو۔۔۔۔

امامہ نے اسے لاجواب کردیا تھا۔۔وہ بحث جاری رکھنے کی بجائے وہاں سے اٹھ گیا تھا۔۔۔لیکن امامہ کی ناراضگی کے باوجود اس نے ورلڈ بنک جوائن کرلیا ۔اور امامہ کو اس نے اپنا ایگریمنٹ اور جاب پروفائل کے کاغذات زبردستی پڑھ پڑھ کر سنائے ۔۔اس نے سب کچھ سننے کے بعد اس پیپرز کو واپس لفافے میں ڈال کر اسے دیتے ہوئے کہا۔۔

تم سود کے پیسے سے انسانیت کی خدمت اور بہتری کے خواب دیکھ رہے ہو اور تمہیں لگتا ہے اس میں فلاح ہے۔۔۔۔۔نہیں ہے۔۔۔۔۔سود کا ثمر انسانوں کی زندگی بدل سکتا ہے مگر تباہی میں۔۔۔۔بہتری میں نہیں۔۔۔۔اسکی یہ برملا تنقید سالار کو خفا بھی کرتی تھی اور کمزور بھی۔۔اس دن امامہ کو فون کرتے ہوئے اسے احساس تھا کہ وہ اس سے کیا سننے جارہا ہے لیکن خلاف توقع اس نے اس نئے عہدے کے حوالے سے کوئ بات نہیں کی۔۔وہ اس سے جبریل عنایہ اور حمین کی باتیں کرتی رہی۔۔۔یہاں تک کہ سالار کا احساس جرم حد سے گزر گیا۔وہ جیسے چاہتا تھا کہ وہ اسے ملامت کرے۔۔کوئ تو مبارکباد دینے کی بجائے اسکے ضمیر کو کچوکے لگائے۔۔۔۔۔

تمہیں پتا ہے ورلڈ بنک نے مجھے وائس پریزیڈنٹ۔۔۔۔۔۔۔

امامہ نے اسکو بات مکمل نہیں کرنے دی۔۔ہاں۔۔۔یک حرفی جواب آیا۔۔

تو؟؟ سالار کو تسلی نہیں ہوئ۔۔

تو کیا؟؟ امامہ نے مدھم آواز میں پوچھا۔۔

تو تم کچھ نہیں کہو گی؟ اس نے جان بوجھ کر یہ نہیں کہا تھا کہ تمہارا کیا خیال ہے۔۔۔

یس۔۔۔ایک اور یک حرفی جواب آیا۔۔۔۔

کیوں؟؟ وہ بے قرار ہوا۔۔

تم ہر فیصلہ اپنی مرضی سے کرتے ہو ۔۔۔پھر رائے دینے کا فائدہ۔۔۔

سالار ایک لمحہ کے لیئے خاموش ہوا پھر اس نے مدہم آواز میں کہا۔۔

میں نے ابھی آفر قبول نہیں کی۔۔۔۔۔

کر لو گے۔۔میں جانتی ہوں۔۔۔جواب نے اسے ہنسایا۔

اس میں ہنسنے والی تو کوئ بات نہیں تھی ۔۔امامہ نے کہا۔۔۔

میں جب بھی تمہاری بات نہیں مانتا نقصان اٹھاتا ہوں۔۔۔اس بار وہ ہنس پڑی۔۔ بڑی خوشی ہوئ یہ بات سن کر۔۔لیکن میں یہ تو نا سمجھوں نا کہ تم آئندہ ہمیشہ میری بات مانا کروگے۔۔اس نے سالار پر چوٹ کی تھی۔

بلکل۔۔۔۔جواب تڑاخ سے آیا تھا۔۔۔

اس بار دونوں ہنس پڑے تھے۔۔۔پھر سالار نے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے کہا۔

یہی وہ بات تھی جو کانگو سے آتے ہوئے تم سے کہنا چاہتا تھا۔

امامہ کو یاد آگیا تھا اسے ایک اعتراف کرنا تھا واپس آکر۔۔۔۔۔۔۔

اوہ۔۔۔۔میں نے سوچا پتا نہیں کیا کہنا چاہتے ہو۔وہ دھیرے سے ہنسی اور کہا۔ایسا کیا ہوا جو تم یہ بات کر رہے ہو مجھ سے یا تب کہنا چاہ رہے تھے۔۔۔۔

سالار کی سمجھ میں اسکا جواب نہیں آیا۔۔۔

تم مجھ سے شیئر نہیں کرنا چاہتے۔۔امامہ نے اسکی خاموشی کو ایک پہیلی کی طرح بوجھا۔

ابھی نہیں۔۔۔اس نے جواب دیا۔۔

یہاں کب آؤ گے؟ امامہ نے بات بدل دی تھی۔

ابھی فلائٹس بند ہیں کنشاسا کے لیئے ۔۔لیکن تم تو پریشان نہیں ہو نا؟؟ سالار نے پوچھا۔۔۔

اب نہیں ہوں اور تم بھی پریشان مت ہونا۔۔مجھے اور حمین کو علاج کی تمام سہولیات مل رہی ہیں۔امامہ نے اسکے لہجے میں نمودار ہوتی تشویش کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔۔۔سالار نے مطمئن ہوکر کچھ دیر جبریل اور عنایہ سے بات چیت کی اور اسکے بعد کال ختم کر کے وہ اس لیپ ٹاپ اور کاغذات کی طرف متوجہ ہوا جو ابھی کچھ دیر پہلے ایک سر بہ مہر تھیلے میں ایک شخص اسکے کمرے میں دے گیا تھا سب کچھ بلکل محفوظ حالت میں تھا۔کوئ چیز ڈیلیٹ یا غائب نہیں ہوئ تھی۔اسکے باوجود سالار کو انباکس میں جاتے ہی اندازہ ہوگیا تھا کہ کوئ اس سے پہلے بھی وہاں تھا کیونکہ انباکس میں موجود سات گھنٹے پہلے تک آنے والی ہر ای میل کھولے اور پڑھے جانے کی نشاندہی کر رہی تھی۔۔انباکس میں موجود ای میلز پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہوئے ایک ای میل پر ایک لمحہ کے لیئے اسکا دل رکا۔۔وہ پیٹرس ایباکا کا آخری پیغام تھا۔۔

تمہیں پتا ہے میں اس وقت کہاں کھڑا ہوں۔۔۔ٹائم وارنر سینٹر۔۔۔اور کس لیئے؟؟ ۔۔۔میں ابھی کچھ دیر پہلے اینڈرسن کووپر کیساتھ تھا سی این این سٹوڈیوز میں۔اسکے شو میں شرکت سے پہلے ابتدائ بات چیت کے سیشن کے لیئے۔۔۔ مجھے پتا ہے اس وقت تم کہو گے۔۔۔اوہ مائ گاڈ۔man you did it

جس چیز نے اس وقت سالار کی آنکھوں کو دھندلایا تھا وہ مسکراہٹیں تھی ایباکا کے جملے کے اختتام پر۔۔اینڈرسن کووپر سے ملنے کے بعد میں نے سب سے پہلا میسج تمہیں کیا ہے۔کیونکہ مین یہاں تک کبھی نہیں پہنچتا اگر مجھے تمہاری صورت میں ورلڈ بنک کی بے ضمیر دنیا میں ضمیر کی جھلک نہ دکھائ دیتی۔میں ان دیووں کے سامنے واقعی بونا تھا جو میرے ملک کو لوٹنا چاہتے تھے لیکن پھر میں تم سے ملا اور مجھے لگا کہ مجھے ابھی ہتھیار نہیں ڈالنے چاہیئے۔۔واشنگٹن پہنچ جاؤ تو مجھے انفارم کرنا ہم دونوں کو ملنا ہے۔کافی دن ہوگئے سٹار بکس کی کافی پیئے۔ اور اس دفعہ بل میں پے کرونگا۔ای میل کا اختتام ایک اور مسکراہٹ سے ہوا تھا۔ایک آنکھ مارتی شرارتی مسکراہٹ سے۔۔۔

کانگو کی تاریخ کو ایباکا نہیں اپنے خون سے بدلا تھا۔۔۔سالار نے ای میل بند کردیا۔۔۔

اس رات وہ مصلے پر بیٹھا گڑگڑاتا رہا۔۔۔اللہ سے آزمائش میں آسانی کی بھیک،،، سیدھے رستے کی بھیک جس سےوہ بھٹک گیا تھا اور ان لوگوں میں شامل نہ کرنے کی بھیک جن پر اللہ کا عذاب آتا ہے۔۔

فجر کے وقت اسے ڈاکٹر سبط علی کی خیال آیا تھا۔اور خیال نہیں آیا تھا وہ جیسے دیوانہ وار انکی طرف لپکا تھا۔۔۔وہ ایمرجنسی میں ٹکٹ حاصل کر کے اگلی رات پاکستان دوڑا چلا آیا تھا۔ ڈاکٹر سبط علی اس سے ہمیشہ کی طرح گرمجوشی سے ملے اور کچھ حیرانی سے۔۔ وہ کئ سالوں بعد اچانک اس طرح اس کی پاس بھاگتا ہوا آیا تھا۔۔۔انہوں نے سالار سے بھاری بھاری سب کی خیریت دریافت کی۔۔۔

امامہ ٹھیک ہے؟

جی۔۔۔۔

جبریل کیسا ہے؟

وہ بھی ٹھیک ہے۔

عنایہ؟؟

وہ بھی۔۔

اور حمین؟؟

وہ بھی۔۔۔وہ ایک ایک کے بارے میں بتاتا گیا اور ڈاکٹر سبط علی الحمد للہ کہتے رہے۔پھر انہوں نے پوچھا۔۔۔

اور تم؟؟؟

نہیں۔۔۔میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔اس بار سالار بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔وہ دم بخود اسے دیکھتے رہے۔۔وہ پہلی بار ایسے ٹوٹ کر رویا تھا۔۔۔۔

مجھ سے ایک گناہ ہو گیا ہے ڈاکٹر صاحب۔اس نے روتے ہوئے اپنا چہرہ رگڑتے ہوئے کہا۔۔۔

مجھے مت بتانا۔۔سالار نے حیران ہوکر انکا چہرہ دیکھا۔۔

آپ کو بتانے کے لیئے ہی یہاں آیا ہوں۔۔۔

میں تمہارا گناہ جان کر کیا کروں گا۔۔اب روک نہیں سکتا تمہیں۔۔۔پچھتاوا دیکھ چکا ہوں ۔بہتر ہے اپنے اور اللہ کے درمیان رکھو اسے۔۔۔جو پردہ ہے اسے پڑا رہنے دو ۔اللہ غفور الرحیم ہے۔۔انہوں نے ہمیشہ کی طرح تحمل سے انہیں سمجھایا تھا۔۔

میں بتاؤں گا نہیں تو میںری گمراہی ختم نہیں ہونگی۔آپکو اندازہ نہیں میں کتنی تاریکی میں کھڑا ہوں۔۔مجھے اس تاریکی سے خوف آنے لگا ہے۔۔۔میں نے سود والا رزق چن کر اللہ کی حد توڑ دی ہے۔اور مجھے ایک کے بعد ایک پریشانی آرہی ہے۔میری سمجھ میں نہیں آرہا میں کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

توبہ کرلو اور وہ رزق چھوڑ دو۔۔۔اس نے بلا توقف بڑی سہولت سے کہا۔

توبہ آسان ہے مگر دلدل سے نکلنا آسان نہیں میرے لیئے۔۔۔

انہوں نے سالار کی بات کے جواب میں کہا۔۔آسان تو دنیا میں کچھ بھی نہیں ہوتا لیکن ممکن بنا لیا جاتا ہے۔۔۔۔

میں سینتیس سال کا ہوں اپنی عمر کے دس سال میں نے دنیا کے بہترین مالیاتی اداروں میں کام کیا سارا رزق سود سے کمایا

قسط نمبر 27۔۔۔۔۔۔

حمین بہت خوش قسمت ثابت ہوا ہے تمہارے لیئے ۔سکندر عثمان نے فون پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا۔۔۔وہ گہری سانس لیکر رہ گیا۔

وہ ٹھیک ہے نا؟؟

ہاں وہ بلکل ٹھیک ہے۔سٹیبل ہے۔۔سالار نے انہیں بتایا۔۔تب سکندر کو سکول کا کوئ چوکیدار یاد آیا تھا۔جو ان سے کچھ رقم ادھار لینے آیا تھا۔کہہ رہا تھا کہ سود پر کوئ رقم لی تھی اس کے ماں باپ نے اسکی بہنوں کی شادی کے لیئے۔۔اور وہ ابھی تک سود اتار رہا۔اب شاید کوئ اور مسلہ آن پڑا ہے انہیں۔۔۔

سکندر عثمان سالار کو بتا رہے تھے اور سالار کو لگا کسی نے اسکے گلے کی رسی میں ایک گرہ اور ڈال دی تھی بعض دفعہ جب اللہ کوئ چیز منہ پر مار کر تنبیہ کرنا چاہتا ہے تو پھر ہر جگہ سے وہی بات بار بار گشت کرتی ہوئ آتی ہے۔۔

اسکے پی ایچ ڈی کے لیئے امریکہ جانے کے بعد سکندر عثمان ہی گاؤں کے اسکول کو دیکھتے رہے تھے ہفتے میں ایک بار وہاں جاتے اوراسکول کی انتظامیہ اور ملازمین کے معاملات دیکھتے۔۔

آپ اس مدد کریں اسکا قرضہ اتار دیں۔۔۔سالار نے ان سے کہا۔۔

ہاں۔۔تاکہ وہاں لائن لگ جائے قرض مانگنے والوں کی ۔ہمیں کیا پتا وہ سچ بول رہا یا جھوٹ۔۔۔یہاں گاؤں دیہات میں ستر فیصد لوگ سود پر ایک دوسرے سے قرض لیتے بھی ہیں اور دیتے بھی۔۔یہ انکی زندگی اور کاروبار کا سائیکل ہے۔۔تم یا میں اسے روک سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔۔۔سالار یہ بات سن کر دنگ رہ گیا تھا کہ وہ وبا کہاں کہاں تک ناسور کی طرح پھیلی ہوئ ہے۔۔۔

اسی رات اپنے ہوٹل میں ورلڈ بنک کے کچھ ساتھیوں سے اسکی ملاقات تھی انہیں کانگو کے لیئے اپنا لائحہ عمل ڈسکس کرنا تھا۔۔۔گپ شپ کے بعد وہ اس ہوٹل کے نائٹ کلب میں ان سب کے اصرار پر ایک اسپینی گلوکارہ کو سننے کے لیئے گیا تھا اور وہاں جیکی اس سے آ ٹکرائ تھی۔۔۔۔ایسی جگہ پر اتنی پرکشش عورت کا اس پر یوں فدا ہونا اور اسکے ساتھیوں کا اسکے اطراف سے ایک دم ایک ایک کر کے غائب ہونا سالار نظرانداز نہیں کرسکا۔۔۔اسے ہنسی آئی تھی۔۔۔

مغرب کو ہر فرسٹریشن کا علاج الکحل اور عورت کی شکل میں کیوں سوجھتا ہے۔۔انکی ہر ترغیب کی ابتدا اور انتہا عورت ہی کیوں ہوتی ہے۔۔اور سی آئ اے کو آخر جلدی کس بات کی تھی۔۔اسکو ٹریپ کرنا تھا تو اتنا گھسا پٹا منصوبہ تو نہیں بناتے ۔۔۔مستقبل میں اسکو استعمال کرنے کے لیئے کوئ کمزوری چاہیئے تھی تو کچھ انتظار تو کرتے۔۔۔

وہ وہاں سے اٹھ آیا تھا۔۔اور اب وہ اس جہاز پر تھا۔۔اس سفر میں اس نے یہ طے کیا تھا کہ وہ اپنی نوکری سے کمائے جانے والے پیسوں سے اپنے خاندان کی کفالت نہیں کریگا۔۔اسکے لیئے کسی بھی ذریعے سے انکی کفالت کوئ مسلہ نہیں تھا۔۔۔وہ بہت سی امریکن یونیورسٹیز میں لیکچرز کے لیئے مدعو ہوتا رہا تھا۔اور اسکے لیئے اسے معاوضہ بھی دیا جاتا رہا تھا۔۔۔

اسے اب ورلڈ بنک کی نائب صدارت صرف دو چیزوں کے لیئے درکار تھی۔وہ قرض سر سے اتار دیتا جو ایباکا نے اسکے لیئے چھوڑا تھا۔ اور وہ کچھ مہلت حاصل کرلیتا ۔۔سود سے پاک پہلے بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی تشکیل کے لیئے۔۔۔ مقصد بڑا تھا۔وسائل بھی اتنے ہی درکار تھے دل کہتا تھا یہ بے وقوفی ہے اور ضمیر کہتا تھا کہ راستہ ہے تو یہی ہے۔۔۔۔۔

----------------------------------

اس کا ہاتھ پکڑے اب وہ اسے کسی راستے پر لے جانے لگا تھا۔وہ ایک جھیل تھی۔۔ہلکی نیلی رنگت کے شفاف پانی کی ایک جھیل۔۔جس کےپانی میں رنگ برنگی مچھلیاں تیرتی ہوئ وہ دیکھ سکتی تھی۔۔۔

اور اسکی تہہ میں بے شمار رنگوں کے موتی اور سیپیاں۔۔۔۔جھیل کے چاروں اطراف پر پھول تھے۔۔اسکے قدموں کو روکنے والی شے جھیل کے کنارے پر موجود لکڑی کی وہ خوبصورت کشتی تھی۔۔۔

یہ میری ہے۔۔ وہ اس سے ہاتھ چھڑا کر بچوں کی طرح بھاگتی ہوئ کشتی کی طرف گئ ۔وہ اسکے پیچھے لپکا۔وہ دونوں کشتی میں بیٹھ گئے ہوا کا ایک تیز جھونکا کشتی کو پانی میں لے گیا ۔دونوں بے اختیار ہنسے تھے۔پانی پر تیرتا ایک ہنس اسکی طرف آگیا تھا ۔۔پھر دوسرا۔۔۔پھر تیسرا۔۔۔وی کشتی کے گرد اب دائری بنا کر تیر رہے تھے۔۔وہ پاس سے گزرتے ہر ہنس کو چھوتی کھلکھلا رہی تھی۔۔

امامہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی نیند سے ۔۔اس نے اپنی کلائ پر کسی کا لمس محسوس کیا تھا۔سالار اسکے قریب کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔وہ خواب آور دواؤں کے زیر اثر ہوتے ہوئے بھی ایک دم اپنا ہاتھ اسکے ہاتھوں سے کھینچتی ہوئ کہنیوں کے بل اٹھ کر بیٹھنے لگی تھی سالار نے اسے روکا۔۔

اٹھو مت۔۔۔۔۔

تم واقعی آگئے ہو۔۔اسے اب بھی جیسے یقین نہیں ایا تھا۔۔۔۔

وہ دھیرے سے ہنسا۔۔تمہیں بتایا تو تھا کہ آجاؤں گا۔۔۔۔

یہ تو نہیں بتایا تھا کہ کب آؤ گے۔۔اور تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں۔

بس میں نے سوچا تمہاری نیند خراب ہوگی۔وہ مدھم آواز میں بات کر رہا تھا۔دوسرے بستر پر جبریل اور عنایہ گہری نیند سو رہے تھے۔

تمہیں کیا ہوا ہے؟؟ امامہ نے سالار کے چہرے کو پہلی بار غور سے دیکھا۔۔۔اسکی آنکھوں کے گرد گہرے سیاہ خلقے اور آنکھیں سرخ اور یوں سوجھی ہوئ تھی جیسے کئ راتوں سے نہیں سویا ہو۔

کچھ نہیں۔۔۔بس اتنے دن گھر سے دور رہا شاید اس لیئے پھر،،،،،،،،،

سالار نے اس سے آنکھیں ملائے بغیر کہا۔امامہ نے اسکی بات کاٹ دی اسے یکدم اپنا خواب یاد آگیا۔۔

سالار تمہیں پتا ہے ابھی میں کیا خواب دیکھ رہی تھی۔۔سالار نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔

کیا؟؟؟

میں نے خواب میں ایک گھر دیکھا جھیل کنارے۔جہاں تم مجھے لیکر جارہے تھے ایک کشتی میں بٹھا کر۔۔۔

وہ دم بخود رہ گیا تھا۔جو گھر اس نے امریکہ میں اسکے لیئے mortgageکیا تھا وہ سمندر کے ایک جھیل نما ٹکڑے کے کنارے تھا۔اس نے ابھی امامہ کو بتایا نہیں تھا وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا تھا اس کی اگلی سالگرہ پر۔۔

جس جھیل کے کنارے وہ گھر تھا وہ بے پناہ خوبصورت تھی۔سفید کنول کے پھولوں سے بھری ہوئ نیلے پانی کی جھیل۔۔جس میں ہر طرف راج ہنس تیر رہے تھے۔اور پانی میں رنگ برنگی مچھلیاں۔

وہ بول نہیں پا رہا تھا۔جس جھیل کنارے اس نے وہ گھر خریدا تھا وہ بھی کچھ ایسی ہی تھی ایک لمحہ کے لیئے اس نے سوچا شاید امامہ کو اس گھر کا پتا لگ گیا ہے شاید اس نے لیپ ٹاپ میں اس گھر کی تصویر دیکھ لی تھی۔۔اور اب جان بوجھ کر اسے چھیڑنے کی کوشش کررہی ہے۔

لیکن ایسا تھا تو اس نے لیپ ٹاپ کب دیکھا تھا۔پچھلے کئ دنوں میں تو یہ نہیں ہوسکتا۔کیونکہ اسکا لیپ ٹاپ اسکےپاس تھا۔

اور گھر کیسا تھا۔۔۔وہ کریدے بغیر نہ رہ سکا۔

شیشے کا۔۔۔۔

سالار کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔۔۔وہ گھر بھی شیشے کا تھا۔۔

اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو؟؟ امامہ کو اسکی نظریں عجیب سی لگی۔

اس نے امامہ سے نظریں ہٹا لی وہ اسے ی نہیں بتا سکا کہ کنشاسا آنے سے پہلے ڈاکٹر سبط علی سے مل کر واشنگٹن آنے کے بعد اس گھر کی mortgageکینسل کرواچکا تھا۔امامہ کے خوابوں کا گھر اسکے ہاتھ سے جاچکا تھا۔۔۔ایک لمحے کے لیئے اسے عجیب پچھتاوا ہوا۔۔اسے یہ بھی خیال آیا تھا کہ وہ اس گھر کو واپس حاصل کرلے فوری طور پر امریکہ بات کر کے ۔وہ اس وقت جس پوزیشن میں تھا وہ یہ۔کرسکتا تھا۔مگر دوسرے ہی لمحے اس نے ذہن کو جھٹکا تھا۔۔۔یی صرف سی آئ اے نہیں تھی جو اسکے لیئے جال بچھا رہی تھی۔۔شیطان بھی وہی تھا۔اسکے بندوں کو اپنے بندوں میں بدلنے کے لیئے کمربستہ۔۔۔۔۔جال سی آئ اے نے عورت کا پھینکا تھا تو شیطان نے گھر کا۔۔زن زر زمین انسان انہی تین چیزوں کی وجہ سے سردار بنتا ہے اور انہی کی وجہ سے سر دار تک جاتے ہیں۔۔۔سالار سی آئ اے کو اعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم کہہ کر جوتا مار آیا تھا تو کیسے ممکن تھا شیطان خود اٹھ کر سامنے نہ کھڑا ہوتا۔اور شیطان کے منہ پر تھوک کر آنے والا جسکی پناہ اور حفاظت کا دعوی کر کے وہ آیا تھا یہ کیسے ممکن تھا۔۔وہ رب اہنے بندے کی حفاظت کے لیئے وہاں نہ ہوتا۔۔وہ حافظ قرآن تھا۔گناہ پر اسکے لیئے سزا زیادہ تھی تو نیکی پر اسکے لیئے انعام بھی بے پناہ۔۔۔۔۔

حمین کیسا ہے؟؟ وہ ایک دم بات کو وہی چھوڑ کر حمین کے انکوبیٹر کی طرف آیا تھا۔شیطان نے افسوس سے ہاتھ ملے۔۔وہ بات چھوڑ کر کیسے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔وہ جس برق رفتاری سے آیا تھا اور پل بھر میں غائب ہوا۔۔۔بس وسوسہ اور وہم ڈالنا تھا وہ ڈال گیا۔۔۔۔

بلکل ٹھیک ہے۔۔دیکھو سو رہا ہے۔۔امامہ نے وہی تکیے سے ٹیک لگائے کہا۔۔

سالار نے انکوبیٹر کو کھول کر پہلی بار حمین سالار کو گود میں لیا۔۔اسے جھکے جھکے سینے سے لگایا اور چوما۔۔وہ کمزور بچہ باپ کے لمس پر کسمسایا پھر اس نے آنکھیں کھولی۔۔سیاہ موٹی گول آنکھیں۔۔اس نے باپ کو دیکھا۔پلکیں جھپکائے بغیر وہ اسے دیکھتا رہا۔۔سالار بھی مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہا تھا۔پھر اسکے ماتھے پر چند بل آئے تھے ناک اوپر چڑھی اور پھر حمین نے پوری قوت سے گلا پھاڑ کر رونا شروع کردیا۔اسکی آواز اتنی باریک اور تیز تھی کہ چند لمحوں کے لیئے سالار ہکا بکا رہ گیا۔اسکے ننھے وجود کے اندر اتنی جان کہاں سے آئ تھی۔۔جبریل اور عنایہ اسکی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھے تھے۔ پیڈی ایکدم اندر آگئ۔ سالار حمین کو واپس انکوبیٹر میں رکھنے کی جدوجہد میں مصروف تھالیکن وہ ایک ہفتے کا بچہ ایک بار انکوبیٹر سے نکلنے کے بعد دوبارہ واپس اندر نہ جانے کے لیئے جتنی جدوجہد کرسکتا تھا وہ کر رہا تھا۔۔۔اسکا بس چلتا تو اہنے ہاتھوں کی پشت سینے ناک اور جسم کے ہر حصہ پر لگی نالیوں اور تاروں کو کھینچ کر اتار دیتا۔۔وہ ان میں سے کسی چیز کو تو نہیں اتار سکا لیکن وہ ہلکا سا ڈائپر اس کے جسم کے مسلسل جھٹکوں سے کھل گیا تھا جو صرف رسماً ہی اسے باندھا گیا تھا۔وہ یکدم ٹارزن کے بچے جیسے خلیے میں آگیا تھا۔بستر سے چھلانگ لگاکر باپ کی طرف بھاگتے جبریل نے اہنے چھوٹے بھائ کے اس دلیرانہ اقدام پر بے اختیار چیخ مار کر آنکھوں پہ ہاتھ رکھا۔۔۔

Baba..baby is naked

بابا۔۔بے بی ننگا ہے۔۔

وہ آنکھیں بند نہ کرتا تو بے شرمی کے اگلے مظاہرے پر یقیناً پتھر کا ہوجاتا کیونکہ بے بی اب اس پانی سے فراغت حاصل کر رہا تھا جو ٹیوبز کے ذریعے اسکے اندر منتقل کیا جارہا تھا۔پیڈی کو حمین تھماتے ہوئے سالار بے یقینی سے پیشاب سے بھیگی اپنی شرٹ کو دیکھ رہا تھا۔۔یہ کارنامہ اسکے پہلے دو بچے نہ کرسکے تھے۔۔

تم نے پتا نہیں اسے کیسے پکڑا ہے۔۔کتنے سخت ہاتھ لگائے ہیں کہ وہ اس طرح رو رہا ہے۔۔پیڈی لیڈی ڈاکٹر کو بلاؤ۔۔بلکہ اسے مجھے دو۔۔ امامہ اسکی حالت کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے اپنے روتے ہوئے بیٹے کی طرف متوجہ اپنے بستر سے بے قراری کے عالم میں اتر رہی تھی۔۔

بابا میں اپنی آنکھیں کھولو؟؟ جبریل اندھوں کی طرح ہاتھ پھیلائے باپ کو ڈھونڈتے لڑکھڑاتے قدموں سے آنکھیں بند کییے سالار کی طرف آیا تھا۔وہ اس چھوٹے بھائ کی بے پردگی دیکھنے کو تیار نہیں تھا جو اسوقت لٹل سٹوارٹ کی طرح انکوبیٹر سے باہر کودنے کو تیار تھا۔۔

عنایہ ایک بار ہڑبڑا کر جاگنے کے بعد سالار کی طرف متوجہ ہوئے بغیر دوبارہ سو چکی تھی۔سالار نے جبریل کے پھیلے ہاتھوں کی طرف ہاتھ بڑھایا۔

Yes you can

اس نے جبریل کو خود سے لپٹائے ہوئے بھرائ آواز میں کہا۔جبریل نے آنکھیں کھول کر سب سے پہلے چور نظروں سے انکوبیٹر کو دیکھا جہاں اب حمین پیڈی اور امامہ کے وجود کے پیچھے چھپ گیا تھا۔

بابا آپ کیوں رو رہے ہیں۔۔باپ کی طرف متوجہ ہوتے ہی اس نے پہلی نظر میں اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھے تھے۔۔اور اسکے جملے نے امامہ کو بھی پلٹنے پر مجبور کردیا تھا۔۔۔

سالار کی پشت اب اسکی طرف تھی اور وہ جبریل کو لپٹائے چومے جارہا تھا

--------------------------------

گھر مکمل طور پر جل گیا تھا نقصان کا اندازہ لگانا مشکل تھا۔مگر یہ ورلڈ بنک کی طرف سے فراہم کردہ رہائش گاہ تھی۔سالار کنشاسا پہنچنے کے اگلے ہی دن اس گھر کو دیکھنے آیا تھا۔لوٹ مار کے بعد اب وہاں جو بچا تھا وہ ملبہ اور راکھ تھی۔۔۔وہ پھر بھی خوش نصیبوں میں تھا کیونکہ اس ملبے میں اسکے کسی پیارے کی ہڈیاں نہیں تھی۔ ۔گھر کو لگنے والی آگ میں وہ چھوٹی موٹی ساری جیولری سیونگ سرٹیفکیٹس اور اسکے بچوں کی انشورنس کے پیپرز راکھ ہوئے تھے یا لوٹ لیئے گئے تھے۔۔لیکن اس چھوٹی موٹی جیولری کی قیمت بھی چالیس لاکھ سے کم نہیں تھی۔۔اس گھر میں اور بھی بہت کچھ چلاگیا تھا جسکا امامہ کو صدمہ تھا لیکن سالار کو نہیں۔۔۔اسکے لیئے یی کافی تھا کہ اسکا خاندان سلامت تھا۔۔

وہ ایمبیسی سے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منتقل ہوگئے تھے ۔۔

میں چاہتا ہوں جب ڈاکٹر حمین کو سفر کے قابل قرار دیں تو تم بچوں کو لیکر پاکستان چلی جاؤ۔

سالار نے ایک رات امامہ سے کہا تھا۔۔۔

کیوں۔۔۔وہ ناخوش ہوئ تھی۔

کیونکہ جو کانگو میں ہوچکا ہے میں اب تم لوگوں کے لیئے کوئ رسک نہین لے سکتا۔

کانگو اتنا غیر محفوظ ہے تو تم یہاں کیوں رہنا چاہتے ہو۔۔۔تم بھی واپس چلا امامہ نے جواباً کہا تھا۔۔ سالار گہرا سانس لیکر رہ گیا۔۔۔میں فی الحال نہیں جاسکتا۔

فی الحال؟؟؟ امامہ نے جواباً پوچھا

اگلے پانچ سال۔۔۔

ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امامہ نے کافی کا کپ رکھ دیا۔

تمہاری ضد مجھے کمزور کردے گی تم اور بچے یہاں رہینگے تو میں بہت پریشان رہوں گا۔۔اپنے کام پر دھیان نہیں دے پاؤں گا. تم لوگ محفوظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امامہ نے اسکی بات کاٹ دی۔

تمہیں لگتا ہے تم یہاں کانگو میں بیٹھے ہوگے تو میں اور بچے پاکستان میں عیش کرینگے؟؟ تم اپنے سکون کے لیئے مجھے بے سکون کرنا چاہتے ہو. میں نہیں جاؤں گی سالار۔۔۔مجھے وہی رہنا ہے جہاں تم رہوگے۔اگر یہاں خطرہ آئے تو پھر سب کے لیئے آئے اور اگر تحفظ ہو تو بھی سب کے لیئے۔۔۔

وہ اسکی شکل دیکھ کر رہ گیا۔وہ جانتا تھا وہ اس ضد سے نہیں ہٹے گی۔

تم کچھ کرنا چاہ رہے ہو جسے مجھ سے چھپا رہے ہو لیکن تم چھپا نہیں سکو گے میں جان جاؤں گی تم نہ بھی بتاؤ۔ وہ اب شکی بیویوں کی طرح اسے کرید رہی تھی۔۔۔

کچھ نہیں۔۔۔مجھے کیا کرنا ہے۔۔جنگلوں میں مارا مارا پھر رہا ہوں ایباکا کے ساتھیوں سے ملنے اور مذاکرات کرنے۔۔۔سالار نے بات ٹالنے کی کوشش کرتے ہوئے ہنس کر کہا۔۔

ایک مہینے تک پھر بھی پاکستان چلیں گے۔

تم چلو گے؟ امامہ نے بیچ میں ہی اسکی بات کاٹ دی۔

ہاں چلوں گا یار اب اتنی بھی بے اعتباری ٹھیک نہیں۔۔۔

اس نے جیسے برا مانتے ہوئے کافی کا گھونٹ لیکر کپ رکھ دیا۔

*-------------------------------*

کانگو کے عوام کے لیئے سالار کا چہرہ استحصالی سامراج کا چہرہ نہیں تھا بلکہ وہ انکے لیئے ایباکا کا قریبی اور قابل اعتماد ساتھی کا چہرہ تھا۔ایباکا کے خاندان نے اسکی موت کے بعد کسی بھی غیر ملکی ادارے یا حکومت کے نمائندوں سے ملنے سے انکار کردیا تھا لیکن سالار کی ملاقات کی درخواست کو اس نے رد نہیں کیا وہ اس سے بڑی خوشدلی سے ملے۔۔سالار نے ایباکا کی آخری ای میل اسے دی تھی جو اس نے سالار کو کی تھی۔۔اس ای میل کا پرنٹ آؤٹ اگلے دن بڑے بڑے مقامی اخبارات میں شائع ہوا۔

افریقہ اب پیٹرس ایباکا کی جسد خاکی کے استقبال اور تدفین کی تیاریاں کر رہا تھا۔امریکہ حکومت ابتدائ طور پر میت کو واپس نہیں بھیجنا چاہتی تھی کیونکہ انہیں خدشہ تھا پیٹرا ایباکا کی تدفین کے لیئے اکٹھا ہونے والا لاکھوں کا مجمع ایک بار پھر سے کانگو میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کرسکتا ہے۔مگر یہ سالار سکندر کیساتھ ہونے والی ملاقات میں ایباکا کی فیملی کا دباؤ اور اصرار تھا کہ وہ ایباکا کی میت کی واپسی ممکن بنائے اور وہ اس بات کی گارنٹی دینے پر تیار تھے کہ ایباکا کی تدفین پرامن ہوگی۔۔سالار نے ورلڈ بنک کی انتظامیہ کے ذریعے امریکی حکومت کو یہ بات باور کرا کہ ایباکا کی لاش کی باعزت واپسی کانگو کے عوام کے دلوں میں اس غصے کو ختم کرنے میں معاون ہوگی۔۔امریکی حکومت دو ہفتے بعد اسکی میت بھیجنے پر تیار ہوگئ تھی۔۔

ورلڈ بنک کی انتظامیہ نے سالار کو ایباکا کی آخری رسومات میں شریک ہونے سے روکا تھا جس کےلیئے اسے ایباکا کی فیملی نے مدعو کیا تھا اور سالار نے اس دعوت نامے کو قبول کرلیا تھا۔۔

امامہ بھی اس فیصلے سے ناخوش اور خوفزدہ تھی اور اسے سمجھانے کی ہر ممکن کوشش کی۔۔سالار اسکی منت سماجت کے دوران ائیر پورٹ جانے سے پہلے دو نفل پڑھنے کے لیئے کھڑا ہوگیا تھا۔۔وہ بے بسی سے بچوں کو لیئے بیٹھ گئ۔۔۔۔

اگر مجھے کچھ ہوگیا تو تم بچوں کو لیکر فوری پاکستان چلی جانا اس انتظار میں مت بیٹھی رہنا کہ میری ڈیڈ باڈی مل جائے۔۔۔

اس نے نفل پڑھنے کے بعد اس سے پہلا جملہ یہی کہا۔

امامہ کے دل پر چوٹ پڑی۔۔تم بڑے بے رحم ہو۔۔اس نے آنکھیں رگڑتے ہوئے کہا۔

تم سے کم۔۔۔۔۔سالار نے ہنستے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔

جبریل باپ کے ساتھ ہی دروازے تک آیا۔۔دروازے سے نکلتے ہوئے اس نے امامہ کو خدا حافظ کہا تو اس نے اسکا بازو پکڑ لیا۔۔۔۔

تم واپس آجاؤگے نا؟؟ وہ برستی آنکھوں سے منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔

اس نے امامہ سے نظریں ملائے بغیر اسکا ہاتھ نرمی سے ہٹا کر چوما ۔۔انشاءاللہ۔۔۔پھر جھک کر اپنی ٹانگ سے چپکے جبریل کو اٹھاتےہوئے اسکا منہ چوما۔۔اور کہا اپنی ممی اور بہن کا خیال رکھنا۔

I always do baba

بابا میں ہمیشہ ہی رکھتا ہوں۔۔۔جبریل نے اسے یقین دلایا۔۔

سالار نے ایک بار پھر اسکا منہ چوما۔۔۔آئ ایم پراؤڈ آف یو۔۔سالار نے اسے گود سے اتار دیا اور سب کو خدا حافظ کہا۔۔دروازے میں برستی آنکھوں کیساتھ کھڑی امامہ کو دیکھے بغیر۔۔

----------***********-------

لاکھوں لوگوں کے ہجوم میں سالار نے ایئر پورٹ پر ایباکا کی میت وصول کی۔کوئ ہتھیاروں سے مسلح اس قبائلی ہجوم میں جانے کا رسک نہیں لینا چاہتا تھا جنکو جان لینے اور دینے کے علاوہ کچھ نہیں آتا تھا۔۔

وہ وہاں نہتا تھا۔اور تن تنہا اسی دلیری سے اپنے ساتھ ایک بھی گارڈ لیئے بغیر اندر چلاگیا تھا۔۔

دنیا میں کروڑوں ٹی وی اسکرینز پر لائیو نشر ہونے والا وہ ایونٹ لاکھوں کے اس ہجوم میں صرف ایک شخص کو فوکس کییے ہوئے تھا۔۔اور بار بار۔۔۔وہ اس مجمع کے سامنے بیٹھا تھا جس میں سے کوئ بھی اس پر گولی چلاتا تو یہ بھی پہچانا نہیں جاسکتا تھا کہ وہ کہاں تھا اور کون تھا۔۔

اگر وہ مجمع اس پر چڑھ دوڑتا تو اللہ کے سوا کوئ نہیں تھا۔ جو اس مجمع کے ہاتھوں اسکی بوٹیوں کے بھی ٹکڑے ہونے سے روک سکتا۔اور یہ احساس سالار کو اسٹیج پر بیٹھے ان لاکھوں لوگوں کے سامنے ہورہا تھا۔اس کے دل پر لاکھوں لوگوں کی ہیبت طاری ہورہی تھی۔اور اسکی زبان پر قرآنی آیات کا ورد تھا۔

امریکہ میں سی آئ اے اور ورلڈ بنک کے ہیڈکوارٹرز میں اسکرین پر نظر آنے والا وہ شخص ان سب کو اپنی ہیبت میں لے رہا تھا۔۔۔جنکا ڈنکا پوری دنیا میں بجتا تھا ۔۔دلیری ہو تو ایسی۔۔۔جرات ہو تو ایسی۔۔

وہ گنگ تھے۔۔۔دم بخود اور مرعوب۔۔۔۔

وہ شخص اب پیٹرس ایباکا کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیئے نشست سے اپنا نام پکارے جانے پر اٹھ رہا تھا۔۔۔لاکھوں لوگوں کا مجمع اسکے لیئے تالیاں بجا کر داد تحسین دے رہے تھے۔وہ اس وقت پوری دنیا کے کیمروں کا مرکز بنا ہوا تھا۔سٹیج کے بلکل اوپر کافی بلندی پر ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر میں سی آئ اے کے کچھ کمانڈوز اس مجمع کو ٹی وی سکوپس سے مانیٹر کر رہے تھے۔۔چند اور بلیک ہاکس آس پاس کی عمارتوں کو۔۔۔۔ وہ سالار سکندر کی حفاظت اور زندگی کے لیئے اس وقت اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے تھے۔سالار سکندر روسٹرم کے پیچھے پہنچ چکا تھا۔۔۔مجمع کو سانپ سونگھ گیا۔۔تھا۔۔۔اب وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنے کے بعد قرآنی آیات کی تلاوت کر رہا تھا۔۔

**********************

وہ ٹی وی آن نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن اسے بے چینی کے باعث بند کر کے بھی نہیں بیٹھ سکتی تھی۔۔۔وہ سرد اور بے حس و حرکت وجود کیساتھ بت بنی اس شخص کو ٹی وی پر دیکھ رہی تھی۔۔اگر اس کے وجود میں کہی حرکت تھی تو وہ اسکے دل کی دھڑکن تھی۔سالار سکندر نے زندگی میں بہت ساری تقریریں کی تھی لیکن ان میں سے کوئ تقریر لاکھوں کے ایسے مجمع کے سامنے نہیں۔۔جس سے وہ انسانی ہمدردی کے علاوہ کوئ تعلق نہیں رکھتا تھا۔وہ مقامی زبان میں ان سے بات کر رہا تھا اور وہ ترجمہ ہوکر اسکے ساتھ سکرین پر آرہا تھا۔نہ امامہ کو اندازہ تھا اور نہ سالار سکندر کو کہ وہ آج افریقہ کے اس سیاہ فام مجمعے کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری خطبہ دہرائے گا۔ اس نے ہمیشہ کی طرح بسم اللہ سے تقریر کا آغاز کیا پھر قرآنی آیات سنائ کہ عزت اور ذلت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اسکے بعد اس نے سر اٹھا کر مجمع کو دیکھا۔۔۔ایک لمحے کےلیئے وہ بھول گیا کہ اسے کیا کہنا تھا۔۔۔اس نے دوبارہ روسٹرم پر رکھے اس کاغذ پر نظر دوڑائ جس پر اس نے تقریر کے نکات لکھے تھے۔۔وہ ہمیشہ صرف نکات لکھ کر ہی تقریر کیا کرتا تھا۔۔اسے اپنی یاداشت اور علم پر ایسا ہی اندھا یقین تھا۔اور اب وہ بلکل خالی ذہن کیساتھ ہونقوں کی طرح اس مجمع کو دیکھ رہا تھاجو اسکے اگلے الفاظ کے منتظر تھے اسکے پچھلے الفاظ انکے سر سے گزرے تھے۔افریقہ کے وہ قبائل جو اس وقت وہاں اکھٹے تھے وہ آج بھی اللہ کی عبادت نہیں کرتے تھے نہ ہی اللہ کے وجود کو مانتے اور پہچانتے تھے۔یہی وہ لمحہ تھا جب اسے آخری خطبہ یاد آیا تھا۔۔میں ایک ایسی تنظیم کا حصہ ہوں جنہوں نے ماضی میں اس خطے اور آپ لوگوں کیساتھ بہت زیادتیاں کی ہیں آپ لوگوں کو کمتر سمجھا گیا۔آپ لوگوں کے حقوق چھینے گئے اور آپ لوگوں کے وسائل پر ناجائز قبضہ کیا گیا۔۔میں ان سب کے لیئے آپ سے معذرت خواہ ہوں کیونکہ میں ایک ایسے مذہب کا ماننے والا ہوں جو یہ سب گناہ قرار دیتا ہے میں ایک ایسے مذہب کا ماننے والا ہوں جسکے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امانتوں میں خیانت سے منع کرتے تھے وہ اپنے بھائ کے لیئے بھی وہی پسند کرنے کی تلقین کرتے تھے جو اپنے لیئے۔۔۔۔۔جنہوں نے بتایا کہ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئ برتری نہیں۔وہ انسانی مساوات کی بات کرتے تھے۔ذات پات رنگ و نسل کو نہیں مانتے تھے۔سالار سکندر حافظ تھا، مبلغ نہیں تھا، مقرر تھا مفسر نہیں تھا۔۔زندگی میں کبھی اس نے اپنے پروفیشن میں مذہب کو لانے کی کوشش نہیں کی تھی وہ آج بھی اسی نیت سے وہاں آیا تھا پر اس وقت جو زبان سے نکل رہا تھا وہ دل کی آواز تھی جو دلوں تک جارہی تھی۔۔

افریقہ میں غیر انسانی حالات میں رہنے والا وہ سیاہ فام مجمع اسکی باتیں سن رہا تھا اور اب پہلی بار ساکت و صامت خاموشی کے ساتھ سن رہا تھا۔۔۔اور اس خاموشی کو ایک بے اختیار داد و تحسین نے توڑا تھایہ داد سالار سکندر کے جملے پر نہیں ملی تھی یہ داد خاتم النبیین کے آخری خطبے کے ایک بنیادی فلسفے کو ملی تھی۔آج چودہ سو سال بعد بھی وہ پیغام دلوں کو تسخیر کر رہا تھا ان پر مرہم۔بھی رکھ رہا تھا۔اس لیئے کہ وہ پیغام انسانیت کے لیئے تھا ۔ہیڈکوارٹرز میں بیٹھے لوگ اب بھی گنگ تھے۔لاکھوں کا وہ مجمع اس آدمی کو اپنے رعب میں نہیں لے پا رہا تھا لیکن اسکی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ اس لاکھوں کے مجمعے کو جیسے اسکی مٹھی میں لے آئے تھے۔۔سالار نے وہ اسم اعظم پڑھتے ہوئے افریقہ کی نبض پر ہاتھ رکھ دیا تھا جو چودہ سو سال پہلے بھیجا گیا تھا۔

امامہ بھی دم بخود تھی۔وہ شخص کس جگہ کھڑا کیا دہرا رہا تھا ۔۔۔

یہ لوگ بابا کےلیئے تالیاں کیوں بجا رہے ہیں؟؟ وہ جبریل کے سوال پر جیسے چونک پڑی۔امامہ اسکا چہرہ دیکھ کر رہ گئ۔تالیوں کی گونج اب تھم رہی تھی۔وہ بہت دیر تک بجتی رہی تھی۔اتنی دیر تک کہ سالار کو یاد آگیا تھا کہ اسے آج وہاں کیا کہنا تھا۔لیکن اب اپنے بھولے ہوئے الفاظ یاد آنے پر اتنی خوشی نہیں ہوئ ۔۔۔تاثیر اس میں تھی جو بھول کر یاد آیا تھا۔۔۔۔

میں افریقہ میں اپنے مذہب کے انہی اصولوں اور اسی سوچ کیساتھ کام کرنے آیا ہوں اور میں آپ لوگوں سے وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مجھے یہ احساس ہوا کہ میں ان اصولوں پر آپ لوگوں کی فلاح کے لیئے کام نہیں کرسکتا تو میں یہاں سے چلاجاؤں گا۔لیکن میں ان طاقتوں کے ہاتھ مضبوط نہیں کرونگا جنکے خلاف پیٹرس ایباکا نے جنگ کی اور جن سے لڑتے ہوئے اس نے جان دی۔لیکن ایباکا نے اپنی جان اس لیئے قربان نہیں کی کہ وہ اپنے لوگوں کو بدترین حالت میں جیتا دیکھے وہ اپنے لوگوں کے لیئے خواب دیکھتا تھا۔۔۔ایک اچھی زندگی کا خواب۔۔۔۔۔سالار سکندر اب انہیں ایباکا کی آخری ای میل سنا رہا تھا۔

لاکھوں کا وہ مجمع جو ناقابل تسخیر پہاڑ لگ رہا تھا اب تسخیر ہوچکا تھا۔وہ سالار کے الفاظ پر رو رہا تھا۔۔تالیاں بجا رہا تھا۔اسکے الفاظ پر نعرے لگا رہا تھا۔

سالار اپنی تقریر ختم کرکے روسٹرم سے ہٹ چکا تھا۔واپس اپنی نشست کی طرف جاتے ہوئے لاکھوں کا وہ مجمع سالار سکندر کا نام پکار رہا تھا۔آنسو صرف اس مجمع کی آنکھوں سے نہیں بلکہ امامہ کی آنکھوں سے بھی روانہ ہوچکے تھے۔وہ مجمع سالار کو اپنا نجات دہندہ کے طور پر دیکھتے ہوئے رو رہا تھا اور امامہ اس نجات دہندہ کی جان ایک بار پھر بچ جانے پر ۔ ۔۔۔۔

آپ کیوں رو رہی ہیں ممی۔۔جبریل نے کچھ پریشان ہوکر ماں کو دیکھا ۔۔امامہ نے کچھ بھی کہے بغیر اسے خود سے لپٹا لیا تھا۔

----------------------------------

تمہیں پتا ہے تمہارے اندر خودکشی کرنے کی خواہش آج بھی اسی طرح موجود ہے جس طرح سترہ سال پہلے تھی۔سالار سکندر نے لیپ ٹاپ پر آخری ای میل کا جواب دیتے ہوئے ایک گہرا سانس لیتے ہوئے امامہ کی آخری پھٹکار سنی ۔۔۔وہ اب اپنا کام نمٹا چکا تو امامہ کی طرف متوجہ ہوا ۔وہ پریشان تھی اسے اندازہ تھا۔جو کچھ آج ہوا تھا اسکے بعد اسکے ذہنی تناؤ کا اندازہ لگا سکتا تھا۔

تم ٹھیک کہتی ہو۔۔۔سالار نے لیپ ٹاپ بند کر کے بیڈ کی طرف جاتے ہوئے کہا۔

تمہیں پتا ہے مجھے تمہاری کیوں ضرورت ہے اور میں کیوں فکرمند رہتی ہوں تمہارے لیئے۔۔؟؟

وہ اسکے اعتراف پر برہم ہوئ تھی۔کیونکہ بچے پریشان ہوجاتے ہیں۔تم کوئ سپرمین نہیں ہو جو وہ تمہارے کمالات دیکھ کر تالیاں بجائیں گے۔تمہیں کچھ ہوگا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ بات کرتے کرتے روہانسی ہوگئ۔بات مکمل نہ کرسکی۔وہ گہری خاموشی کیساتھ اسکی بات سنتا رہا۔پھر اس نے سر اٹھا کر امامہ کو دیکھا جو اسکے بلمقابل کھڑی تھی اور وہ بستر پر بیٹھا ہوا تھا۔۔

تم ٹھیک کہتی ہو۔جواب پہلے سے مدھم آواز میں آیا تھا۔۔۔وہ اور برہم ہوئ۔

میں مذاق نہیں کر رہی۔۔اسے لگا جیسے ہمیشہ کی طرح وہ اسے زچ کر رہا۔

اب اگر ایک بار پھر تم نے یہ جملہ دہرایا تو میں اس کمرے سے چلی جاؤں گی تمہیں میری ہر بات احمقانہ لگ رہی ہے۔

یو آر رائٹ۔۔۔۔وہ اس بار زچ ہوکر جھلاتے ہوئے ہنس پڑی تھی ۔پھر اسکے پاس بستر پر بیٹھ گئ۔۔۔

آخری خطبہ سنا رہے تھے آج تو سارا سناتے ادھوری بات کیوں کی۔۔وہ اب اس پر طنز کر رہی تھی۔

ہمت نہیں پڑی۔۔۔اسی لیئے تو کہتا ہوں تم جو بھی کہتی رہی ہو ٹھیک کہتی رہی ہو کل بھی اور آج بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امامہ اسکا منہ دیکھ کر رہ گئ۔

پیٹرس ایباکا اپنی زندگی کے آخری لمحے تک امن کے لیئے لڑا۔وہ نیویارک کی ایک سڑک پر اپنی جان بچانے کے لیئے لڑتا رہا انہی طاقتوں کے ہرکاروں کیساتھ جنکے ساتھ تم کھڑے ہواور جنکے ساتھ ملکر تم افریقہ کی تقدیر بدلنا چاہتے کو۔۔۔اس مے سالار کو وہ آئینہ دکھایا جو صرف اسے امامہ ہاشم ہی دکھا سکتی تھی تم سمجھتے ہو وہ تمہیں یہ سب کرنے دینگے؟؟؟

تم سمجھتی ہو میں یہ سب کرنا چاہتا ہوں؟؟ اس نے جواباً اسی انداز میں پوچھا۔۔۔وہ بول نہیں سکی۔۔۔پھر امامہ نے پوچھا۔۔۔۔

پھر تم کیا کرنا چاہتے ہو۔

میں پہلا اسلامی مالیاتی نظام بنانا چاہتاہوں جو سود سے پاک ہو لیکن پوری دنیا کے لیئے ہو باضابطہ قابل عمل اور جو اسکی جگہ لینے کی صلاحیت رکھتا ہو۔جواب اتنا غیر متوقع تھا کہ وہ حیرانی سے سالار سکندر کا چہرہ دیکھ کر رہ گئ۔

تمہیں لگتا ہے میں نہیں کرپاؤں گا؟؟؟ بہت دیر تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس خاموشی کو سالار نے توڑا تھا۔

یہ کام دنیا میں اگر کوئ کرسکتا ہے تو وہ صرف تم کر سکتے ہو سالار۔

اس بار گنگ ہونے کی باری سالار کی تھی۔یہ جواب نہیں وہ اعتماد تھا جسکی اسے ضرورت تھی۔اسکا خون بڑھا۔۔اور سیروں کے حساب سے بڑھا تھا۔

تھینک یو۔۔۔امامہ کی طرف دیکھے بغیر سر جھکائے سالار نے اپنا تشکر اس تک پہنچا دیا۔شکریہ کی ضرورت سمجھ میں نہیں آئ تھی لیکن وہ اسکا چہرہ دیکھتی رہی یوں جیسے وہ منتظر تھی کہ وہ کچھ کہے۔۔۔۔۔

تمہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔۔۔بلآخر سالار نے کہا ۔وہ ہنس پڑی یوں جیسے اس نے کوئ عجیب بات کردی ہو۔۔۔

تم مشکلات کی بات مجھ سے کر رہے ہو سالار؟ زندگی میں بڑے برے دن گزارے ہیں میں نے اس نے ایک گہرا سانس لیا۔۔۔۔۔

لیکن وہ برے دن میری وجہ سے نہیں آئے تھے اب شاید میری وجہ سے بھی آئے۔سب سے مشکل چیز یہی ہے میرے لیئے میں جو کرنے جارہا ہوں اسکے اثرات تم تک اور بچوں تک آئیں گے۔واحد کمزور کرنے والی شے یہی ہے مجھے۔۔

تم یہ مت سوچو۔۔جو کرنا چاہتے ہو وہ کرو باقی دیکھا جائے گا۔۔۔۔۔زندگی اس سے بدتر تو بحر حال نہیں ہوگی جیسی میں گزار آئ ہوں۔۔۔

امامہ کو اس وقت یہ بات کرتے ہوئے اندازہ نہیں تھا کہ جن مشکلات سے سالار خوفزدہ تھا وہ یہ مشکلات نہیں تھی جو وہ سوچ رہی تھی۔۔۔وہ صرف مالی مسائل کے حوالے سے اسے متنبہ کر رہا تھا۔

میں سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پیدا ہوئ تھی بچپن سے دنیا کی ہر نعمت ملی پھر ایک اور وقت آیا جب اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتی تھی دوسروں کے سر پر محتاجی کی زندگی گزانی پڑی۔نوکری کرنا پڑی۔وہ وقت بھی گزر گیا پھر تمہارے ساتھ گزرے پچھلے ساتھ سال میں دنیا کی ہر نعمت و آسائش ملی۔پہلے سے بڑھ کر اور بہتر۔۔۔۔لیکن میں یہ کبھی نہیں بھولی یہ وقت بھی گزر جائے گا۔چیزوں کی اہمیت نہیں ہوتی انسان کا کوئ نعم البدل نہیں۔۔۔تو جب تک بچے اور تم میرے پاس ہو مجھے کوئ پرواہ نہیں۔۔۔

اس نے سالار کو دیکھا وہ خاموشی سے اسکی بات سن رہا تھا وہ اسے ہولانا نہیں چاہتا تھا یہ کہہ کر کے بچے اور وہ بھی کبھی اس سے چھن سکتے تھے۔جیسے پہلے چھین لیئے گئے تھے۔اور ہر آزمائش مال پر شروع ہوکر مال پر ختم نہیں ہوتی۔



قسط نمبر28

پہلی بار سالار کی نظر امامہ کے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی پر پڑی تھی۔جو اس نے اسے شادی کے تحفے کے طور پر دی تھی۔وہ بے حد حیرانی کے عالم میں اسے دیکھتے ہوئے کچھ بولنا بھی بھول گیا۔اسکا خیال تھا کہ یہ انگوٹھی بھی اس گھر میں موجود لاکر میں پڑے دوسرے زیورات کیساتھ جل گئ ہوگی اس جگمگاتی بیش قیمت انگوٹھی کو اب اسکی مخروطی انگلی میں سجا دیکھ کر اسے ایک عجیب سی خوشی ہوئ تھی۔ناقابل بیان خوشی۔اس نے امامہ کا ہاتھ تھام لیا۔

یہ کہاں سے آئ؟؟ گفتگو کا موضوع عجیب انداز میں بدلا تھا۔۔۔۔امامہ ہنسی اور اس نے ہتھیلی پر ہی اپنا ہاتھ پھیلا دیا تھا۔اسے سالار کی خوشی اور کیفیت کا اندازہ تو نہیں ہوا لیکن خود وہ اس انگوٹھی کو دیکھ کر کھل سی گئ۔اس کیساتھ اسکی جذباتی وابستگی تھی۔وہ دیر سے ملا تھا لیکن منہ دکھائ کا تحفہ تھا۔اور اسکے ہاتھ میں جب وہ پہنی ہوتی تھی اسکی خوبصورتی دیکھنے والوں کو مبہوت کردیتی تھی اتنا تو. امامہ جانتی تھی لیکن اسکی قیمت کا اندازہ اسے آج بھی نہیں تھا۔۔سالار نے اس کے ایر رنگز اور چین کو نوٹس نہیں کیا اور وہ انگوٹھی پہ اٹک گیا تھا بس۔۔

تم نے میرے ایر رنگز اور چین نہیں دیکھی؟؟ وہ اسے اب دونوں چیزیں ہاتھ سے چھوتےہوئے دکھا رہی تھی کسی بچے کی طرح خوشی اور جوش سے۔۔۔سالار نے مسکراتے ہوئے ان چیزوں کو دیکھا اور پھر امامہ کے یکدم سب بھول بھال کر جگمگا اٹھنے والے چہرے پر نظر ڈالی تینوں چیزوں کو دیکھتے ہوئے اسے یاد آیا تھا۔۔۔وہ چین ڈاکٹر سبط علی کی دی ہوئ تھی اور ایر رنگز امامہ کو شادی کے تحائف میں اسکے ساس سسر نے دی تھی اور وہ انگوٹھی اس نے سکندر عثمان کی طرف سے ملنے والی جائداد میں سے ایک پلاٹ کو بیچ کر خریدی گئ۔ان تینوں میں سے کوئ چیز سود اور حرام کے پیسے سے نہیں خریدی گئ تھی۔اور وہ زیور واپس آگیا تھا۔۔

تم کیا سوچ رہے ہو؟؟ امامہ نے اسے مخاطب کیا ۔

کچھ نہیں ایسے ہی اک خیال آیا تھا۔۔سالار گہرا سانس لیکر بات ٹال گیا تھا۔

اس انگوٹھی کی قیمت کیا ہے؟ پتا نہیں امامہ کو ایک دم سے اسکی قیمت کا خیال کیسے آگیا۔

یہ انمول ہے ۔کیونکہ تمہارے ہاتھ میں ہے۔۔۔سالار نے اسکا ہاتھ چوما اور وہی جواب دیا جو اس انگوٹھی کے پہناتے وقت دیا تھا ۔۔وہ ہمیشہ کی طرح سرشار ہوئ تھی۔یی بہت دفعہ پیش کیا جانے والا خراج تحسین تھا جو ہر بار نیا لگتا تھا کیونکہ ہمیشہ اچھا لگتا تھا۔

پیکنگ مکمل ہوگئ؟؟ سالار نے موضوع بدل دیا۔

ہاں۔۔مکمل ہوگئ۔ امامہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔وہ تین دن بعد پاکستان جارہے تھے۔

تم کتنے دن ٹہرو گے وہاں؟ امامہ نے پوچھا۔

ایک ہفتہ۔۔۔سالار نے لیٹے لیٹے جواب دیا۔۔

کیوں؟؟ تم ہمارے ساتھ وہاں زیادہ دن کیوں نہیں ٹہرو گے۔۔۔امامہ کو اعتراض ہوا۔

ایک ہفتہ بھی زیادہ ہے میرے لیئے ۔کام کا ڈھیر ہے یہاں اور مجھے تمہارے واپس آنے سے پہلے گھر کا بندوبست بھی کرنا ہے۔۔

میں بھی تمہارے ساتھ ہی ایک ہفتہ بعد واپس آجاؤں گی۔امامہ نے کہا۔

نہیں تم اب ایک ماہ بعد ہی آؤ تمہیں آرام کی ضرورت ہے وہاں گھر کا ماحول تبدیل ہوگا تو بہت اچھا محسوس کروگی۔یہاں بچوں کیساتھ بہت پریشانی ہوتی ہے تمہیں۔۔سالار نے اسے کہا۔

مجھے بچوں سے زیادہ تمہاری پریشانی ہوتی ہے۔وہ ایک بار پھر وارڈروب کے سامنے کھڑی تھی۔سالار نے لیٹے لیٹے اسے دیکھا۔وہ وارڈروب سے ٹیک لگائے اسے دیکھ رہی تھی۔اور اسکے انداز میں کچھ تھا جس نے سالار کو چونکا دیا۔

میری کیا پریشانی؟ اس نے پوچھا تھا۔

پتا نہیں۔۔بس مجھے ڈر لگتا ہے۔اس نے آدھی بات کر کے وارڈروب دوبارہ کھولی۔

کس چیز سے ڈر لگتا ہے ۔۔سالار نے پوچھا۔۔۔امامہ نے ویسے ہی کھڑے کھڑے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔۔کس چیز سے ڈر لگتا ہوگا مجھے؟ وہ جیسے کسی سائکاٹرسٹ سے اپنے مسلے کا حل پوچھ رہی تھی۔۔

میری موت سے؟؟ اوت وہ سائکاٹرسٹ بے حد بے رحم تھا۔

امامہ ہل نہ سکی۔اس نے جیسے نشتر اسکے جسم میں موجود ناسور پر سیدھا ہی مار دیا تھا۔

ایسے کیوں دیکھ رہی ہو۔۔سالار اسکی نظروں سے الجھا تھا۔۔۔

تم بہت بے رحم ہو۔۔اور ہمیشہ سے ہو۔۔

تم نے سوال کیا تھا مجھ سے میں نے اندازہ لگایا۔ صحیح اندازہ لگایا کیا؟ وہ جیسے داد چاہتا تھا۔

اب تمہیں پتا چلا میں تم سے کیوں کہتی ہوں کہ تمہارے اندر آج بھی موت کشش رکھتی ہے۔ وہ جو کہنا چاہ رہی تھی وہ کہہ نہ سکی اور جو کہہ دیا اسکے غلط ہونے کا اندازہ ہوگیا اسے۔۔۔

موت سے کون فیسی نیٹ ہوتا ہے امامہ۔۔۔کوئ پاگل ہوگا جو ایسے سوچے گا۔اور ایک وقت میں میں پاگل تھا اب نہیں ہوں۔۔۔۔وہ عجیب انداز میں مسکراتے ہوئے بولا۔

اب بھی ہو۔۔۔امامہ کہے بنا نہ رہ سکی۔۔وہ ہنسا تھا یوں جیسے اسکے جملے سے محظوظ ہوا ہو۔۔۔

تم ہمیشہ ٹھیک کہتی ہو۔

اس کی ہنسی نے امامہ کو کم تپایا اور اسکے جملے نے زیادہ۔۔۔وہ وارڈروب کو پوری قوت سے بند کرتی ہوئ واشروم میں گھس گئ۔۔اسے پتا تھا وہ اب اسے زچ کریگا اور کرتا ہی جائے گا۔۔۔یہ اسکا ذہنی تھکن اتارنے کا ایک طریقہ تھا۔۔اسے زچ کرنا۔

-----------************-----

کانگو بحران اور اس سے پہلے ہونے والے واقعات سی آئ اے کے لیئے سالار سکندر کو اس لسٹ میں ڈالنے کا باعث بنا تھا جن پر باقاعدہ نظر رکھی جاتی تھی۔وہ افریقہ میں اب انکا سب سے اہم کارندہ تھا۔انکے لیئے کام کر رہا تھا لیکن انکا ساتھی نہیں تھا۔اس نے کانگو اور افریقہ میں ایک بے حد نازک صورت حال میں ان سب کو ایک شرمناک صورت حال سے نکالا تھا۔اسکی تقریر میں اپنےہی ادارے اور سامراجی قوتوں پر کی جانے والی تنقید کسی کو بری نہیں لگی۔اگر صورت حال کنٹرول میں آجاتی تو وہ اس سے زیادہ گالیاں کھانے پر تیار تھے لیکن اگر کوئ چیز سالار سکندر کی تقریر میں انہیں قابل اعتراض لگی وہ اپنے مذہب اور پیغمبر کا حوالہ تھا۔وہ افریقہ میں بے شک انکے لیئے اہم تھا لیکن کوئ اہم ترین شخص بھی اسلامی سوچ کے پرچار کے لیئے ورلڈ بنک کا عہدہ استعمال نہیں کرسکتا تھا۔

سی آئ اے کو سالار سکندر کو مانیٹر کرتے ہوئے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ کسی اسلامی مالیاتی نظام کو قائم کرنے کا سوچ رہا ہے جو سود سےپاک ہو۔۔۔انکے لیئے یہ پریشان کن بات نہیں تھی وہ اسکو ایک خیالی پلاؤ سے زیادہ

اہمیت دینے پر تیار نہیں تھے۔اگر کوئ بات پریشان کن تھی تو وہ سالار کا یکدم سامنے آنے والا مذہبی شخص تھا۔جو انکے نزدیک افریقہ جیسی حساس جگہ پر انکے لیئے پریشانیاں کھڑی کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔۔۔اسے ہر جگہ مانیٹر کیا جانے لگا۔۔۔اور پہلی غیر معمولی سرگرمی جو سی آئ اے نے ریکارڈ کی تھی وہ ایباکا کی تدفین کے تین ہفتے بعد مسقط میں سالار سکندر کی سمندر میں ایک لانچ پر پانچ لوگوں سے ایک ملاقات تھی۔جس میں سے ایک مسقط کی رائل فیملی سے تھا۔سالار سمیت وہ پانچوں پرانے شناسا اور دوست تھے ایک ہی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل تھے ۔۔وہ اپنی اپنی فیلڈ کے نامور لوگ تھے وہ سب دنیا کے انڈر فورٹی گلوبل لیڈرز کی فہرست میں شامل تھے جن کے بارے میں پیش گوئی تھی کہ وہ دس سال بعد دنیا کے ممتاز ترین لیڈرز میں سے ہونگے۔۔۔ان میں سے کوئ بات سی آئ اے کے لیئے پریشان کن نہیں تھی سوائے اس آخری مماثلت کے۔۔۔سالار سمیت وہ پانچ کے پانچ افراد مسلمان تھے باعمل اور حافظ قرآن تھے۔۔۔

----------+++++-+----------

وہ پاکستان میں امامہ کے قیام کا تیسرا ہفتہ تھا۔۔وہ شروع کے دو ہفتے لاہور میں ڈاکٹر سبط علی اور سعیدہ اماں کےپاس گزار کر اب باقی دو ہفتے اسلام آباد رہنے آئ تھی۔۔

وہاں انکی آمد کا دوسرا دن تھا جب سالار نے اسے امریکہ میں کسی پرانے دوست کے بارے میں بتایا تھا جو اب اپنی فیملی کے ساتھ پاکستان میں مقیم تھا اور سالار سے ملنا چاہتا تھا۔اسے مبارکباد دینے۔۔۔

کئ سالوں بعد سعد اپنی فیملی کیساتھ سالار سے ملنے اسکے گھر آیا تھا وہ مکمل طور پر باریش تھا اسکی داڑھی سفید ہوچکی تھی جسکو اس نے رنگا نہیں تھا وہ بے حد مہنگے برانڈڈ شلوار قمیص میں ملبوس تھا لیکن شلوار ٹخنوں سے اوپر تھی۔اسکے ساتھ نقاب لیئے ہوئے اسکی بیوی ایک آٹھ سالہ بچہ اور دو بچیاں بھی تھی۔۔

وہ اور اسکی بیوی سالار اور امامہ سے بڑی گرمجوشی سے ملے۔۔۔امامہ جانتی تھی سعد سالار کے شناساؤں میں تھا قریبی دوستوں میں نہیں۔۔لیکن اس کے باوجود سعد اپنی گپ شپ اور بلند و بانگ قہقہوں کے دوران سالار کے اسکے ساتھ امریکہ میں گزرے ہوئے وقت کے بارے میں ایسے ایسے قصے نکال کر سناتا رہا جیسے وہ اور سالارگہرے دوست رہے ہو۔

مجھے تو ہمیشہ سے اندازہ تھا کہ سالار بہت ترقی کرنے والا ہے بس ذرا قبلہ خراب تھا اسکا۔۔چائے پینے کے دوران اس نے امامہ پر انکشاف کیا جیسے۔۔۔امامہ اور سالار نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرا کر رہ گئے۔

اور اب دیکھیے بھابھی کیسا بدلا ہے۔۔میری کوششیں کیسے رنگ لائ ہے سعد کہہ رہا تھا اور سالار نے اپناکپ رکھتے ہوئے اسی مسکراہٹ کیساتھ کہا۔۔

لیکن تم بلکل نہیں بدلے۔میری کوششیں کوئ رنگ نہیں لاسکی۔اسکا مجھے بڑا افسوس ہے۔سالار نے جتانے والے انداز میں کہا۔۔سعد نے بے اختیار قہقہہ لگایا۔

ارے ہم پر کہاں کسی کا رنگ چڑھنا تھا۔ہم پر تو اپنا ہی رنگ بڑا پکا تھا۔بھابھی یہ آپکا شوہر نائٹ کلب اور ڈسکو کا بڑا شوقین تھا۔مجھے بھی کھنچ کھنچ کر ساتھ لیجانے کی کوشش کرتا تھا۔نت نئ لڑکیوں سے دوستی بڑی رنگین زندگی گزاری اس نے۔۔۔۔

سالار نے ٹھیک کہا تھا وہ نہیں بدلا تھا۔پیشتر لوگ خود کو بہترین مسلمان ثابت کرنے کے لیئے دوسروں کے ہر عیب اور خامی کو دکھانے اور جتانے کی وبا میں مبتلا ہوتے ہیں اور انکا اسلام انہیں صرف مقابلہ اور موازنہ سکھاتا ہے۔۔۔۔پردہ پوشی نہیں۔۔۔وہ اپنی بیوی کے سامنے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کتنے نیک شخص کی بیوی ہے۔۔احساس کمتری کی یہ ایک بھیانک شکل ہوتی ہے۔۔سعد اب اپنے انکشاف سے جیسے خود ہی محظوظ ہوا تھا اور پلیٹ میں ایک نیا کباب رکھتے ہوئے ہنس رہا تھا۔۔امامہ کا چہرہ پھیکا پڑا تھا۔

بھابھی بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے سعد میری کافی رنگ برنگی لڑکیوں سے دوستی تھی لیکن سعد کو صرف ایک ہی رنگ کی لڑکی پسند تھی اور مین ذرا شوقین مزاج تھا۔ڈسکو اور کلبز آتا جاتا رہتا تھا لیکن سعد ظاہر ہے میرے جیسا شوقین مزاج نہیں تھا اس لیئے وہ اپنی گرل فرینڈ کیساتھ گھر پر ہی رہنا پسند کرتا تھا۔۔

کباب تو سعد نے پلیٹ میں رکھ لیا تھا لیکن پلیٹ اسکے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچی تھی۔سالار نے کئ سالوں بعد ایسی کم ظرفی اور بے لحاظی کا مظاہرہ کیا تھا جو ایک زمانے میں اسکا شناختی نشان تھا۔

کیا نام تھا اسکا۔۔۔ہاں آسٹیفنی۔۔۔اب تو علیک سلیک ہی رہ گئ ہوگی یا وہ بھی نہیں۔۔۔اسکی یاداشت سفاکانہ حد تک تیز تھی۔اور اس وقت اس نے سعد کا قتل ہی کردیا تھا۔۔سعد کا اندربکا سانس اندر اور باہر کا سانس باہر رہ گیا۔اس سب کی ابتدا سعد نے کی تھی اور انتہا اب سالار کر رہا تھا۔۔سعد جواب کیا دیتا اسکا تو سانس لینا محال ہوگیا تھا۔

امامہ اسکی بیوی کے تاثرات دیکھ نہ پائ کیونکہ اسکے چہرے پر نقاب تھا لیکن اسکی آنکھیں یہ بتانے کے لیئے کافی تھی کہ وہ سالار کے انکشا فا ت سے خوش نہیں ہوئ تھی۔۔۔امامہ کو بھی سالار کا یہ جوابی وار کچھ بھایا نہیں۔۔۔

بھابھی آپ کچھ لیں۔۔۔۔اس نے صورت حال کو سنبھالتے ہوئے بروقت سعد کی بیوی عالیہ کی توجہ اس گفتگو سے ہٹانے کی کوشش کی ۔

نہیں۔۔۔بچے اور یہ لے رہے ہیں بس کافی ہیں ہم کچھ دیر پہلے ہی کسی لنچ سے آئے ہیں تو مجھے طلب نہیں۔۔۔۔امامہ کو عالیہ کا لہجہ بے حد کھردرا لگا۔۔۔۔

آپ تو ختم نبوت پر یقین نہیں رکھتی تھی نا؟؟ کیا سوال تھا جو سعد کی بیوی کی زبان سے امامہ کے لیئے نکلا تھا۔۔۔کمرے میں ایک دم خاموشی نہیں سکتہ چھایا تھا۔۔۔۔وہ تجسس نہیں تھا جوابی وار تھا۔۔سعد سے نہیں آیا تھا اسکی بیوی سے آیا تھا۔۔۔

نہیں۔۔۔الحمدللہ میں مسلمان ہوں ۔چائے کا کپ ہونٹوں سے ہٹا کر امامہ نے بے حد مشکل سے مسکرانے کی کوشش کی ۔۔

اوہ اچھا مجھے انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا۔۔وہ اسے بے نیازی سےسعد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔تو بھابھی آپ پھر کوئ ادارہ جوائن کرلیں نا ۔۔۔آپکو تو بہت زیادہ اصلاح اور علم کی ضرورت ہوگی جب تک آپ پاکستان میں ہے آپ میرے ساتھ مدرسے چلیں وہاں درس قرآن بھی ہوتا ہے اور روحانی اور اخلاقی تربیت بھی۔

آپکا بہت شکریہ لیکن مجھے اسلام قبول کیئے اور قادیانیت چھوڑے سولہ سترہ سال ہو چکے ہیں۔۔اور میں ایک حافظ قرآن کی بیوی ہوں۔۔امامہ نے اسکی بات بڑی نرمی سے کاٹی۔۔

وہ تو میں بھی ہوں۔۔عالیہ نے اسی انداز میں کہا۔لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

آپکو نہیں پڑا ہوگا مجھے پڑا ہے۔۔۔

بھابھی آپکو اس حوالے سے جب بھی ہماری مدد کی ضرورت پڑے ھم حاضر ہیں۔اب میل جول تو ہوتا رہے گا۔میں انشاءاللہ اس سال وقت نکال کر تبلیغ کے لیئے کچھ دن کانگو بھی آؤں گا۔تو آپ لوگوں کی خدمت میں حاضر ہوں گا۔ویسے بھی اچھا ہے ہمارے بچے آپس میں ملتے رہے۔۔سعد نے اپنی طرف سے بروقت مداخلت کرتے ہوئے گفتگو سنبھالنے کی کوشش کی۔

جی بھابھی ٹھیک کہہ رہے ہیں یہ۔ہمارے بچوں کو آپس میں ملتےرہنا چاہیئے اور ہمیں بھی۔۔۔بہت سی چیزوں میں آپکو اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے ہماری رہنمائی کی ضرورت ہوگی۔۔۔عالیہ نے اپنے شوہر کی گفتگو مکمل کرنے کی کوشش کی۔۔۔

اگر کبھی ایسی ضرورت پڑی تو میں اورامامہ ضرور آپ سے رہنمائ لینے کی کوشش کرینگے لیکن فی الحال ہمیں لگتا ہے ہمیں اسکی ضرورت نہیں۔۔۔اس بار سالار نے گفتگو میں مداخلت کر کے جیسےایک فل سٹاپ لگانے کی کوشش کی۔

یار بچے کہاں ہیں تمہارے؟؟ تم ان سے تو ملواتے۔۔۔میں چاہتا ہوں احسن اور جبریل بھی آپس میں متعارف ہو۔۔۔

جی جی ضرور۔۔۔بچے ابھی ملازم۔لا ہی رہا ہوگا۔وہ لان میں کھیل رہے ہیں۔۔۔اس سے پہلے وہاں کوئ اور بات ہوتی ملازم کیساتھ عنایہ اور جبریل کمرے میں داخل ہوئے تھے۔سعد نے دونوں بچوں کو بڑی گرمجوشی سے پیار کیا۔۔۔پھر جبریل اور احسن کو ایک دوسرے سے متعارف کیا۔وہ دونوں ایک جیسے تھے۔۔ریزروڈ۔۔۔تمیزدار. ۔۔

وہ لوگ آدھ گھنٹہ اور بیٹھے تھے اور پھر انہیں اپنے گھر آنے کی دعوت دے کر چلے گئے۔وہ ایک یادگار اور خوشگوار ملاقات نہیں تھی لیکن انہیں یہ اندازہ نہیں تھا کہ انکی ہر ملاقات ایسا ہی تاثر لییے ہوئے رہنے والی تھی۔۔۔

--------------------------------

سالار ایک ہفتہ بعد واپس کانگو چلاگیا تھا اور امامہ اسلام آباد سے لاہور سالار کیساتھ آئ تھی۔وہاں سے واپس اسلام آباد آنےپر امامہ اور بچوں کو سکندر اور طیبہ کیساتھ بہت سا وقت گزارنے کو ملا تھا۔اور اسکے جانے میں ابھی ایک ہفتہ باقی تھا۔جب سکندر نے بڑے غور و خوض کے بعد اس کو ہاشم مبین کے بارے میں بتایا تھا۔

وہ مجھ سے کئ دفعہ ملنے آئےہیں ۔۔تمہارا نمبر لینے کے لیئے ۔لیکن میں اتنی ہمت اپنے اندر نہیں پاتا تھا کہ تمہارا اور انکا رابطہ کرواتا۔۔کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ تم پھر پریشان ہو۔

سکندر عثمان اس سے کہہ رہے تھے۔۔لیکن مجھےلگا میں بہت زیادتی کروں گا تمہارے ساتھ بھی اور انکے ساتھ بھی۔۔اگر انکی یہ خواہش پوری نہ کروں۔۔۔۔وہ بے یقینی سے انکا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔وہ مجھ سے کیوں ملنا چاہتا ہے. ۔؟؟

یہ سوال انسان ماں باپ سے نہیں پوچھتا۔سکندر نے دھیمے لہجے میں اس سے کہا۔اسکے خلق میں جیسے پھندا لگا تھا۔وہ ٹھیک کہہ رہا تھا یہ سوال انسان ماں باپ سے نہیں پوچھتا. لیکن اسے تو یہ بھول ہی گیا تھا کہ اسکے ماں باپ بھی ہیں۔۔۔زندگی کے سولہ سترہ سال انکے بغیر گزارے انکےہوتے ہوئے بھی۔۔۔وہ آج بھی ان سے محبت کرتی تھی آج بھی انکے لیئے جذباتی تھی۔۔۔لیکن پچھلے چند سالوں نے سب بدل دیا تھا۔

اب ملنے کا فائدہ نہیں۔۔

سکندر کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اس سے ملنے سے انکار کر رہی تھی۔وہ تو صرف اپنے خاندان سے ملنے کے لیئے منتیں کرتی رہی تھی انکار تو ہمیشہ دوسری طرف سے ہوتا تھا۔

ماں باپ کے بارے میں ہم فائدے اور نقصان نہیں سوچتے۔صرف حق اور فرض سوچتے ہیں۔۔۔

انہوں نے اس بار بھی ٹھیک کہا تھا۔

پاپا میں اب اس معلق پل پر نہیں جھول سکتی میرے بچے ہیں اب میں اپنی ذہنی الجھنیں ان تک منتقل نہیں کرنا چاہتی میں بہت خوش اور پرسکون ہوں اپنی زندگی میں۔۔۔بس ایسے ہی رہنا چاہتی ہوں۔۔کسی لعنت ملامت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی اب۔ کسی معافی تلافی کی ضرورت بھی نہیں رہی اب۔۔۔بس جو گزر گیا وہ گزر گیا میں واپس پلٹ کر نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔

اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ اسکی آنکھیں کب برسنا شروع ہوئی۔

امامہ۔۔۔۔وہ مسلمان ہوچکے ہیں۔۔۔وہ جامد ہوگئ تھی۔سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا رد عمل دے۔۔خوش ہو؟ وہ خوش تھی۔۔رو پڑے؟ وہ پہلے ہی رو رہی تھی۔۔اللہ کا شکر ادا کرے؟ وہ ہمیشہ کرتی رہتی تھی۔۔

وہ مسلمان نہ ہوتے تب بھی میں تم سے کہتا کہ ان سے مل۔لو۔۔بعض گناہوں کی سزا جب اللہ دینا چاہتا ہے تو پھر ہمیں نہیں دینی چاہیئے۔۔ سکندر نے انہیں سمجھایا تھا۔وہ اسکی اندر کی کیفیت سے نے خبر تھا۔۔سوال معافی کا تو تھا ہی نہیں۔۔۔وہ انکا سامنا اس لیئے نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ وہ اپنے وجود کو بکھرتا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی اس نے بے حد مشکل سے اپنے آپ کو سمیٹا تھا۔۔۔

اس نے سکندر عثمان سے بحث نہیں کی وہ اگلے دن ہاشم مبین سے ملنے پر بھی تیار ہوگئ۔۔لیکن وہ اس رات سو نہ سکی تھی۔۔۔۔۔

وہ۔اگلے سہ پہر انکے گھر آئے تھے۔۔وہ کمرے میں آئ تو باپ پر پہلی نظر پڑتے ہی روئ نہ ہی رونے کا تہیہ کیئے ہوئے تھی۔۔۔وہ بے حد ضعیف لگ رہے تھے۔یہ تنتنے والا وہ وجود نہیں تھا جس سے وہ ساری زندگی ڈرتی رہی تھی۔۔۔ہاشم مبین نے انہیں گلے لگایا ۔۔۔وہ نم آنکھوں سے بڑے حوصلے سے اس سے ملکر الگ ہوئ تھی۔۔۔پہلے کی طرح ان سے لپٹی نہیں رہی تھی۔اور پھر وہ آمنے سامنے صوفوں پر بیٹھ گئے۔کمرے میں ان دونوں کے علاوہ کوئ نہیں تھا۔وہ دونوں تھے اور طویل اور گہری خاموشی۔۔۔پھر اس خاموشی کو ہاشم مبین کی ہچکیوں اور سسکیوں نے توڑا ۔۔وہ اب بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا تھا۔۔۔امامہ انہیں چپ چاپ دیکھتی رہی۔۔وہ بھی بے آواز روتی رہی۔اسکی آنکھوں سے برسنے والے آنسواسکی ٹھوڑی سے ٹپکتے ہوئے اسکی گود میں رکھے ہاتھوں پر گر رہے تھے۔۔۔۔۔

وقت واقعی بڑا ظالم ہوتا ہے۔مجھ سے بہت بڑا گناہ ہوگیا۔میں نے بہت بڑا ظلم کیا اپنے آپ پر۔۔اپنے خاندان پر۔پتا نہیں کیسے ہوگیا یہ سب کچھ۔۔۔۔۔۔

ہاشم مبین روتے ہوئے اعتراف کر رہے تھے۔۔اور امامہ کو یاد آگیا تھا انہوں نے ایک بار اس سے کہا تھا کہ جو کچھ وہ کرنے جارہی تھی وہ اس پر بہت پچھتائے گی۔۔۔ایک وقت آئے گا اسے اپنی غلطی کا احساس ہوجائے گا۔اور وہ واپس پلٹ کر ان سے معافی مانگنے آئے گی۔۔۔اور تب وہ اسے معاف نہیں کریں گے۔۔

مجھے لگتا ہے امامہ مجھے تمہاری بد دعا لگ گئ ہے۔۔۔۔ہاشم مبین نے روتے ہوئے کہا۔۔۔

مجھے بد دعا کا کبھی خیال بھی نہیں آیا ابو۔۔۔آپ کے لیئے کیا کسی کے لیئے بھی نہیں۔۔۔۔۔اس نے بلآخر ہاشم مبین سے کہا۔آپ نے دیر سے کیا لیکن صحیح اور اچھا فیصلہ کیا۔یہ ایک جملہ کہتے ہوئے امامہ کو بے حد تکلیف ہوئ تھی۔اسے وسیم یاد آیا تھا۔اسے اپنا وہ خاندان یاد آیا تھا جو سارا غیر مسلم تھا اور غیر مسلم ہی رہنے والا تھا۔ ۔واپس تو یا وہ پلٹی تھی یا ہاشم مبین۔۔۔

تمہارا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی مجھ میں بہت وقت لگادیا میں نے تمہارے سامنے آنے میں۔لیکن بس معافی مانگنا چاہتا تھا اور تمہاری ایک امانت تھی میرے پاس ۔۔۔وی مرنے سے پہلے تمہیں دینا چاہتا ہوں۔وہ اب اپنے ساتھ لائے ہوئے بیگ سے ایک لفافہ نکال کر اسے دے رہے تھے۔۔

یہ کیا ہے؟ اس نے لفافہ تھامے بغیر ان سے پوچھا۔۔۔

جائداد میں تمارا حصہ۔۔اسی حصے کے لیئے تمہارے بھائیوں کو خفا کر دیا ہے میں نے ۔۔وہ یہ بھی لینا چاہتے تھے مجھ سے۔لیکن میں تمہاری چیز انہیں نہیں دے سکتا تھا۔۔۔۔ساری عمر تمہیں کچھ نہیں دے سکا۔کچھ تو دینا چاہتا تھا تمہیں مرنے سے پہلے۔۔۔

وہ انکی بات پر رو پڑی۔ابو اسکی ضرورت نہیں تھی مجھے میں اسے لیکر کیا کروں گی۔اگر میرے بھائیوں کو میرا حصہ دینے سے انکی زندگی میں آپ کے لیئے کوئ گنجائش نکلتی ہے تو انہیں دیں۔۔۔۔۔

ہاشم مبین نے بےحد مایوسی سے نفی میں سر ہلایا۔۔میں اب انکےلیئے غیر مسلم ہوں امامہ۔۔۔وہ مجھے اپنی زندگی سے نکال پھینک چکے ہیں جیسے کبھی میں نے تمہیں نکالا تھا۔ وہ شکست خوردہ انداز میں کہہ رہا تھا۔۔

پھر آپ میرا حصہ بیچ کر اپنے لیئے کوئ گھر لے لیں۔۔۔کوئ جگہ۔۔۔میرے پاس اب سب کچھ ہے ۔امامہ نے وہ لفافہ پکڑ کر انکے بیگ میں واپس رکھ دیا تھا۔۔

تم نے مجھے معاف نہیں کیا۔۔؟انہوں نے رنجیدگی سے کہا۔

میں آپ کو معاف کرنے والی کون ہوتی ہوں ابو۔۔۔یہ فیصلہ تو آپکے لیئے اللہ نے کرنا ہے۔میں صرف یہ دعا کرسکتی ہوں کہ اللہ آپکو معاف کردے ۔۔بڑی معافی تو وہاں سے آنی چاہیئے۔۔۔

وہ سر جھکائے بیٹھے رہے پھر انہوں نے کہا۔۔

تم ہم سے ملتی رہو گی نا؟؟ عجیب آس اور حسرت تھی۔امامہ نے سر ہلادیا تھا۔ماں باپ کا یہ حال اسے دل گرفتہ کیئے ہوئے تھا. ہاشم مبین کے چہرے پر اس ملاقات کے دوران پہلی بار مسکراہٹ آئ تھی۔۔۔۔

میں جائداد کا یہ حصہ تمہارے بچوں کے نام کر دیتا ہوں امامہ۔۔

ابو میں آپکی جائداد اور روپے پیسے میں سے کچھ بھی نہیں لوں گی ۔میں لوں گی بھی تو سالار واپس کردے گا۔۔اس نے ہاشم سے دو ٹوک انداز میں کہا تھا۔۔۔

ہاشم مبین کچھ دیر بیٹھے رہے پھر اسے ساتھ لیکر اسکی ماں سے ملوانے لے گئے۔۔سکندر اور انکی بیوی بھی ساتھ گئے تھے۔۔وہ ایک اور جذباتی ملاقات تھی۔

تم اب بہت بہادر ہوگئ ہو۔۔اس رات سالار نے اس سے کہا۔اس نے اپنے اس دن کی روداد سنائ تھی اسے فون پر۔۔۔

کیسے؟؟ وہ اسکے تبصرے پر حیران ہوئ۔تم آج ایک بار بھی نہیں روئ مجھے اپنے پیرنٹس سے ملاقات کے بارے میں بتاتے ہوئے ۔۔۔وہ چپ رہی پھر اس نے سالار سے کہا۔

آج ایک اور بوجھ میرے کندھوں اور دل سے ہٹ گیا ہے۔۔۔بہت دیر سے سہی لیکن اللہ تعالی نے گمراہی سے نکال لیا ہے میرے ماں باپ کو۔۔۔دعائیں قبول ہوتی ہیں سالار۔۔دیر سے سہی لیکن قبول ہوجاتی ہے۔۔۔امامہ کے لہجے میں عجیب طمانیت تھی جو ہزاروں میل دور بیٹھے سالار نے محسوس کی۔۔۔

تمہاری ہوجاتی ہے۔۔اس نے مدھم آواز میں امامہ سے کہا۔

کیا تمہاری نہیں ہوتی؟ اس نے جواباً پوچھا۔

میری بھی ہوتی ہیں لیکن تمہاری زیادہ ہوتی ہے۔۔وہ کہہ رہا تھا۔۔

الحمد للہ۔۔امامہ نے جواباً کہا۔۔وہ ہنس پڑا۔۔۔

تم میرے پیرنٹس کو اولڈ ہوم۔سے نکال کر انہیں کوئ گھر لے دو انکے پاس میرے جائداد کا جو حصہ ہے اسے بیچ کر۔۔۔بے شک چھوٹا گھر ہو لیکن میں انہیں اولڈ ہوم میں نہیں دیکھ سکتی۔

میں پاپا سے کہہ دوں گا وہ۔کردیں گے یہ کام۔انکا خیال بھی رکھیں گے۔تم اسلام آباد میں مستقل رہنا چاہتی ہو تو رہ سکتی ی امامہ۔۔۔۔تم اور بچے وہاں۔۔۔۔۔۔۔۔

امامہ نے اسکی بات کاٹ دی۔میں تمہارے پاس رہنا چاہتی ہوں اور اسی تاریخ کو واپس آرہی ہوں۔

--------------------------------

سی آئ اے نے سالار سکندر کی اس سرگرمی کو صرف مانیٹر اور ریکارڈ نہیں کیا تھا اس ملاقات میں شامل پانچ افراد کو بھی اپنی واچ لسٹ میں ڈال دیا تھا ۔۔ اگلے آنے والی مہینوں میں سالار سکندر اور ان پانچ افراد کے بہت سارے تفریحی دورے ہوتے رہے تھے۔۔۔۔لیکن اب سی آئ اے صرف سالار سکندر کی نہیں ان پانچ افراد کی نقل و حرکت کو بھی مانیٹر کررہی تھی۔۔۔وہ پانچ افراد سالار سے صرف چند ماہ ملتے رہے پھر اسکے بعد انکی ملاقاتوں کا سلسلہ ختم ہوگیا۔وہ پانچ افراد اب آپس میں نہیں مل رہے تھے لیکن انفرادی طور پر اسی طرح ملاقاتیں کر رہے تھے۔

وہ ایک اسلامی مالیاتی سسٹم پر کام کر رہے تھے اور یہ بات سی آئ اے جانتی تھی لیکن اس نظام کی شکل کیا تھی۔وہ اسے بوجھنے میں کامیاب نہیں ہورہے تھے۔اور اسکی وجہ صرف ایک تھی۔۔۔ایک جگسا پزل کی طرح اس نظام سے منسلک ہونے والے سب افراد کےپاس اسکا ایک ایک ٹکڑا تھا۔اور وہ اس ٹکڑے کو اچھی طرح جانتا اور سمجھتا تھا لیکن وہ ٹکڑا اس تصویر میں کہاں لگنا تھا یہ صرف ایک شخص جانتا تھا۔۔۔۔۔سالار سکندر۔۔۔

----------++++++----------

ممی۔۔۔حمین کب بڑا ہوگا۔اس دن جبریل نے اپنی آرٹ بک میں کچھ بناتے ہوئے امامہ سے پوچھا۔

بڑا تو ہوگیا ہے۔۔امامہ نے اسکے سوال اور انداز پر غور کیئے بغیر کہا ۔۔۔

تو پھر. روتا کیوں ہے۔۔۔امامہ بے چارگی سے اپنے بڑے بیٹے کو دیکھ کررہ گئ۔۔۔۔

آپ اس سے پوچھیں کہ اسکو کیا چاہیئے۔۔۔وہ امامہ کو جیسے مسلے کا حل بتا رہا تھا۔

میں پوچھ نہیں سکتی اور یہ بتا نہیں سکتا۔۔امامہ اب بھی اسے اٹھائے لاؤنج میں ٹہلتے ہوئے اسے تھپک رہی تھی۔۔۔وہ بغیر آنسوؤں کے گلا پھاڑ پھاڑ کر روتا تھا۔اور پھر رونے کے بیچوں بیچ بھی دلچسپ چیز نظر آنے پر ایکدم رونا بند کر کے اسکا جائزہ لینے میں مصروف ہوجاتا اور جب اس کام سے فارغ ہوجاتا تو ایک بار پھر اپنے رونے کے سلسلے کو وہی سے جاری رکھتا جہاں چھوڑا تھا۔۔۔

سات آٹھ ماہ کی عمر میں ہی اس نے بیک وقت چار دانت نکالنے شروع کیئے۔

اس کو جلدی کس بات کی ہے؟ بیک وقت چار دانتوں کو نکلتے دیکھ کر سالار نے کہا۔جبریل اور وہ حمین سکندر کے بارے میں ایل جیسے تاثرات رکھتے تھے۔

یہ تم خود اس سے پوچھ لو۔۔۔امامہ نے جواب دیا۔

حمین ان چار دانتوں کے ظہور پذیر ہونے سے پہلے بھی صرف بڑوں کے کھانے والی ہر اس چیز میں دلچسپی لیتا تھا جو چٹخارے والی ہوتی تھی۔۔اپنے پوپلے منہ کیساتھ بھی چپس اسکی پسندیدہ خوراک تھی۔جسے وہ صرف چبا نہیں سکتا تھا نگل بھی سکتا تھا۔وہ چپس کا پیکٹ تک پہچانتا تھا اور ایسا ممکن نہیں تھا کہ جبریل اور عنایہ اسکے قریب بیٹھ کر کوئ چیز اطمینان سے اسے کھلائے بغیر خود کھا لیتے۔۔

وہ عجیب و غریب بچہ تھا۔اور یہ بیام اسکے بارے میں سالار نے دیا تھا۔جسکا خیال تھا کہ اس نے ایسی مخلوق کبھی نہیں دیکھی۔۔۔

سکندر عثمان نے اس سے کہا تھا۔میں نے دیکھی ہے۔۔وہ تمہاری کاپی ہے۔

یہ زیادتی ہے۔۔سالار نے اسکی بات پر احتجاج کیا تھا۔۔وہ اور طیبہ ان کےپاس کانگو آئے تھے۔۔جب وہ دونوں حمین سکندر کے ہاتھوں بننے والی اسکی درگت دیکھ رہے تھے۔وہ تب دس ماہ کا تھا اور سب سے پہلے اس نے جو لفظ بولنا شروع کیا تھا وہ "سالا" تھا۔اور ہر بار سالار کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ کر وہ بے حد خوشی سے ہاتھ پاؤں مارتا سالا سالا چلاتے ہوئے اسکی طرف جانے کی کوشش کرتا۔۔۔۔

بیٹا بابا۔۔پہلی بار سالار کے لیئے وہ لفظ سن کر ہنسی سے بے حال ہونے کے باوجود امامہ نے اس لفظ کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔وہ سالار پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے توڑ توڑ کر سکھا رہی تھی۔۔۔با۔ ۔۔۔۔با۔

"سالا"حمین نے ماں کی محنت پر پانی پھیرتے ہوئے سالار کے لیئے وہی لفظ استعمال کیا جو وہ سالار کے لیئے اپنی ماں کو پکارتے سنتا تھا۔

تم اسے بابا مت سکھاؤ صرف ر لگوا دو میرے نام کیساتھ یہ بھی غنیمت ہے

میرے لیئے۔۔۔۔۔سالار نے اسے مشورہ دیا تھا۔۔وہ بحر حال کچھ زیادہ محظوظ نہیں ہوا تھا اس طرز تخاطب سے جو سکندر اور طیبہ کے لیئے ایک تفریح بن گئ تھی۔۔۔جبریل تحمل سے اپنے اکلوتے چھوٹے بھائ کو دیکھتا رہتا تھا ج نے اس کے گھر کے امن و سکون کو تہ و بالا کر کے رکھا ہوا تھا۔۔پہلے اسکا خیال تھا کہ حمین بڑا ہوجائے اور چلنا شروع ہوجائے تو ٹھیک ہوجائے گا۔لیکن جب اس نے چلنا شروع کیا تو یہ دیکھ کر اسے اندازہ ہوا کہ وہ اس مسلے کا غلط حل تھا۔۔۔

حمین سکندر کو پیر نہیں پر مل گئے تھے۔اور وہ اب کہی بھی جاسکتا تھا اور کہی سے مراد کہی بھی۔۔۔اور اسکی فیورٹ جگہ باتھ روم تھی۔وہ بھی وہاں اس وقت جانا پسند کرتا تھا جب جبریل اسے باتھ روم میں جاتا دکھائ دیتا۔اور جبریل نے اسکے ہاتھوں کئ بار خاصی شرمناک صورت حال کو سامنا کیا۔جس باتھ روم کو بچے استعمال کرتے تھے اس میں لاک نہیں تھا اور دروازے کا ہینڈل گھما کر اسے کھولنا حمین کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔جبریل کے لیئے حمین کی موجودگی میں باتھ روم جانا جام جوکھوں کا کام تھا۔وی باتھ روم کے دروازے کی اندرونی طرف باتھ روم میں پڑی ان سب چیزوں کو رکاوٹوں کے طور پر دروازے کے سامنے ڈھیر کرتا۔۔

سالار سکندر اگر اسے عجیب و غریب کہتا تھا تو حمین سکندر باپ کے دییے گئے اس ٹائٹل پرپورا اترنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔اور پوری فل جمعی کیساتھ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نائب صدر کے طور پر سالار نے افریقہ کے لیئے کسی مشین کی طرح کام کیاتھا۔۔۔وہ مشکل ترین اہداف کے حصول کےلیئے نامساعد ترین حالات میں کام کر رہا تھا اور کامیابی سے کر رہا تھا۔

سالار سکندر کی ملازمت کا دورانیہ ختم ہونے کے قریب آرہا تھا۔۔بنک نے یہ دورانیہ ختم ہونے سے دو سال پہلے ہی سالار سکندر کو ملازمت میں توسیع کی آفر کی تھی اور اس نے یہ آفر قبول نہیں کی تھی۔پھر اس آفر کو بار بار بہتر پیکجز کیساتھ اسے اصرار کیساتھ پیش کا جاتا رہا۔لیکن سالار کا انکار قائم رہا تھا۔وہ افریقہ میں اپنے قیام کو اب ختم کرنا چاہتا تھا۔اور ورلڈ بنک کیساتھ امریکن حکومت کے لیئے بھی یہ تشویش کی بات تھی۔افریقہ کو سالار سکندر سے بہتر کوئ نہیں چلاسکتا تھا اس نے پچھلے چند سالوں میں نہ صرف ورلڈ بنک کی ساکھ اور امیج کو ہی افریقہ میں بدل کررکھ دیا تھا بلکہ اس نے امریکن حکومت کے لیئے بھی وہاں خیر سگالی کء جذبات دوبارہ پیدا کرنےمیں بہت کامیابی حاصل کی تھی۔۔اسکا ورلڈ بنک کو اس وقت چھوڑ کر جانا انکےلیئے بڑا دھچکا ہوتا۔لیکن وہ رکنے پر تیار نہیں تھا۔اور امریکن حکومت کو سوچنا پڑ رہا تھا کہ وہ اسے ایسی کیا چیز پیش کرے جو اسے روک سکے۔۔

ورلڈ بنک کی صدارت ہی یقیناً ایک ایسا تاج تھا جو اسکو پہنا کر اسے روکا جاسکتا تھا۔۔۔سالار اس عہدے کےلیئے موزوں ترین اور کم عمر ترین امیدوار تھا۔مگر اس عہدے پر سالار کی تعیناتی امریکی حکومت کے لیئے خود ایک مسلہ بن۔گئ تھی۔وہ ایک بنیاد پرست مسلمان کو وہ ورلڈ بنک کو صدر نہیں بنا سکتے تھے۔اور وہ اس بنیاد پرست مسلمان کو کسی اور چیز کی آفر کر کے روک بھی نہیں پا رہے تھے۔۔لیکن ابھی امریکی حکومت اور ورلڈ بنک کےپاس اس پر سوچنے کے لیئے وقت تھا کیونکہ سالار کی ملازمت کا دورانیہ ختم ہونے میں ابھی ایک سال باقی تھا۔۔۔

اس ایک سال میں سالار سکندر کی زندگی میں تین بڑے واقعات ہوئے اور ان تینوں نے انکی زندگی پر گہرے نقوش چھوڑے۔۔۔ان واقعات نے ایک بار پھر اسکی زندگی بدل دی۔۔۔

-------------------------------

چنی سے سالار سکندر کا تعارف غائبانہ رہا تھا۔غلام فرید کے حوالے سے سکندر عثمان سے اسے کئ بار خبریں ملتی رہی تھی۔۔۔سکندر عثمان نے غلام فرید کے ذریعے گاؤں کی مسجد کے امام کو پہنچائ جانے والی امداد کے بارے میں سالار کو مطلع کردیا تھا کینکہ یہ امداد سالار کے کہنے پر ہی اس نے شروع کی تھی۔غلام فرید کو اس میں ہیر پھیر کے نتیجے میں ملازمت سے فارغ کرنے کا حکم سالار ہی کا تھا۔بد دیانتی اور بے ایمانی اسکے لیئے قطعی ناقابل برداشت تھی۔

غلام فرید کےہاتھوں ایل بچی کے سوا پورے خاندان کا قتل سکندر عثمان کو بری طرح ہلا گیا۔وہ اب غلام فرید کے لیئے کچھ نہیں کرسکتے تھے اوا اسکے اسکی بچ جانے والی واحد اولاد کی دیکھ بھال اور کفالت کی ذمہ داری اٹھائیں۔۔۔اور سالار کے کہنےپر وہ سکندر عثمان نے اٹھا لی تھی۔وہ اسکےلیئے ماہانہ رقم دیتے تھے جو اسکے رشتہ دار آکر لے جاتے تھے اور کبھی کبھار وہ سکندر عثمان کو چنی بھی دکھا دیتے تھے۔تاکہ انہیں تسلی رہے کہ وہ رقم واقع اس پر خرچ ہورہی ہے۔۔یہ شاید اسی طرح چلتا رہتا اگر سالار اس سال اپنی فیملی کیساتھ دو ہفتوں کے لیئے پاکستان نہ آیا ہوتا ایک لمبے عرصے کے بعد سکندر کی بجائے وہ خود گاؤں کا سکول دیکھنے گیا۔۔۔۔۔اسکول انتظامیہ کے چند لوگوں کیساتھ سالار اچانک اسکے گھر گیا۔۔۔جس ڈیڑھ سال کی چنی کو سالار نے دیکھا وہ اسے سات آٹھ ماہ کی ایک بچی لگی تھی۔۔بے حد کمزور ۔دبلی پتلی۔۔اسکی سانولی رنگت یرقان جیسی پیلاہٹ لیئے ہوئے تھی۔اسکا چہرہ سیاہ پیپ زدہ دانوں سے بھرا ہوا تھا۔جس وقت سالار اس گھر کے صحن میں داخل ہوا وہ دانہ چگتی ہوئی مرغیوں کےپاس بیٹھی تھی۔اور اس دانے اور گندگی کو بلا تکلف اپنے منہ میں ڈال رہی تھی وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اسکی کفالت کے لیئے معقول رقم بھیجنے کے باوجود وہ اس حال میں ہوسکتی ہے۔۔۔چنی کے رشتہ دار نروس اور گھبرائے ہوئے تھے وہ لوگ ڈسپلے اور پریزنٹیشن کے لیئے ہنگامی بنیادوں پر اسے اب سجا سنوار نہیں سکتے تھے۔

یہ بس ایسے ہی رہتی ہے۔۔جتنی بار بھی کپڑے بدلو یہ جاکر مرغیوں میں گھس جاتی ہے۔۔حمیدہ ۔۔۔اری او حمیدہ۔۔۔ذرا چنی کو دیکھ۔۔کپڑے بدلوا صاحب نے ملنا ہے۔۔۔

وہ پہلا موقع تھا جب سالار نے چنی کو بغور دیکھا ۔

سالار نے چنی کو اٹھا لیا اور وہ بھی بڑے آرام سے کسی جھجک کے بغیر اسکے پاس آگئ۔۔۔۔اس نے زندگی میں پہلی بار اس حلیے کا شخص دیکھا تھا۔سالار نے اسے تھپکتے ہوئے پچکارا تھا۔وہ پلکیں جھپکاتی بغیر اسے دیکھتی رہی۔۔۔

ہاں بس تھوڑی بیمار ہی رہتی ہے۔شروع سے ہی ایسی ہے۔ڈاکٹر کی دوائ سے بھی فرق نہیں پڑا۔اب پیر صاحب سے دم کرا کے لائے ہیں۔انہوں نے تعویز بھی دیا ہے گلے میں ڈالنے کے لیئے۔۔حمیدہ وہ تو ابھی ڈالا نہیں تم نے۔۔۔

سالار میاں بیوی سے اب اس بچی کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔اور وہ گڑبڑائے ہوئے اسکے چہرے اور جسم پر رستے ہوئے دانوں کی وجوہات اور علاج بیان کر رہے تھے۔

سالار کو احساس ہوگیا کہ وہ غلط جگہ پر تھی۔اسکا خیال نہیں رکھا جارہا تھا۔اسکی کفالت کے لیئے دی جانے والی امداد اس پر خرچ نہیں ہورہی تھی۔۔پتا نہیں وہ کونسی ذہنی رو تھی جس میں اس نے چنی کو فوری طور پر وہاں سے لیجانے اور کسی دارالامان میں داخل۔کروانے کا فیصلہ کرلیا۔اس نے یہ فیصلہ چنی کے رشتہ داروں کو بھی سنا دیا تھا۔۔انکے احتجاج کے باوجود وہ چنی کو وہاں سے لے آیا تھا۔اس گاؤں سے اسلام آباد واپسی پر سالار اپنی گاڑی خود ڈرائیو کرتا رہا تھا اور چنی برابر والی سیٹ پر بیٹھی دروازے کی کھڑکی سے چپکی اطمینان سے پورا راستہ باہر دیکھتی رہی۔وہ اگر بے چین ہوئ تھی تو صرف تب جب سالار نے اسے گاڑی میں بٹھاتے ہوئے اسے سیفٹی بیلٹ باندھنے کی کوشش کی تھی۔جو اسکے ہاتھ پاؤں مارنے پر سالار نے کھول دی تھی۔اسےاس وقت حمین یاد آیا تھا۔وہ بھی اس عمر میں اسی طرح سیٹ بیلٹ سے جان چھڑاتا تھا۔

بیلٹ کھولنے پر وہ ایک بار پھر پرسکون ہوگئ تھی۔اس نے ایک بار بھی سالار کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔سالار اسکا انہماک دیکھ کر مسکراتا رہا تھا۔اس نے رستے میں ایک جگہ رک کر اسے ایک جوس کا ڈبہ اور بسکٹ کا ایک پیکٹ لیکر دیا۔۔وہ منٹوں میں دونوں چیزیں کھا گئ جیسے وہ کئ دنوں کی بھوکی تھی۔

اسلام آباد آتے ہوئے گاڑی میں سفر کے دوران سالار اس بچی کی رہائش کے لیئے مناسب ترین جگہ کے بارے میں سوچتا رہا۔اس وقت ایک لمحے کےلیئے بھی اس نے نہیں سوچا کہ وہ اسے خود پالے گا۔وہ اتنی بڑی ذمہ داری لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا اور اگر سوچتا بھی تو امامہ سے پوچھے بنا نہیں کرسکتا تھا۔

اسلام آباد پہنچنے پر گھر کے گیراج میں اسکے بچوں نے بھاگتے ہوئے اسکا استقبال کیا گاڑی کے اندر سب سے پہلے چنی کو ساڑھے تین سالہ حمین سکندر نے دیکھا۔ہمیشہ کی طرح اسکی آنکھیں گول ہوگئ تھی یوں جیسے اس نے جنگل کا کوئ جانور دیکھ لیا تھا۔۔۔سالار نے حمین کو ہٹا کر گاڑی کا دروازہ کھولا اور چنی کو باہر نکال لیا۔۔۔چنی سے آنے والی بدبو کے بھبھکے سب سے پہلے حمین نے ہی محسوس کیئے۔۔۔

اوہ مائ گاڈ۔۔یہ کتنی بدبودار گندی اور بد صورت ہے۔۔وہ بے اختیار ناک پہ ہاتھ رکھے کہتا گیا۔

حمین۔۔۔۔۔۔۔سالار نے اسے ڈانٹنے والے انداز میں پکار کے گھورا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن ٹھیک ہے ۔شاید اسے اسطرح رہنا پسند ہو۔میرا مطلب ہے کچھ لوگ مختلف ہوتے ہیں ۔مجھے اسکا ہیئر سٹائل اچھا لگا ہے۔۔۔یہ کول ہے۔۔۔۔

حمین نے ہمیشہ کی طرح باپ کی پھٹکار کے بعد سیکنڈز میں اپنا بیان تبدیل کر دیا تھا۔۔۔

بابا میں بھی اسکی طرح ہیئر سٹائل بنانا چاہتا ہوں۔سالار نے اسکی زبان کی قینچی کو نظرانداز کیا تھا۔وہ ایک چھوٹے سائز کا خاموش نہ ہونے والا جن تھا۔جو اس گھر کے افراد کے گرد ہر وقت منڈلاتا رہتا تھا۔۔اور اسکے سوالات۔۔۔ختم نہ ہونے والے سوالات نے امامہ اور سالار کی آئڈیل والدین بننے کی ہر خواہش اور معلومات کو ختم کردیا تھا۔

I think she is goldi look

حمین کی تعریفوں کا سلسلہ جاری تھا۔

یہ گولڈی لوک نہیں ہے یہ گندی ہے اس نے کئ ہفتوں سے اپنے بال نہیں دھوئے ۔جبریل نے اسے ٹوک کر بتایا۔۔۔وہ تینوں اب سالار کے پیچھے اندر جارہے تھے۔۔۔

آل رائٹ مگر اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ کول نہیں۔۔۔جواب پھر تڑاخ سے آیا تھا۔جبریل بے اختیار پچھتایا۔۔اس نے اسکے تبصرے کا جواب دیکر سالار کے پیچھے لگنے والی بلا اپنے پیچھے لگالی تھی۔۔۔۔۔

اگر میں کئ مہینوں تک اپنے بال نہ دھوؤں تو میرے بال بھی ایسے ہونگے؟ میرا مطلب ہے گولڈن براؤن یا ایش گرے یا مسٹرڈیلو۔۔۔اسکا ذہن اب کہی سے کہی پہنچ چکا تھا۔

نہیں۔۔۔۔جبریل نے بے حد سخت لہجے میں فل سٹاپ لگایا۔۔

اوکے۔۔۔حمین نے اطمینان سے کہا۔۔۔لیکن میں اپنے بال ڈائ تو کرسکتا ہوں۔۔۔۔

جبریل نے اس بار اسے مکمل طور پہ نظرانداز کیا۔

امامہ۔نے سالار کو اس بچی کو اٹھائے دیکھا۔وہ طیبہ کیساتھ بیٹھی چائے پی رہی تھی۔اور وہ چائے پینا ہی بھول گئ۔۔۔

یہ کون ہے؟؟

بعد میں بتاؤں گا۔۔تم اسے نہلا کر کپڑے بدل دو اسکے۔پھر میں اسکو ڈاکٹر کو دکھانا چاہتا ہوں۔۔

امامہ کچھ الجھی تھی لیکن وہ اسے لیکر چلی گئ تھی اسے نہلانے کی کوشش کے آغاز میں ہی اسے پتا چل گیا تھا کہ اس بچی کے بالوں کو کاٹے بغیر اسکو نہلایا نہیں جاسکتا۔اسکے سر میں بڑے بڑے پھوڑے تھے اور اس سے رسنے والی پیپ نے اسکی بالوں کی لٹوں کو آپس میں اسطرح جوڑ دیا تھا۔کہ اب انکا کھلنا ممکن نہیں تھا۔اس نے شیونگ کٹ میں پڑی قینچی سے چنی کے سارے بال جڑ سے کاٹنے شروع کیئے وہ اسکا سر گنجا نہیں کرسکتی تھی کیونکہ وہ پھوڑوں سے بھرا ہوا تھا۔امامہ کو اس بچی کو نہلاتے ہوئے بہت رحم اور ترس آیا تھا۔چنی چپ چاپ نہاتی رہی اس نے رونا دھونا نہیں مچایا۔نہ ہی بال کٹنے پر پھوڑوں سے ہاتھ لگنے پر کسی تکلیف کا اظہار کیا تھا۔

وہ بلآخر جب چنی کو مکمل یو کٹ میں نہلا دھلا کر حمین کا ہی ایک جوڑا پہنائے باہر لائ تو اسے دیکھ کر سب سے پہلے چیخ مارنے والا حمین تھا۔۔۔

اوہ مائ گاڈ ممی آپ نے اسے مزید بدصورت خوفناک بنادیا ہے۔۔۔اور آپ نے میری سب سے فیورٹ شرٹ بھی خراب کرلی۔۔ممی یہ لڑکی تھی آپ نے اسے لڑکا بنادیا اللہ اسکے لیئے آپکو معاف نہیں کریگا۔امامہ کو اسکی بات پر ہنسی آئ ۔سالار ٹھیک کہتا تھا وہ عجیب و غریب ہی تھا۔۔۔۔۔

---+-------++++-----+-----+

اس سال صرف چنی سالار سکندر کے خاندان میں نہیں آئ تھی اس سال کا دوسرا بڑا واقعہ سالار سکندر کے برین ٹیومر کی تشخیص تھا۔۔۔

قسط نمبر 29

اور اب اسکا کیا کروگے؟ امامہ نے اپنے بیڈ پر سالار اور اپنے درمیان پرسکون گہری نیند میں دیکھتے ہوئے سالار سے پوچھا اور وہ بھی اس وقت چنی کو ہی دیکھ رہا تھا.

زندگی میں پہلی بار کسی نے محبت اور شفقت سے اسکا پیٹ بھرنے تک اسے کھلایا تھا۔اور وہ بے حد رغبت سے امامہ اور حمین کےہاتھوں سے لقمے لےلے کر کھاتی رہی۔خاص طور پر حمین کے ہاتھوں سے۔جو بہت ضد کر کے اس کار خیر میں شامل ہوا تھا۔

اوہ مائی گاڈ ۔۔حمین نے اپنے ہاتھ میں پکڑا پہلا ہی لقمہ کھانے پر جیسے خوشی سے مخصوص انداز میں چیخ مارتے ہوئے نعرہ لگایا تھا۔۔۔ممی یہ مجھےپسند کرتی ہے۔۔۔

چھ فٹ دور بیٹھے جبریل نے ایک کتاب کی ورق گردانی کرتے ہوئے ایک لمحے کےلیئے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔اور پھر بے حد تحمل سے اگلا صفحہ پلٹتے ہوئے جوابی سرگوشی کی۔۔

صرف یہی تمہیں پسند کرتی ہے۔۔

سالار نے کچھ دیر پہلے ہی امامہ کو اسکے اور اسکے باپ اور خاندان کے حوالے سے پیش آنے والے تمام واقعات کو اپنے احساس جرم کیساتھ آگاہ کیا تھا اور چنی کے لیئے امامہ کی ہمدردی اور ترس میں بے پناہ اضافہ کردیا تھا۔۔لیکن اس کے باوجود اہم ترین سوال وہ تھا جو اس وقت امامہ نے پوچھا تھا۔

میں اسے کسی یتیم خانے یا ویلفیئر ہوم میں داخل کروانے لایا ہوں۔جو کچھ اسکے ساتھ ہوا مجھ پہ اتنی ذمہ داری تو آتی ہےکہ میں اسکی زندگی خراب نہ ہونے دوں۔۔۔سالار نے سنجیدگی سے امامہ سے کہا۔۔۔

تم احساس جرم کا شکار ہورہے ہو؟؟ اسکے اعتراف کے باوجود امامہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔۔۔۔۔۔

ہاں۔۔۔۔جو کچھ اسکے باپ نے اپنے خاندان کیساتھ کیا اس میں میں بھی قصوروار ہوں تھوڑی سی زیادہ کنسرن دکھاتا میں تو یہ سب نہ ہوتا جو ہوگیا۔۔۔۔ سالار اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا۔امامہ نے اسکا ہاتھ تھپکا۔۔۔

تم اسے اپنےپاس رکھ کر کسی یتیم خانے میں داخل نہیں کرواسکتے۔خاص طور پر اس صورت حال میں جب اسکے رشتہ دار موجود ہیں اور کورٹ نے انہیں اسکی گارڈین شپ بھی دے رکھی ہے۔وہ تمہارے خلاف قانونی کاروائی کرسکتے ہیں۔۔۔امامہ نے جیسے اسے خبردار کیا تھا۔۔۔

مجھےپرواہ نہیں۔۔اسکا بھی کچھ نہ کچھ انتظام کرلوں گا۔فی الحال میں نے اپنی لیگل ٹیم سے کہا ہے کہ وہ اسکے بارے میں مجھے ایڈوائس کریں۔۔۔کورٹ کو اپروچ کیا جاسکتا ہے۔۔۔اس بچی کےلیئے گارڈین شپ بدلی جاسکتی ہے۔۔وہ امامہ سے کہہ رہا تھا اور اس ساری گفتگو کے دوران سالار نے ایک لمحے کے لیئے بھی اس بچی کو گود میں لینے کے آپشن پر سوچا ہی نہیں تھا۔وہ صرف اس بچی کی بہتر نگہداشت چاہتا تھا۔۔

یہ خیال پہلی بار اس گھر میں حمین کو آیا تھا جو دوسرے دن امامہ سے چنی کا نام پوچھنے کی جدوجہد کر رہا تھا۔۔۔

مجھےیاد ہی نہیں رہا تمہارے بابا سے اسکا نام پوچھنا۔۔

امامہ کو اسکے استفسار پر یاد آیا۔۔

میں اسکا نام رکھ دوں؟؟ حمین نے ماں کی بات کے جواب میں اسے تجویز پیش کی۔۔

نہیں تم یہ نہیں کرسکتے۔۔جبریل نے جیسےاسے لگام ڈالنے کی کوشش کی۔۔۔۔

کیوں؟؟ حمین نے اپنا پورا منہ اور آنکھیں بیک وقت پوری طرح کھول کر انہیں گول کرتے ہوئے تعجب کی انتہا پر پہنچتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔

کیونکہ اسکا پہلے ہی ایک نام ہے۔۔جبریل نے اسی ٹھنڈے انداز میں اسکے سوال کا ایسے جواب دیا جیسے وہ اسکی عقل پر افسوس کر رہا ہو۔

تمہیں اسکا نام پتا ہے؟ تڑاق سے اگلا سوال جبریل کی طرف اچھالا گیا۔۔

نہیں۔۔۔۔۔۔جبریل گڑبڑایا۔۔۔۔

حمین نے اسی انداز میں اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسی ڈرامائ انداز میں کہا۔۔ممی اسکا نام نہیں جانتی۔۔۔۔وہ اب امامہ کی طرف متوجہ تھا۔وی جیسے عدالت میں اسکا کیس لڑنے کےلیئے سر دھڑ کی بازی لگا رہا تھا۔

اور تم؟ کیا تم نہیں چاہتے کہ اسکا کوئ نام ہو؟؟

اسکے انداز میں اس قدر ملامت تھی کہ ایک لمحہ کو جبریل کو بھی مدافعانہ انداز اختیار کرنا پڑا۔

میں نے یہ تو نہیں کہا۔۔۔

میں نے خود سنا ہے۔۔۔حمین نے اپنی موٹی موٹی سیاہ آنکھیں مکمل گول کرتے ہوئے اہم گواہ کا رول ادا کیا۔۔۔۔۔

جبریل نے فوری طور پر اپنا چہرہ کتاب کے پیچھے چھپانے میں ہی عافیت سمجھی۔۔وہ اس چھوٹے بھائ کو تو تب بھی چپ نہیں کروا سکا تھا جب اسے بولنا نہیں آتا تھا۔۔۔

حمین۔۔۔اسکے پیرنٹس نے اسکا کوئ نہ کوئ نام ضرور رکھا ہوگا۔وہ اتنی بڑی ہے۔

امامہ نے اس بار مداخلت کرنا ضروری سمجھا۔۔حمین کو اسکی بات پر جیسے کرنٹ لگ گیا۔۔۔

پیرنٹس۔۔۔۔۔۔اس کے خلق سے عجیب سی آواز نکلی ۔جبریل کو کتاب ہٹا کر اسے دیکھنا پڑ گیا ۔

اوہ مائ گاڈ۔۔۔حمین کی آواز صدمہ زدہ تھی ۔۔پھر یہ انکے پاس کیوں نہیں۔۔

اس نے اسی صدمے میں امامہ سے جیسے احتجاجاً کہا تھا۔اور یہ وہ سوال تھا جسکا جواب امامہ نہ دے سکی۔اسکی سمجھ میں نہیں آیا تھا

کیا اسکا کوئ بہن یا بھائ بھی نہیں؟؟

نہیں اسکا کوئ بھی نہیں۔۔امامہ نےجواب دیا۔حمین کا چہرہ کھل اٹھا۔۔

تب تو میں اسکا نام رکھ سکتا ہوں۔۔گفتگو جہاں سے شروع ہوئ تھی گھوم پھر کر پھر وہی آگئ تھی۔۔حمین کوئ بات بھولتا نہیں تھا اور یہ اسکے ماں باپ کی بدقسمتی تھی۔۔۔

اوکے۔۔تم اسکا نام رکھ لو۔امامہ نے جیسے ہاتھ جوڑنے والے انداز میں اسکے سامنے ہتھیار ڈالے۔

ممی۔۔۔کیا یہ ہمارے ساتھ رہے گی؟ حمین نے ایک اور سوال سے اسے مشکل میں ڈالنا ضروری سمجھا۔۔۔

نہیں۔۔۔۔امامہ نے اسی طرح کام میں مصروف اسکی طرف متوجہ ہوتے بغیر کہا۔۔۔

کیوں؟؟ حمین نے جیسے چیخ نما انداز میں سوال کیا۔امامہ صرف گہری سانس لیکر رہ گئ

جب تمہارے بابا آئیں گے تو ان ہی سے پوچھنا۔اس نے بلا کو اپنے سر سے ٹالنے کی کوشش کی۔۔۔

ممی۔۔۔۔کیا ہم اسے اڈاپٹ کرسکتے ہیں۔۔امامہ کا دماغ گھوم گیا تھا اس سوال پر۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔یہ نہیں ہوسکتا۔۔

تم اسے اڈاپٹ کیوں کرنا چاہتے ہو؟ جبریل نے جیسے ہول کر کہا۔

کیونکہ مجھے ایک بے بی چاہیئے۔۔

اس نے بے حد نروٹھے انداز میں اعلان کیا ۔۔۔۔جبریل جیسے غش کھا گیا تھا۔۔۔امامہ دم بخود اپنے ساڑھے تین سالہ بیٹے کی شکل دیکھ کر رہ گئ۔۔جبکہ لاؤنج میں آتے ہوئے سکندر عثمان اپنی ہنسی پر قابو نہیں رکھ سکے تھے۔حمین نے سکندر عثمان کو اندر آتے اور ہنستے دیکھ لیا۔۔وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر جاکر انکی ٹانگوں سے لپٹ گیا۔۔۔اور اس نے ایک بار پھر وہ مطالبہ پیش کیا۔۔۔

ایک دن آئے گا جب بے بی آپکے پاس ہوگا۔۔۔انہوں نے اسے تھپکتے ہوئے تسلی دی۔

ایک دن؟؟ حمین کی آنکھیں عادتاً گول ہوئ۔آج کیوں نہیں۔۔۔۔

سکندر نے زمین پر بیٹھی کھلونوں سے کھیلتی چنی کو دیکھا جتنا ترحم اور احساس جرم سالار کے دل میں چنی کےلیئے تھا اتنا ہی سکندر کے دل میں بھی اسکےلیئے تھا۔۔وہ جیسے ان دونوں کا مشترکہ احساس جرم تھا ۔۔۔۔

بیٹا اسے واپس جانا ہے۔۔وہ آپکی بے بی نہیں ہوسکتی۔۔سکندر نے اب حمین کو سمجھانے کی کوشش کا آغاز کیا۔۔

اسے کہاں جانا ہے؟ حمین کو سکندر کی بات پر ایک اور جھٹکا لگا۔۔۔۔

اپنی فیملی کےپاس۔۔سکندر نے مختصراً کہا ۔۔۔

لیکن ممی نے تو کہا تھا کہ اسکی کوئ فیملی نہیں ہے۔۔۔

سکندر نے امامہ اور امامہ نے انہیں دیکھا۔آپکے بابا اسکو کسی نرسری میں داخل کروانا چاہتے ہیں ۔۔امامہ نے اسکےلیئے ایک جواب ڈھونڈا۔

یہ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتی ۔ہمارا گھر اتنا بڑا ہے۔اس نے ہاتھ پھیلا کر اتنا پر زور دیا۔۔۔۔

یہ ہمارا گھر نہیں ہے ۔۔یہ آپکے دادا ابو کا گھر ہے۔۔اندر آتے ہوئے سالار نے اسکے سوال کا جواب پیش کیا۔

حمین سوچ میں پڑا۔۔۔

یہ ہمارے ساتھ کنشاسا میں رہ سکتی ہے۔۔۔اسے کنشاسا والے گھر کا خیال آیا۔۔۔

لیکن وہ بھی ہمارا گھر نہیں ہم اسے جلد چھوڑ دیں گے۔

سالار نے بے حد سنجیدگی سے اسکے ساتھ یوں بات کرنی شروع کی جیسے وہ کسی بڑے آدمی سے بات کر رہا ہو۔۔۔۔۔

حمین اب بھی سوچ میں پڑا تھا جیسے وہ چنی کے لیئے ایک گھر کی تلاش میں تھا جہاں اسے رکھا جاسکتا اور امامہ کو گھر کے ذکر پر جیسے اپنا گھر یاد آیا۔۔۔

ہمارے پاس اپنا گھر کیوں نہیں ہے؟

ہمارا اپنا گھر ہوگا۔۔امامہ نے جیسے حمین کو بہلایا۔

کب۔۔۔۔۔

بہت جلد۔۔۔

امامہ چائے بنا کر سکندر اور سالار کو پیش کر رہی تھی۔

اسی لیئے منع کرتا تھا میں کہ فضول خرچیاں مت کرو۔وقت پر اپنا گھر بنا لو۔جیسے تمہارے سارے بھائیوں نے بنا لیئے۔سکندر عثمان کو اس موضوع گفتگو سے وہ پلاٹ اور وہ انگوٹھی یاد آئی۔۔۔ وہ پلاٹ اس وقت ہوتا تو چار پانچ کروڑ کا ہوتا۔اس رنگ کی اس وقت کی مارکیٹ پرائس سے ڈبل۔۔۔سکندر نے روانی سے کہا۔۔اپنےلیئے چائے ڈالتی امامہ ایک لمحے کےلیئے ٹھٹکی۔

کس رنگ کی؟ اس نے جیسے حیران ہوکر سکندر سےپوچھا۔

جو رنگ تم نے پہنی ہوئ ہے۔سکندر نے چائے کا گھونٹ لیتےہوئے کہا۔سالار کو غلطی کا احساس ہوا لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔امامہ نے بے یقینی سے ہاتھ میں پہنی انگوٹھی کو دیکھا ۔۔پھر سالار کو اور پھر سکندر عثمان کو۔۔۔۔

یہ پلاٹ بیچ کر آئی ہے؟

ہاں۔۔ایک کروڑ سینتیس لاکھ کی۔۔ذرا سوچو دس گیارہ سال پہلے وہ پلاٹ نہ بکتا تو آج وہ اسلام آباد میں جس جگہ پر ہے اس سے چار گنا قیمت ہوچکی ہوتی۔۔۔

سکندر نےنہ امامہ کے تاثرات پر غور کیا نہ سالار کے۔۔۔وہ روانی میں چائے پیتے ہوئے بات کہتے گئے۔۔۔

امامہ ساکت اور دم بخود سالار کو دیکھ رہی تھی جو اس سے نظریں چرائے چائےپینے میں مصروف تھا اس وقت وہ یہی کرسکتا تھا۔

کمرےمیں یکدم اپنی بات کے اختتام پر چھانے والی خاموشی سے سکندر عثمان کو لگا کچھ ٹھیک نہیں۔۔۔۔

چائےکا آخری گھونٹ لیتے ہوئے وہ رکے۔انہوں نے ساکت بیٹھی امامہ کو دیکھا جو سالار کو گھور رہی تھی. پھر سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں انہیں اس خاموشی کی وجہ سمجھ آگئ تھی۔

اسے اب بھی نہیں پتا؟ انہوں نے بے یقینی سے اپنے بیٹے سے پوچھا۔

اب پتا چل گیا ہے۔۔سکندر کی سمجھ میں نہیں آیا وہ فوری طور پر اس انکشاف پر کیا رد عمل کرے۔جو ایک راز کو غیر ارادی طور پر افشا کرنے پر انکی شرمندگی چھپا لیتا۔۔۔

امامہ نے اپنے ہاتھ کی پشت کو پھیلا کر اس انگوٹھی کو دیکھا۔پھر سکندر کو اور پھر سالار کو۔۔۔وہ اگر کہتا تھا کہ وہ انمول تھی تو غلط نہیں کہتا تھا۔اسکی زندگی میں بہت سارے لمحے آئے جب اسکا دل بس سالار کے گلے لگ جانے کو چاہا تھا۔۔کسی لفظ اور کسی اظہار کے بغیر۔۔۔

*******------******-----**

تم نے رنگ اتار دی؟ اس رات امامہ کے ہاتھ میں اس رنگ کو نہ پاکر وہ پوچھے بنا نہ رہ سکا ۔

میں بے وقوف نہیں ہوں جو اتنی قیمتی رنگ ہر وقت پہنے رہوں۔امامہ نے جواباً کہا۔تمہیں مجھے بتانا چاہیئے تھی اسکی قیمت۔۔۔اس نے سالار سے کہا۔

صرف اس خدشے کے تحت نہیں بتایا تھا تمہیں۔۔اور دیکھ لو میرا اندازہ ٹھیک تھا۔تم اسے بھی اب لاکر میں رکھ دو گی۔

سالار کچھ ناخوش سا دوبارہ ٹی وی کی طرف متوجہ ہوا۔۔ایک لمحہ کےلیئے امامہ خاموش رہی پھر اس نے کہا۔۔۔

تو اور کہاں رکھوں؟ ساتھ لیئے پھرنا بے وقوفی ہے۔۔گم ہوجائےتو؟ مجھے تو ہارٹ اٹیک ہی ہوجائے گا جو ایک کروڑ سے بھی مہنگی انگوٹھی میں گم کردوں۔

تقریباً سوا دو کروڑ.

سالار ٹی وی پر نظریں جمائے بڑبڑایا۔۔۔امامہ کی سمجھ میں نہیں آیا۔۔۔

کیا؟

اسکی موجودہ قیمت۔۔وہ اسی انداز میں بولا۔

اس لیئے تو نہیں پہن رہی۔۔۔۔بے وقوفی تھی ویسے یہ۔۔۔اس نے ایک ہی سانس میں کچھ توقف کے بعد کہا۔

کیا؟ سالار اس بار اسکی طرف متوجہ ہوا۔

ایک پلاٹ بیچ کر انگوٹھی خریدنا۔۔اور وہ بھی اتنی مہنگی۔۔۔میں تمہاری جگہ ہوتی تو کبھی نہ خریدتی۔

اسی لیئے تم میری جگہ نہیں ہو امامہ۔۔۔سالار نے جتانے والے انداز میں کہا۔وہ نادم ہوئ لیکن اس نے ظاہر نہیں کیا۔۔۔

وہ پلاٹ ہوتا تو آج اسے بیچ کر گھر بنا چکے ہوتے ہم۔۔اس نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد کہا۔

تمہارے خوابوں کا ایکڑوں پر پھیلا ہوا گھر چند کروڑ میں بن جاتا؟؟

وہ اب اسے چڑانے والے انداز میں کچھ یاد دلا رہا تھا۔اور امامہ کو ایک جھماکے کیساتھ وہ سکریپ بک یاد آئ جس میں اس نے اپنے ممکنہ گھر کی ڈھیروں ڈرائنگز بنا رکھی تھی۔

اچھا کیا مجھے یاد دلا دیا۔میں تو کل ہی وہ سکریپ بک نکالتی ہوں مدت ہوگئ اسے دیکھے ہوئے ۔اور اس میں کچھ ایڈ کیئے۔۔

امامہ کا ذہن برق رفتاری سے انگوٹھی سے ہٹ کر گھر پر چلا گیا تھا اور پھر سالار کو امریکہ میں خریدے اور بیچ دینے والے گھر کا خیال آیا۔۔

تمہیں ایک چیز دکھاؤں؟؟ سالار نے ٹیبل پر پڑے اپنے لیپ ٹاپ کو اٹھا لیا ۔۔

کیا؟؟ وہ چونکی۔

سالار اب لیپ ٹاپ کھول کر اس میں سے تصویروں والے حصے میں جاکر اس گھر کی تصویریں ڈھونڈ رہا تھا اور وہ چند منٹوں میں سکرین پر نمودار ہوگئ تھی۔۔

یہ کیا ہے؟ امامہ نے ایک کے بعد ایک سکرین پر نمودار ہونے والی ان تصویروں کو دیکھتے ہوئے سالار سے پوچھا۔۔۔

ایک گھر۔۔۔ایک جھیل۔۔۔اسکے گرد پھیلا لان۔۔

وہ اسکی بات پر ہنسی۔

وہ تو مجھے نظر آرہا ہے لیکن کس کا گھر ہے یہ۔

اس نے سالار سے پوچھا۔اور مجھے کیوں دکھا رہے ہو؟

جب حمین پیدا ہوا تھا اور میں تمہارے پاس امریکہ سے آیا تھا تو اس رات تم نے مجھے بتایا تھا کہ تم نے خواب میں ایک گھر دیکھا تھا۔کیا وہ گھر ایسا تھا۔ تمہیں خواب یاد ہے نا؟ سالار نے اس سےپوچھا۔۔

ہاں یاد ہے۔۔۔لیکن وہ گھر ایسا نہیں تھا۔وہ جھیل بھی ایسی نہیں تھی۔۔اور یہ کہہ کر اس نے سالار کے احساس جرم سے جیسے ہوا نکال دی۔

کیوں؟ تم کیوں پوچھ رہے ہو یہ سب؟ اور یہ گھر کس کا ہے۔۔امامہ کو اب الجھن ہوئ۔

تمہارے لیئے خریدا تھا۔۔۔سالار پھر تصویروں کو سکرول کرنے لگا۔

امامہ۔کو اسکی بات پر جیسے جھٹکا لگا۔کیا مطلب میرے لیئے۔۔۔

ہاں تمہارے لیئے mortagageکیا تھا امریکہ میں ۔تمہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔تمہاری برتھ ڈے پر گفٹ کر کے لیکن۔۔۔۔۔۔

لیکن؟ امامہ نے اسکے خاموش ہونے پر پوچھا۔۔۔

لیکن پھر میں نے اسے بیچ دیا۔سودسے میں دنیا میں تو گھر لے سکتا تھا جنت میں گھر نہیں لے سکتا۔

تم لے بھی لیتے تو میں اس گھر میں کبھی نہیں جاتی۔صرف ایک گھر ہی کی تو فرمائش کی ہے تم سے پوری زندگی میں وہ بھی حرام کے پیسے سے بنا کر دیتے مجھے۔۔امامہ نے سنجیدگی سے کہا۔۔

میں تمہارے خوابوں کا گھر بنا کر دینا چاہتا تھا ایکڑوں پر پھیلا۔۔جھیل کنارے۔۔سمر ہاؤس۔۔۔اور جلدی بنانا چاہتا تھا۔بڑھاپے تک پہنچنے سے پہلے۔۔۔

امامہ نے سر جھٹکا۔۔تم واقعی بے وقوف ہو۔میرے خوابوں کے گھر کی اینٹیں حرام۔کے پیسوں سے رکھی جائے یہ خواہش نہیں کی تھی میں نے۔۔اور ایکڑوں کا گھر تم سے کہا تھا لیکن دعا اللہ سے کرتی تھی کہ وہ اسے مکمل کرے اور اتنے وسائل دے۔۔تم سے ایک بار بھی میں نے نہیں کہا کہ اتنا کماؤ یا اسی سال گھر کھڑا کر کے دو۔کبھی بھی یاد دہانی نہیں کرائ تمہیں۔پھر کیوں جلدی تھی تمہیں اس گھر کےلیئے۔۔۔

اسے افسوس ہورہا تھا۔۔تم نے کبھی مجھ سے نہیں کہا۔مجھے ریمانڈ نہیں دیئے لیکن مجھے پتا تو تھا نا کہ تمہاری خواہش ہے یہ۔۔۔میں چاہتا تھا میں تمہاری خواہش پوری کردوں۔۔۔تم نے صرف ایک چیز مانگی تھی مجھ سے اس لیئے۔۔وہ اس سے کہتا جارہا تھا۔۔۔امامہ ہنس پڑی۔

تم خواب دیکھ رہے ہو سود سے پاک ایک اسلامی مالیاتی نظام کا جسے دنیا میں رائج کرسکو۔اور میں خواب دیکھتی ہوں ایکڑوں پر پھیلے ایک گھر کا۔ حلال کے پیسےسے بنےہوئے گھر کا۔۔خواب تمہارا بھی اللہ ہی پورا کرسکتا ہے اور میرا بھی۔۔اس لیئے اسے اللہ پر ہی چھوڑ دیتے ہیں۔ویسے بھی میں نے سوچا ہے وہ انگوٹھی بیچ کر اس سے کوئ پلاٹ تو لیکر رکھ ہی سکتی ہوں میں۔۔۔۔

سالار نے بے حد خفگی سے اسکی بات کاٹی۔۔تم اسے بیچ دو گی؟

وہ ہنس پڑی۔۔نہیں۔۔۔تم سمجھتے ہو میں اسے بیچ سکتی ہوں؟

ہاں۔۔۔۔سالار نے اسی نروٹھے انداز میں کہا۔وہ ایک بار پھر ہنس پڑی۔تمہیں پتا ہے دنیا میں صرف ایک مرد ہےجو میرے لیئے ایسی انگوٹھی خرید سکتا ہے۔۔

اب تم رو کر مجھے جذباتی کروگی۔۔سالار نے اسکی آنکھوں میں ابھرتی نمی کو دیکھ کر حفاظتی بند باندھنے کی کوشش کی۔۔۔

یہ انگوٹھی انمول ہے۔۔۔تم انمول ہو۔۔اس نے ٹھیک بھانپا تھا۔امامہ کی آنکھیں برسنے لگی تھی۔

پھر ایک بات مانو۔۔سالار نے اسکا ہاتھ تھاما۔

کیا؟

اسے ہاتھ میں پہن لو۔۔

گم ہوجائے گی۔۔وہ روتے ہوئے بولی۔۔۔

میں اور لے دوں گا۔۔اس نے امامہ کے آنسو پونچھے ۔۔

تمہارے پاس بیچنے کےلیئے اب کچھ ہے ہی نہیں۔۔۔امامہ نے آنسوؤں کی بارش میں بھی ہوشمندی دکھائ۔۔۔وہ ہنسا۔۔

تم مجھے ایسٹیمیٹ کر رہی ہو۔۔

اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتا باہر میٹرس پر پڑا سویا ہوا حمین جاگ گیا۔

وہ دونوں بیک وقت اسکی طرف متوجہ ہوئے۔وہ نیند مین کچھ بڑبڑایا تھا۔

اب کیا کہہ رہا ہے۔۔سالار حیران ہوا۔

امامہ نے اسے دوبارہ لٹا کر تھپکنا شروع کردیا اور اسکے برابر انگوٹھا منہ میں ڈالے لیٹی ہوئ چنی کو دیکھا۔

سالار اسکے بارے میں جو بھی طے کرنا ہے جلدی کرو ۔۔حمین جس طرح اس سے اٹیچ ہورہا ہے میں نہیں چاہتی کچھ اور وقت یہاں رہنے کے بعد یی یہاں سے جائے تووہ اپ سیٹ ہو۔۔۔

امامہ نے چنی پر چادر ٹھیک کرتے ہوئے سالار سے کہا۔۔

صبح طے کرلوں گا کہ اسے کہاں چھوڑ کر آنا ہے۔جو دو چار ادارے مجھے مناسب لگ رہےہیں انکے بارے میں انفارمیشن لایا ہوں۔۔ اگلے دن وہ اس بچی کو لے کر ان چاروں اداروں میں گئے تھے جہاں وہ اسے رکھنا چاہتے تھے ۔دو اداروں نے مناسب قانونی کاروائی کے بغیر اس بچی کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لینے سے انکار کردیا۔۔جن دو اداروں نے اس بچی کو وقتی طور پر لینے پر آمادگی ظاہر کی وہاں بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال کے انتظامات دیکھ کر وہ دونوں خوش نہیں ہوئے۔۔۔

شام کو وہ پھر چنی کے ساتھ واپس گھر پہنچ چکے تھے اور حمین کی باچھیں چنی کو ایک بار پھر دیکھ کر کھل گئ تھی۔وہ صبح بھی بڑی مشکل سے چنی کو رخصت کرنے پر تیار ہوا تھا۔۔۔اور اب چنی کی واپس آمد اسکے لیئے اک بگ نیوز تھی۔۔۔

اگلے چنددن سالار نے چنی کی گارڈین شپ کے حوالے سے قانونی کاروائی کرنے اور چنی کی پیدائش اور پیدائش اور اس سے متعلقہ باقی کاغذات پورے کرنے کی کوشش کی اور جب دو تین دنوں میں وہ ان کاموں میں پھنسا رہا تو حمین نے چنی کے بارے میں یہ بھی دریافت کیا کہ وہ گونگی تھی۔۔کیونکہ وہ ان تین چار دنوں میں بلکل خاموش رہی۔۔

اور یہ چنی کے بارے میں ایک خوفناک انکشاف تھا جس نے امامہ اور سالار دونوں کو ہولا دیا تھا۔

ممی یہ گونگی ہے۔۔حمین نے کہا۔۔مجھے ہوتا یقین ہے۔

نہیں ۔۔سن تو رہی ہے۔۔امامہ نے چنی سے بات کرنے کی کوشش کے بعد نتیجہ نکالتے ہوئے کہا۔۔وہ ہر آواز پر متوجہ ہوتی تھی۔

ممی یہ امپورٹنٹ نہیں ہے۔اہم بات بولنا ہے۔اور یہ بول نہیں سکتی ۔۔حمین نے اسکی معذوری پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اپنی آنکھوں میں حتی المقدور رنجیدگی اور افسوس شامل کیا۔

سب سے اہم بات سننا ہے۔امامہ نے بڑے غلط موقع پر اپنے بیٹے کو نصیحت کی کوشش کی تھی۔۔

میں ایسا نہیں سمجھتا یہاں بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو سن سکتی ہیں لیکن چند ہی ایسی ہے جو بول سکتی ہے ۔

محمد حمین سکندر کی دانائ نے امامہ کو ہمیشہ کی طرح چاروں شانے چت گرایا تھا۔۔۔

----------********-----------

چنی کے نصیب میں کسی ادارے میں پرورش پانا نہیں لکھا تھا اسکے نصیب میں سالار سکندر کے گھر میں ہی پلنا بڑھنا لکھا تھا ۔۔جب تک سالار قانونی معاملات کو نپٹا کر چنی کےلیئے ایک ادارے کا انتخاب کرتا۔چنی کو شدید نمونیہ ہوگیا تھا۔دو دن بعد ان لوگوں کو واپس کانگو جانا تھا۔انکی تین ہفتے کی چھٹی ختم ہورہی تھی۔۔۔ایک عجیب خدشہ ان دونوں کو لاحق ہوا تھا اگر اس بچی کی نگہداشت نہیں ہوتی اور اگر وہ اسکے اسطرح چھوڑ جانے پر خدانخواستہ مر جاتی تو وہ خود کو کبھی معاف نہیں کرتے۔۔۔۔سالار اور امامہ نے فیصلہ کیا کہ امامہ بچوں کیساتھ تب تک وہی رہے گی جب تک چنی کی حالت سنبھل نہیں جاتی۔۔سالار واپس چلا گیا تھا۔

امامہ دو ہفتے اور پاکستان میں رہی۔چنی کی حالت سنبھل گئ تھی۔مگر اب وہ بچوں کیساتھ اور خاص طور پر حمین کیساتھ اسطرح اٹیچ ہوگئ تھی کہ وہ ان سے الگ ہونےپر تیار ہی نہیں تھی۔۔۔سالار ان لوگوں کو پاکستان سے واپس لے جانے کے لیئے آیا تھا اورحمین کو بتائے بنا وہ دوبارہ چنی کو ایک ادارے چھوڑنے گیا۔وہ دونوں بار اس سے لپٹ کر چیخیں مار کر رونے لگی۔وہ اسکے علاوہ کسی اور کی گود میں بھی جانےکو تیار نہیں تھی۔۔وہ زبردستی اسے تھما کر باہر نکلتا اور اسکی چیخوں کی آواز سن کر کسی عجیب کیفیت میں واپس چلا آتا وہ اسکی۔گود میں آتے ہی چپ ہوجاتی۔۔

وہ جبریل کو قرآن پاک خود حفظ کروا رہا تھااور پاکستان سے چلے جانے کے بعد دو ہفتوں تک وہ روز اسکائپ پر جبریل کو پڑھاتا۔۔پھر بچوں اور امامہ سے بات کرتا تو چنی بھی اس ماحول کا حصہ ہوتی۔وہ سالار کو سکرین پر نمودار ہوتے دیکھ کر اسی طرح خوشی سے چیخیں مارتی ۔اوں آں کرتی۔۔۔اور اس نے اپنی زندگی کا پہلا لفظ بھی سالار کے پاکستان آنےپر اسے دیکھ کر باقی بچوں کیساتھ اسکی طرف بھاگتے ہوئے ادا کیا تھا۔۔۔با۔۔۔۔۔با۔۔۔وہ سالار کی طرف بھاگتے ہوئے بولتی جارہی تھی۔۔اور اس بات کو سب سے پہلے حمین نے نوٹس کیا۔۔۔۔۔

اوہ مائ گاڈ۔۔یہ بول سکتی ہے۔۔سالار کی طرف بھاگتے ہوئے حمین کو جیسے بریک لگ گئ۔وہ اپنی موٹی آنکھیں گول کر کے چنی کو دیکھ رہا تھا۔۔جو اب سالار کے پیروں سے لپٹی تھی۔سالار عنایہ کو اٹھائے ہوئے تھا۔اور وہ اسکی ٹانگوں سے لپٹی با۔۔۔با۔۔با۔۔۔بولتی جا رہی تھی۔منہ اوپر کیئے ہوئے۔۔۔چمکتی آنکھوں کیساتھ۔۔۔پدرانہ شفقت اگر کوئ چیز تھی تو اس وقت سالار نے چنی کے لیئے وہی محسوس کی۔اور کس رشتے سے۔۔۔یہ اسے سمجھ نہیں آیا۔۔۔

سالار نے عنایہ کو اتارا اور اپنی ٹانگوں سے لپٹی چنی کو اٹھا لیا۔۔وہ کھلکھلائ۔۔اس نے عنایہ کی طرح باری باری سالار کے گال چومے۔پھر وہ سالار کی گردن کے گرد ہاتھ لپیٹ کر اسکے ساتھ یوں چپک گئ کہ اب نیچے نہیں اترے گی۔وہ کیسے انکے گھر اور زندگیوں کا حصہ بن گئ انہیں احساس تک نہیں ہوا۔۔سوائے حمین کے ۔۔جو دن میں تقریباً تین سو بار یہ اعلان کرتا تھا۔۔۔۔کہ وہ اسکی بہن ہے۔۔

سالار واپس جانے سے پہلے امامہ کیساتھ بیٹھ کر چنی کے لیئے ہر امکان کو زیر غور لاتا رہا تھا۔اور ہر امکان کو رد کرتا رہا یہاں تک کہ امامہ نے کہہ ہی دیا۔۔۔

تم اسے اڈاپٹ کرنا چاہتے ہو؟

ہاں۔۔۔لیکن یہ کام تمہاری مرضی کے بنا نہیں ہوسکتا۔۔پالنا تو تمہیں ہے۔۔تم پال سکتی ہو؟ سالار نے اس سے پوچھا۔

پہلے کون پال رہا ہے۔۔امامہ نے عجب جواب دیکر جیسے سالار کو اس مشکل سے نکال لیا تھا۔

اگر اسکے نصیب میں ہمارے ہی گھر میں پرورش پانا لکھا ہے تو ہم کیسے روک سکتے ہیں۔

چنی کو اڈاپٹ کرتے وقت سالار نے اسکو اپنی ولدیت بھی دی تھی۔۔۔

رئیسہ سالار اپنے نصیب میں اور اپنے سے منسلک ہر شخص کے نصیب میں خوش نصیبی کے علاوہ اور کچھ نہ تھا۔۔خوش نصیبی کا وہ پرندہ جو جسکے سر پر بیٹھتا اسے بادشاہ بنادیتا۔۔۔اور اسے ایک بادشاہ ہی کی ملکہ بننا تھا۔۔۔

--------******---***---------

کانگو کا آخری سال سالار کےلیئے کئ حوالوں سے بے حد ہنگامہ خیز رہا ۔وہ ورلڈ بنک کیساتھ اپنے آخری سال میں اپنے سارے معاملات کو وائنڈ اپ کر رہا تھا۔۔۔امریکی حکومت نے اسے صدر کے عہدے کی پیشکش کی تھی۔۔۔۔ورلڈ بنک کا پہلا کم عمر ترین مسلمان صدر۔۔۔بیالیس سال کی عمر میں اس عہدے پر کام کرنے کے لیئے کوئ کچھ بھی کرنے کو تیار ہوسکتا تھا

وہ تاریخ کا حصہ بن سکتا تھا۔بےحد آسانی سے۔اس نے امریکہ میں ہونے والی میٹنگ اور اس آفر کے بارے میں سب سے پہلے کانگو واپس آنے پر امامہ کو بتایا تھا۔

تو؟؟ اس نے سالار سے پوچھا۔۔۔

تو کیا؟ سالار نے اسی انداز میں کہا۔۔

تم نے کیا کہا۔۔امامہ نے اس سے پوچھا۔۔۔

میں نے سوچنے کے لیئے ٹائم لیا ہے۔۔امامہ اسکے جواب سے بے حد ناخوش ہوئ۔۔۔۔

سوچنے کے لیئے ٹائم؟؟ تم انکار کر کے نہیں آئے؟ اس نے جیسے سالار کو یاد دلایا۔۔۔

انکار کیا تھا۔۔قبول نہیں ہوا۔۔مجھے سوچنے کے لیئے کہا گیا ہے۔

تم کیا سوچ رہے ہو سالار؟ تم یہ آفر قبول کرنا چاہتے ہو؟ اس نے سالار سے ڈائریکٹ سوال۔کیا۔

کرنی چاہیئے کیا؟ سالار نے جواباً پوچھا۔۔

نہیں۔۔۔اتنا ختمی اور دو ٹوک جواب آیا تھا کہ سالار بول ہی نہ سکا۔۔

تمہیں یاد نہیں تم کس مقصد کے لیئے کام کر رہے ہو اور کیا کرنا چاہتے ہو۔۔امامہ نے جیسے اسے یاد دلایا۔۔۔

بلکل یاد ہے۔۔۔

پھر الجھن کس بات کی ہے۔۔امامہ نے پوچھا۔۔

الجھن نہیں ہے صرف یہ سوچ رہا ہوں کہ ابھی تھوڑا وقت چاہیئے مجھے اپنے پروجیکٹ کو عملی شکل میں دنیا کے سامنے لانے کے لیئے۔۔۔ورلڈ بنک کے صدر کے طور پر کام کرلوں گا تو اس پروجیکٹ میں بہت مدد ملے گی۔ڈھیروں کمپنیز اور انویسٹرز ہمارے پاس آئینگے۔۔۔بہت سی جگہوں پر مجھے تعارف کروانا ہی نہیں پڑے گا۔۔

امامہ نے اسے ٹوکا۔۔۔بس صرف یہ وجہ ہے؟ وہ ان چند انسانوں میں تھی جسکے سامنے وہ جھوٹ نہیں بول سکتا تھا وہ اسکا جھوٹ پکڑ لیتی تھی پتا نہیں یہ خصوصیت ساری بیویوں کی ہوتی ہیں یا صرف امامہ ہاشم کی۔۔

ورلڈ بنک کے صدر کے طور پر ایک مسلمان کی تعیناتی ایک اعزاز بھی تو ہے۔۔۔سالار نے اس بار بے حد مدھم آواز میں وہ ترغیب بھی سامنے رکھی۔۔۔

ورلڈبنک کیا ہے سالار؟ کچھ بھی نہیں۔سود کا کام کرنے والی قوموں کا اجتماع اور کیا ہے۔۔۔کیا اعزاز والی بات ہے اس میں کہ سود کا کام کرنے والی ان قوموں کی سربراہی ایک مسلمان کےپاس ہو۔۔۔۔یہ اعزاز نہیں بلکہ شرم سے ڈوب مرنے والی بات ہے ایک مسلمان کے لیئے۔۔۔۔۔۔

امامہ نے جیسے اسے آئینہ نہیں جوتا دکھایا تھا۔جس پروجیکٹ پر تم کام کر رہے ہو اس میں کامیابی تمہیں اللہ نے دینی ہے تمہارے علم تجربے اور قابلیت اور ورلڈ بنک کیساتھ منسلک شناخت نے نہیں۔۔۔تم اب چالیس سال کے ہوچکے ہو بچے بڑے ہورہے ہیں پانچ سال ورلڈ بنک کا صدر رہنے کے بعد تم سینتالیس سال کے ہوچکے ہوگے ۔۔پھر اسکے بعد تم ایک اسلامی مالیاتی نظام۔پر کام کرنا شروع کروگے؟ جب تم اپنی ساری جوانی ورلڈ بنک کودے چکے ہوگے ۔۔۔تم یقیناً مذاق کر رہے ہو پھر۔۔۔اپنے ساتھ۔۔۔اور ان لوگوں کیساتھ جنہیں تم ایک ممکنہ انقلاب کا حصہ بنائے بیٹھے ہو۔۔وہ کہتے ہوئے اٹھ گئ۔

تمہیں پتا ہے امامہ۔۔میری زندگی کا سب سے بہترین اثاثہ کیا ہے۔۔۔تمہاری یہ ظالمانہ صاف گوئ۔۔جو مجھے میری اوقات میں لے آتی ہے ۔تم مجھ سے امپریس کیوں نہیں ہوجاتی۔

امامہ اس بار رک کر اسے دیکھنے لگی۔

میں الجھا تھا لیکن گمراہ نہیں۔۔۔تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔وقت گزرتا جارہا ہے۔وہ اب اپنا اعترافی بیان دے رہا تھا۔۔امامہ کو چہرہ کھل اٹھا تھا۔۔۔

مجھے تم سے متاثر ہونے تمہارے گن گانے کے لیئے بنایا ہی نہیں گیا سالار۔۔اس کے لیئے دنیا ہے۔۔

مجھے تمہیں چیلنج کر کے تمہیں آگے بڑھانے کےلیئے تمہارا ساتھی بنایا گیا ہے۔۔۔یہ کام کوئ اور نہیں کرسکتا۔وہ اب مسکراتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ آفر میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آگئ تھی اور ورلڈ بنک کے اگلے ممکنہ صدر کے طور پر سالار سکندر کا نام بہت سی جگہوں پر اچھالا جانے لگا۔یہ اسکے خاندان اور خلقہ احباب کے لیئے بے حد فخر کا باعث بننے والی خبر تھی اور سالار کے انکار کرنے کے باوجود کوئ بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھا کہ وہ اس آفر کو قبول کرنے سے انکار کرسکتا ہے۔

سکندر عثمان خاص طور پر اسکے اس فیصلے سے خوش نہیں ہوئے تھے۔

تم عقل سے پیدل ہو اور ہمیشہ رہوگے۔۔۔انہوں نے بے حد خفگی کا اظہار کرتے ہوئے سالار سے کہا۔

سالار چند دن کے لیئے پاکستان آیا ہوا تھا اور سکندر نے ضروری سمجھا تھا کہ وہ ایک بار اسے سمجھانے کی کوشش کرتے اور اس کوشش کے دوران سالار کی بتائ ہوئ وجہ پر وہ سیخ پا ہوگئے۔

تم ورلڈ بنک کا صدر نہیں بننا چاہتے۔تم سود سے پاک ایک اسلامی مالیاتی نظام بنانے کا خیالی پلاؤ پکاتے اور کھاتے رہنا چاہتے ہو۔وہ اتنا تلخ ہونا نہیں چاہتے تھے جتنا ہوگئے تھے۔۔تمہاری طرح ڈھیروں لوگ یہ خیالی پلاؤ بنا رہے ہیں ساری دنیا میں اور بناتے ہی جارہے ہیں نہ پہلے کوئ کچھ کرسکا تھا نہ ہی آئندہ کچھ ہونے والا ہے۔اور مجھے یقین ہے تمہارے اس ذہنی فتور کے پیچھے امامہ کا ہاتھ ہوگا۔اس سے مشورہ تو کیا ہوگا نا تم نے۔

تم جانتے ہو سالار یہ جو موجودہ نظام ہے اسے ہٹانا کیوں مشکل ہے۔۔کیونکہ یہ افراد کا بنایا ہوا نظام نہیں ہے۔ریاستوں کا بنایا ہوا نظام ہے۔فلاحی ریاستوں کا نظام۔۔۔وہ بے شک اسلامی نہ ہو لیکن اپنے اندر اس نظام کو چلاکر کم از کم اپنے معاشرے میں لوگوں کو ایک فلاحی سسٹم دییے ہوئے ہیں۔تم افراد کو چیلنج کرسکتے ہو ریاستوں کو نہیں۔۔

آپ ٹھیک کہتے ہیں جب تک کسی قوم۔کے افراد صرف اپنے لیئے جیئے اور مریں گے تب تک کچھ نہیں بدلے گا۔جب لوگ قوم کے لیئے سوچنا شروع کردینگے سب کچھ بدل جائے گا۔۔۔۔

اس نے سکندر عثمان سے کہا۔۔۔

جن معاشروں اور اقوام کی مثالیں آپ دے رہے ہیں انکے ڈھیروں افراد نے اپنی زندگیاں لیبارٹریز لائبریریز پر صرف اس خواب اور عزم کیساتھ گزاری تھی کہ جو کام وہ فرد کے طور پر کر رہے ہیں وہ انکی قوم کے لیئے بہتر ثابت ہو ان میں سے کئ بھی پرسنل گلوری کے لیئے زندگی قربان نہیں کر رہا تھا وہ بانی اور موجد کے طور پر کوئ پہچان بناکر تاریخ کا حصہ بننا چاہتے تھے۔۔۔اور یہی خواہش میری بھی ہے۔۔۔ایک کوشش مجھے بھی اپنی قوم کے لیئے کرنے دے ۔۔

سکندر عثمان بہت دیر تک کچھ بول ہی نہ سکے تھے۔۔اس نے ان ہی کی باتوں کا حوالہ دے کر ان سے بحث کی تھی اور ہمیشہ کی طرح وہ بحث جیت گیا۔۔

ورلڈ بنک کے کتنے صدر گزر چکے ہیں مجھ سے پہلے۔۔کسی کو نام بھی یاد نہیں ہونگے۔کہ انہوں نے ورلڈ بنک کے صدر کے طور پر کیا کارنامے سرانجام دییے تھے۔۔ایک کوشش کرنا چاہتا ہوں شاید اس میں کامیاب ہوجاؤں اور اگر ناکام بھی رہا تو بھی کوئ احساس جرم تو نہیں ہوگا کہ میں سود کھانے اور کھلانے والوں کیساتھ زندگی گزار کر مرا۔۔۔۔۔

ٹھیک ہے تم جو کچھ کرنا چاہتے ہو کرو۔۔انہوں نے بے حد مایوسی سے کہا۔تم نے پہلے کبھی میری بات نہیں مانی تو اب کیسے مانو گے۔۔سالار مسکرایا ۔۔۔وہ باپ کی مایوسی کو سمجھ سکتا تھا۔وہ انکا خواب توڑ رہا تھا۔۔۔

مجھے یقین ہے پاپا میں جو بھی کرنے جارہا ہوں وہ صحیح ہوگا۔اس لیئے آپ پریشان نہ ہو۔اس نے سکندر کو تسلی دی۔۔۔۔

اور یہ یقین تمہیں کیوں ہے؟؟ سکندر طنز کییے بغیر نہ رہ سکے۔۔۔

کیونکہ آپ نے زندگی میں جب جب مجھے جس بھی فیصلے سے روکا ہے وہ میرے لیئے بہت اچھا ثابت ہوا ہے۔آپکی ممانعت گڈ لک چارم ہے میرے لیئے۔۔۔

سکندر ٹھیک کہتے تھے وہ واقعی ڈھیٹ تھا مگر اس نے سینس آف ہیومر باپ سے ہی لیا تھا۔جنکا پارہ لمحہ میں چڑھا اور اترا اور وہ ہنس پڑے۔۔۔

کمینے۔۔۔۔۔۔

شکریہ۔۔۔سالار نے جوابی مسکراہٹ کیساتھ کہا۔۔۔

--------------------------------

اور یہ فلو کب سے چل رہا ہے تمہارا؟ فرقان نے سالار سے پوچھا۔۔وہ آٹھ مہینے کے بعد مل رہے تھے۔

یہ تو اب ایک ڈیڑھ ماہ سے کچھ مستقل ہی ہوگیا ہے۔آتا جاتا رہتا ہے۔سر درد کیساتھ۔۔شاید کسی چیز کی الرجی ہے۔سالار نے لاپروائ سے کہا۔۔

تم کوئ میڈیسن لے رہے ہو؟ فرقان نے پوچھا۔

ہاں وہی اینٹی بائیوٹک لیکن اثر کبھی ہوجاتا ہے کبھی نہیں۔۔سالار نے بتایا۔

تم بلڈ ٹیسٹ کروالو کہی کوئ اور مسلہ نہ ہو ۔۔فرقان اس وقت مر کے بھی یہ نہیں سوچ سکتا تھا کہ مسلہ اتنا بڑا ہوسکتا ہے۔۔سالار کے کروائے جانے والے ٹیسٹس نے فرقان کےپیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی۔اسے یہ یقین ہی نہیں آیا تھا کہ یہ رپورٹس سالار کی ہوسکتی ہے۔۔

کیوں؟؟ مزید ٹیسٹس کیوں۔۔۔کوئ ایسا سیریس مسلہ تو نہیں مجھے۔۔دوسرے دن مزید ٹیسٹ کا کہنے پر سالار نے ایک بار پھر لاپروائ سے اسکی بات ہوا میں اڑانے کی کوشش کی۔۔اسے لاہور میں کاموں کا ڈھیر نپٹانا تھااور وہ اس ڈھیر میں کسی ہاسپٹل میں جاکر مزید ٹیسٹ کروانا اسکے لیئے بے حد مشکل کام تھا۔۔۔فرقان خود میں ہمت پیدا نہیں کرسکا کہ وہ اسے بتاتا کہ اسکے ابتدائ ٹیسٹ کس چیز کی جانب اشارہ کر رہے تھے۔۔

یہ ضروری ہے سالار۔کام ہوتے رہینگے۔لیکن صحت پر کمپرومائز نہیں کیا جاسکتا۔۔فرقان نے جواب میں کہا۔۔۔

صحت بلکل ٹھیک ہے یار صحت کو کیا ہوا ہے۔ایک معمولی فلو ہونے پر تم نے مجھے ڈاکٹروں کی طرح ہاسپٹلز کے چکروں پر لگادیا۔۔۔سالار نے اسی انداز میں کہا۔۔

اور ویسے بھی اگلے مہینے مجھے امریکہ جانا ہے وہاں میڈیکل چیک اپ کروانا ہے تم فکر نہ کرو سب ٹھیک ہے۔۔وہ اب اسے ٹالنے کی کوشش کر رہا تھا۔

سب ٹھیک نہیں ہے سالار۔۔فرقان کو بلآخر اسے ٹوکنا پڑا۔۔

کیا مطلب۔۔سالار اسکی بات پر ٹھٹکا۔۔

میں تمہارے پاس پہنچ رہا ہوں آدھے گھنٹے میں۔۔فرقان نے فون پر مزید کچھ کہے فون رکھ دیا تھا۔

سالار اسکے انداز پر الجھا تھا۔لیکن وہ اسے صرف ایک ڈاکٹر کا فروفیشنلزم سمجھا۔

تم فوری طور پر کہی نہیں جا رہے۔مجھے اسی ہفتے میں تمہارے سارے ٹیسٹس کروانے ہیں۔اور اسکے بعد ہی تم کہی جاسکتے ہو۔

فرقان واقعی نہ صرف آدھے گھنٹے میں پہنچ گیا تھا بلکہ اس نے سالار کو اپنی سیٹ کینسل کروانے کےلیئے بھی کہہ دیا تھا۔

کیا مسلہ ہے فرقان۔۔تم مجھے صاف صاف کیوں نہیں بتا دیتے۔کیا چھپا رہے ہو۔کیوں ضرورت ہے مجھے اتنےلمبے چوڑے ٹیسٹس کی۔۔۔؟؟سالار اب پہلی بار واقعی کھٹکا تھا۔فرقان کو احساس ہوگیا کہ اسے بتائے بغیر وہ اسے ٹیسٹس پر آمادہ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔

میں صرف یہ کنفرم کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کوئ ٹیومر نہیں ہے۔۔وہ دنیا کا مشکل ترین جملہ تھا جسے ادا کرنے کےلیئے فرقان نے وہ سارے لفظ اکھٹے کییے یوں جیسے سالار سے زیادہ وہ اپنے آپ کو تسلی دینا چاہتا تھا۔

ٹیومر؟ سالار نے بے یقینی سے کہا۔

برین ٹیومر۔۔۔۔فرقان نے اگلے دو لفظ جس دقت سے کہے سالار اس دقت سے بھی انہیں بول نہیں سکا۔اسکے کان سائیں سائیں کرنے لگے تھے وہ بے یقینی سے فرقان کو دیکھتا رہا پھر اس نے کہا۔

یہ ٹیسٹس جو تم نے کروائے ہیں یہ انڈیکیٹ کر رہے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ خود بھی جملہ پورا نہیں کر پایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔++++++++-------++++

اس نے فون پر سالار کو کال ملائ۔چند مرتبہ بیل جانے کے بعد فون اٹھالیا گیا لیکن اٹھانے والا فرقان تھا۔امامہ حیران ہوگئ۔۔سالار لاہور میں تھا اور اس نے کچھ مصروفیات کی بنا پر اپنی سیٹ آگء کروالی ہے۔اس نے امامہ کو بتایا تھا۔اور یہ بھی بتایا کہ فرقان اسکے بار بار فلو کی وجہ سے اسے بلڈ ٹیسٹ کروانے کا کہہ رہا تھااور امامہ نے اسے کہا تھا کہ۔اسے فرقان کی بات مان لینی چاہئے۔

لیکن اسکے بعدامامہ اور سالار کی ان ٹیسٹ رپورٹس کے حوالے سے کوئ بات نہیں ہوئ۔

اور اب فرقان ایک بار پھر سالار کے فون پر تھا تو یی لاہور میں اسکی سالار سے تیسری ملاقات تھی ان چند دنوں میں۔۔وہ سوچے بنا نہ رہ سکی۔۔وہ اب اس سے اسکا اور بچوں کا حال پوچھ رہا تھا لیکن اسکا انداز بہت عجیب تھا وہ خوش مزاجی جو اسکے طرز تخاطب کا حصہ ہوتی تھی وہ آج امامہ کو مکمل طور پر غائب محسوس ہوئ۔۔

سالار ابھی تھوڑی دیر میں فون کرتا ہے تمہیں۔۔اس نے ابتدائ علیک سلیک کے بعد کہا۔

فون آپ کو کیسے دے دیا اس نے؟ یہ بات امامہ کو بے حد حیران کن لگی۔

ہاں وہ ہاسپٹل میں آئے ہوئے تھے اور سالار کو مجھ سے کام تھا ۔وہ ذرا واش روم تک گیا ہے تو فون یہی چھوڑ گیا۔

امامہ کے لیئے یہ ناقابل یقین تھا۔وہ واش روم جاتے ہوئے اپنا فون کہی چھوڑ کر جانے والوں میں نہیں تھا۔لیکن اس نے مزید سوال جواب کی بجائے سالار کی کال کا انتظار مناسب سمجھا۔

سالار ایم آر آئ کروا رہا تھا۔اور اسکے ہونے والے ٹیسٹ ان سارے خدشات کی تصدیق کر رہے تھے جو فرقان کو ہوئے تھے۔۔اسے برین ٹیومر تھا۔برین ٹیومر مہلک تھا اسکی بھی تصدیق ہوگئ۔اور وہ پہلا موقع تھا جب سالار نے پہلی بار بیٹھ کر اپنی زندگی کے بیالیس سالوں کے بارے میں سوچا۔مہلت کا وہ۔اصول جو قرآن مجید میں تھا اسے اب سمجھ آیا۔لیکن یہ۔یقین کرنا مشکل تھا کہ۔وہ قانون اب اسکی اپنی زندگی پر لاگو ہونے جارہا تھا۔۔۔

میڈیکل سائنس بہت ترقی کر گئ ہے۔ہر چیز کا علاج ممکن ہے۔اس ٹیومر کے مہلک ہونے کی تصدیق پر فرقان اس سے کم اپ سیٹ نہیں ہوا تھالیکن اس کے باوجود اس نے گم صم بیٹھے سالار کو تسلی دینا شروع کی۔

تم اب صرف اتنا سوچو کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔اس نے سر اٹھا کر فرقان کو دیکھا اور کہا۔۔ تم ڈاکٹر ہوکر مجھ سے یہ بات کہہ رہے ہو۔فرقان بول نہ پایا۔وہ دونوں دیر تک چپ رہے۔

تم فوری طور پر امریکہ چلے جاؤ بلکہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں وہاں بہترین ڈاکٹرز اور اسپتال ہیں۔۔ہوسکتا ہے وہاں اسکا علاج ہوجائے یا کوئ اور حل ہو۔۔۔وہ اب ڈاکٹر بن کر نہیں اسکا ایک عزیز دوست بن کر بات کر رہا تھا۔

امامہ۔سے کیا کہوں؟؟ اس نے عجیب سوال کیا۔

ابھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔۔ایک بار امریکہ۔سے ٹیسٹ ہونے دو دیکھو وہاں کے ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں۔۔۔فرقان نے کہا۔

یہاں کے ڈاکٹرز کیا کہتے ہیں؟؟ فرقان اسکے اس سوال کو نظرانداز کرگیا تھا۔

پاکستان میں برین ٹیومر کا علاج اور نیورو سرجری اتنی اڈوانسڈ نہیں جتنی امریکا میں۔۔۔اس لیئے یہاں کے ڈاکٹرز کی رائے میرے لیئے اتنی اہمیت نہیں رکھتی۔۔۔

اسے فرقان کی بے بسی پر خود سے زیادہ ترس آرہا تھا وہ اسے کچھ بتانا بھی نہیں چاہتا تھا اور کچھ چھپانا بھی نہیں۔

********------------*******

قسط نمبر 30۔۔۔۔۔۔

حمین جاؤ بھائ کو بلا کے لاؤ وہ سونے سے پہلے تم لوگوں کو دعا پڑھا دے پتا نہیں اتنی دیر کیوں لگادی اس نے،،،،، بچوں کو پڑھانے سے فارغ ہونے کے بعد انہیں سونے کے لیئے لیٹنے کا کہتے ہوئے امامہ کو جبریل یاد آیا۔اسے کمرے سے گئے کافی دیر ہوگئ تھی۔۔

آج میں پڑھاتا ہوں۔۔حمین نے اعلان کرتے ہی دونوں ہاتھ کسی نمازی کی طرح سینے پر باندھتے ہوئے جذب کے عالم میں دعا پڑھنے کےلیئے اپنا منہ کھولا اور امامہ نے اسے ٹوکا۔۔۔

حمین۔۔۔بھائی پڑھائے گا۔

حمین نے بند آنکھیں کھولی اور ہاتھ بھی۔۔۔اس سے پہلے کے وہ کمرے سے نکل جاتا امامہ نے نائٹ سوٹ کے اس پاجامے پر لگی گرہ کو دیکھا جو وہ ابھی ابھی باتھ روم سے پہن کر نکلا تھا۔پاجامے کے اوپری حصے کو ازار بند کی بجائے ایک بڑی سی گرہ لگا کر کسا گیا تھا۔

ادھر آؤ۔۔امامہ نے اسے بلایا۔۔۔یہ کیا ہے۔۔۔اس نے جھک کر نیچھے بیٹھتے ہوئے اس گرہ کو کھولنے کی کوشش کی تاکہ پاجامہ کو ٹھیک کرسکے۔

حمین نے ایک چیخ ماری اور جھٹکا کھا کر اس گرہ پر دونوں ہاتھ رکھے پیچھے ہٹا۔۔۔۔ممی نہیں۔۔۔

اسکی سٹرنگ کہاں ہے۔۔۔امامہ کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اس گرہ کو باندھنے کی وجہ کیا تھی۔

میں نے سکول میں کسی کو دے دی۔۔۔

امامہ نے حیرانی سے پوچھا۔۔۔۔کیوں۔۔۔

چیریٹی میں۔۔حمین نے جملہ مکمل کردیا

امامہ نے ہکا بکا ہوکر اپنے اس بیٹے کا اعتماد اور اطمینان دیکھا۔۔چیریٹی میں؟؟ وہ واقعی حیران تھی۔۔صرف ایک ڈوری کو؟؟

نہیں۔۔۔مختصر جواب آیا۔

پھر؟

ڈوری سے بیگ کو باندھا تھا۔

کس بیگ کو۔۔امامہ کا ماتھا ٹھنکا۔

اس بیگ کو جس میں کھلونے تھے۔جواب اب پورا آیا تھا۔

کس کے کھلونے۔۔امامہ کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔

ویل۔۔۔۔حمین نے اب ماں رئیسہ اور عنایہ کو باری باری ۔۔۔محتاط انداز میں دیکھا اور اپنے جواب کو گول مول کرنے کی بہترین کوشش کی۔۔۔وہ کئ لوگوں کے تھے۔

امامہ کو ایک لمحے میں سمجھ آیا۔۔۔۔

کون تھے۔کس کو دییے۔کیوں دییے۔کس سے اجازت لی۔۔۔اس نے یکے بعد دیگرے تابڑ توڑ سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔۔

یہ پہلا موقع نہیں تھا جب حمین سکندر نے مہاتما بدھ بننے کی کوشش کرتے ہوئے اپنے بہن بھائیوں کے کھلونے دان کییے تھے اور اسکے بہن بھائیوں میں اگر بلا کا تحمل نہ ہوتا تو اس کے اس کارنامےپر ہر بار بلا کا رن پڑتا۔۔۔۔۔۔۔

عنایہ کی آنکھیں اب آنسوؤں سے لبالب بھر گئ تھی۔اس چھوٹے بھائ نے یہ طے کیا ہوا تھا کہ وہ انکی ہر چیز کو کسی بھی وقت مشنری جذبہ کے تحت کسی کو بھی دے سکتا ہے۔۔

ممی۔۔۔عنایہ بری طرح بلبلائ۔۔۔

چیریٹی گناہ نہیں ہے۔۔۔حمین نے اپنی آنکھیں عادتاً گول کرتے ہوئے ان دو الفاظ کا ایک بار پھر استعمال کیا جو پچھلے کئ دنوں سے بار بار اسکی گفتگو میں آرہے تھے۔۔

تم نے میرے کھلونے چرائے۔۔۔۔عنایہ کا بس چلتا تو وہ اسے پیٹ ڈالتی۔کم از کم رات کے اس پہر جب اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ وہ اسکا کون کون سا کھلونا چیریٹی میں دے آیا ہے۔۔

صبح بات کرینگے اس بارے میں۔۔ابھی نہیں۔۔۔امامہ نےمداخلت کی۔اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور کہتی صوفےپہ پڑا اسکا سیل فون بجنے لگا اسکا خیال تھا وہ سالار کی کال تھی۔۔

امامہ نے سیل فون پر سکندر عثمان کا نام چمکتے دیکھا اور کال ریسیو کرتے ہوئے اس نے تینوں بچوں کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر انہیں خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔

سالار کہاں ہے۔۔۔سکندر نے اسکے سلام کا جواب دیتے ہی عجیب اضطراب کے عالم میں پوچھا تھا۔

ایک ڈنر میں گئےہیں بس ابھی آنے والے ہونگے۔

میں اسے کال کر رہا تھا وہ ریسیو نہیں کر رہا ۔امامہ کو انکے لہجے میں پریشانی اور گھبراہٹ محسوس ہوئ۔۔

ہوسکتا ہے ڈنر میں آپکی کال نہ لے پارہے ہو وہ اکثر ایسی فنگشنز میں اپنا سیل سائلنٹ پر لگادیتے ہیں۔۔۔۔۔خیریت ہے نا پاپا؟؟ وہ پوچھے بنا نہ رہ سکی۔

تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔اتنی بڑی بات مجھ سے کیوں چھپائ۔؟سکندر عثمان حواس باختگی میں کہتے چلے گئے انہیں کچھ دیر پہلے انکے ایک قریبی عزیز نے اس حوالے سے فون کیا تھا۔اس عزیز نے سالار کی بیماری کے حوالےسے یہ خبر کسی چینل پر دیکھ لی تھی اور فوری طور پر افسوس کا اظہار کرنے کےلیئے سکندر عثمان کو فون کیا۔۔۔اور سکندر شاکڈ رہ گئے تھے۔اس نے حواس باختگی کے عالم میں سالار کو کالز کرنا شروع کردی تھی جو اس نے ریسیو نہیں کی۔۔۔

اس ڈنر میں بیٹھنے سے پہلے سکندر عثمان کی کال آنے سے پہلے سالار کو پتا چل گیا تھا کہ میڈیا میں اسکی بیماری کی خبر بریک ہوچکی ہے۔اسکے اسٹاف نے اسے اطلاع دی تھی اور وہ سکتے میں آگیا تھا۔سکندر عثمان کا نام اپنے فون پر چمکتا دیکھ کر سالار کی بھوک ختم ہوگئ تھی۔۔

اسے یقین تھا کہ وہ کال کس مقصد کےلیئے کی جارہی ہے۔لیکن وہ وہاں بیٹھ کر سکندر سے بات کرنے کی ہمت ہی نہ کرسکا۔وہ بوجھ جس نے کئ مہینوں سے اسے دہرا کر رکھا تھا ایک دم جیسے اور بہت سے لوگوں کی کمریں جھکادینے والا تھا۔اور اگر سکندر کو یہ خبر مل چکی تھی تو امامہ؟؟؟

وہ آگے نہیں سوچ سکا۔

کیا نہیں بتایا پاپا کیا چھپایا ہے آپ سے؟؟ امامہ کی سمجھ میں سکندر کی بات نہ آئ۔

برین ٹیومر کے بارے میں۔۔سکندر نے جیسے کراہتے ہوئے کہا۔۔۔امامہ اب بھی کچھ نہیں سمجھی۔۔

برین ٹیومر؟ کس کے برین ٹیومر کے بارے میں؟ وہ الجھی۔۔اور وہ پہلا موقع تھا جب سکندر کو احساس ہوا کہ وہ بھی انکی طرح بے خبر تھی۔۔

پاپا آپ کس کے برین ٹیومر کی بات کر رہے ہیں؟؟ امامہ نے ایک بار پھر پوچھا۔۔۔جواب سکندر عثمان کے خلق میں اٹک گیا۔

پاپا۔۔۔۔امامہ انکے مسلسل خاموش رہنے پر ایک مرتبہ پھر اپنا سوال دہرانا چاہتی تھی لیکن دہرا نہ سکی۔۔بجلی کے کوندے کی طرح اسکے دماغ میں اپنے ہی سوال کو جواب آیا۔سکندر کس کی بیما ری پر یوں بے چین ہوسکتے ہیں۔ سالار. ۔۔کیا وہ سالار کی بات کر رہے ہیں۔۔سالار کے برین ٹیومر کی۔۔اسے کئ ہفتہ پہلے کی فرقان اور اپنی بات چیت یاد آئ۔ ہاسپٹل کا وزٹ۔۔۔سالار کا بدلہ ہوا رویہ۔۔۔۔۔۔

وہ بے یقینی کے عالم میں فون ہاتھ میں لیئے بیٹھی رہی۔۔فون پر اب دونوں طرف خاموشی تھی۔

آپ سے کس نے کہا۔۔امامہ نے کانپتی ہوئ آواز میں ان سے پوچھا۔

اس نے تمہیں نہیں بتایا؟؟ سکندر نے عجیب بے بسی سے امامہ سےپوچھا۔

امامہ کو اس سوال کا جواب دینے یا سوچنے کا موقع نہیں ملا۔۔۔باہر ہارن کی آواز سنی اس نے۔

میں کچھ دیر میں آپ سے بات کرتی ہوں پاپا۔اس نے سرد پڑتے ہاتھوں میں تھامے فون کو سنبھالنے کی کوشش کرتے ہوئے سکندر سے کہا۔

مجھے تمہیں نہیں بتانا چاہیئے تھا۔۔وہ اپنے پچھتاوے کا اظہار کییے بغیر رہ نہ سکے۔۔امامہ نے فون بند کردیا۔سب کچھ یکدم ہی بے معنی ہوگیا تھا کسی بت کی طرح فون کو گود میں رکھے ساکت بیٹھی تھی وہ۔۔

ممی آپ ٹھیک ہیں؟

امامہ نے چونک کر حمین کو دیکھا۔جواب دینے یا کوئ اوت سوال کرنے کی بجائے وہ اٹھ کر باہر نکل گئ۔حمین کچھ اور الجھا تھا۔۔۔۔

تم ابھی تک جاگ رہے ہو؟ سالار نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہی وہاں پڑے کمپیوٹر کے سامنے بیٹھے جبریل کو دیکھ لیا تھا۔۔باپ کی آواز جبریل کو کرنٹ کی طرح لگی تھی۔برق رفتاری سےاس نے کمپیوٹر کی سکرین پر وہ سائٹ بند کی جو وہ کھولے بیٹھا تھا۔اور وہ اب باپ کا استقبال کرنے کے لیئے تیار تھا۔امامہ ہارن کی آواز سن کر بھی نہیں آئ تھی۔جبریل ہارن کی آواز سن ہی نہ سکا۔اسکا ذہن جس گرداب میں پھنسا تھا وہاں وہ سن بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔۔

میں ایک اسائمنٹ کی تیاری کر رہا تھا۔۔جبریل نے اپنے سامنے کھڑے سالار کو دیکھے بنا نظریں ملائے بنا کہا۔وہ باپ کا چہرہ کیوں نہیں دیکھ پا رہا تھا۔

سالار نے جبریل کا چہرہ دیکھا۔اسکے عقب میں ڈیسک ٹاپ پر ورلڈ بنک کا ہوم پیج دیکھا ۔

بہت دیر ہوگئ ہے ۔ساڑھے دس ہورہے ہیں اور تمہیں دس بجے سے پہلے پہلے سب کام مکمل کرلینا چاہیئے۔ یاد ہے؟؟

سالار نے اسے یاددہانی کرائ۔۔۔

جبریل نے اس بار بھی باپ کو دیکھے بغیر سر ہلایا اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔

تمہاری ممی کہاں ہے؟ سالار نے اس سے پوچھا۔ہارن کی آواز کے باوجود بھی نہیں آئ تھی وہ۔اور جبریل رات کے اس پہر لاؤنج میں ڈیسک ٹاپ پر اکیلا موجود تھا۔۔اسکے گھر میں یہ خلاف معمول تھا۔

وہ خدشہ جو اسے ڈنر میں لاحق ہوا تھا وہ جسے یقین میں بدلتا جارہا تھا۔۔۔

جبریل کو جواب دینا نہیں پڑا۔۔بچوں کے کمرے کا دروازہ کھول کر وہ باہر آگئ تھی۔سالار نے اسے دیکھا اور اسکے چہرے پر پڑنے والی ایک نظر ہی اسے یہ بتانے کے لیئے کافی تھی کہ اسکے بدترین خدشات ٹھیک ثابت ہوئے تھے۔ اس لاونج میں موجود تینوں افراد عجیب ڈرامائ انداز میں وہاں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔۔۔وہ خاموشی جبریل نے پہلی بار اپنے گھر میں اپنے ماں باپ کے درمیان ایک دیوار کی طرح حائل ہوتی دیکھی تھی۔اور اس خاموشی نے اسکے خوف کو اور بڑھایا تھا۔وہ بلا کو ذہین تھا لیکن دنیا کی کوئ ذہانت انسانی رشتوں کے الجھے دھاگوں کو سلجھا نہیں سکتی۔نہ خاموشی کی دیواریں چھید سکتی ہے۔

گڈ نائٹ۔۔۔۔اسے جیسے راہ فرار سوجھی تھی۔وہ دو لفظ بول کر ماں باپ کو دیکھے بنا وہاں سے غیر متوازن چال کیساتھ گیا۔۔لاؤنج میں کھڑے رہ جانے والے ان دونوں افراد نے اسے نہیں دیکھا تھا۔وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ ۔۔ایک نظر۔۔۔پھر دوسری اور پھر تیسری۔۔۔۔پھر سالار پلٹ کر اپنے بیڈروم کی طرف گیا۔وہ اس سے زیادہ ان نظروں کا سامنا نہیں کرسکتا تھا۔۔

وہ اسکے پیچھے میکانی انداز میں اندر آئ تھی یوں جیسے کسی ٹرانس میں ہو۔۔۔وہ سحرزدہ نہیں تھی دہشت ذدہ تھی۔

سالار اب بھی اسکی طرف متوجہ نہیں تھا۔ڈنر جیکٹ کو صوفے پر پھینکتے ہوئے اس نے فون ٹراؤزر کی جیب سے نکالا جو بج رہا تھا۔۔۔وہ سکندر عثمان تھے۔اسکی آواز سنتے ہی سکندر اپنا حوصلہ کھو بیٹھے۔۔۔سالار نے زندگی میں پہلی بار باپ کو روتے ہوئے دیکھا تھا۔۔۔

تم نے طے کر رکھا ہے کہ تم ساری عمر مجھے چین نہیں لینے دو گے۔۔سکندر نے آنسوؤں کے درمیان کہا۔وہ اولاد کی تکلیف پر پریشان ہونے والے باپ تھے رو پڑنے والے باپ نہیں تھے۔۔آج انکا یہ زعم بھی اسی اولاد نے ختم کیا تھا۔جو اتنے سالوں سے اسکے لیئے فخر کا باعث رہا تھا۔

اس بار تو میں نے کچھ بھی نہیں کیا پاپا۔۔اس جملے نے سکندر کو اور بھی زخمی کردیا۔

میں اور تمہاری ممی کنشاسا آرہے ہیں اسی ہفتے۔انہوں نے اپنے آپ پہ قابو پانے کی کوشش کی۔

پاپا کیا فائدہ ہے میں وقت نہیں دے پاؤں گا سب کچھ وائنڈاپ کر رہا ہوں میں یہاں پھر آجاؤں گا پاکستان آپکےپاس۔۔۔اس نے اپنے باپ کو سمجھانے کی کوشش کی وہ ان حالات میں ان دونوں کو اپنے سامنے نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔

آپ پریشان نہ ہو میں بلکل ٹھیک ہوں ٹریٹمنٹ ہورہا ہے۔آپ صرف دعا کرین۔۔ممی سے بات کروائیں میری۔۔طیبہ بھی اسی کیفیت میں تھی جس میں سکندر عثمان تھے۔اسکی بیماری کا انکشاف ایک آتش فشاں کی طرح تھا جس نے اس سے جڑے ہر شخص کی زندگی کو بدل کر رکھ دیا تھا۔

کمرے میں ٹہلتےہوئے فون کان سے لگائے وہ اپنے ماں باپ کو تسلیاں دیتے ہوئے اس وجود سے بے خبر نہیں تھا جو کمرے میں اس ساری گفتگو کے درمیان کسی بت کی طرح ساکت کھڑا تھا۔

سالار نے بلآخر فون بند کردیا ۔اس نے فون رکھ کر امامہ کو دیکھا۔اسکا چہرہ سفید تھا۔۔۔بلکل بے رنگ یوں جیسے اس نے کسی بھوت کو دیکھ لیا ہو۔۔

بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔۔خاموشی کو سالار نے توڑا تھا ۔اس نے ہاتھ بڑھا کر امامہ۔کا ہاتھ پکڑا اور اسے صوفے کی طرف لے آیا۔وہ کھنچی چلی آئ تھی کسی روبوٹ کی مانند۔۔۔۔

تمہیں کس نے بتایا؟؟ گفتگو کا آغاز بھی اب اسی کو کرنا تھا۔

تم نے کیوں نہیں بتایا؟ سوال کا جواب غیر متوقع تھا۔

ہمت نہیں پڑی۔۔جواب نے امامہ کی بھی ہمت توڑ دی۔وہ کم حوصلہ تو کبھی نہیں تھا تو کیا وہ خبر اس بیماری کی نوعیت اس حد تک خراب تھی کہ وہ کم ہمت ہورہا تھا۔

وہ اسے دیکھے بنا جوتوں کے تسمے کھولتے ہوئے اسے اپنی بیماری کے بارےمیں بتا ریا تھا.

ٹیومر کی تشخیص ۔۔نوعیت۔ممکنہ علاج۔۔متوقع مضمرات۔ وہ دم سادھے سب کچھ سنتی گئ۔

تم ٹھیک ہوجاؤ گے نا؟؟ اس نے ساری گفتگو کے بعد اسکا کندھا دونوں ہاتھوں سےپکڑ کر منت والے انداز میں پوچھا تھا۔وہ جواب ہی نہ دے سکا۔۔

امامہ تم جاکر سو جاؤ۔۔اس نے اپنے کندھے سے اسکے دونوں ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا ۔۔وہ اپنے جوتے اٹھا کر صوفے سے اٹھ جانا چاہتا تھا لیکن اٹھ نہ سکا۔وہ اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔بچوں کی طرح اسکے کندھے سے لگی۔وہ اسے سونے کا کہہ رہا تھا نیند تو ہمیشہ کے لیئے اب اسکی زندگی سے چلی گئ تھی۔وہ جو ایک گھر اتنی مشکل سے بنایا تھا وہ ٹوٹنے جارہا تھا۔۔سائبان ہٹنے والا تھا۔اور وہ اسے کہہ رہا تھا کہ وہ سو جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اس سے لپٹی ہچکیوں کیساتھ روتی رہی ۔۔وہ مجرموں کی طرح چپ سر جھکائے بیٹھا رہا۔۔

میں رپورٹس دیکھنا چاہتی ہوں ۔وہ روتے روتے یکدم بولی۔سالار نے ایک لفظ کہے بغیر اٹھ کر کیبنٹ سے فائلز کا ایک پلندہ لاکر اسکے سامنے سینٹر ٹیبل پر رکھ دیا۔۔وہ کپکپاتے ہاتھوں سے رپورٹس دیکھنے لگی دھندلائ آنکھوں کیساتھ وہ ان کاغذات کو دیکھتے ہوئے جیسے یہ یقین کرنا چاہتی تھی کہ کچھ اور تو نہیں جو وہ چھپا رہا ہے۔کوئ اور بری خبر ۔۔پیروں سے باقی ماندہ زمین بھی نکال دینے والا انکشاف۔۔۔ہر کاغذ اسکی آنکھوں کی دھند کو گہرا کر رہا تھا۔فائل کو بند کرتے ہوئے اس نے سالار کو دیکھا ۔۔۔

میڈیکل سائنس غلط بھی تو کہہ سکتی ہے۔۔

سالار رندھی ہوئ آواز میں کہے گئے اس جملے پر ہنس پڑا۔۔وہ غلط آدمی کو غلط جملے سے امید دلانے کی کوشش کررہی تھی۔

ہاں۔۔سائنس غلط بھی کہہ سکتی ہے۔۔ڈاکٹر کی تشخیص اور علاج بھی. اس نے امامہ کی بات کو رد نہیں کیا تھا۔وہ اسکی اذیت کو اور بڑھانا نہیں چاہتا تھا۔۔۔

تم ٹھیک ہوجاؤگے نا؟ اسکا بازو ایک بار پھر تھاما گیا تھا۔سوال دہرایا گیا تھا۔۔

اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو ضرور۔۔۔۔لیکن یہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لیئے ان شاء اللہ۔۔

وہ پھر ہچکیوں سے رو پڑی۔اس بار سالار نے اسے لپٹا لیا۔وہ مرد تھا رونا نہیں چاہتا تھا لیکن جذباتی ہورہا تھا۔۔۔۔

امامہ تمہیں بہادر بن کر ان سب کا مقابلہ کرنا ہے۔۔وہ روتی رہی سالار اسے ساتھ لگائے تھپکتا رہا۔۔

تم ٹھیک ہوجاؤ گے۔۔اس نے جیسے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا۔

تم پھر سوال کر رہی ہو۔۔۔۔سالار کو لگا اسکی ذہنی کیفیت ٹھیک نہیں۔

نہیں۔۔۔بتا رہی ہوں۔۔تمہیں بہادر بن کر ان سب کا مقابلہ کرنا ہے ۔۔وہ اسکا جملہ اسی سے دہرا رہی تھی۔۔۔بیماری ہے۔۔موت تو نہیں۔۔۔کیسی تسلی تھی جو اس نے دی۔۔۔امامہ سرخ سوجھی ہوئ آنکھوں سے اسے امید دلا رہی تھی۔۔۔۔

تم کہتی ہو تو مان لیتا ہوں۔۔۔وہ مسکرایا۔۔۔امامہ کی آنکھوں میں آنسوؤں کا ایک اور سیلاب آیا۔۔۔

میں نے زندگی میں تمہیں بہت سارے آنسو دییے ہیں تمہارے رونے کی بہت ساری وجوہات کا باعث بنا ہوں میں ۔۔اسکے آنسوؤں نے عجیب کانٹا چھبویا تھا سالار کو۔۔۔۔

بہتے آنسوؤں کیساتھ سر ہلاتے ہوئے وہ ہنسی۔۔۔

ہاں پر میری زندگی میں خوشی اور ہنسی کے سارے لمحات کی وجہ بھی تم ہو۔

وہ اسکا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔۔پھر یکدم کھڑا ہوا۔

سو جاؤ بہت رات ہوگئ ہے۔وہ کپڑے تبدیل کرنے واش روم چلاگیا۔

جب وہ واپس آیا وہ اسی طرح وہاں بیٹھی تھی۔ان ہی فائلوں کے پلندے کو ایک بار پھر گود میں لییے۔۔یوں جیسے اس میں جھوٹ ڈھونڈ رہی ہو۔۔کوئ غلطی کوئ غلط فہمی۔۔امید تو وہاں نہیں تھی۔۔

سالار نے کچھ کہے بنا خاموشی سے اسکی گود سے وہ ساری فائلیں اٹھا لی۔

امامہ ایل وعدہ کرو۔۔

کیا؟ اس نے دوپٹے سے اپنا چہرہ رگڑتے ہوئے کہا۔

بچوں کو کچھ پتا نہیں چلنا چاہیئے۔۔وہ بہت چھوٹے ہیں۔۔۔

امامہ نے سر ہلادیا۔۔۔

-----------+++++----------

برین ٹیومر کیا ہوتا ہے؟ حمین نے دعا کا آخری لفظ پڑھتےہی جبریل سے پوچھا ۔جبریل کا رنگ اڑ گیا۔۔

تم کیوں پوچھ رہے ہو۔۔۔جبریل نے دل میں دعا کی کہ اسے کچھ پتا نہ ہو۔۔۔

ہماری فیملی میں کسی کو برین ٹیومر ہے۔۔حمین نے بلآخر اعلان کیا۔۔ میرا خیال ہے کہ دادا کو ہے۔انہوں نے ممی کو بتایا ہے اوروہ اپ سیٹ ہوگئ۔

جبریل اسکا چہرہ دیکھ کر رہ گیا۔تو اسکی ماں تک بھی یہ خبر پہنچ چکی تھی۔اور اسکے دادا تک بھی ۔۔وہ بچہ سوچ رہا تھا۔

کیا دادا مرنے والے ہیں۔؟حمین نے لیٹے لیٹے رازدارانہ انداز میں جبریل سےپوچھا۔

نہیں۔۔۔۔اس نے بے اختیار کہا۔

تھینک گاڈ۔۔۔مجھے ان سے بہت پیار ہے۔۔۔حمین نے جیسے سکون کا سانس لیا۔

حمین تم یہ بات کسی کو مت بتانا۔۔جبریل نے ایک دم اسے ٹوکا۔

دادا کے برین ٹیومر والی؟ وہ۔متجسس ہوا۔۔

ہاں۔۔

کیوں؟

اوہ۔ہاں حمین کو سمجھ آگیا تھا۔دادا نے ممی کو بتایا تو وہ۔اپ سیٹ ہوگئ اب تم کسی اور کو بتاؤ گے تو وہ بھی اپ سیٹ ہوجائے گا۔

جبریل جتنے حفاظتی بند باندھ سکتا تھا اس وقت باندھنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔وہ ننھا بچہ اپنے ماں باپ کے اس راز کو راز رکھنے کےلیئے ہلکان ہورہا تھا۔

اوہ مائ گاڈ۔۔یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا۔لوگوں کو اپ سیٹ کرنا گناہ ہے نا؟

ہاں یہ بہت بڑا گناہ ہے۔جبریل نے اسکو ڈرایا۔

آہاں۔۔۔اوکے۔۔۔

حمین کی آواز میں خوف تھا وہ سیدھا ہوکر لیٹ گیا۔

جبریل کچھ دیر اس طرح لیٹا رہا اور حمین کے سونے کا انتظار کرتا رہا۔جب اسے یقین ہوا کہ وہ سو چکا ہے تو تو وہ بڑی احتیاط سے بستر سےاٹھا اور دبے قدموں چلتا ہوا دروازہ کھول کر لاؤنج میں آگیا۔جبریل نے کمپیوٹر آن کیا اور دوبارہ ان ہی میڈیکل ویب سائٹ کو دیکھنے لگا جنہیں سالار کے آنے سے پہلے دیکھ دہا تھا ۔۔

سالار اپنی بیماری کے بارے میں جتنا کچھ جانتا تھا جبریل اس ایک رات میں اس سے دس گنا زیادہ جان چکا تھا۔

++++++++------++++++

بیماری کے انکشاف کے اثرات اسے اگلے ہی دن پتا چلنا شروع ہوئے۔۔بورڈ آف گورنرز کے پانچوں ارکان کے بعد باری باری بہت سے ایسے لوگوں نے اسے میسیجز اور کالز شروع کیے جو انکے اس مالیاتی نظام سے وابستہ ہونے کے لیئے فنانشل امداد دے رہے تھے۔وہ اس ادارے میں اپنے انویسمنٹ کے حوالے سے عدم تحفظ کا شکار ہوگئے تھے۔

یہ سالار سکندر اور اسکے ساتھیوں کےلیئے ایک بڑا دھچکا تھا۔اس اسٹیج پر اس طرح کی عدم اعتمادی انکے ادارے کی ساکھ کے لیئے بہت نقصان دہ تھی۔۔۔کچھ بڑے سرمایہ کار پیچھے ہٹ گئے تھے۔اور واپس تب آنے کےلیئے تیار تھے جب انہیں انکا ادارہ کام کرتا کامیاب ہوتا نظر آتا۔۔۔

+++++-----------++++++

سالار کچھ دیر کےلیئے یہ سب چھوڑ دو۔۔۔امامہ نے اس رات بلآخر اس سے کہا تھا۔

وہ بہت دیر تک فون پر کسی سے بات کرتا رہا تھا۔امامہ بہت دیر تک کھانے کی ٹیبل پر اسکا انتظار کرنے کے بعد وقفے وقفے سے اسے دیکھنے بیڈروم آتی رہی۔لیکن اسے مسلسل مصروف دیکھ کر اس نے بچوں کو کھانا کھلا دیا اور جب وہ بیڈروم آئ تو سالار فون ختم کر رہا تھا۔۔کھانے کا پوچھنے پر اس نے انکار کردی۔وہ صوفے پر بیٹھا ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنی آنکھیں مسل رہا تھا۔

اور بے حد تھکا ہوا لگ رہا تھا۔وہ اس کے پاس آکر بیٹھ گئ وہ جس کرائسس میں تھا وہ اس سے بے خبر نہیں تھی لیکن وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

کیا چھوڑ دوں؟ وہ آنکھیں مسلتے ہوئے چونکا۔

کام۔۔۔

اچھا۔۔۔۔۔۔۔وہ ہنس پڑا۔

سب کچھ چھوڑ کر صرف اپنے علاج پر توجہ دو۔اپنی صحت اپنی زندگی پر ۔ہمارے لیئے صرف وہ اہم ہے۔وہ اب جیسے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔

امامہ۔۔میرےپاس چوائس نہیں ہے اور میرے پاس و قت بھی نہیں ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک کام کروں۔وہ اسکی بات سن کر چند لمحے بول نہ پائ۔

میں ہر طرح سے مشکل میں ہوں آجکل۔۔۔برے وقت میں نے پہلے بھی دیکھے ہیں لیکن ایسا برا وقت نہیں کہ جس چیز کو بھی ہاتھ لگاؤں ریت ہوجائے

وہ سر جھکائے کہہ رہا تھا۔امامہ کی آنکھیں نم ہونے لگی۔۔۔وہ کئ ہفتوں سے لگاتار رو رہی تھی اسکے باوجود آنکھیوں کا پانی ختم نہیں ہورہا تھا وہ کنواں بن گئ تھی۔

گناہگار تو ہوں میں،، ہمیشہ سے ہوں۔۔۔۔گمان اور غرور تو کبھی نہیں کیا میں نے ۔۔کیا بھی تو توبہ کرلی۔۔لیکن پتا نہیں کیا گناہ کر بیٹھا ہوں کہ یوں پکڑ میں آیا ہوں۔۔۔

آزمائش ہے سالار۔۔گناہ کی سزا کیوں سمجھ رہے ہو۔۔امامہ نے اسکی کلائ پر ہاتھ رکھا۔۔

کاش آزمائش ہی ہو اور ختم ہوجائے نہ ختم ہونے والی سزا نہ ہو۔۔وہ بڑبڑایا۔

تمہارے پاس کتنی سیونگز ہے؟ اس نے بات کرتے کرتے موضوع بدل دیا۔

میرے پاس۔۔۔وہ الجھی۔۔پتا نہیں۔۔پاکستان میں بنک میں کافی رقم ہوگی۔مجھے اماؤنٹ کا پتا نہیں۔۔۔تمہیں ضرورت ہے کیا۔اس نے ایک دم سالار سے پوچھا۔۔۔

نہیں۔۔مجھے ضرورت نہیں لیکن شاید تمہیں اسے اب استعمال کرنا پڑے بچوں کے لیئے ۔۔یہاں سے پاکستان جائیں گے تو وہاں کتنا عرصہ پاپا کے پاس تمہیں بچوں کیساتھ ٹہرنا پڑے مجھے ابھی اندازہ نہیں۔۔وہاں پاپا کےپاس بچوں کی تعلیم کم از کم متاثر نہیں ہوگی۔امریکہ میں فی الحال تم سب کو رکھنا افورڈ نہیں کرسکتا میں خاص طور پر اب جب میری جاب ختم ہورہی ہے اور میں اپنے ادارے لے لانچ کرنے کی پروسس میں بھی بے حد مسائل کا شکار ہوں اور اس پر یہ ٹیومر۔۔۔۔ورلڈ بنک کی جاب کیساتھ میڈیکل انشورنس بھی ختم ہوجائے گی۔جو امریکہ میں میری ہیلتھ انشورنس ہے وہ کینسر ٹریٹمنٹ کور نہیں کرتی۔اس لیئے میری سمجھ میں نہیں آریا کہ میں کیا کروں اور کیا نہیں ۔۔۔۔۔۔

سالار تم صرف ایک چیز پر دھیان دو. اپنے آپریشن اور علاج پر۔باقی سا ری چیزیں ہوجائے گی بچوں کی تعلیم تمہارا ادارہ سب کچھ۔۔۔اور پیسوں کے بارے میں پریشان مت ہو۔۔بہت کچھ ہے میرے پاس جو بیچا جاسکتا ہے۔۔

سالار نے اسے ٹوک دیا۔۔نہیں کوئ بھی چیز اب نہیں بیچوں گا اسے تمہارے پاس ہی رہنا چاہیئے اب۔۔۔میں گھر نہیں دے سکا تمہیں تو کچھ تو ہونا چاہیئے تمہارے پاس کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امامہ نے اسکے ہونٹوں پہ ہاتھ رکھ دیا ۔۔اب اس سے آگے کچھ مت کہنا۔مجھ سے یہ مت کہنا کہ میں مسقبل کا سوچوِ۔۔یہ سب میرے پاس ہو اور تم نہ ہو تو میں مستقبل کا کیا کروں گی۔پانی اسکے گالوں پر کسی آبشار کی طرح گر رہا تھا۔مستقبل کچھ نہیں ہے سالار ۔۔۔جو ہے بس حال ہے۔پڑھ لکھ جائیں گے بچے بھی۔۔میں نے کل کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا ہے۔وہ روتی رہی۔

تمہیں پتا ہے امامہ مجھے کس چیز کا رنج سب سے زیادہ ہے۔۔تم ٹھیک کہتی تھی کہ میں نے اپنی زندگی کا بہترین وقت سود پر کھڑے اداروں کے لیئے کام کرتے گزارا۔۔۔۔صرف کچھ سال پہلے میں نے کام کرنا شروع کیا ہوتا اپنے ادارے کےلیئے تو آج یہ ادارہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہوچکا ہوتا۔

مجھے یہ بیماری تب ہوئ ہوتی تو مجھے رنج نہ ہوتا کہ میں اپنے کییے کا ازالہ نہ کرسکا۔۔ یہ بہت بڑا پچھتاوا ہے میراجو کسی طوق کی طرح گردن میں لٹکا ہوا ہے۔۔۔وہ بے حد رنجیدہ تھا۔

تم کیوں سوچ رہے ہو ایسے۔۔تم کوشش تو کررہے ہو محنت تو کر رہے ہو۔۔۔اپنی غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔وہ اسکی باتوں پر تڑپ اٹھی۔

ہاں لیکن اب بہت دیر ہوگئ ہے۔

تم امید چھوڑ بیٹھےہو؟؟

نہیں امید تو نہیں چھوڑی لیکن۔۔۔۔

وی بات کرتے کرتے ہونٹ کاٹنے لگا ۔مجھے کبھی یہ لگا ہی نہیں تھا کہ وقت تھوڑا رہ گیا ہے۔جب تک سب ٹھیک رہتا ہے ہمیں لگتا ہے ہمارے پاس وقت بہت ہے۔ہم وہ سارے کام پہلے کرنا چاہتے ہیں جو ہمارے نفس کو پسند ہیں وہ سارے کام زندگی کے آخری حصے کے لیئے رکھ چھوڑتےہیں جو اللہ کو پسند ہے۔میں بھی مختلف نہیں تھا۔میں نے بھی ایسا ہی کیا۔سالار اپنے ہاتھ مسل رہا تھا بے حد رنج کے عالم میں۔۔مجھ سے بہتر کوئ نہیں سمجھ سکتا کہ روز قیامت کیسی ہوگی۔وہ ایک بار پھر دنیا میں لوٹانے کی پکار کیسی ہوگی۔۔۔وہ ایک موقع اور مانگنے کی التجا کیا ہوگی۔۔اسکی آواز بھرا گئ تھی۔۔۔۔۔اب میں صرف اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی نہیں صرف مجھے اس کام کی تکمیل کرلینے دے جو میں کرنا چاہتا ہوں اور اگر یہ کام میں نہ کرسکا تو پھر میری دعا ہے کہ یہ کام میری اولاد پایہ تکمیل تک پہنچائے اگر میں نہ رہا تو پھر تم جبریل کو اکانومسٹ۔۔

امامہ نے اسکی بات کاٹ دی۔۔کیوں سوچتے ہو تم ایسے۔

سوچنا چاہیئے امامہ۔۔

تم ہی یہ کام کروگے سالار۔ ۔کوئ اور نہیں کرسکے گا۔تمہاری اولاد میں سے بھی کوئ نہیں۔۔۔ہر کوئ سالار سکندر نہیں ہوتا.

وہ زندگی میں پہلی بار اعتراف کر رہی تھی ۔۔اسکے غیر معمولی ہونے کا۔اسکے خاص ہونے کا.

سالار نے اس رات اس سے بحث نہیں کی تھی۔۔اسکی اپنی ہمت جتنی ٹوٹی تھی۔وہ امامہ کی ہمت اس طرح توڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ممی میں آپکو سیب کاٹ کر لاکردوں۔۔۔؟امامہ جبریل کی بات پر حیران ہوئ ۔یہ آفر حمین کی طرف سے تو نارمل بات تھی لیکن جبریل اس طرح کے کام نہیں کرتا تھا۔۔

نہیں۔۔۔۔تم کھانا چاہ رہے ہو تو میں تمہیں کاٹ دوں؟؟ امامہ نے جواباً اسے آفر کیا۔۔۔

نہیں۔۔۔۔جبریل نے جواب دیا۔۔اسکے بچے اسکی تکلیف اور پریشانی محسوس کرنا شروع ہوگئے تھے اور یہ کوئ اچھی علامت نہیں تھی۔۔اس نے جبریل کو غور سے دیکھا۔ ۔۔۔

آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں۔۔۔جبریل نے ماں کی نظریں خود پر مبذول پاکر پوچھا۔ وہ مسکرا دی۔

تم بڑے ہوگئے ہو۔۔۔۔۔۔جبریل نے ماں کو جھینپ کر دیکھا۔پھر ایک شرمیلی مسکراہٹ کیساتھ ماں سے کہا۔۔۔

تھوڑا سا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں۔۔تھوڑے سے۔۔۔۔جلد ہی پورے بھی بڑے ہوجاؤ گے۔۔۔وہ اس سے بولی۔۔۔

لیکن میں بڑا نہیں ہونا چاہتا۔۔۔بیگ میں کپڑے رکھتے ہوئے امامہ نے اسے کہتے سنا۔۔۔

کیوں؟؟ اسے اچھنبا ہوا۔۔۔

ایسے ہی۔۔۔۔۔۔۔اس نے بڑے عام سے انداز میں ماں سے کہا۔۔۔۔۔

جبریل میں بلکل ٹھیک ہوں۔۔۔اسے یہ جملہ بولتے ہی اسکے ہلکےپن کا احساس ہوا۔۔۔

مجھے پتا ہے۔۔۔۔

امامہ اس سے نظریں چرا گئ تھی۔جبریل نے جیسے ماں کا پردہ رکھا۔امامہ کی چھٹی حس نے ایک عجیب سا سگنل دیا تھا۔اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ سب کچھ جانتا تھا۔۔۔۔

جبریل۔۔۔۔۔۔

جی ممی۔۔۔وہ اسکے مخاطب کرنےپر اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔وہ وال کرتے کرتے رہ گئ۔۔۔وہ بات بدل گئ۔۔۔۔

تمہارا قرآن پاک ختم ہونے والا ہے پھر ماشاءاللہ تم حافظ قرآن بن جاؤ گے۔۔تم نے قرآن پاک سے ابھی تک کیا سیکھا؟ وہ ماں کے سوال پر کام کرتے کرتے ٹھٹک گیا۔۔۔

بہت ساری چیزیں ہیں۔اس نے ذرا سوچ کر ماں سے کہا۔

لیکن اگر کوئ ایک چیز ہو جو تمہیں سب سے امپورٹنٹ لگتی ہو اور اچھی بھی۔۔

آپکو پتا ہے مجھے کیا چیز سب سے امپورٹنٹ لگتی ہے قرآن پاک میں۔۔وہ اب دلچسپی سے بات کرنے لگا۔۔۔

کیا؟؟

امید۔۔۔

امامہ اسکا منہ دیکھنے لگی ۔۔کیسے؟؟ جواب وہ ملا تھا جس نے کسی مرہم کی طرح اسکے زخموں کو ڈھانپا تھا۔۔۔

دیکھیں سارا قرآن ایک دعا ہے۔۔تو دعا امید ہوتی ہے نا۔۔۔ہر چیز کے لیئے دعا ہے تو اسکا مطلب یہ ہے نا کہ اللہ ہر مشکل میں ہمیں امید بھی دے رہا ہے۔یہ مجھے سب سے اچھی چیز لگتی ہے قرآن میں کہ ہم کبھی ناامید نہ ہو۔کوئ گناہ ہوجائے تب بھی اور کوئ مشکل آجائے تب بھی۔کیونکہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔۔اس کا دس سالہ بیٹا بے حد آسان الفاظ میں اسے وہ چیز تھما رہا تھا جو اسکے ہاتھ سے چھوٹ چکی تھی۔۔

جبریل بات کرتے کرتے رک گیا اس نے ماں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی چمک دیکھی۔۔۔

کیا میں نے کچھ غلط کہہ دیا؟؟ اس نے ایک دم محتاط ہوکر ماں سے پوچھا۔۔۔

امامہ نے نم آنکھوں کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔۔نہیں تم نے بلکل ٹھیک کہا۔اور تم نے ٹھیک چیز چنی۔۔۔